1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آئین کی تشریح اور نفاذ شریعت

'پارلیمانی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از باربروسا, ‏اپریل 15، 2013۔

  1. ‏اپریل 15، 2013 #1
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    کسی بھی مسودہ میں الفاظ کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی اہمیت بھی مسلمہ ہوتی ہے جو ان عبارات کی تشریح کا حق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ریاستوں میں دستور کی تدوین کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر بار بار نظر ثانی کی جاتی ہے تاکہ آئین کی روح سے بات کسی بھی طرح باہر نہ جانے پائے۔

    آج کل باسٹھ تریسٹھ پر گرما گرم بحث کے بعدالیکشن ہونے جا رہے ہیں، چنانچہ جمہوریت اور اسلام کی بحث ایک بار پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ آئین پاکستان ایک ایسی دستاویز ہے جس میں سیکولرز اور اسلام پسند دونوں اپنا اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ ان ہی دونوں طبقوں کے اتفاق سے یہ آئین وجود میں‌آیا اور دونوں ہی مختلف تعبیرات اور تشریحات کی صورت میں پاکستان کی صورت گری کے یکسر مختلف وژن رکھتے ہیں۔ اسلام پسند "حاکمیت اعلیٰ اللہ کے لیے " اور خلاف قرآن و سنت کوئی قانون نہ بنائے جانے کی بات آئین سے نکالتے ہیں بلکہ تو اسے ماتھے کا جھومر بتاتے ہیں تو سیکولر حضرات عدل اجتماعی اور جمہوری ریاست اور ایسی ہی شقوں کے ساتھ مغربی تشریح کو لف کر کے قیام پاکستان کا اصل مدعا ایک ایسی ریاست کو قرار دیتے ہیں جس میں مذہب کا ریاستی سطح پر کوئی عمل دخل نہ ہو گا۔

    عملا کیا صورتحال ہے ؟ِ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام اگر تھوڑا بہت آئین میں ہے بھی تو حکومتی سطح پرعمل میں بالکل نہیں۔ وجہ کیا ہے؟؟ عام طور پر حکمرانوں کی "عملی کوتاہیوں" اور بد نیتی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بات ختم۔

    آئیے اس تلخ حقیقت کے اسباب کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں۔
    یہ کافی معرکۃ الآراء بحث ہے کہ آئین کی تشریح کا حق کسے حاصل ہے؟ عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں ہی اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم فی الوقت دونوں ہی کو اس کا مجاز مانتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں ادارے کس طریقہ کار سے آئین کی ممکنہ تشریح کا حق رکھنے والے اپنے ارکان کو اوپر لاتے ہیں۔

    عدلیہ کے جج صاحبان درحقیقت وکلاء ہوتے ہیں جو لاء کالجوں میں انگریزی قانون کی دفعات پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ایک دن ججی کا امتحان پاس کر کے تقدس کی کرسی پر متمکن ہو کر "فاضل جج" ہونے کی سند پاتے ہیں۔ اب ایل ایل بی کا کورس ہو یا مزید ایل ایل ایم وغیرہ کی ڈگریاں، ان میں اسلام کا عنصر آٹے میں نمک برابر بھی شاید نہیں ہوتا۔اسی امتحانی طریق کار سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز اوپر آتے ہیں اور آئین کی تشریح و تعبیر کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔

    رہے پارلیمنٹ کے ارکان جن ان کا طریق انتخاب سب کے علم میں ہے،ان کے لیے اگر ہم آئیڈیل صوررت بھی تصور فرما لیں تب بھی زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ کچھ اچھےانسان، مسلمان، صادق و امین اور اسلام کے نظریے کے خلاف نہ چلنے والے اشخاص پارلیمنٹ میں آئیں گے،البتہ آئین کی اسلام کے مطابق تشریح کی اہلیت پھر بھی بہت دور کی بات ہے۔

    اب دونوں اداروں کے طریقہ کار اور ارکان کی اہلیت کے معیار کا خوردبینی مطالعہ کرنے سے بھی وہ وہ "چیزیں" برآمد نہیں ہو سکتیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہ لوگ "اسلامی تشریح" کے اہل قرار پاتے ہیں۔


    لے دے کے ایک فیڈرل شریعت کورٹ نامی تنکے کا سہارا بچتا ہے جس کے ججز نے گورا اور اسلامی قانون دونوں پڑھے ہوتے ہیں لیکن اس کی اتھارٹی بھی "ناقابل یقین" ہے! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کو قانونا ناجائز قرار دینے میں اس کی بے بسی سب کے سامنے رہی ہے۔ سپریم کورٹ از آل ویز سپریم!

    چنانچہ آئین کی پیشانی پر موٹے مارکر سے چسپاں ایک جملہ، ابتدائیے میں ایک یادداشت نما قراردار اور پارلیمنٹ کی پر جلی حروف میں لاالٰہ الا اللہ لکھ کر دوسری طرف مقتدر اداروں تک رسائی اور اہلیت کا طریقہ کار ہی ایسا ڈیزائن فرما دیا گیا کہ اسلامی تشریح تو درکنار "مسلمانی تشریح" بھی نہ ہو سکے !! مکرر یاد رہے کہ یہ تشریح وہ" گیدڑ سنگھی" ہے جس نے نافذ ہونا ہے ، بلکہ جس کے مطابق آئین نافذ ہے، اور سب کے سامنے ہے کہ کیسا نافذ ہے!!

    کراس چیک کے لیے پارلیمنٹ کو رہنے دیں کہ اس پر کافی بات ہوتی رہتی ہے، صرف اس امر پر نظر ڈالنا کافی ہو گا کہ اسلامی معاشرے کے وہ راہنما اصول جو آئین میں لکھے گئے ہیں یا تشریح طلب ہیں، ان کے کما حقہ نفاذ کے لیے آج تک عدلیہ نے کیا سرگرمی دکھائی ہے؟؟ وہ عدلیہ جو ہر ایرے غیرے کلازز اور شقوں میں جا گھستی ہے اور وہاں سے نادر روزگار تشریحات برآمد کرتی نظر آتی ہے۔۔۔ یہاں اس کے کان اور آنکھیں کلر بلائنڈ کیوں ہیں؟ بھئی جب بنیاد ہی غلط ڈالی جائے گی تو دیوار کیسے سیدھی ہو گی!!18 ، 20 سال گورا قانون پڑھنے پڑھانے اور اسی کی گتھیاں سلجھانے والی قانونی تشریحی نظر آخر کیسے خدا رسول کی منشا کے مطابق آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟؟

    سو میرے عزیز ہم وطنو ! اسلامی پاکستان کی داغ بیل عملا تب تک نہیں ڈل سکتی جب تک کہ وہ طریقہ کار نہ ہو جس کے تحت عملاً اسلامی ہونے کی طرف سفر کیا جا سکے۔ ورنہ لاہور کے رستے پر بگٹٹ بھاگنا مخلص اور نیک نیت ہونے کے باوجود آپ کو پشاور نہیں پہنچا سکتا۔
    پہلی مرتبہ ہم 5 سال پورے کر کے جمہوریت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ "اسلامی" ہونے کی بیل کب منڈے چڑھے گی واللہ اعلم بالصواب۔

    سبھی جانتے ہیں کہ فقہی اختلافات کو چھوڑ کر 90 فیصد چیزیں اتفاقی ہیں, ان کو تو اختلاف چھو کر بھی نہیں گذرا، پھر ان کا نفاذ نہ کرنا چہ معنے دارد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ "یہ معنے دارد" کہ ملا صاحبان کو ویٹی کن سٹی میں خلعت فاخرہ بخش کر عیسائیت کو اس کی روح کے ساتھ پیش کرنے کی توقع رکھنا جتنا مضحکہ خیز ہے اس سے کہیں زیادہ "بی اے" پاس اور "گورا قانون" میں زندگی کی صبح شام کرنے والے ارکان پارلیمان و عدلیہ سے آئین کو اسلامی تقاضوں کے مطابق نافذ کرنے کی توقع ہے!

    13.04.2013
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 15، 2013 #2
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    محترم بھائی جان آپ کی پوسٹ آئین کی تشریح اور نفاذشریعت پڑھنےکااتفاق ہوا۔یقیناآپ نے مسلے کو اس کی جڑ سے پکڑا ہے۔اور اصل پہلووں کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔آپ کابہت زیادہ شکریہ ۔یہ صحیح بات ہےکہ آئین کی تشریح کےدونوں مرکزی اداروں کی ساخت ہی غیر اسلامی ہے۔واقعی یہ لوگ اسلامی آئین کی تشریح کا استحقاق نہں رکھتے۔اور فیڈرل شریعت کورٹ بھی بذات خود کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔لیکن میں جب اس طرف توجہ کرتاہوں تو میرے سامنےمعاملےکےدیگر کئی پہلووں سمیت ایک بہت ہی حساس اور اہم پہلو آکھڑاہوتاہےجو کہ انتہائی سنجیدہ ہے ۔وہ یہ ہےکہ آخر ہمارے عوام بھی تودل سے اسلام نہیں چاہتے اسلام کےساتھ ان کی صرف جذباتی سی ایک وابستگی ہے۔جسے صرف وقتافوقتا استعمال کیاجاسکتاہےاور وہ الحمدللہ خوب کیاجاتاہے۔دوسر طرف معاشرےکےچند نوجوانوں کی حالت یہ ہےکہ موجودہ غیراسلامی سیٹ اپ دیکھ کر تکفیر کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں میر خیال میں اس سارے سیٹ اپ پرتنقید کرنےکی بجائے اصل زور دعوت پرصرف کرناچاہیے۔اسلام کواس کےدائروں میں رہتےہوے عصری تقاضوں کےہم آہنگ کرنےکیلے بہترین مجتہدین پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 17، 2013 #3
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    جزاک اللہ بھائی جان ! ایک بات اور ذہن میں رکھیے کہ اس مضمون میں آئین کی اپنی حیثیت پر بات نہی ہوئی، محض اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک ملغوبہ نما چیز ہے جس میں تضادات بھی ہیں ، بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے۔

    دوسرا یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اس "اسلامی ائین" ہی کی رو سے دونوں اداروں کے ارکان کی تقرری کا طریقہ کار سامنے آتا ہے ، یہ اس کے داخلی تضاد کی ایک اور مثال ہے!

    یہ ایک ایسی نبیذ کی مانند سمجھ لیں جسے علمائے وقت نے خیر کی امید پر کڑوا گھونٹ حلق سے اتارا تھا ، لیکن اب ایک ایسا مشروب بن چکا ہے جو صرف نشہ جمہوریت میں مبتلا تو کرتا ہے البتہ اپنی پہلی حالت اور صورت سے یکسر محروم ہو چکاہے۔

    رہی اپ کی آخری بات کہ :

    تو میرے بزرگوار! اگر یہاں آُ کی مراد نظام کی تکفیر ہے اور آپ کو اس لفظ "تکف"یر سے کوئی الرجی ہے تو آپ لفظ "باطل" استعمال کر لیا کریں ، یوں کہہ لیا کریں کہ "یہ نظما ایک باطل نظام ہے" "ایک معبود باطل ہے خدا کی خدائی کے مقابل"۔ اور اگرآپ کو اسے سرے سے باطل ماننے سے مسئلہ ہے تو واقعی آپ کے ساتھ مسئلہ ہے !!

    جبکہ کبار علمائے امت بارہا مختلف مواقع پر اقبال کے الفاظ میں اس صنم اکبر کے چہرہ روشن سے سے غازہ اتار کر "چنگیز سے تارک تر اندروں"" کا مشاہدہ کروا چکے ہیں۔

    ہاں اگر اپ نے واقعی معروضی مطالعہ نہیں کیا ہو اتو میں آپ سے اس کی درخواست کروں گا۔ اس سلسلے میں جو بھی مدد درکار ہو بھائی حاضر ہے ۔

    اللھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 06، 2014 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میرا خیال ہے اس مسئلے کا ایک بنیادی اور اساسی پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اسلامی نظام سیاست کے خدوخال کو عصر حاضر کی مختلف حکومتوں کے حوالے سے واضح کریں کہ اسلامی نظام سیاست جسے عمومی طور پر نظام خلافت کہا جاتا ہے اس کے لیے تو 62 اسلامی ملکوں کا وجود ہی عجیب ہے لہذا اس کی تطبیقی صورت کیا ہو گی یہ غور وفکر کا متقاضی معاملہ ہے باقی رہی آئین و دستور کے مشتملات اسلامی یا غیر اسلامی یہ سب اظہر من الشمس امور ہیں جب باقاعدہ آئین سازی کے لیے اجتماعات منعقد ہو رہے تھے یہ سوال تو اس وقت اٹھنا چاہیے تھا کہ اسلام عملی طور پر اس مملکت کا دستور کیسے بنے گا جبکہ ہمارا دستوری ڈھانچہ تو اس روح سے میلوں دور ہے
    اور جہاں تک نوجوان طبقے کا تکفیر کی طرف رجحان تو اس کی ذمہ داری کسی حد تک علماء پر بھی عائد ہوتی ہے جو کہ اصلاح احوال کے بجائے صرف چند مخصوص موضوعات کو لے کر ہی پورا سال گزار دیتے ہیں ابھی ربیع الاول آئے گا تو دیکھ لیجیے گا ایک طرف سے بدعت کے نعرے لگ رہے ہوں گے تو دوسری جانب سے گستاخ کے نعرے لگ رہے ہوں گے اگر یہ بدعت ہے تو اس کا رد کس طرح کیا جانا چاہیے یہ اسلوب بھی ہمیں آنا چاہیے
    اسی طرح موجودہ علماء کا اسلامی نظام سیاست پر کوئی سیر حاصل کلام سوائے چند کے علاوہ
    اگر یقین نہ آئے تو نماز پر کتب کا شمار کر لیں اور اسلامی انداز سیاست پر کتنی کتب ہیں
    مخالف فرقوں پر رد سب سے آسان کام ہے سو ہم کرتے جا رہے ہیں؟؟؟ مثبت انداز میں تربیت کا وجود عنقا تو پھر
    لارڈ میکالے کی روحانی اولاد نے تو دستور کے نام پر یہی ملغوبہ تیار کرنا تھا سو کر دیا اور ہم آج تک اسی ملغوبہ کو مقدس گائے سمجھ کر اپنے سینے سے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں
     
  5. ‏ستمبر 06، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ہم فکری اعتبار سے کتنے یتیم ہیں آج تک ہمارے نوجوان اس بارے میں ہی یکسوئی حاصل نہیں کر سکے کہ ووٹ کا شریعت میں کیا مقام ہے ؟
    انتخاب کی کیفیت کیا ہو گی؟
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا طریقہ چھوڑا کیا؟
    المیہ تو یہ ہے کہ ہم تاریخ کی کتب سے یہ تو نکال لاتے ہیں کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں (نعوذ باللہ من ہذہ الہفوات) لیکن انہی کتب میں عبدالرحمن بن عوف کا عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب کرنے کے حوالے سے اعمال کوئی نہیں بیان کرتا
    فقہ صرف ایک مخصوص شعبہ کی فقاہت کا نام نہیں بلکہ مکمل زندگی اسوہ حسنہ کے تابع تو اس میں سیاست بھی ہے مسلمان حاکم ہو تو کیسے اور رعایا میں سے ہو تو کیا کرے
     
  6. ‏ستمبر 06، 2014 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    معذرت کے ساتھ باربروسا صاحب میں کچھ دور نکل گیا ہوں لیکن کیا کریں حقیقت سے آنکھیں بھی تو نہیں چرائی جا سکتی
     
  7. ‏ستمبر 24، 2014 #7
    فلک شیر

    فلک شیر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2013
    پیغامات:
    185
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    برصغیر کے مسلم اہل علم کی ترجیحات کب اس قدر refinedہو سکی ہیں ، کہ ان "معمولی"ایشوز پہ بات کرسکیں۔ویسے ان کے سامنے فقہیات کا "اصل"محاذ جو موجود ہے :)
     
  8. ‏ستمبر 24، 2014 #8
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    فیض الابرار بھائی! ان موضوعات پر عالم عرب میں علماء کا کام کافی زیادہ ہے۔ہمارے ہاں عموما علماء واقعی قیل و قال اور مسلکی فضا سے آزاد سانس لیتے کم ہی نظر اتے ہیں ۔

    البتہ نظاموں کی بات کو محض "جذباتی نوجوانوں" کی لن ترانیوں" کا لقب سے کر نہیں اڑایا جا سکتا۔ اس موضوع پر سید مودودی رحمہ اللہ کا بالخصوص اور ان کے ساتھ ساتھ کم سہی، لیکن روایتی علماء کا کام بہرحال موجود ہے۔ تکفیر کی طرف رجحان" بھی ایک پھبتی ہی بن کر رہ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ علمی بنیادوں پر ایڈریس کرنا ویسے نہیں ہے اور جو بے چارے "علمی" بنیادوں پر ایڈریس کر رہے ہیں وہ کیسے کیسے صغرے کبرے ملانے پر مجبور ہیں ،یہ اپ کے سامنے ہی ہے !
     
  9. ‏ستمبر 25، 2014 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میرے بھائی عرب علماء کی تحقیقات تو موجود ہیں یہ تو میں بھی جانتا ہوں لیکن ہمارے پاک و ہند کے علماء نے ابھی تک کیا کیا ہے یہ اعتراض نہیں بلکہ ایک سوال ہے جو بطور تشجیع کیا جا رہا ہے میں جامعہ ابی بکر میں حاضر العالم الاسلامیہ پڑھاتا ہوں میرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا موضوع شروع کرتا ہوں تو اس موضوع سے متعلق کتب کا تعارف اپنے طلبا کو ضرور کرواتا ہوں اتفاق کی بات ہے کہ ابھی تک جتنی بھی کتب کا تعارف کروایا ہے وہ سب عربی زبان میں ہیں تو میرے ایک طالب علم نے یہ کہا کہ کیا اردو میں کوئی کتاب نہیں ہے اس فن پر تو اس وقت تو میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہمارا میڈیم چونکہ عربی ہے لہذا ہم فی الحال عربی کتب کی بات ہی کریں گے (واضح رہے کہ جامعہ ابی بکر کا نظام تدریس صرف عربی زبان میں ہے ) لیکن میں اس پر سوچتا رہا اور انٹر نیٹ پر تلاش کرتا رہا کہ اس موضوع پر اردو پر کتب کہاں سے تلاش کروں شدید حیرانی ہوئی کہ نظام سیاست اسلامی پر کوئی جامع کتاب ہی موجود نہیں ہے جو ہمارے علماء نے تصنیف یا تالیف کی ہو کم از کم جو مصادر ہیں اس موضوع پر ان کا ترجمہ ہی کر لیا جاتا
    یہ بالکل ممکن ہے کہ کتب موجود ہوں لیکن میرے ناقص علم میں کوئی جامع کتاب نہیں ہے اگر ہو تو بتایئے گا
     
  10. ‏ستمبر 25، 2014 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میں آپ کی بات سے جزوی طور پر متفق ہوں اور سید مودودی کا جو کام پروفیسر خورشید نے مرتب کر کے شائع کروایا ہے وہ بھی میرے علم میں ہے صرف ایک مودودی اور بس
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں