1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آثار صالحین سے تبرک کی شرعی حیثیت

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ شاکر, ‏مارچ 11، 2016۔

  1. ‏اگست 10، 2018 #91
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    تاج الدین سبکی نے اس کی یہ سند زکر کی ہے۔

    أَخْبَرَنَا الْحَافِظ أَبُو الْعَبَّاس بن المظفر بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ أخبرنَا عبد الْوَاسِع بن عبد الْكَافِي الْأَبْهَرِيّ إجَازَة أخبرنَا أَبُو الْحَسَن مُحَمَّد بْن أَبِي جَعْفَر بْن عَلِيّ الْقرظِيّ سَمَاعا أَخْبَرَنَا الْقَاسِم بْن الْحَافِظ أَبِي الْقَاسِم عَلِيّ بْن الْحَسَن بْن هبة اللَّه بْن عَلِيّ بْن عَسَاكِر أَخْبَرَنَا عَبْد الْجَبَّار بن مُحَمَّد بن أَحْمد الخواري إجَازَة وَحدثنَا عَنهُ بِهِ أَبِي سَمَاعا قَالَ ابْن المظفر وَأخْبرنَا يُوسُف بن مُحَمَّد الْمصْرِيّ إجَازَة أخبرنَا إِبْرَاهِيم بن بَرَكَات الخشوعي سَمَاعا أَخْبَرَنَا الْحَافِظ أَبُو الْقَاسِم إِجَازَةً أَخْبَرَنَا عَبْد الْجَبَّار الخواري حَدثنَا الإِمَام أَبُو سَعِيد الْقشيرِي إملاء حَدثنَا الْحَاكِم أَبُو جَعْفَر مُحَمَّد بْن مُحَمَّد الصفار أَخْبَرَنَا عَبْد اللَّه بْن يُوسُف قَالَ سَمِعت مُحَمَّد بْن عَبْد لله الرَّازِيّ قَالَ سَمِعت أَبَا جَعْفَر مُحَمَّد الْمَلْطِي يَقُول قَالَ الرّبيع بْن سُلَيْمَان إِن الشَّافِعِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔۔۔

    پہ درپہ مجھول رواہ ہیں۔ اس سند کو ثابت کرنا آپ کے زمہ قرض ہے
     
  2. ‏اگست 11، 2018 #92
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں أبو نصر أحمد بن الحسن الوراق کے حالات نہیں ملے۔
    اس کی دوسری سند میں ابو نصر احمد بن محمد الوراق کے حالات بھی معلوم نہیں
     
  3. ‏اگست 11، 2018 #93
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    یہ تو جھوٹا واقعہ ہے۔ اس کی سند میں
    (1) "محمد بن الحسین ابو عبد الرحمن السلمی راوی "متہم بالکذب" ھے۔
    (2) گمراہ صوفی "ابوبکر محمد بن عبد الله بن عبد العزیزی بن شاذان رازی بھی "متہم" ہے۔
    (3) علی بن عبد العزیز الطلحی کے حالات معلوم نہیں
    الغرض یہ قصہ اپنی تمام تر سندوں سے جھوٹا ہی ہے۔

    امام ذھبی ، ربیع بن سلیمان کے ترجمے میں لکھتے ہیں۔
    ولم يكن صاحب رحله فاما ما يروي أن الشافعي بعثه إلى بغداد بكتابه إلى أحمد بن حنبل، فغير صحيح".
    کہ ربیع بن سلیمان طلب علم کے لیئے زیادہ سفر کرنے والے نہیں تھے۔ لہذا یہ جوا واقعہ ذکر ہوا کہ امام شافعی نے اِن کو خط دے کر امام احمد بن حنبل کی طرف بغداد بھیجا۔ تو یہ صحیح نہیں"
    [سير اعلام النبلاء: 587/12]

    اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے۔ کہ امام خطیب نے تاریخ بغداد میں ربیع بن سلیمان کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ اگر وہ بغداد آتے تو تاریخ بغداد میں ضرور ان کا تذکرہ ہوتا۔ لہذا یہ واقعہ من گھڑت ہے
     
  4. ‏اگست 11، 2018 #94
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    یہ سخت منقطع قول ہے۔ امام سفیان ثوری کی وفات 161ھ میں ہوئی۔
    اور امام عجلی 182ھ میں پیدا ہوئے۔ تو انہوں نے سفیان ثوری سے کیسے سنا؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    یہ قول منقطع ومردود ہے۔
    مدعی پر لازم ھے اس قول کی صحیح سند پیش کرے۔
     
  5. ‏اگست 11، 2018 #95
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    یہ جھوٹی ابلیسی کہانی ہے۔ فرید الدین العطار شاعر، گمراہ بدعتی صوفی رافضی تھا
     
  6. ‏اگست 11، 2018 #96
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    یہ غیر ثابت قصہ ہے۔ اس کے راوی حسن بن ابراھیم کی توثیق کسی نے نہیں کی۔
     
  7. ‏اگست 11، 2018 #97
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    یہ جھوٹا قول ہے۔ اس کا راوی احمد بن حسین بن یعقوب ابو الحسن العطار، غیر ثقہ اور مجروح ہے۔
    ابو القاسم ازھری کہتے ہیں: کان کذاب
    یہ انتہائی کذاب ہے۔ [تاریخ بغداد: 429/4]

    خود امام خطیب نے کہا:
    ولم یکن في الحدیث ثقة____
    یہ روایت حدیث میں ثقہ نہیں". حوالہ مذکورہ بالا۔

    امام السھمی کہتے ہیں:
    حدث عن من لم یرو ومن مات قبل ان یولد__
    یہ ان لوگوں سے روایت کرتا تھا جنہیں اس نے دیکھا تک نہ ہوتا تھا۔ اور ان سے بھی جو اس کی پیدائش سے پہلے ہی مرچکے ہوتے تھے".
    [سوالات السھمی للدارقطنی: 157]
     
  8. ‏اگست 11، 2018 #98
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اس روایت میں
    محمد بن عمر الواقدي کذاب،متروک
    اور
    إسحاق بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله بھی متروک ضعیف الحدیث ہے۔
     
  9. ‏اگست 11، 2018 #99
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    علامہ ابن عبد البر رحمه الله نے یہ بات روایت کے پیشِ نظر فرمائی۔ کیونکہ روایت میں ایسا ہی لکھا ہوا جو ابن عبد البر نے کہا۔
    لیکن چونکہ وہ روایت ہی من گھڑت ہے۔ جسکی حقیقت اوپر بیان کی جاچکی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں