1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آثار صالحین سے تبرک کی شرعی حیثیت

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ شاکر, ‏مارچ 11، 2016۔

  1. ‏اگست 10، 2018 #81
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اس روایت کی سند ''ضعیف'' ہے کیونکہ :
    اس کے دو راویوں عمرو البزار اور عنبسه الخواص کے بارے میں حافظ ھیثمی رحمه الله (٧٣٥۔٨٠٧ھ) خود فرماتے ہیں : وکلاهما لم أعرفه۔
    ''ان دونوں کو میں نہیں جانتا۔ ''[مجمع الزوائد : ١٠/٦٣]
    اور اس روایت میں امام قتادہ کی ''تدلیس'' بھی موجود ہے۔
     
  2. ‏اگست 10، 2018 #82
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    اس کی سند ''ضعیف'' ہے کیونکہ شریح بن عبید کا سیدنا علی بن ابی طالب رضی الله عنه سے سماع نہیں ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمه الله اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : هذا منقطع بین شریح وعلی ، فإنّه لم یلقه ۔
    ''یہ روایت شریح اور سیدنا علی رضی الله عنه کے درمیان منقطع ہے کیونکہ شریح نے سیدنا علی رضی الله عنه سے لقاء وسماع نہیں کیا۔ ''
     
  3. ‏اگست 10، 2018 #83
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    اس کی سند بهى ''ضعیف'' ہے کیونکہ :
    اس میں عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ، اور اس کا استاذ سعید بن ابی عروبه اور اس کا استاذ قتادہ تینوں ہی ''مدلس'' ہیں اور وہ ''عن'' سے روایت کر رہے ہیں۔ سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہٰذا روایت سخت ''ضعیف'' ہے۔
    اور اسحاق بن زریق کی توثیق بھی معلوم نہیں ہو سکی۔
     
  4. ‏اگست 10، 2018 #84
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    أبو قلابه المتوفی 104ھ صحابی نہیں تابعی ہیں۔ ابن حجر کہتے ہیں ثقة فاضل كثير الإرسال. یہ اکثر سے مرسل بیان کرتے ہیں۔
    اور یہ روایت بھی مرسل ہے۔ لہذا منقطع مردود ہے۔
     
  5. ‏اگست 10، 2018 #85
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    امام ھیثمی نے کہا:
    رواه الطبراني، وفيه عبد الرحمن بن أيوب وضعفه وحسن حديثه الترمذي، وأحمد بن طارق الراوي عنه لم أعرفه، وبقية رجاله رجال الصحيح.

    ٣٦٠ - عبدالرحمن بن زيد بن أسلم ضعيف مدني [الضعفاء والمتروكون للنسائي: ج1، ص66]

    اس روایت کا راوی عبد الرحمن بن زيد بن أسلم كذاب ہے ملاحظہ ہو
    اور احمد بن طارق مجھول ہے۔
     
  6. ‏اگست 10، 2018 #86
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    عبد الرحمن بن رزين بن عبد الله (مجھول) المتوفی 155ھ کی سلمة بن أكوع رضی الله عنه سے یہ روایت منقطع ہے۔
    اس روایت میں عطاف بن خالد بھی صدوق یھم ہے۔
     
  7. ‏اگست 10، 2018 #87
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    وهذا إسناد ضعيف ، صهيب هو مولى العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه ، قيل اسمه صُهبان ، وهو مجهول لم يرو عنه إلا أبو صالح السمان ، انظر "التهذيب" (4/385) ، "الجرح والتعديل" (4/444) .
    یہ سند بھی ضعیف ھے۔ اس میں صھیب جو عباس رضی الله عنه کے مولی ہیں۔ مجھول ہیں۔ ابو صالح السمان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔


    وقال الذهبي في "السير" (3/ 400):
    " صُهَيْبٌ لاَ أَعْرِفُهُ " .
    صھیب کو میں نہیں جانتا۔
    ۔
    وقد اضطرب في هذا الحديث ، فتارة يقول : " رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَيْهِ "

    روایت میں اضطراب بھی ھے۔ یہی صھیب کبھی کہتا ھے ہاتھ اور پیر کا بوسہ لیا۔ کبھی صرف ہاتھ کا زکر کرتا ھے۔ اور کبھی کہتا ھے ۔ شائد ہاتھ یا ہیر کا بوسہ لیا۔ یعنی شک ھے راوی کو۔

    كما في رواية الأدب المفرد ، وتارة يقول : " رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَيَقُولُ: يَا عَمِّ ارْضَ عَنِّي " فلا يذكر الرجل ، رواه الفسوي في "المعرفة" (1/514) ، وتارة يقول : " رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ يَدَيِ الْعَبَّاسِ أَوْ رِجْلَهُ " فيذكر الرجل على الشك ، كما رواه ابن المقرئ في "الرخصة في تقبيل اليد" (ص 73) .
     
  8. ‏اگست 10، 2018 #88
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    اس روایت میں عمرو بن واقد متروك ہے
    موسى بن عيسى بن المنذر بھی ضعیف ہے
     
  9. ‏اگست 10، 2018 #89
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اس روایت میں ابن جدعان متروک سئ الحفظ ضعیف ھے۔ اور سفیان بن عینیہ نے خود اسے ترک کردیا تھا۔
     
  10. ‏اگست 10، 2018 #90
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40


    یہاں تبرک بمعنی علم لینا ھے۔ کہ اُن سے علم حاصل کرکے، علم کی برکتیں سمیٹتیں۔ علم والی محفلوں پر ویسے ہی اللہ کی رحمت وبرکت نازل ھوتی ہے۔۔

    دوسرا جواب اس کا یہ ہے۔ کہ وہ کون لوگ تھے جو تبرک لیتے تھے؟ لوگوں کا عمل دلیل نہیں بن جایا کرتا۔
    اب آپ سوال کریں گے۔ کہ الشیخ نے خود اُن لوگوں کو اپنی ذات سے تبرک لینے سے منع کیوں نہ کیا؟
    جواب یہ کہ جیسے آپ ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے ہیں۔ لیکن خود ائمہ اربعہ کے علم میں بھی نہیں تھا کہ ہمارے بعد کچھ ناہنجار لوگ ہمارے ہی نام سے فرقے بناکر ہمارے اقوال کو دین کا جزء قرار دیے دیں گے۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہوگا۔ کہ الشیخ کو علم ہی نہیں ھوگا کہ اُن کے بارے عوام یہ عقیدہ رکھتی ہے۔

    تیسرا جواب اس کا یہ ھے کہ۔
    نیک صالح شخص سے دعا کروانا سنت سے ثابت ھے۔ نیک صالح شخص کی دعا سے اللہ برکتیں اور رحمتیں نازل فرماتا ھے۔
    لہذا لوگ الشیخ کی ذات سے برکت نہیں لیتے تھے۔ بلکہ شیخ کی دعا کے وسیلے سے اللہ سے برکت حاصل کرتے تھے۔
     
    Last edited: ‏اگست 10، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں