1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

آدابِ طہارت اورچند جديد مسائل

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از راجا, ‏دسمبر 11، 2011۔

  1. ‏دسمبر 11، 2011 #1
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,554
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    آدابِ طہارت اورچند جديد مسائل


    مقالہ نگار: حافظ عمران ايوب لاہورى

    اسلام پاكيزہ مذہب ہے اور پاكيزگى و صفائى ستھرائى كوہى پسند كرتا ہے-يہى وجہ ہے كہ كتاب و سنت ميں متعدد مقامات پر طہارت و پاكيزگى اختيار كرنے كى اہميت و فضيلت بيان كى گئى ہے- اس كے دلائل ميں سے چند آيات و احاديث حسب ِذيل ہيں:

    (1) ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾( المدثر:4) ”اپنے كپڑے پاك ركهيں اور گندگى سے احتراز كريں-“
    (2) ﴿وَإنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا﴾ (المائدة:6) ”اگر تم جنبى ہو تو طہارت حاصل كرو-“
    (3) ﴿إنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ﴾ (البقرة:222) ”بلا شبہ اللہ تعالىٰ بہت زيادہ توبہ كرنے والوں اور طہارت و پاكيزگى حاصل كرنے والوں كو پسند فرماتے ہيں-“

    حديث ِنبوى ہے كہ
    (4) (الطهور شطر الإيمان) (مسلم:223) ”طہارت و صفائى نصف ايمان ہے-“
    (5) لا تقبل صلاة بغير طهور (مسلم :224) ”طہارت (يعنى وضو) كے بغير نماز قبول نہيں ہوتى-“
    (6) ايك روز صبح كے وقت رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضي اللہ عنہ كو بلايا اور دريافت كيا كہ اے بلال رضي اللہ عنہ! كس عمل كى بدولت تم مجھ سے جنت ميں سبقت لے گئے؟ يقينا ميں نے گذشتہ شب جنت ميں اپنے سامنے تمہارے قدموں كى آہٹ سنى ہے- تو حضرت بلال رضي اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ﷺ! ميں نے جب بهى اذان دى تو دو ركعتيں ادا كيں اور جب بهى مجهے حدث لاحق ہوا (يعنى ميں بے وضو ہوا) تو ميں نے اُسى وقت وضو كرليا- (يہ سن كر) رسول اللہﷺ نے فرمايا: ”اِسى كے بدلے (تمہيں يہ فضيلت عطا كى گئى ہے) “ (صحيح الترغيب از البانى:201)


    آداب قضاے حاجت
    چونكہ ہمارا عنوان قضاے حاجت سے متعلق ہے، اس لئے آئندہ سطور ميں قضائے حاجت كے چند آداب ذكر كئے جارہے ہيں :

    (1) اگر انسان آبادى ميں ہے تو بيت الخلا ميں داخل ہوجائے اور اگر فضا يا صحرا وغيرہ ميں ہے تو اس قدر دور نكل جائے كہ نظروں سے اوجھل ہوجائے- (بخارى:363، ابوداوٴد:1)
    (2) تمام محترم اور مقد س اشيا، مثلاً قرآن يا اللہ كے نام سے منقش انگوٹهى وغيرہ اپنے آپ سے عليحدہ كرلينى چاہئے ،جيسا كہ نبى ﷺ بيت الخلا ميں داخل ہوتے وقت اپنى انگوٹهى (جس پر ’محمدرسول اللہ‘ كا نقش تها) اُتار ديا كرتے تهے- (ابوداود:19، بيہقى :1/90)
    تاہم اگر ايسا كرنے سے قرآن (يا ديگر مقدس اشيا) كے چورى يا ضائع ہوجانے كا انديشہ ہو تو انہيں اپنے لباس ميں ہى كہيں چهپا ليناچاہئے- (فتاوىٰ اللجنة الدائمة:4/40)
    (3) قضائے حاجت كيلئے پردہ ميں ستر چهپاكر بيٹھنا چاہئے- (ترمذى:14، ابن ماجہ:337)
    (4) بيت الخلا ميں داخل ہوتے وقت پہلے باياں پاوٴں ركهنا چاہئے اور يہ دعا پڑھنى چاہئے:
    ”بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ“ (صحيح الجامع الصغير :3611، بخارى؛142)
    (5) قبلہ روہوكر يا قبلہ كى جانب پشت كركے نہيں بيٹھنا چاہئے، البتہ اگر كوئى بيت الخلا ميں ہے اور بيت الخلا ہى قبلہ رخ بنا ہوا ہے تو اُميد ہے كہ ايسے شخص پر كوئى گناہ نہيں ہوگا- (بخارى:394، ابوداوٴد:13)
    (6) گهاٹ پر، شاہراہ عام پر اور سائے كے نيچے قضاے حاجت سے اجتناب كرنا چاہئے-(ابوداود:26، إرواء الغليل:62)
    (7) غسل خانہ ميں پيشاب كرنا جائزنہيں- (ابوداود:28)
    (8) كهڑے پانى ميں پيشاب كرنے سے اجتناب كرنا چاہئے- (مسلم:281)
    (9) جس روايت ميں كسى جانور كى بل ميں پيشاب كرنے سے منع كيا گيا ہے، وہ ثابت نہيں- ( إرواء الغليل:55)
    (10) بوقت ِضرورت كسى برتن وغيرہ ميں بهى پيشاب كيا جاسكتا ہے- (ابوداود:24)
    (11) دوران قضاے حاجت كسى قسم كا كلام نہيں كرنا چاہئے- (السلسلة الصحيحة:3120)
    (12) نہ تودائيں ہاتھ سے استنجا كرنا چاہئےاورنہ ہى دائيں ہاتھ سے شرمگاہ كوچہوناچاہئے-(ابوداود:8، احمد:2/247)
    (13) استنجا كے لئے پانى استعمال كرنا افضل ہے- (ترمذى:19، ابوداود:44)
    (14) اگر تين پتهر يا ڈھيلے استعمال كرلئے جائيں تووہ بهى كفايت كرجاتے ہيں- (ابوداود:40)
    (15) گوبر اور ہڈى سے استنجا كرنا جائز نہيں- (ابن ماجہ:316)
    (16) خوراك يا كسى قابل احترام چيز سے استنجا كرنا جائز نہيں- (مسلم:450)
    (17) كوئلے سے استنجا كرنا بهى صحيح حديث كى رو سے ممنوع ہے-(صحيح الجامع الصغير:6826)
    (18) بلا ضرورت شرمگاہ كو ديكھنا درست نہيں- (ابوداود:4017)
    (19) پيشاب كے چھينٹوں سے اجتناب واجب ہے- (مسلم:292)
    (20) جس روايت ميں ہے كہ رسول ﷺ نے (دورانِ قضاے حاجت) ہميں بائيں پاوٴں پر وزن دے كر بيٹھنے اور دائيں پاوٴں كو كهڑا ركهنے كا حكم ديا ہے، وہ ضعيف ہے- (بيہقى:1/96)
    (21) بيت الخلا سے نكلتے وقت يہ دعا پڑھنى چاہئے: (غُفْرَانَكَ) (ابوداود:30)


    وجوبِ طہارت كى شرائط
    بدن ، لباس يا كسى جگہ پر غلاظت لگى ہو تو اسے صاف كرنا واجب ہے ،ليكن اہل علم نے اس وجوب كے لئے كچھ شرائط مقرر كى ہيں جن ميں سے چند اہم حسب ِذيل ہيں:

    (1) اسلام: كافر پر طہارت واجب نہيں ،كيونكہ اس پر اسلام كے احكام تب نافذ ہوں گے، جب وہ اسلام ميں داخل ہوگا، جبكہ وہ ابهى اسلام سے خارج ہے- اس كے لئے پہلے اسلام قبول كرنا ضرورى ہے-
    (2) عقل: كيونكہ جو شخص پاگل يا بے ہوش ہے يا نشہ كى حالت ميں ہے، وہ اس قابل ہى نہيں كہ طہارت كا حكم سمجھ سكے-
    (3) بلوغت:نابالغ بچہ مكلف نہيں ہوتا، اسلئے اس پر طہارت واجب نہيں، البتہ مستحب ضرور ہے-
    (4) نيند، نسيان اور اكراہ كى عدم موجودگى: كيونكہ اگر كوئى سوجائے يا بهول جائے يا اسے مجبور كيا گيا ہو تو ايسا شخص بالاتفاق مكلف نہيں-
    (5) كسى مُطهِّر كا وجود: يعنى پاك كرنے والى كوئى چيز مثلاً پانى يا مٹى وغيرہ موجود ہو-
    (6) استطاعت: انسان ميں اس كے استعمال كى قدرت و طاقت بهى موجود ہو-
    (7) نجاست لگى چيز كو اس قدر دہويا جائے كہ اس كا رنگ، بو اور ذائقہ باقى نہ رہے ،كيونكہ ان تينوں ميں سے كسى ايك چيز كى موجودگى بهى اس بات كا ثبوت ہوگى كہ عين نجاست كا كوئى جز ابهى موجود ہے، لہٰذا ان كے ختم ہونے تك نجس چيز كو دهونا يا كسى اور طريقے سے پاك كرنا ضرورى ہے-

    طہارت كن اشيا سے حاصل كى جاسكتى ہے؟
    طہارت حاصل كرنے كا اصل ذريعہ پانى ہے، كيونكہ كتاب و سنت ميں طہارت كے وصف كے ساتھ پانى كو ہى مختص كيا گيا ہے جيسا كہ قرآن ميں ہے :
    ﴿وَأنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُوْرًا﴾ (الفرقان:48) ”اور ہم نے آسمان سے پاك كرنے والا پانى اُتارا ہے-“
    اور حديث ميں ہے كہ الماء طهور لايُنجِّسه شيئ (ابوداود:67) ”پانى پاك كرنے والا ہے، اسے كوئى چيز ناپاك نہيں كرتى-“

    يہاں يہ بات قابل ذكر ہے كہ پانى سے اس وقت طہارت حاصل كى جاسكتى ہے، جب اس ميں كوئى پليد چيز نہ ملى ہو، جيسا كہ ايك روايت ميں ہے كہ ”پانى پاك ہے، الاكہ اس كى بو، ذائقہ اور رنگ پليد چيز گرنے سے بدل جائے-“ (بيہقى:1/29، دارقطنى:1/28) اس روايت كى سند ميں رشدين بن سعد راوى ضعيف ہے- (فيض القدير:2/383)

    اگرچہ يہ روايت كمزور ہے، ليكن اس كے معنى و مفہوم كے صحيح و قابل عمل ہونے پر اجماع منعقد ہوچكا ہے- (الإجماع لابن منذر: ص33، المجموع للنووي:1/110)

    اگر پانى كسى پاك چيز كے ملنے كى وجہ سے متغير ہوچكا ہو تو وہ اگرچہ خود تو پاك ہى رہتا ہے ليكن پاك كرنے والے وصف سے عارى ہوجاتا ہے، كيونكہ شريعت نے ہميں جس پانى سے طہارت حاصل كرنے كا حكم ديا ہے، وہ صرف ماءِ مطلق ہى ہے-

    اگر پانى ميسرنہ ہو تو پاك زمين سے طہارت حاصل كى جاسكتى ہے جس ميں مٹى، ريت اور پتهر وغيرہ سب اشيا شامل ہيں-ارشادِ بارى تعالىٰ ہے:
    ﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا﴾ (النساء:43) ”تمہيں پانى ميسر نہ ہو تو پاك مٹى سے تيمم كرلو-“
    حديث ِنبوى ہے كہ جُعلت لي الأرض مسجدًا وطهورًا (بخارى:335) ”ميرے لئے زمين كو مسجد اور پاك كرنے والى بنايا گيا ہے-“
    ايك اور حديث ميں ہے كہ ”پاك مٹى مسلمان كے لئے وضو ہے، چاہے دس سال اسے پانى نہ ملے، جب پانى حاصل ہوجائے تو اپنے جسم كو اس سے صاف كرے-“ (ابوداود:332)
    زمين دو طرح سے پاك ہوتى ہے :

    نمبر1: يہ كہ ا س پر پانى بہا ديا جائے جيسا كہ ايك ديہاتى نے مسجد كے ايك كونے ميں پيشاب كرديا تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر پانى كا ايك ڈول بہانے كا حكم ديا- (بخارى:221)
    نمبر 2: يہ كہ سورج يا ہوا كى وجہ سے زمين خشك ہوجائے حتىٰ كہ نجاست كا اثر بهى زائل ہوجائے تو وہ پاك ہوجاتى ہے، كيونكہ اس پر وہ وصف ہى باقى نہيں رہا جس و جہ سے اس كے نجس ہونے كا حكم لگايا گيا تها-

    (4) اگر كنوئيں ميں نجاست گر جائے اور اس كے اوصافِ ثلاثہ ميں سے كوئى وصف تبديل ہوجائے تو اسے پاك كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ اس سے اتنا پانى نكال ليا جائے جس سے تغير ختم ہوجائے اور پانى اپنى اصل حالت پر واپس آجائے- يہ ياد رہے كہ اصل مقصود پانى ميں واقع تغير كا زائل كرنا ہے، وہ كم پانى نكالنے سے ہو يا زيادہ نكالنے سے يا بغير نكالنے كے ہى- كنوئيں كا پانى كم يا زيادہ ہونے ميں بهى كوئى فرق نہيں-
    (5) ايسى اشيا جن ميں مسام (يعنى سوراخ و اجزا وغيرہ) نہ ہوں، مثلاً شيشہ، چهرى، تلوار، ناخن، ہڈى اور روغنى برتن وغيرہ ، وہ اس قدر (زمين يا كسى اور چيز پر) رگڑنے سے پاك ہوجاتى ہيں كہ جس سے نجاست كا اثر زائل ہوجائے-
    (6) واضح رہے كہ جن اشيا كو پاك كرنے كا كوئى خاص طريقہ شريعت سے ہميں ملتا ہے اُنہيں اسى طرح پاك كيا جائے گا، مثلاً جوتى پر لگى نجاست كے متعلق حديث ميں ہے كہ اِسے زمين پر رگڑ كر پاك كيا جائے- (ابوادود:65)


    (1) ٹائلٹ پيپر سے استنجا كا حكم
    افضل يہ ہے كہ پانى سے استنجا كيا جائے جيسا كہ حضرت ابوہريرہ رضي اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ يہ آيت :﴿فِيْهِ رِجَالٌ يُحِبُّوْنَ أنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِرِيْنَ﴾ (التوبہ:108) اہل قبا كے بارے ميں ناز ل ہوئى كيونكہ كانوا يستنجون بالماء ”وہ پانى كے ساتھ استنجا كرتے تهے-“ (ابوداود:144)
    پانى كے ساتھ استنجا كرنے والوں كے بارے ميں اللہ تعالىٰ كا اظہارِ محبت كرتے ہوئے آيت نازل فرما دينا اس با ت كا قطعى ثبوت ہے كہ پانى سے ہى استنجا كرنا افضل ہے-
    علامہ عينى رحمہ اللہ رقم طراز ہيں كہ ”پانى (سے استنجا كرنا) افضل ہے ،كيونكہ يہ نجاست كى ذات اور اثر كو زائل كرديتا ہے-“ (عمدة القارى :2/ 276)

    يہاں يہ بات ياد رہے كہ پانى كے ساتھ استنجا كے افضل ہونے كا يہ مطلب نہيں ہے كہ صرف پانى كے ساتھ ہى استنجا كرنا واجب ہے- شيخ امين اللہ پشاورى فرماتے ہيں كہ
    ولا يجب الاستنجاء بالماء كما يظنه العوام (فتاوىٰ الدين الخالص:1/386)
    ”پانى كے ساتھ استنجاكرنا واجب نہيں ہے، جيسا كہ عوام يہ گمان ركهتے ہيں-“

    لہٰذا پانى كے علاوہ ڈھيلوں كااستعمال بهى مباح و درست ہے اور عہد ِرسالت ميں نبى اور صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين اكثر اوقات انہى سے استنجا كيا كرتے تهے، جيسا كہ ايك حديث ميں ہے كہ نبى نے قضاے حاجت كيلئے جاتے ہوئے حضرت ابن مسعودرضي اللہ عنہ كو تين پتهر لانے كا حكم ديا- (بخارى:152)
    اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ نبى نے پانى كے علاوہ مٹى كے ڈھيلوں سے ہى بالآخر كيوں استنجا كيا؟ يہى بات پيش نظر ركهتے ہوئے ريسرچ كى گئى تو يہ بات سامنے آئى كہ مٹى ميں نوشادر (Ammonium Chloride) اور اعلىٰ درجے كے دافع تعفن اجزا موجود ہيں-

    ڈاكٹر ہلوك لكھتے ہيں كہ ”ڈهيلے كے استعمال نے سائنسى اور تحقيقى دنيا كو ورطہ حيرت ميں ڈال ركها ہے ،كيونكہ مٹى كے تمام اجزا جراثيموں كے قاتل ہيں-جب ڈهيلے كا استعمال ہوگا تو پوشيدہ اعضا پر مٹى لگنے كى وجہ سے ان پر بيرونى طور پر لگے تمام جراثيم مرجائيں گے- بلكہ تحقيقات نے يہاں تك ثابت كرديا ہے كہ مٹى كا استعمال شرمگاہ كے كينسر (Cancer of Penis) سے بچاتا ہے-“ (سنت ِنبوى اور جديد سائنس:1/191)

    معلوم ہوا كہ محسن انسانيت نے پانى كے علاوہ ڈهيلوں كا حكم يونہى نہيں ديا، بلكہ اس لئے ديا كہ اس ميں اُمت ِمسلمہ كے لئے بے شمار فوائد مضمر تهے-تاہم اہل علم نے پانى اور ڈهيلوں كے سوا ہر اس پاك چيز سے بهى استنجا كى اجازت دى ہے جو طہارت و نظافت ميں ان كے قائم مقام ہو اور نجاست كا اثر زائل كردے- امام شوكانى رحمہ اللہ رقم طراز ہيں كہ ”(قضاے حاجت كرنے والے پر) تين ڈهيلوں يا ان كے قائم مقام كسى پاك چيز سے استنجا كرنا لازم ہے-“ (الدّرر البہية: باب قضاء الحاجة)

    ايك اور مقام پر فرماتے ہيں : ”شارع نے جس چيز كے استعمال كى اجازت دى ہے، اس كے ساتھ استنجا كا حكم اس لئے ہے كہ نجاست كا اثر مٹ جائے اور اس كى ذات ختم ہوجائے اور شارع نے جس چيز كے ساتھ استنجا كرنے سے منع كيا ہے وہ (اس عمل ميں) كفايت كرنے والى نہيں اور جس سے منع نہيں كيا، اگر وہ چيز محترم نہ ہو اور نہ ہى اس كا استعمال مضر ہو تو وہ كفايت كرجائے گى-“ (السيل الجرار:1/202)

    نواب صديق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہيں: ”استنجا ہر ايسى جامد، پاك،(نجاست كى) ذات كو زائل كردينے والى چيز سے جائز ہے جو پتهر كے قائم مقام ہو اور نہ تو وہ چيز قابل احترام ہو اور نہ ہى كسى حيوان كا جز ہو، مثلاً لكڑى، كپڑے كا ٹكڑا، اينٹ اور ٹهيكرى وغيرہ -“ (الروضة الندية :1/110)

    امام ابن قدامہ رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں: ”لكڑى ، كپڑا اور ہر وہ چيز جس كے ذريعے صفائى كى جاسكے ،وہ (استنجا ميں) پتهروں كى مانند ہى ہے، يہى صحيح مذہب ہے اور اكثر اہل علم كا قول بهى ہے- “ (المغنى:1/213)

    سيد سابق مصرى رقم طراز ہيں كہ ”پتهر اور اس كے ہم معنى ہر جامد، پاك، نجاست مٹا دينے والى غير محترم چيز سے استنجا كيا جاسكتا ہے-“ (فقہ السنة:1/26)
    ڈاكٹر وہبہ زحيلى نقل فرماتے ہيں كہ ”پانى يا پتهر اور اس كى مثل ہر جامدپاك، (نجاست) زائل كردينے والى غير محترم چيز، مثلاً (درخت كا) پتہ، كپڑے كا ٹكڑا، لكڑى اور ٹهيكرى وغيرہ سے استنجا ہوجاتا ہے-(الفقه الإسلامي وأدلته:1/195)

    شيخ امين اللہ پشاورى حفظہ اللہ فرماتے ہيں كہ ”اور ان رومالوں سے بهى استنجا كرنا جائز ہے جو (بطورِ خاص) اسى لئے تيار كئے جاتے ہيں-“ (فتاوىٰ الدين الخالص:1/386)
    مذكورہ علما نے ان روايات سے استدلال كيا ہے جن ميں يہ ذكر ہے كہ نبى نے تين پتهروں كے ساتھ استنجا كرنے كا حكم ديا اور يہ بهى فرمايا كہ ہڈى اور گوبر كے ساتہ استنجا نہ كيا جائے- (ابوداود:41، مسلم:1/223، كتاب الطهارة) ان كا كہنا ہے كہ اگر آپ كا مقصود پتهر اور اس كے قائم مقام ہر چيز كے ساتھ استنجا كى اجازت دينا نہ ہوتا تو آپ كبهى ہڈى اور گوبر كو بطورِ خاص مستثنىٰ نہ كرتے- اس استثنا سے معلوم ہوتا ہے كہ ان كے علاوہ تمام اشيا سے استنجا كيا جاسكتا ہے-

    ٹائلٹ پيپر ايك ايسا نرم ملائم اور لطيف كاغذ ہے جو اہل يورپ كى ايجاد ہے اور اسے خاص طور پر استنجا كيلئے تيار كيا جاتا ہے- اگرچہ گذشتہ بحث سے بظاہر يہى معلوم ہوتا ہے كہ ٹائلٹ پيپر كے استعمال ميں بهى كوئى حرج نہيں، ليكن يہ ياد رہے كہ اس پيپر كى تيارى ميں جو مختلف قسم كے كيميكلز استعمال كئے جاتے ہيں،وہ انتہائى مہلك ہيں-ان سے جلدى امراض (Skin Diseases) ايگزيما (Eczema) اور جلد ميں رنگت كى تبديلى كے امراض پيدا ہوسكتے ہيں- اس وقت تمام اہل يورپ يہى پيپر استعمال كررہے ہيں- پچهلے دنوں اخبارات نے يہ خبر شائع كى كہ اس وقت يورپ ميں شرم گاہ كے مہلك امراض خاص طور پر كينسر تيزى سے پهيل رہا ہے- اسكے سدباب كے لئے جب تحقيقى بورڈ بيٹها تو اس بورڈ كى رپورٹ صرف دو چيزيں تهيں كہ ٹائلٹ پيپر كا استعمال كرنا اور پانى كا استعمال نہ كرنا- (سنت ِنبوى اور جديد سائنس:1/191)

    ٹائلٹ پيپر كے استعمال كى دو ہى صورتيں ہوسكتى ہيں :
    (1) مستقل استعمال
    (2) پانى اور مٹى كى غير موجودگى ميں استعمال
    درج بالا مضر اثرات و نتائج كى وجہ سے اسے مستقل استعمال كرنے سے اجتناب ہى بہتر ہے- تاہم اگر اس كے استعمال سے كسى ضرر كا انديشہ نہ ہو يا اس كے بعد پانى استعمال كرليا جائے يا پانى اور مٹى كى غير موجودگى ميں اسے استعمال كيا جائے تو اُميد ہے كہ ايسا كرنے والے پر كوئى گناہ نہ ہوگا- والله اعلم!


    (2) كموڈ (Commode)كى شرعى حيثيت
    كموڈ سيٹ نما فلش ہے ،جس پر بيٹھ كر قضاے حاجت كى جاتى ہے- آج كل اس كا استعمال دفاتر، ہوٹلز، ايئر پورٹس اور يونيورسٹيز سے لے كر گهروں تك عام ہوتاچلا جارہا ہے- اس كى شرعى حيثيت سمجهنے كے لئے اتنا ہى كافى ہے كہ اس پر بيٹھ كر قضاے حاجت كرتے ہوئے پيشاب كے چھينٹوں سے بچنا انتہائى مشكل ہے اور يہ بات محتاجِ دليل نہيں كہ پيشاب كے چهينٹوں سے اجتناب بہرصورت واجب ہے- اور يہ اُصول ہے كہ جو چيز كسى واجب كى تكميل كے لئے ناگزير ہے، وہ بهى واجب ہے ،يعنى اگر پيشاب كے چهينٹوں سے اجتناب كموڈ سے بچنے ميں ہى ہے تو كموڈ سے بچنا بهى واجب ہے- تاہم اس كے جواز كى ايك صورت ہے كہ اگر اس پر بيٹھ كر قضاے حاجت كے دوران نجاست يا پيشاب كے چهينٹوں سے بچنا يقينى ہو تو ہمارے علم كے مطابق كوئى اور ايسا سبب نہيں جس بنا پر اسے ناجائز قرار ديا جائے- البتہ بہتر اور صحت بخش طريقہ وہى ہے جو فطرى ہے اور جسے محمد ﷺ نے اپنايا ہے- جديد ريسرچ كے مطابق اگر اس فطرى طريقے كے مطابق قضاے حاجت كے لئے بيٹها جائے تو اپنڈے سائيٹس(Appendesitis)، دائمى قبض، بواسير(Piles)، گردوں كے امراض، گيس، تبخير اور بدہضمى وغيرہ جيسے امراض ختم ہوجاتے ہيں- (سنت ِنبوى اور جديد سائنس: 1/190)

    علاوہ ازيں ايك روايت ميں ہے كہ حضرت سراقہ بن مالك رضي اللہ عنہ فرماتے ہيں كہ
    ”علَّمنا رسول الله في الخلاء أن نقعد على اليسرٰى وننصب اليمنٰى“
    ”رسول اللہ ﷺ نے قضاے حاجت كى تعليم ديتے ہوئے ہميں فرمايا كہ ”ہم بائيں پاوٴں پر وزن دے كر بيٹهيں اور دائيں كو كهڑا ركهيں (يعنى اس پر كم بوجھ ڈاليں)“ (بيہقى:1/96)

    اگرچہ سنداً اس روايت ميں ضعف ہے، ليكن اس ميں مذكور طريقہ قضائے حاجت حكمت سے خالى نہيں، جيساكہ اس روايت كى شرح كرتے ہوئے مولانا صفى الرحمن مباركپورى حفظہ اللہ فرماتے ہيں : ”اس حديث ميں نبى كريم ﷺ نے بائيں پاوٴں پر بيٹهنے كا حكم ديا ہے- اس كى وجہ يہ سمجھ ميں آتى ہے كہ انسان كا معدہ بائيں طرف ہوتا ہے-بائيں پاوٴں پر بيٹھنے سے اخراجِ فضلہ ميں سہولت اور آسانى ہوتى ہے-“ (شرح بلوغ المرام:1/93)

    لامحالہ يہ فائدہ بهى انسان كو تب ہى حاصل ہوسكتا ہے،جب وہ كموڈ پر نہيں بلكہ ٹائلٹ پر قضاے حاجت كررہا ہو، كيونكہ كموڈ پر اس طرح بيٹهنا ممكن ہى نہيں-
    خلاصہٴ كلام يہ ہے كہ قضائے حاجت كے لئے سب سے بہتر فطرى طريقہ كے مطابق عام ٹائلٹ كا استعمال ہے، ليكن اگر كموڈ كى بهى كہيں ضرورت پيش آجائے اور پيشاب كے چهينٹوں سے اجتناب ممكن ہو تو اس كا استعمال گوارا كيا جاسكتا ہے-


    (3) يورينل (Urinal) كے استعمال كا حكم
    يورينل اس ظرف كو كہتے ہيں جو بطورِ خاص مريضوں كے پيشاب كرنے كے لئے بنايا جاتا ہے- اس كى ضرورت تب ہى پيش آتى ہے جب مريض اُٹھ كر باتھ روم تك جانے كى قوت وطاقت نہ ركهتا ہو- يقينا ً ايسى صورت ميں مريض باتھ روم جانے كا مكلف نہيں ہے ،كيونكہ اللہ تعالىٰ نے انسان كو اتنے كام كا ہى مكلف ٹھہرايا ہے جتنے كى اس ميں استطاعت موجود ہے جيساكہ قرآن ميں ہے:
    ﴿لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا﴾ (البقرة:286)
    ”اللہ تعالىٰ كسى جان كو اس كى طاقت سے زيادہ تكليف نہيں ديتا-“

    ايك اورآيت ميں ہے كہ ﴿فَاتَّقُوْا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن:16) ”پس جہاں تك تم سے ہوسكے اللہ سے ڈرتے رہو-“
    اور حديث ہے كہ (إذا أمرتكم بشيئ فأتوا منه ما استطعتم) (بخارى:7288) ”جب ميں تمہيں كسى كام كا حكم دو تو حسب استطاعت اس پر عمل كرليا كرو-“

    نيز ايك صحيح حديث سے يہ بهى ثابت ہے كہ نبى ﷺ بيمارى كى حالت ميں چارپائى پر ايك لكڑى سے بنے برتن ميں ہى پيشاب كرليا كرتے تهے، جيسا كہ اس حديث ميں يہ لفظ ہيں كہ
    (كان للنبي قدح من عيدان تحت سريره يبول فيه بالليل) (ابوداود:24)
    ”نبى كے پاس لكڑى كا ايك برتن تها جسے آپ نے اپنى چارپائى كے نيچے ركها ہوتا تها اور آپ رات كو اس ميں پيشاب كرليا كرتے تهے-“

    اس حديث كى شرح ميں علامہ شمس الحق عظيم آبادى فرماتے ہيں كہ”نبى حالت مرض ميں ايسا كيا كرتے تهے-“ (عون المعبود:1/30)
    معلوم ہوا كہ مريض كے لئے يورينل كا استعمال مباح و جائز ہے، البتہ ہوش مند مريض كے لئے پيشاب كے بعد استنجا كرنا ضرورى ہے- اگرپانى سے استنجا ممكن نہ ہو تو مٹى كے ڈهيلے استعمال كرے- اگر يہ بهى ممكن نہ ہو تو ٹشو پيپر سے ہى استنجا كرے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 17، 2011 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,614
    موصول شکریہ جات:
    5,222
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    (7) غسل خانہ ميں پيشاب كرنا جائزنہيں- (ابوداود:28)
    - آج کل کےبیشتر جدید واش رومز مشترکہ یعنی غسل خانہ اور بیت الخلا ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر دونوں الگ الگ ہوں تب غسل خانہ میں پیشاب کرنا منع ہوگا

    (9) جس روايت ميں كسى جانور كى بل ميں پيشاب كرنے سے منع كيا گيا ہے، وہ ثابت نہيں- ( إرواء الغليل:55)
    - اگر یہ حدیث ثابت نہیں بھی ہے، تب بھی عقل سلیم کا تقاضہ یہی ہے کہ بلوں میں پیشاب نہ کیا جائے ک مبادہ اس کے اندر کوئی موذی جانور ہو اور وہ ’’ جواباََ ‘‘ حملہ کردے۔

    (2) كموڈ (Commode)كى شرعى حيثيت
    - جو لوگ اس کے استعمال کے عادی نہیں ہیں، وہی اس میں طہارت کا خیال نہیں رکھ سکتے۔ آج کل بیشتر مغربی کلچر میں اور مشرق کلچر کے بھی بیشتر اعلیٰ قیام گاہوں، ہوٹلز میں صرف اور صرف کموڈ ہی دستیاب ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے استعمال کا طریقہ سیکھا جائے تاکہ طہارت کو یقینی بنایا جائے نہ کہ اس کی شرعی حیثیت کا تعین کیا جائے اور اس کے استعمال کو مشکوک قرار دیا جائے۔

    (1) ٹائلٹ پيپر سے استنجا كا حكم
    - آج کل کے جدید واش رومز میں ڈھیلوں کی دستیابی اور ان کا استعمال بھی عملاََ ممکن نہیں۔ ایسے واش رومز میں اس کا بہترین متبادل ٹوائلیٹ پیپرز یا ٹشو پیپرز ہیں۔ ٹوائیلیٹ یا ٹشو پیپرز کی خراب کوالٹی کو بنیاد بنا کر اسے مشکوک نہیں بنانا چاہئے۔ اور مغرب میں بہت سے غیر مسلم پانی کے بغیر صرف ان ٹشوز ہی کو استعمال کرتے ہیں، اسی لئے انہیں مختلف امراض آگھیرتے ہیں۔ مسلمان ممکنہ حد تک پانی کو لازماََ استعمال کرتے ہیں۔ پانی کے استعمال سے قبل اور بعد ٹشوز کا استعمال طہارت کو مزید یقینی بناتا ہے اور قطروں کے امراض والوں کے لئے ٹشوز کا استعمال بہت مفید ہے۔

    امید ہے کہ میرے ان ’’اختلافی‘‘ نوٹ سے اختلاف نہیں کیا جائے گا
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 17، 2011 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,614
    موصول شکریہ جات:
    5,222
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    كموڈ (Commode)كا استعمال:
    کموڈ کا ستعمال بلا کراہت جائز ہے۔ بس اس کا درست استعمال آنا چاہئے اور اس کے استعمال کے دوران طہارت کا خیال رکھنا چاہئے۔ ضعیفوں، مریضوں کے لئے تو یہ کسی ’’نعمت‘‘ سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی ایسے کلچر میں رہائش پذیر ہوں، رہنا پڑے جہاں اس کا ’’متبادل‘‘ موجود نہیں تو بھی اسےاستعمال کرنا آنا چاہئے۔ چند ٹپس پیش خدمت ہیں۔
    ١۔ اگر کموڈ صرف آپ کے ’’ذاتی استعمال‘‘ میں نہیں ہے (بلکہ مشترکہ یا پبلک کموڈ ہے) تو آپ کواس کے سیٹ (خواہ خشک ہی کیوں نہ ہو) کی طہارت پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ اس پر بیٹھنے سے قبل اسے دھو کر ٹشو پیپر سے خشک کر لیں۔
    ٢۔ کموڈ پر بیٹھنے سے قبل اس پر ٹشو پیپر کو اس طرح بچھا لیں کہ ٹشو کا کوئی حصہ دائیں بائیں لٹکا ہوا نہ ہو۔ اور سیٹ کی طرح ٹشو بھی مکمل طور پر خشک ہو۔
    ٣۔ بول و براز سے قبل کموڈ کے باؤل میں پانی کی سطح کے اوپر ٹشو پیپر کےاتنے ٹکڑے ڈال لیں کہ دوران فراغت نیچے کا پانی اچھل کر جسم کو نہ لگے۔
    ٤۔ بول و براز سے فراغت کے بعد پہلے فلش کو چلا کر سارے ’’کئے کرائے‘‘ پر پانی بہادیں۔ اس احتیاط کے ساتھ کہ اس دوران فلش کا پانی اچھل کو آپ کے جسم کو نہ لگے۔
    ٥۔ اب باؤل میں تازہ یعنی صاف پانی جمع ہوگا۔ اب اپنے جسم پر لگی غلاظت کو پہلے پانی سے صاف کریں پھر ٹشو پیپر سے خشک کریں۔
    ٦۔ اب جسم دھلا ہوا اور خشک ہوگا۔ اب سیٹ سے اٹھ کر سیٹ کا ٹشو بھی باؤل میں گرا دیں اور ایک مرتبہ پھر فلش سے پانی کو بہا دیں۔
    ٦۔ گندے اور آلودہ ہاتھ کو پہلے ڈیٹول ملے مائع صابن سے دھوئیں پھر عام ٹوائلیٹ صابن سے دونوں ہاتھ دھو کر پاک کرلیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 17، 2011 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیراً یوسف ثانی بھائی جان۔
    یہ بات واقعی درست ہے کہ بعض اوقات کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوتا خصوصیت سے جب یورپین ممالک میں ہوں، تو یہ مسئلہ بعض اوقات شدید صورت اختیار کر جاتا ہے۔ ہم جیسے دیسی لوگوں کے لئے اس سلسلے میں اور بھی مشکل ہے۔ آپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں، بہت عمدہ ہیں۔ اس پہلو سے کبھی غور نہیں کیا تھا۔ لیکن اب بھی درج ذیل پوائنٹس کے بارے میں اطمینان حاصل کرنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔

    ٹشو پیپرز ڈال کر پانی اچھل کر نہ لگنے کا اطمینان یا تسلی کرلینا میرے خیال میں تو ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہ:
    یہ بھی اچھا خاصا ہر دفعہ کا عارضی کنسٹرکشن ورک ہی معلوم ہوتا ہے ۔۔ ابتسامہ۔ جو بندہ عجلت میں ہو اس کے لئے اور بھی مشکل ہے۔ نیز بیٹھتے اٹھتے وقت یہ ٹشو پیپرز کچھ ادھر ادھر ہو گئے تو پانی اچھل کر ٹشو پیپرز کو گندا کرے گا اور ٹشو پیپرز سے بدن تک گندگی منتقل ہو جائے گی۔
    کچھ بھی کہئے یہ بات طے ہے کہ کموڈ میں طہارت کا مکمل اطمینان کر لینا بہت مشکل ہے۔ ہاں اگر جہاز کی طرح ویکیوم والے کموڈ ہوں تو پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ لیکن وہ عام گھروں یا ہوٹلوں وغیرہ میں نہیں پائے جاتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 19، 2011 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,614
    موصول شکریہ جات:
    5,222
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    شاکر بھائی!
    آپ کی بات اپنی جگہ درست سہی، مگر میں نے یہ ’’احتیاطی نکات‘‘ صرف اُنہی لوگوں کے لئے پیش کئے ہیں، جن کے پاس (کبھی یا اکثر اوقات) ویسٹرن کموڈ کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہوتا یا وہ بیماری، معذوری وغیرہ کی صورت میں ایسٹرن کموڈ پر بیٹھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ یا پھر ویسٹرن کموڈ ہی کے کلچر میں پلے بڑھے ہوں اور طہارت کو ممکنہ حد تک یقینی بنانے کے خواہشمند ہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 17، 2013 #6
    طارق راحیل

    طارق راحیل مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2011
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    690
    تمغے کے پوائنٹ:
    110

    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏دسمبر 18، 2013 #7
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,446
    موصول شکریہ جات:
    6,004
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ خیرا
    راجا-یوسف اور شاکر بھائی
     
  8. ‏دسمبر 22، 2013 #8
    خوارجی کی حقیقت

    خوارجی کی حقیقت رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏نومبر 09، 2013
    پیغامات:
    329
    موصول شکریہ جات:
    132
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏جنوری 27، 2017 #9
    فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2016
    پیغامات:
    45
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    طہارت حاصل کرنا کب فرض اور کب سنت ہو گا؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں