1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کے حکمران اور اطاعت امیر

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عاقل محمدی, ‏فروری 20، 2017۔

  1. ‏فروری 20، 2017 #1
    عاقل محمدی

    عاقل محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2015
    پیغامات:
    57
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جو احادیث اطاعتِ امیر پر آئی ہیں، کیا ان احادیث کی بنیاد پر جو آج کے حکمران ہیں ان کی بھی اطاعت لازمی ہے اور ان کے خلاف بغاعت جائز نہیں؟

    @ابن داود
    @خضر حیات
    @اسحاق سلفی
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 21، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جی ، بظاہر یہی لگتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
     
  3. ‏فروری 23، 2017 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جب تک حکمران کی تکفیر نہیں کی جاتی، اس وقت تک اس کی اطاعت سے چھٹکارا نہیں، اور تکفیر کرنا کوئی ٹی ٹونٹی کا اکھاڑا نہیں!
     
    Last edited: ‏فروری 23، 2017
  4. ‏فروری 23، 2017 #4
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    تکفیر کا معاملہ تو بعد کا ہے پہلے یہ
    فرمائیں یہ اسلامی ریاست ہے بھی یا نہیں ؟
     
  5. ‏فروری 23، 2017 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    حکمران پر تکفیر عوام الناس کا منصب نہیں اور درباری ملا اس کے لئے تیار نہیں- تو پھر اس کا کیا حل ہو - کیا ان حکمرانوں کو ان کے کفر سمیت ایسے ہی برداشت کیا جائے جیسے ایک غیر مسلم حکمران کو برداشت کیا جاتا ہے- ؟؟

    ٢٠٠٣ کی ایک ویڈیو میں نواز شریف نے کفریہ کلمات کہے تھے (اور اس پر کوئی توبہ بھی نہیں کی) - مزاروں و خانقاہوں پر جانا اور شرک میں ملوث ہونا ثابت ہے - پھر بھی یہ خبیث و نفس وزیر اعظم اور اس جیسے کئی وزیر کفریہ اعمال کے باوجود لائق اتباع قرار پاتے ہیں -

    الله ہمارے حالوں پر رحم کرے (آمین)-
     
  6. ‏فروری 23، 2017 #6
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    متفق
     
  7. ‏فروری 23، 2017 #7
    فلک شیر

    فلک شیر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2013
    پیغامات:
    185
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    نہ بھی چاہیں، تو اطاعت کرنے کے سوائے چارہ ہی کیا ہے :)
     
  8. ‏فروری 23، 2017 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی ''یہ'' یعنی ''اسلامی جمہوریہ پاکستان'' اسلامی ریاست ہے۔
    درست!
    حکومت کی معاونت و مشاورت کرنے سے کوئی درباری قرار پائے، تو سارے قاضی اچھے ہوں یا برے وہ بھی درباری قرار پائیں گے!
    اب کوئی کسی کے حسب منشا ء فتوی نہ دے ، یا فیصلہ نہ کرے تو اسے وہ ''درباری'' ملا یا قاضی کہہ دیتا ہے، اس کے لئے تو میرے پاس دعا کے سوا کچھ نہیں!
    حل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت امیر کے حوالہ سے احادیث میں بتلایا ہے، اصلاح کی کوشش کریں، اور صبر کریں!
    نہیں! غیر مسلم حکمرانوں کی طرح نہیں، کفر دون کفر یعنی فسق کے حامل کی طرح!
    کفریہ کلمات کہہ دینے سے کسی کا کافر ہو جانا لازم نہیں آتا!
    شرک میں ملوث ہو جانے ، اور مرتکب ہونے سے بھی کسی کی تکفیر لازم نہیں آتی!
    اگر آپ اتباع کے بجائے اطاعت کا لفظ استعمال کریں تو بہتر ہے! ان دونوں میں کافی فرق ہے!
    اور اس کے باوجود یہ لائق اطاعت قرار پاتے ہیں!
    آمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 23، 2017 #9
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    یہ اسلامی ریاست ہے کیوں مذاق کرتے ہیں
    اسلامی ریاست کا پہلا اور اہم اصول

    اللہ کے حکم الله کی زمین پر قائم کرنا

    دوسراہم اصول
    حکمران کا نماز قائم کرنا اور کروانا ہے
    ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی یہ حکمران کرتے ہیں
     
  10. ‏فروری 23، 2017 #10
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    250
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    ایسے تو سارے ہی درباری ہوجائیں گے۔
    مگر جو "علماء" حکومت کے برے اور خلاف شریعت کاموں کو درست کہیں اور ان کی باطل نوازی پر چپ رہیں (بلکہ اس پر جھوٹی دلیلیں دینے کی کوشش کریں!!!) ان کو " درباری " کہنا بہت چھوٹی بات ہے، حقیقت میں وہ کہیں بڑھ کر ہیں درباری کہلانے سے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں