1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آٹھ رکعت تراویح کے مرکزی راوی محمد بن یوسف کا رجوع

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از انصاری نازل نعمان, ‏جون 19، 2016۔

  1. ‏جون 19، 2016 #1
    انصاری نازل نعمان

    انصاری نازل نعمان رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2013
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    121
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام عليكم شیخ اس روایت اور تحقیق کی وضاحت کر دیں ۔۔۔۔۔

    آٹھ رکعت کے مرکزی راوی محمد بن یوسف کا رجوع

    حدثنا يوسف بن سعيد، ثنا حجاج، عن ابن جريج، حدثني إسماعيل بن أمية أن محمد بن يوسف ابن أخت السائب بن يزيد، أخبره قال: جمع عمر بن الخطاب الناس على أبي بن كعب، وتميم الداري، فكانا يقومان بمائة في ركعة فما ينصرف حتى نرى أو نشك في فروع الفجر. قال: فكنا نقوم بأحد عشر.
    قلت: أو واحد وعشرين.
    قال: لقد سمع ذلك أن السائب بن يزيد - ابن خصيفة.
    فسألت يزيد بن خصيفة.
    فقال: حسبت أن السائب قال: إحدى وعشرين.
    .قال محمد: أو قلت لإحدى وعشرين.

    ترجمہ: سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں ابی بن کعب اورتمیم داری رضی اللہ عنہما کے ساتھ تراویح پڑھنے کے لئے جمع کردیا ، تو یہ دونوں ایک رکعت میں سوآیات پڑھاتے تھے پھرجب ہم نماز سے فارغ ہوتے تھے تو ہم کو لگتا کہ فجرہوچکی ہے ، سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔
    اس روایت کے راوی اسماعیل بن امیہ نے جب محمدبن یوسف سے سناتو پوچھا: گیارہ رکعات یا اکیس رکعات ؟؟
    محمدبن یوسف نے کہا: یقینن اس طرح کی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
    اساعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ: پھر میں یزیدبن خصیفہ سے اس بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا:مجھے لگتا ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اکیس کہا تھا ,محمد نے کہا بلکہ میں کہتا ہوں اکیس رکعت ہے۔


    اشکال نمبر1۔
    محمد بن یوسف کا یہ قول محتمل معلوم ہوتا ہے كے وہ 11 رکعت والی حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہیں یا 20 رکعت والی بات کی طرف كے کونسا سنا ہے . . .


    قال: لقد سمع ذلك أن السائب بن يزيد - ابن خصيفة.

    "محمدبن یوسف نے کہا: یقینن اس طرح کی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔"

    چونکہ یہاں پر دو اشارات موجود ہیں اور لفظ ( ذالک) بعید’ ( دور ) كے كے لیے استعمال ہوتا ہے اسلئے ہم نے ان كے قول سے بعید والا یعنی 11رکعت والی حدیث مراد لی ہے .

    ( 3 ) اگر ہم لفظ ( ذالک) سے قریب والا ( یعنی 21 رکعت ) مراد لیتے ہیں تواس قول کا مطلب یہ ہو گا

    قال: لقد سمع ذلك أن السائب بن يزيد - ابن خصيفة.

    محمدبن یوسف نے کہا: یقینن 21 رکعت والی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔"

    تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے كے جب محمد بن یوسف کو یقین ہے كے یزید بن خصیفہ نے 21 رکعت ہی صحابی سنے ہیں تو پِھر خود 11 رکعت کیوں روایت کر رہے ہیں . . . ؟

    اِس کا صاف مطلب یہ ہو گا كے صحابی سائب بن یزید اضطراب کا شکار ہوئے ہیں كے کبھی 11 رکعت بیان کرتے ہیں تو کبھی 21 رکعت۔. ( نعوذبااللہ )
    لہذا یہ مان لینا کسی صورت درست نہ ہوگا

    4 )حسبت أن السائب قال: إحدى وعشرين.
    . یزید بن خصیفہ نے لفظ (حسبت ) کہا ہے جس کا معنی( میرا خیال ہے ) ہوتا ہے .

    تو اِس لفظ سے اہلحدیثو نے یہ فیصلہ کیا كے یزید بن خصیفہ کو تعداد صحیح طور پر یاد نہیں تھی اسلئے ایسا کہا ہے .

    لیکن اصل بات تو یہ ہے كے ، ابن خصیفہ خود کوئی حدیث بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ جب ابن امیہ نے محمد بن یوسف سے 11 رکعت والی حدیث ان کو بتای اور سوال کیا توانہوں نے محمد بن یوسف كے بارے میں گمان لگایا اور کہا :

    : . حسبت أن السائب قال: إحدى وعشرين.
    " میرا خیال ہے كے سائب ( رضی اللہ ) نے ( اِبْن یوسف سے ) فرمایا 21 رکعت "
    5 ) : . . یزید بن خصیفہ (رحمہ اللہ ) کو اپنی روایت میں کوئی شک نہیں تھا اِس کا ثبوت بھی ہمارے پاس موجود ہے كے وہ بطور جزمجازم كے 20 رکعت کو روایت کرتے ہیں. . . .
    مثلاً :
    یزید بن خصیفہ (رحمہ اللہ) سے روایت ہے كے ، سائب بن یزید ( رضی اللہ ) نے فرمایا حضرت عمر ( رضی اللہ عنہ ) كے دور میں لوگ كے رمضان کے مہینے میں 20 رکعت( تراویح) پڑھتے تھے . اور ( قاری) قران میں سے 100-100 آیات والی سورتیں پڑھتے تھے .

    ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋَﻠِﻲُّ، ﺃﻧﺎ ﺍﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﺫِﺋْﺐٍ، ﻋَﻦْ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﺑْﻦِ ﺧُﺼَﻴْﻔَﺔَ، ﻋَﻦِ ﺍﻟﺴَّﺎﺋِﺐِ ﺑْﻦِ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﻗَﺎﻝَ : ﻛَﺎﻧُﻮﺍ ﻳَﻘُﻮﻣُﻮﻥَ ﻋَﻠَﻰ ﻋَﻬْﺪِ ﻋُﻤَﺮَ ﺑْﻦِ ﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﺭَﺿِﻲَ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻨْﻪُ ﻓِﻲ ﺷَﻬْﺮِ ﺭَﻣَﻀَﺎﻥَ ﺑِﻌِﺸْﺮِﻳﻦَ ﺭَﻛْﻌَﺔً، ﻭَﺇِﻥْ ﻛَﺎﻧُﻮْﺍ ﻟَﻴَﻘْﺮَﺀُﻭْﻥَ ﺑِﺎﻟْﻤِﺌِﻴْﻦَ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥ .

    مسند ابن الجاد صفح 1009 ،1010 ،سنن الکبری ،سند صحیح ۔
    اسی طرح یزید بن خصیفہ سے معارفة السنن والآثار للبیہقی، کتاب الصیام للفریابی، میں بطور جزم کے حدیث بیان ہے۔
    لہٰذا ابن خصیفہ کو شک تھا کہنا بلکل غلط ہے

    6 ) 21 رکعت میں (وتر 20 + 1تراویح ) ہیں
    جیسا كے یزید بن خصیفہ ( رحمہ اللہ ) کی روایت میں اِس کی تصریح موجود ہے .

    سائب بن یزید ( رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا ہم عمر ( رضی اللہ عنہ ) كے زمانے میں 20 رکعت (تراویح ) اور وتر پڑھا کرتے . ”
    ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻃَﺎﻫِﺮٍ ﺍﻟْﻔَﻘِﻴﻪُ ﻗَﺎﻝَ : ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻋُﺜْﻤَﺎﻥَ ﺍﻟْﺒَﺼْﺮِﻱُّ ﻗَﺎﻝَ : ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﺃَﺣْﻤَﺪَ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟْﻮَﻫَّﺎﺏِ ﻗَﺎﻝَ : ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺧَﺎﻟِﺪُ ﺑْﻦُ ﻣَﺨْﻠَﺪٍ ﻗَﺎﻝَ : ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﻗَﺎﻝَ : ﺣَﺪَّﺛَﻨِﻲ ﻳَﺰِﻳﺪُ ﺑْﻦُ ﺧُﺼَﻴْﻔَﺔَ، ﻋَﻦِ ﺍﻟﺴَّﺎﺋِﺐِ ﺑْﻦِ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﻗَﺎﻝَ : ﻛُﻨَّﺎ ﻧَﻘُﻮﻡُ ﻓِﻲ ﺯَﻣَﺎﻥِ ﻋُﻤَﺮَ ﺑْﻦِﺍﻟْﺨَﻄَّﺎﺏِ ﺑِﻌِﺸْﺮِﻳﻦَ ﺭَﻛْﻌَﺔً ﻭَﺍﻟْﻮِﺗْﺮِ .

    (معارف السنن والآثار للبیہقی جلد 4 صفحہ 42)

    8) آخر میں محمد بن یوسف بھی اپنی بات سے رجوع کرتے ہوے کہتے ہیں کہ

    .قال محمد: أو قلت لإحدى وعشرين.
    بلکہ میں 21 رکعت کہتاہوں
     
  2. ‏جون 19، 2016 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یہ مضحکہ خیز تحریر پڑھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ احناف عقل وخرد سے پیدل ہوگئے ہیں یا اپنا تقلیدی مذہب ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ہرطرح کی جہالت ، فریب اور مغالطہ بازی کو اپنے لئے جائزسمجھ لیا ہے۔اس طرح کی لایعنی تحریریں اس قابل نہیں ہوتی ہیں کہ انہیں جواب سے سرفراز کیا جائے لیکن سادح لوح مسلمان کہیں ان کے فریب میں نہ آجائیں اس لئے جواب پیش خدمت ہے:

    روایت کے آخری حصہ کا ترجمہ سراسر غلط، دھوکے اور فراڈ پر مبنی ہے ۔
    صحیح ترجمہ یہ ہے :
    محمد نے کہا: کیا میں نے اکیس رکعات کہی ؟
    مزید وضاحت آخر میں آرہی ہے ۔

    یہاں ذرہ برابر کوئی دوسرا احتمال ہے ہی نہیں ۔
    معترض کا کہنا ہے کہ ذلک کا اشارہ دور کے لئے ہوتا ہے ۔
    اول تو یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے قرآن میں بہت سے مقامات پر قریب کے لئے بھی دور والے اسمائے اشارہ کے ذریعہ اشارہ ہے مثلا:
    {ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ } [البقرة: 2]
    {أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ} [البقرة: 177]
    { فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ} [يوسف: 32]
    دوسرے یہ کہ یہاں محمدبن یوسف کے شاگرد نے ایک سوال کیا ، اس سوال کے جواب میں فورا محمدبن یوسف نے مذکورہ بات کہی اس لئے ان کے جواب میں اشارہ ان سے کئے گئے سوال ہی کی طرف ہے یہاں قریب وبعید کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔
    بالفاظ دیگر یہ کہہ لیں کہ اشارہ ایک بات کی طرف ہے ۔ اور مشار الیہ میں یعنی سوال میں صرف ایک ہی بات ہے ، اس لئے اسی کی طرف اشارہ ہونا بالکل طے شدہ بات ہے ۔یہاں سرے سے کسی دوسرے احتمال کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔
    معترض کا سوال سے ہٹ کر ماقبل میں روایت کے کسی حصہ کو مشار الیہ قراردینا ، یہ مارے گھٹنہ پھوٹے سر والی بات ہے۔ اور نحو اور قواعد عربیہ کی معمولی جانکاری رکھنے والے کے لئے بھی انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔


    یہاں مشار الیہ سوال ہے اور سوال کے اندر اکیس رکعت والی بات کے علاوہ سرے سے کسی دوسری چیز کا وجود ہی نہیں ہے ۔ اس لئے قریب وبعید کی بات کرکے مشار الیہ کے مقام سے ہٹ کو دوسری غیرمتعلق جگہ میں مشار الیہ مراد لینا حددرجہ جہالت کے ساتھ ساتھ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔
    رہا معترض کا یہ کہنا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابی سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اضطراب کا شکار ہوئے ۔تو عرض ہے کہ محمدبن یوسف نے یہاں صرف یہ کہا ہے کہ ایسا یزیدبن خصیفہ نے سنا ہے ۔ لیکن محمدبن یوسف نے یہ ہرگز نہیں کہا ہے کہ یزیدبن خصیفہ نے صحیح طور پر سنا ہے ۔بلکہ ان کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یزیدبن خصیفہ کو سننے میں غلطی لگی ہے۔
    اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ یزیدبن خصیفہ نے اپنے استاذ سے گیارہ رکعات ہی سنا ہو لیکن بعد میں وہ وہم کے شکار ہوکر بھول گئے ہوں جیساکہ خودیزیدبن خصیفہ نے اس بابت پوچھے جانے پر شک کے ساتھ جواب دیا ۔

    یہ بات کوئی نہیں کہتا کہ یزید بن خصیفہ نے حدیث بیان کرتے وقت شک کا اظہار کیا ہے۔
    بلکہ بات یہ ہے کہ جب اس بارے میں یزیدبن خصیفہ سے سوال ہوا تو انہوں نے یقین کے ساتھ جواب نہیں دیا ۔بلکہ شک کے ساتھ جواب دیا ۔ ان کا اس موقع پر شک کے ساتھ جواب دینا ، اسی بات کو دلیل بناتے ہوئے اہل حدیث کہتے ہیں کہ یزید ابن خصیفہ کو اپنی بیان کردہ تعداد پر پوری طرح سے وثوق نہیں تھا۔
    جبکہ محمدبن یوسف سے بھی رکعات کے بارے میں سوال ہوا لیکن انہوں نے جواب میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ پورے وثوق کے ساتھ گیارہ رکعات کی تعداد بتلائی ہے۔
    بالفاظ دیگر یہ کہہ لیں کہ احادیث بیان کرتے وقت دونوں میں سے کسی نے شک کا اظہار نہیں کیا ہے۔
    لیکن جب تعداد رکعات کے بارے میں دونوں سے سوال ہوا تو ان دونوں میں صرف یزید بن خصیفہ نے شک کا اظہار کیا جبکہ محمدبن یوسف نے کسی شک کا اظہار نہیں کیا بلکہ پورے وثوق ویقین اور اعتماد سے گیارہ رکعات ہی کی تعداد بتلائی ہے۔
    اس لئے یہ بھی ایک وجہ ہے جس کی بناپر محمد بن یوسف کے مقابلے میں یزید بن خصیفہ کا بیان ناقابل اعتبار ہے۔


    یہ کوئی نہیں کہتا کہ یزیدبن خصیفہ یا محمدبن یوسف روایت بیان کرتے وقت شک کا اظہار کرتے تھے ۔
    بلکہ جوبات کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کی بیان کردہ تعداد کے بارے میں جب دونوں سے سوال ہوا تو ان دونوں میں سے صرف یزیدبن خصیفہ نے اپنی بیان کردہ تعداد پر شک کا اظہار کیا جبکہ محمدبن یوسف نے سوال کرنے پربھی کسی طرح کے شک وشبہہ کااظہار نہیں کیا ۔اس لئے محمدبن یوسف کی بات ہی معتبر ے ۔ مزید وضاحت ماقبل میں بھی ہوچکی ہے۔

    اگر بیس رکعات کے بعد ایک ہی رکعت وتر پڑھتے تھے تو احناف ایسا کیوں نہیں کرتے ؟ وہ ایک رکعت وتر کیوں نہیں مانتے ؟ نیز وہ بیس رکعات کے بعد ایک کے بجائے تین رکعات وترکیوں پڑھتے ؟ بہرحال یہ روایت ضعیف ومردود ہے۔

    یہ ترجمہ غلط بلکہ بہت بڑا فراڈ ہے۔
    اصل بات یہ ہے کہ محمدبن یوسف نے جب گیارہ رکعات کی تعداد بتلائی تو ان کے شاگرد اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا :
    أو واحد وعشرين؟!
    یا اکیس رکعات؟
    اس کے جواب میں ان کے استاذ محمدبن یوسف نے کہا:
    قال: لقد سمع ذلك من السائب ابن يزيد ابنُ خصيفة ، أو قلت لإحدى وعشرين؟
    اس طرح کی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ کیا میں نے اکیس رکعات کہی ؟
    یعنی شاگردیہاں اپنے استاذ کو لقمہ دینا چاہتے تھے کہ آپ گیارہ رکعات کی جگہ اکیس رکعات تو نہیں کہنا چاہتے ؟ اس پر ان کے استاذ نے کہا کہ اکیس رکعات تو یزیدبن خصیفہ روایت کرتے ہیں ، کیا میں نے بھی کبھی اکیس رکعات بیان کی ہے؟ جب میں نے کبھی اکیس رکعات بیان ہی نہیں کی تو پھر مجھے لقمہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

    یہاں پر محمدبن یوسف کے اس مکمل جواب کے درمیان ان کے شاگرد اسماعیل بن امیہ نے یزیدبن خصیفہ سے اپنی پوچھ تاچھ بھی شامل کرکے بیان کردی کہ:
    فسألتُ يزيد بن خصيفة، فقال: حسبتُ أنّ السّائب قال: أحد وعشرين
    پھر میں نے یزیدبن خصیفہ سے اس بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا:مجھے لگتا ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اکیس کہا تھا۔
    اس کے بعد شاگرد نے جواب کا بقیہ حصہ بھی اپنے استاذ محمدبن یوسف کا نام لیتے ہوئے بیان کردیا کہ :
    قال محمد: أو قلت لإحدى وعشرين؟
    یعنی محمدبن یوسف نے کہا : کیا میں نے اکیس رکعات کہی ؟

    یہ ہے روایت کے اس آخری حصہ کی حقیقت جسے معترض اپنی جہالت کی بناپر یا تو سمجھ نہیں پارہا ہے یا پھر خیانت اور فریب سے کام لے رہاہے۔

    بالفاظ دیگر محمدبن یوسف کی روایت سے ان کے شاگرد کے اضافی الفاظ کو الگ کرکے پھر محمدبن یوسف کے جواب کو مکمل پڑھیں تو پوری بات آئینہ کی طرح صاف نظر آتی ہے۔

    شاگرد اسماعیل بن امیہ کے الفاظ کو شامل کرکے ان کے استاذ محمدبن یوسف کا جواب یوں ہے:
    قال: لقد سمع ذلك من السائب ابن يزيد بن خصيفة(فسألت يزيد بن خصيفة، فقال: حسبتُ أنّ السّائب قال إحدى وعشرين، قال محمد: ) أو قلت لإحدى وعشرين؟
    محمدبن یوسف نے کہا: اس طرح کی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے(پھر میں نے یزیدبن خصیفہ سے اس بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا:مجھے لگتا ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اکیس کہا تھا۔محمدبن یوسف نے کہا:) کیا میں نے اکیس رکعات کہی ؟

    شاگرد اسماعیل بن امیہ کے الفاظ کو نکال کر ان کے استاذ محمدبن یوسف کا جواب یوں ہے:
    قال: لقد سمع ذلك من السائب ابن يزيد بن خصيفة أو قلت لإحدى وعشرين؟
    محمدبن یوسف نے کہا: اس طرح کی بات یزیدبن خصیفہ نے سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ سے سنی ہے، کیا میں نے اکیس رکعات کہی ؟

    روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں محمدبن یوسف کی طرف سے کسی طرح کے رجوع کا کوئی نام ونشان نہیں بلکہ اس کے برخلاف گیارہ رکعت کے بیان پر ان کی طرف سے مزید وثوق ویقین کا ثبوت ملتاہے ۔ لیکن جب الو کو آفتاب نیم روز میں بھی نہ دکھائی دے تو اس میں سورج کیا کیا قصور ہے ۔
    اللہ ہم سب کو حق بات کہنے ، سننے اور اس کے مطابق عمل کی توفیق دے آمین۔

    یزیدبن خصیفہ کی روایت کے ضعیف ہونے اور محمدبن یوسف کی روایت کے صحیح ہونے سے متعلق مکمل تفصیل میرے درج ذیل مضمون میں ملاحظہ فرمائیں:


    ـ​
     
    Last edited: ‏جون 19، 2016
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں