1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آثار صالحین سے تبرک کی شرعی حیثیت

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ شاکر, ‏مارچ 11، 2016۔

  1. ‏مارچ 20، 2016 #61
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    اس حدیث میں اعتراض کس راوی پر ہے وہ پیش کریں۔تحقیق کر کے ہی پتہ چلے گا کہ یہ ثابت شدہ ہے کہ غیر ثابت۔
     
  2. ‏مارچ 20، 2016 #62
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    حضرت آپ سوال پر توجہ دیں کہ
    التماس کیا ہے آپ سے ؟ آپ سے پوچہا جارہا ہے اس ہر حدیث پر جو آپ نے اس فورم پر پیش کی ہے جاری تہریڈ میں ۔
     
  3. ‏مارچ 20، 2016 #63
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ملاحظہ فرمائیں کہ تحقیق تو آپ سے ہی کرنے کی گذارش کی تہی !
     
  4. ‏مارچ 20، 2016 #64
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    668
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    اچھا دیکھیں میں احادیث ضعیف سے بھی ظنی عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔اور یہ سارے عقائد ظنی ہیں۔اور فضائل کے باب میں ہے جن میں ضعیف روایات معتبر ہیں۔جیسا کہ امام نووی نے کتاب الازکار میں ذکر کیا
     
  5. ‏مارچ 20، 2016 #65
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جی حضرت ، جیسا مناسب سمجہیں، اتفاق ثابتہ پر ہی ہوا ہے اور اگر آپ بعد از تحقیق آپکی رائے دیں کہ یہ تمام احادیث ثابتہ ہیں تب هر حدیث پر آپ کو جواب دینگے ، ان شاء اللہ
     
  6. ‏مارچ 20، 2016 #66
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ان "احادیث" کو بنیاد بنا کر آپکا قول یہ تہا :

    " ﻭﺟﮧ ﺁﭘﮑﺎ ﻗﻮﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ :ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ‌ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻣﺖِ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ، ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺮﺏ ﯾﺎﻓﺘﮕﺎﻥ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ- ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍِﻥ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﺖِ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﻭ ﻧﺼﺮﺕ، ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍِﻥ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﻓﻊ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ-"

    یہ عقیدہ ہے ! اور بنیاد ؟
     
  7. ‏مارچ 23، 2016 #67
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تبرک کے موضوع پر جتنی احادیث پیش کی گئی ہیں :
    1۔ یا تو ضعیف و موضوع ہیں ۔ مثلا ابدال وغیرہ والی روایات ۔
    2۔ یا موضوع سے غیر متعلق ہیں ۔ مثلا یغزو فئام من الناس ، اس کا تبرک سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں ۔
    3۔ یا ان میں ایسا تبرک ہے جو محل نزاع ہے ہی نہیں ۔ مثلا ایسی روایات جن میں زندہ نیک لوگوں کی دعا وغیرہ کو باعث خیر و برکت بتلایا گیا ہے ۔
     
    • متفق متفق x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 23، 2016 #68
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سب سے پہلے مسند احمد کا آپ نے حوالہ پیش کیا ، مسند احمد کے حاشیہ میں اس کے ضعف کی وضاحت ہے :
    إسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يدرك عليا، وصفوان بن عمرو السكسكي- وإن كان ثقة من رجال مسلم- ذكر له النسائي حديثا منكرا في عمار بن ياسر، وحديث الباب باطل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انظر "المنار المنيف" ص 136 للشيخ ابن قيم الجوزية. أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن حجاج الخولاني.
    قلنا: وأحاديث الأبدال التي رويت عن غير واحد من الصحابة، أسانيدها كلها ضعيفة لا ينتهض بها الاستدلال في مثل هذا المطلب.

    مسند أحمد ط الرسالة (2/ 231)
    خلاصہ : یہ حدیث منقطع اور باطل ہے ، اس سے ہٹ کر ابدال والی تمام روایات بھی ضعیف اور ناقابل استدلال ہیں ۔
    اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
    قال بن بطال هو كقوله في الحديث الآخر خيركم قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم لأنه يفتح للصحابة لفضلهم ثم للتابعين لفضلهم ثم لتابعيهم لفضلهم قال ولذلك كان الصلاح والفضل والنصر للطبقة الرابعة أقل فكيف بمن بعدهم والله المستعانفتح الباري لابن حجر (6/ 89)
    یہ حدیث خیر القرونی قرنی کے مثل ہے ، چونکہ صحابہ پھر تابعین پھر تبع تابعین میں خیر و صلاح بدرجہ اتم موجود تھی ، اس لیے اللہ تعالی انہیں فتح عطا کرتے تھے ۔
    اس میں صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا کہاں ہے ؟ یا زندہ بزرگوں کے تلوے چاٹنے کی تلقین کہاں ہے ؟
    یہ جتنے حوالے ہیں ، ان میں پہلی بات یہ ہے کہ نیک لوگوں کے حوالے ہیں ، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بھی نہیں کہ جس کو بطور دلیل پیش کیا جائے ۔
    پھر یہ دو طرح کے حوالے ہیں :
    1۔ جن میں کسی کے ہاتھ کو اس لیے چوما گیا ہے کیونکہ وہ ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مس ہوا تھا۔ نہ کہ اس بزرگ کی اپنی کسی خوبی کی بنا پر ۔
    2۔ کچھ حوالے ایسے ہیں ، جن میں مطلقا ہاتھ وغیرہ چومنے کا ذکر ہے ، تبرک کا ذکر ہے ہی نہیں ، جس طرح ہمارے ہاں ادب و احترام کی بعض علامات ہیں ، اسی طرح عربوں ( یا دیگر لوگوں کے ہاں بھی ہوگی ) کے نزدیک کسی بزرگ کا ہاتھ یا ماتھا چومنا اس کے ادب و احترام کی علامت ہے ۔ جس میں کوئی حرج نہیں ۔
     
  9. ‏مارچ 24، 2016 #69
    عبداللہ شاکر

    عبداللہ شاکر رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2013
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    32
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    روایت اس طرح ہے:

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: نا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ قَالَ: نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ تَخْلُوَ الْأَرْضُ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِثْلَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَبِهِمْ يُسْقَوْنَ وَبِهِمْ يُنْصَرُونَ، مَا مَاتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ آخَرَ»

    تبصرہ:
    یہ روایت "ضعیف" ہے۔
    اس میں عبدالوھاب بن عطاء، سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ تینوں مدلس ہیں جبکہ اسحاق بن زریق مجھول ہے۔
    اس لیئے روایت ثابت نہیں۔ بلکہ ابدال سے متعلق کوئی ایک بھی روایت ثابت نہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 24، 2016 #70
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ابهی گفتگو یہاں پر رکی ہوئی هے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں