1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آپ صل للہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل اول کا اجمالی بیان:

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏اگست 30، 2015۔

  1. ‏اگست 30، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    [​IMG]
    Anti Munkir e Hadith
    آپ صل للہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل اول کا اجمالی بیان:
    مقتضائے عقل ہے کہ جو شخص کل جہان سے مخالف ہوکر منجانب اللہ مامور اور نبی ہونے کا مدعی ہوتا ہے، اس کی حالت تین صورتوں میں منحصر ہوتی ہے۔ یعنی یا تو وہ سچا ہی ہوتا ہے یا دنیا ساز یا مجنون ۔ پس اس قاعدے سے ہم آپ کی نبوت کی جانچ کرتے ہیں۔ چونکہ آپ دنیا ساز تھے نہ مجنون، اس لیے شق اول ثابت ہوگی ، ورنہ چھوتی صورت بتلانی ہوگی جو ممکن ہی نہیں۔
    اس اجمال کی تفصیل ہم دو فصلوں میں کریں گے۔
    فصل اول میں آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) کے انتظام ملکی کا ذکر ہوگا۔ جس سے احتمال جنون آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) کی ذات بابرکات سے رفع ہوگا۔
    فصل دوم آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) کے زہد اور توکل علی اللہ کے متعلق ہوگی۔ جس سے الزامِ دنیاداری آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) کے اعداء سے دور ہوجائے گا۔
    فصل اول:
    آپ (صل اللہ علیہ وسلم ) کے انتظام ملکی کے بیان
    حُسن یوسف دمِ عیسٰی یدِ بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
    آپ کے کمالات خداداد پر نظر کرنے سے ہر فصل کے شروع میں اس شعر کے لکھنے پر مجبور ہوں، یہ احتمالِ جنون جس کے رفع کرنے کو یہ فصل تجویز ہے، ایسا احتمال ہے کہ اس کا قائل کوئی دشمن بھی آپ کی نسبت نہیں، مگر چونکہ ہماری دلیل کسی کے مسلمات پر مبنی نہیں اس لیے اس احتمال کا دور کرنا بھی مناسب ہے، پس سنو! کہ اس میں شک نہیں کہ آپ جب پیدا ہوئے تھے تو عرب کا ملک ایک سخت جہالت میں پھنسا ہوا تھا۔ شراب خوری، جوابازی، غارت گری، لڑکیوں کا زندہ گاڑنا وغیرہ وغیرہ، بد اخلاقیوں کا تو عام رواج تھا، ان عیوب سے پاک کرنے والا کون تھا؟ وہی ستودہ صفات فداہ روحی۔ ہمشہ ہر سال بلکہ کبھی کبھی متعدد دفعہ بھی مخالفوں سے کس نے جہاد کئے۔
    ( یہ قید اس لیے ہے کہ مطلق مخالفت تین شقوں میں منحصر نہیں بسا اوقات انسان اپنی سمجھ میں ایک بات کو صحیح جان کر سب سے مخالف ہو بیٹھتا ہے حالانکہ وہ غلطی پر ہوتا ہے، نہ سچا نہ دنیا دار نہ مجنون، بلکہ سمجھ کا پھیرا اسے مخالفت پر آمادہ کرتا ہے۔ مگر یہ احتمال اسی صورت میں ہوسکتا ہے جو فہم کے متعلق ہو ، نبوت کا مسئلہ فہم سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ امر قریب قریب رؤیت کے ہے۔ اس میں تین شقوق کے علاوہ چوتھی شق ممکن ہی نہیں۔ فتدبر ( منہ )
    مسئلہ جہاد کی بحث تو اپنے موقعہ پر آوے گی، یہاں پر صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ میں کوئی دماغی فتور نہ تھا، بلکہ آپ بڑے پولیٹیشن میں ( منتظم ملک ) تھے، منہ ۔ )

    اور اپنی حسن تدبیر سے کون ان پر غالب آتا رہا؟ وہی صاحب کمال فداہ ابی و امی۔ تمام عرب کو جاہل سے عالم بلکہ استاد عالم کس نے بنایا؟ رعایا سے حاکم بلکہ درندوں سے انسان کس کی صحبت سے ہوئے؟ اسی فداہ روحی کے ادنیٰ اثر خدمت سے ۔ قرآ ن کریم میں بھی ایک جگہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ جیسے کہ زاہد و دنیا و مافیہا سے بے رغبت تھے ویسے عقل خداداد سے بھی اعلی مرتبہ رکھتے تھے جہاں فرمایا کہ۔
    قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (٤٦)قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ إِنْ أَجْرِيَ إِلا عَلَى اللَّهِ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (٤٧) (سورۃ سبا 46-47)
    میں تمہیں ایک بات ایسی بتلاتا ہوں جس سے تمہارے ہمارے سب جھگڑے طے ہوجائیں۔ وہ یہ کہ تم سب مل کریا علیحدہ علیحدہ ہوکر سوچو اور غور کرو کہ ( میں جو تمہاری ہر بات ملکی اور تمدنی اور خانگی میں مخالف ہورہا ہوں ) مجھ میں کسی طرح کا جنون تو نہیں بلکہ میں تو تمہیں بڑے ریفارمروں کی طرح ایک مصیبت قومی اور شخصی کے آنے سے سپہلے ڈراتا ہوں، اور اس کی مزدوری بھی تم سے نہیں مانگتا بلکہ اللہ ہی پر چھوڑتا ہوں، سب چیزیں اسی کے پاس حاضر ہیں۔
    چونکہ اس امر کو ہر ایک واقفِ تاریخ سابقہ خوب جانتا ہے، بلکہ کسی اعلٰی ادنیٰ پر بھی یہ امر نہیں کہ آپؐ بڑے مقنن، مصلح قوم، دور اندیش، ریفارمر تھے اس لیئے اس مضمون میں طوالت دینا چنداں ضروری نہ ہوگا۔ پس اس قدر مختصر بیان پر قناعت کرکے ناظرین سے نتیجے کی درخواست کی جاتی ہے۔

    فصل دوم
    آپ کے زہد کے بیان میں
    حسن یوسف دمِ عیسی ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
    پہلے آپ کی کتاب قرآن مجید سے دریافت ضروری ہے کہ آپ کی کتاب نے دنیا کے محبت کی نسبت کیا تعلیم دی ہے۔ سنیئے! ایک جگہ مختصر الفاظ میں بیان ہے کہ مَتَاعٌ قَلِيلٌ (سورۃ آل عمران 3 آیت 197) دنیا کا مال اسباب بہت تھوڑا ہے۔
    پھر ایک جگہ فرمایا کہ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتقی (سورۃ النساء 4 آیت 77 ) دنیا کا گذارہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اور آخرت کا بدلہ جو پرہیز گاروں کے لیئے ہے، سب سے بہتر ہے۔
    ایک جگہ فرمایا وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا لَهْوٌ وَلَعِبٌ (سورۃ العنکبوت 29 آیت 64) دنیا تو سب کھیل کود ہے"
    ایک جگہ دنیا پر خوش ہوکر خدا کو بھول جانے والوں کے حق میں بطور ناراضگی فرمایا کہ اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلا مَتَاعٌ (٢٦) (سورۃ الرعد 13 آیت 26) کیا یہ آخرت کے عوض میں دنیا پر راضی ہوبیٹھے ہیں۔ حالانکہ دنیا کا گزارہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے۔ " ایک جگہ فرمایا زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ (١٤) ( سورۃ ال عمران 3 آیت 14 ) لوگوں کو کھیتی باڑی، گھوڑا گاڑی، بیوی، بچے بھلے معلوم ہوں، حالانکہ یہ سب اسباب دنیاوی زندگی کے ہیں، تو ان کو کہ دے کہ میں تم کو ایک بھلی بات بتلاؤں؟ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیٰں ان کے لیئے اللہ کے ہاں باغ ہیں اور بڑی خوشی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
    ایک جگہ فرمایا کہ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلا (سورۃ الکھف 18 آیت 46) دنیا کا مال اور بچے یہ سب دنیا ہی کی زینت ہیں اور ہمیشہ کو باقی رہنے والی نیکیاں ہی اللہ کے ہاں نیک عوض رکھتی ہیں۔ ایک جگہ فرمایا کہ۔
    اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الأمْوَالِ وَالأوْلادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ (سورۃ الحدید 57 آیت 20) دنیا کی چیزوں کا ماحصل تو صرف کھیل کود اور ایک دوسرے پر فخر پر تعلی کرنا اور ظاہری آراستگی ہے اور پھر اس کو مینہ سے تشبیہ دے کر فرمایا کہ اس دنیا سے آگے چل کر یا تو بھلے کاموں پر انعام ہے یا بد کرداری پر سزا۔
    ایک جگہ دنیا داروں کی مذمت میں ارشاد فرمایا کہ ۔ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (١٦)وَالآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (١٧) (سورۃ الاعلی آیت 16-17) تم دنیا کو سب پر ترجیح دیتے ہو۔ ( حالانکہ دنیا فانی ہے ) اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور بہت اچھی ہے۔ علی ہذا القیاس۔
    اس مضمون کی اگر ساری آیتیں جمع کی جائیں تو ایک کامل کتاب بن جائے، لیکن ہم اسی قدر پر قناعت کرکے آپ کے خصائص حمیدہ مشتبے نمونہ خروارے صحیح صحیح روایتوں سے بیان کرتے ہیں تاکہ معترض " چوں بخلوت میروند کاریگر میکنند" کا الزام نہ لگائیں۔
    آپ کی بیوی عائشہ صدیقہ ( رضی اللہ تعالی عنہ ) (جو آپ کے خانگی امور سے بخوبی واقف تھیں )۔ بیان کرتی ہیں کہ آپ اور آپ کے گھر والوں نے دو روز پے در پے جو کی روٹی سے بھی سیری نہیں کی۔ ( شمائل ترمذی )۔
    آپ کے خادم خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کی سخت بھوک معلوم کرکے جو کی روٹی کے ٹکڑے اور سڑی چربی ( جو اس وقت گھر میں میسر ہوتی تھی )۔ لے کر آپ کی خدمت مٰں بابرکت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے پہننے کی زرہ ( جو بوجہ قلت گذارہ ) چند سیر جو کے عوض میں گروی تھی۔ ( شمائل ترمذی )
    آپ کے خلیفہ ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو خالی چٹائی پر لیٹے ہوئے دیکھا، جس سے آپ کے بدن مبارک پر چٹائی کے نشان پڑگئے تھے۔ یہ تکلیف حضور مقدس (صل اللہ علیہ وسلم ) کی دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ آپ دعا کریں کہ مسلمانوں پر خدا فراخٰ کرے۔ کسرٰی قیصر جو مشرک ہیں ان پر کیسی فراخی ہے۔ آپ نے بڑے طیش میں آکر فرمایا کیا تو بھی ( باجود دانا ہونے کے ) یہ بات کہتا ہے؟ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ ان کافروں کے لیئے دنیا میں ( جو چند روزہ ہے ) عیش و عشرت ہوا اور ہم کو آخرت میں ( جو ہمیشہ رہنے والی ہے ) ملے۔
    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے۔ کہ اے اللہ مجھے زندگی میں بھی مسکین رکھ اور مرتے ہوئے بھی مسکین ہی مار اور قیامت کے دن بھی مسکینوں میں اٹھائیو (مشکواۃ)۔
    اپنی بیوی عائشہ صدیقہ ( رضی اللہ تعالی عنہا ) سے فرمایا کہ مسکین اپنے دروازے سے خالی نہ پھیرا کر، اگرچہ ایک ہی کھجور دے دے، اے عائشہ مسکینوں سے محبت کیا کر، خدا تجھے مقرب بنا دے گا۔" علاوہ اپنے زہد و خاکساری کے اپنے اتباع کو بھی یہی تعلیم فرماتے ( مشکواۃ )
    ایک شخص نے عرض کیا حضرت! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ذرا سنبھل کر بول۔ اس نے مکرر عرض کیا حضرت! میں واقعی سچ کہتا ہوں۔ مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ آپ نے فرمایا ذرا سنبھل کر بول۔ اس نے مکرر عرض کیا۔ حضرت! میں واقعی سچ کہتا ہوں، مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا اب سے تو فقر و فاقہ کے اٹھانے کو تیار رہ۔ ( مشکواۃ )
    حصول سلطنت کے زمانے کا حال آپ کی بیوی عائشہ صدیقہ ( رضی اللہ تعالی عنہا ) بیان کرتی ہیں کہ آپ نے تین روز تک بھی پے در پے پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ سب سے بڑھ کر آپ کے زہد اور دنیا و مافیہا سے بے رغبتی کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے ایک بڑی آمدنی کی مد کہ جس کے برابر اسلام میں کوئی آمدنی نہیں نہ صرف اپنے لیئے حرام کی بلکہ ہمیشہ کے لیئے اپنی اولاد کو بھی اس سے روک دیا ۔ وہ ہے، مد زکواۃ ( شمائل ترمذی )۔
    آپؐ کے نواسہ سیدنا حسن ( رضی اللہ تعالی عنہ ) نے سہ سالہ عمر میں ایک دفعہ صدقہ کی کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی، آپ نے اسی وقت منہ سے نکلوادی اور فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ ہم زکواۃ نہیں کھایا کرتے۔ ( مشکواۃ )
    سہل بن سعد (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے کسی نے پوچھا کہ آنحضرتؐ نے کبھی میدے کی روٹی کھائی؟ اس نے کہا ہاں؟ میدہ تو آپ نے آنکھ سے بھی نہیں دیکھا۔ پھر اس نے کہا تمہارے زمانے میں چھلنیاں بھی ہوتی تھی؟ اس نے کہا کوئی نہیں۔ سائل نے لوٹ کر سوال کیا کہ تمہارے زمانے میں تو آٹا اکثر جو کا استعمال ہوتا تھا۔ پھر ایسے آٹے کو بغیر چھلنیوں کے تم کیونکہ کھایا کرتے تھے؟ اس نے کہا کہ پھونک مار لیتے تھے، جس قدر اڑنا ہوتا اڑ جاتا ، باقی کو گوندہ لیتے۔ ( شمائل ترمذی )
    آپ کی بیوی حضرت حفصہ (رضی اللہ عنہا ) بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے آپ کے لیئے بسترہ ٹاٹ کا جو دوہرہ کرکے بچھایا کرتے تھے، چار تہہ کرکے بچھایا، اس روز صبح ہوتے ہی آپ نے فرمایا کہ آج رات تم نے میرے نیچے کیا بچھایا تھا؟ ہم نے عرض کیا حضرت! آپ ہی کا بسترہ تھا مگر ہم نے اسے نرم کرنے کی بجائے دو تہ کرکے چار تہہ بچھایا تھا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اسی طرح حسب معمول دو تہ بچھایا کرو۔ اس نے تو بوجہ آرام کے مجھے نماز تہجد سے غافل کردیا۔ ( شمائل ترمذی )۔
    اللہ کبر۔ سچ ہے۔
    تواضح زگردن فرازاں نکوست گداگر تواضع کند خوئے اوست
    بھلا اگر اور چیزوں کی نسبت شبہ ہو تو ہو کہ ملتی نہ ہوں گی، اس لیئے بحکم۔ " عصمت بی بی ست از بے چادری " اپنے آپ کو زاہد بناتے تھے۔ اس ٹاٹ کی نسبت تو کوئی شبہ نہیں، یہ آپ کی ملک ہی تھا اور آپ ہی کے قبضے میں، دوہرہ بچھاتے خواہ چوہرہ، پھر باوجود اس کے اپنے اس آرام کو بھی بایں لحاظ کہ یہ آرام قلیل بھی مجھے نماز تہجد سے مانع ہے، ترک فرمایا۔
    اس سے بڑھ کر زہد اور بے رغبتی کیا ہوگی کہ فوت ہوتے وقت آپ کی ذرہ ( باوجود حصول سلطنت ) چند سیر جو کے عوض میں گرو تھی۔ ( شمائل ترمذی)۔
    ایک دفعہ آپ کا تحصیلدار ابوعبیدہ ( رضی اللہ عنہ ) بحرین کے شہر سے کچھ مال لایا۔ لوگ اس کی آمد کا حال سن کر آپ کی خدمت شریف میں حاضر ہوئے کہ ہمین بھی کچھ اس میں سے ملے۔ آپ نے ان کا غیر معمولی اجتماع دیکھ کر فرمایا کہ تم نے سنا ہوگا کہ ابو عبیدہ آیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں، حضرت! آپ نے فرمایا کہ مجھے ہرگز اس باات کا اندیشہ نہیں کہ تم فقر و فاقہ سے تنگ رہو گے۔ بلکہ اندیشہ اس امر کا ہے کہ دنیا تم پر فراخ ہوگی، پھر تم پہلے لوگوں کی طرح اس میں مشغول ہوکر سیدھی راہ بھول جاؤ گے۔ ( سبحان اللہ کتنی زہد کی تعلیم ہے ) پھر اس جگہ سے تمام مال تقسیم کرکے اٹھے اور ایک حبہ بھی ساتھ نہ لیا ( مشکواۃ )
    ایک دفعہ عصر کی نماز پڑھ کر خلاف عادت بہت جلد گھر کو تشریف لے گئے۔ صحابہ کو اس خلاف عادت امر پر تعجب ہوا ، اتنے میں آپ واپس تشریف لے آئے، فرمایا کہ مجھے نماز میں یاد آیا تھا کہ میرے گھر میٰں چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا ہے۔ مناسب نہیں کہ نبی کے گھر میں کچھ مال بھی بلا تقسیم پڑا رہے۔ اس لیئے میں جاکر اسے للہ تقسیم کر آیا ہوں۔ ( مشکواۃ )
    ایک دفعہ آپ کی لختِ جگر فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے اپنی تکالیف شاقہ کا ( جو ان کو گھر کی محنت و مشقت سے پہنچتی تھی۔ ) آنجناب کے حضور میں اظہار کرکے درخواست کی کہ مجھے ایک خادم مل جائے جو میرے گھر کے کاموں میں باعث راحت ہو۔ آپ نے بجائے خادم مرحمت کرنے کے بحکم۔ " کل انا یترشح بما فیہ " رات کو ان کے مکان پر جاکر لخت جگر کو سمجھایا کہ تم سوتے وقت تینتیس دفعہ " سبحان اللہ " اور تینتیس دفعہ " الحمد للہ " اور تینتیس دفعہ " اللہ اکبر " کہ لیا کرو۔ ( اس عوض میں جو خدا کے ہاں سے تم کوملے گا ) وہ کئی درجے غلام کی آسائش سے ( جو صرف دنیا میں چند روزہ ہے ) بہتر ہے۔ اس نصیحت پدرانہ کو صاحبزادی نے بسرو چشم قبول کیا۔ کیوں نہ ہو " الولد سر لابیہ " ناظرین! اس سے بڑھ کر بھی کوئی زاہد ہوگا کہ اپنی اولاد کو ایسی تکلیف شدید دیکھ کر بھی باوجود حصول سلطنت کے، بجائے امداد مناسب کے ایسے کام بتلائے جو ہر طرح سے ان کو آخرت ہی میں کارآماد ہوں، جس کا اثر بجز آخرت کے دنیا میں کسی طرح نہ ہوسکے۔ " کل شیئی یرجع الی اصلہ "
    ان سب واقعات سے چشم پوشی کرکے آپ پر اتہام دنیا سازی لگانا اگر انصاف کا خون کرنا نہیں تو کیا ہے؟ حق ہے۔
    ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیب ست گل اس سعدی و در چشم دشمناں خار است
    کیا یہ سب واقعات مذکورہ بالا بہ سسبب تنگ دستی اور محتاجی کے تھے جو "عصمت بیبی ست از بے چادری" کے مصداق ہوں؟ نہیں، ہرگز نہیں بلکہ بعد حصول سلطنت اور تمام ملک پر حکمرانی موجود تھے، جو تواضع زگردن نکوست کے مصداق ہیں۔
    پس ان دو فصلوں سے دونوں احتمال ( جنون اور دنیا سازی ) جناب کی ذات ستودہ صفات سے بکلی مرتفع ہوگئے۔ پس احتمالات ثلاثہ میں سے آپ کی نبوت کے متلعق دو کے ابطال کے بعد ایک ہی رہا۔ وہ یہ کہ آپ صادق مصدوق خدا کےسچے رسول تھے، ورنہ چھوتھا احتمال قاعدہ عقلی میں زائد کرنا ہوگا جو کہ نا ممکن ہی نہیں، " فثبت المدعی "
    آپ کی تعلیم سے نبوت کے ثبوت
    (دلیل دوم )
    آپ کی تعلیم کا مسئلہ بالکل صاف اور سیدھاہے، بشرطیکہ کچھ انصاف بھی ہو۔ مثلاً توحید باری کو جو اصل الاصول ہے دیکھئے تو قرآن کریم نے کیسا صاف اور صریح لفظوں میں ایسے لوگوں کے سامنے جو اس توحید کے سخت منکر تھے، بیان کیا۔ نہ صرف بیان ہی کیا بلکہ مدلل کرکے منوا بھی لیا۔
    ایک جگہ فرمایا تو کہ دے خدا اکیلا ہے، سب سے بے نیاز، نہ کوئی اس کا بچہ ہے اور نہ کسی کا وہ ، اور نہ اس کا کوئی مثل اور برابر ہے۔
    ( حاشیہ )
    1) ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے ( مشہور مقولہ ہے )
    2) اولاد باپ کا نمونہ ہے۔
    3) ہر چیز اپنی اصل کی طرف ہی جاتی ہے ( مقولہ )
    4) ہماری ہمسایہ قوم آریہ تو اس کو تقاضائے عقل ہی سمجھے ہوں گے۔ مگر ملک کے واقعات کو ملحوظ رکھ کر رائے لگانا انصاف ہے۔
    پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار بہتے دریا کو پھیر لانا دشوار
    دشوار تو ہے مگر نہ اتنا جتنا۔ بگڑی ہوئی قوم کا بنانا دشوار
    قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (١)اللَّهُ الصَّمَدُ (٢)لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (٣)وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (٤) ( سورۃ الاخلاص 112 آیات 1 تا 4)
    - - - - - -
    ایک جگہ فرمایا۔
    هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (٢٢)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (٢٣)هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (٢٤) (سورۃ الاحشر 59 آیات 22 تا 24)
    " للہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو پوشیدہ اور حاضر کو برابر جانتا ہے۔ وہی بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان، سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں، جو سب جہان کا بادشاہ، سب عیوب سے پاک ، اصل سلامتی کا مالک ، سب کو امن دینے والا، سب کا نگہبان، سب پر غالب، سب نقصانوں کا پورا کرنے والا، سب سے بڑا، پاک ہے مشرکوں کی بیہودہ گوئی سے، وہی پیدا کرنے والا ہے۔ ہر جان دار کی تصویر بنانے والا، اسی کی صفات حمیدہ، زمین کی سب چیزیں اس کی تعریف کررہی ہیں، وہی سب پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ "
    ایک جگہ فرمایا کہ " اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الأرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الأمْرُ بَيْنَهُنَّ (سورۃ الطلاق 65 آیت 12) وہی اللہ مالک ہے، جس نے سات آسمان اور زمین بھی انہی کی طرح بنائے ان ( زمینوں میں روئیدگی وغیرہ کے متعلق ) اسی کے احکام نافذ ہیں۔
    ایک جگہ فرمایا۔
    اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَلا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (سورۃ البقرہ 2 آیت 255)
    سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں جو ہمیشہ زندہ اور قائم ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ زمین آسمان میں ہے، سب اسی کا ہے۔ اور ایسی ہیبت کا بادشاہ ہے کہ بغیر اس کے اذن کے کوئی بھی اس کے آگے کسی کی سفارش نہیں کرسکتا۔ وہ سب لوگوں کے آگے اور پیچھے کے حالات جانتا ہے اور لوگ اس کے معلومات سے کچھ بھی دریافت نہیں کرسکتے۔ ہاں جس قدر وہ خود ہی بتلا دے۔ زمین و آسمان کو اس کی حکومت نے گھیر رکھا ہے اور وہ ان کی نگہبانی سے تھکتا نہیں اور وہ بڑا ہی بلند ہے۔ "

    ایک جگہ فرمایا۔
    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (٦)الَّذِينَ لا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (٧) (سورۃ فصلت 41 آیت 6 تا 7 )
    تو ان کو کہ دیجیئے کہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، ہاں میری طرف یہ پیغام الہی پہنچتا ہے کہ تمہارا ( ہمارا ) سب کا معبود ایک ہی ہے۔ پس اسی کی طرف سیدھے ہو کر چلو اور اپنے گناہوں پر بخشش مانگو۔ افسوس ہے مشرکوں کے حال پر جر اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے اور قیامت کے منکر ہیں۔ "
    ایک جگہ فرمایا
    قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لابْتَغَوْا إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلا (سورۃ بنی اسرائیل 17 آیت 42)
    " تو ( اے محمدؐ ) ان کو کہ دے اگر خدا کے ساتھ شریک اور ساجھی ہوتے جیسے کہ مشرک کہتے ہیں تو حسب عادت شرکاء فوراً خدا کی طرف چڑھائی کرتے۔ "
    ایک جگہ دلیل عقلی سے شرک کی نہ صرف نفی کی بلکہ اس کے محال ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔ جہاں مذکور رہے کہ
    أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِنَ الأرْضِ هُمْ يُنْشِرُونَ (٢١)لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (٢٢)لا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (٢٣)أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ (٢٤) (سورۃ الانبیاء 21 آیات 21 تا 24)
    " ان نادانوں نے بجائے توحید کے اور خدا کے مقر کر لیئے، کیا وہ ان کو جمع کریں گے؟ ( سچ جانو ) کہ دنیا میں کائی دوسرا خدا نہیں ہے۔ اگر سوائے خدا واحد کے اور خدا بھی ہوتے تو آسمان زمیں بسبب ان کے تنازعات کے بالکل بگڑ جاتے یا بگڑ جاتے یا بگڑنے کو ہوتے وہ ذات پاک تو ایسی ستودہ صفات ہے کہ جو چاہے وہ کرسکتا ہے، کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور مخلوق تو سب کی سب اس کی غلام ہے۔ سب کو ان کے کئے سے سوال ہوگا۔ کیا ایسے دانا ہوکر بھی خدا کے سوا اور معبود بناتے ہیں، تو کہ دے لاؤ اس کی کوئی دلیل عقلی یا نقلی کہ جہاں میں دوسرا خدا بھی ہے یا ہوسکتا ہے۔"
    ایک جگہ نہایت ہی مختصر مگر شستہ الفاظ میں شرک کی بے ثبانی اور مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ جہاں پر فرمایا۔
    قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُلْ لا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (١٩) (سورۃ الانعام 6 آیت 19)
    " کیا تم اے مشرکو! گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہیں؟ ( اگر وہ اس امر پر گواہی دیں بھی تو ) تو کہ دے کہ میں تو ایسے صریح البطلان امر پر شاہد نہیں ہوتا۔ تو یہ بھی کہ دے کہ چونکہ خدا ایک ہے۔ اس لیئے میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔"
    ایک جگہ فرمایا۔
    وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (سورۃ یونس 10 آیت 15)
    " جب کفار ہماری کھلی کھلی آیتیں ( متعلق توحید کے ) سنتے ہیں تو بول اُٹھتے ہیں کہ کوئی اور قرآن اس کے سوا لا یا اس مٰں سے آیات توحید کو بدل ڈال، جس کے جواب میں اشارہ ہے کہ تو کہ دے میرے تو اختیار میں نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل ڈالوں میں تو سوائے پیغام الہی کے کچھ کرسکتا ہی نہیں ( نہ میں خدا کو کسی امر کا مشورہ دے سکتا ہوں ) بلکہ اس کی نا فرمانی پر مجھے بھی عذاب کا ڈر ہے ۔ "
    ایک جگہ عظمت الہی ذہن نشیین کرنے کو ارشاد ہے کہ
    قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِضِيَاءٍ أَفَلا تَسْمَعُونَ (٧١)قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ أَفَلا تُبْصِرُونَ (٧٢) (سورۃ القصص 28 آیات 71 تا 72)
    " تو ان سے کہ دے کہ اگر خدا تم پر ہمیشہ کو رات ہی رکھے تو بتلاؤ کون ہے جو دن کو تمہارے لیے پیدا کرے، اور اگر بے حد دراز کردے تو کون ہے کہ تمہارے آرام کے لیئے رات بنا دے۔ "
    ایک جگہ فرمایا۔
    قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ (سورۃ الملک 67 آیت 30)
    " بتلاؤ اگر خدا تمہارے پانی خشک کردے تو کون ہے تمہارے لیئے پانی پیدا کرسکے۔"
    ایک جگہ تو صاف فیصلہ ہی کردیا کہ۔
    إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ (سورۃ النساء 4 آیت 48)
    "خداوند تعالی شرک کو ہرگز نہ بخشے گا۔"
    اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جس نے ایک دفعہ بھی قرآن کریم کو خواہ بنظر سرسری دیکھا ہوگا۔ وہ بھی گیا ہوگا۔ کہ قرآن شریف کو شرک سئ کس درجہ نفرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرکوں کو اس سے رنج ہوتا تھا۔ دیکھو تو جب انہیں اس چشمہ نور، منبع جود، مظہر کرم، سچے رسول ( فدا روحی ) میں باوجود تلاش کوئی عیب نہ ملا تو بجز اس کے کچھ الزام نہ لگا سکے۔
    أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (٥)وَانْطَلَقَ الْمَلأ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ (٦)مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ (٧) (سورۃ ص 38 آیات 5 تا 7)
    یہ کیسا شخس ہے کہ سب خداؤں کو چھوڑ کر ایک ہی خدا کے پیچھے ہولیا ہے، یہ تو ایک عجیب ہی بات بتلاتا ہے اور جاتے ہوئے ایک جماعت اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرگئی کہ اپنے اپنے معبودوں کو مت چھوڑو۔ یہ توحید تو یونہی بناوٹ ہے، پہلے تو ہم نے کبھی نہیں سنا کہ خدا ایک ہے ( ہمیشہ یہی سنتے آئے کہ فلاں شخص فلاں دینی بھی کچھ خدائی میں حصہ رکھتے ہیں۔ ) اب تو یہ ایک نئی بات سناتا ہے۔ کہ سب جہاں کا مالک ایک ہی ہے۔ "
    یہ الزام مشرکین کا جتلا رہا ہے کہ ان کو بغیر اس تعلیم توحید کے جانب کی زات ستودہ صفات میں کوئی عیب نہں ملا۔ سو گر یہی ہے تو علی الرأس و العین۔
    مجھ میں ایک عیب بڑا ہے کہ وفادار ہوں میں ان میں دو وصف ہیں بدخو بھی ہیں خود کام بھی ہیں۔
    آپ کو تو شرک سے اس قدر نفرت تھی کہ شرک کے وہم و گمان پر آپ نے تصویر کا رکھنا منع فرما دیا ( کیا دور اندیشی ہے ) اس لیئے جن قوموں میں اب صورت پرستی کا رواج ہے ، کیا عجب کہ پہلے ان میں اسی طرح رکھنے کا دستور ہوا ہو، بلکہ یقیناً بلکہ یقیناً ایسا ہوا ہے۔
    علاوہ ان آیات صریحہ کے جو اپنے مفہوم بتلانے میں بالکل واضح ہیں، دیگر آیات میں جناب والا کی نسبت صاف اور صریح لفظوں میں ان کا احتمالات کا جن سے غیر قومیں اپنے اپنے بزرگوں غلط گمانی میں پڑ گئیں۔ قلع قمع فرمایا ہے۔
    ایک جگہ فرمایا۔
    قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلا ضَرًّا إِلا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (سورۃ الاعراف 7 آیت 188)
    " تو بلند آواز سے کہ دے کہ میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں، اگر میں غیب کی باتیں جانتا تو اپنے بھلے کی بیت سی چیزیں جمع کرلیتا اور مجھے کبھی تکلیف نہ پہنچتی۔ "
    ایک جگہ فرمایا۔
    وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (٦٥)
    "ہم نے تیری طرف اور تجھ سے پہلے نبیوں کی طرف پیغام بھیجا ہوا ہے کہ اگر تو بھی شرک کرے گا تو ہم تیرے سب عمل ضائع کردیں گے اور تو سخت خسارہ پائے گا۔"
    ایک جگہ فرمایا کہ۔
    (حاشیہ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ جو لوگ تصویریں بناتے ہیں۔ انصاف کے روز ان کو کہا جائے گا کہ تم ہی ان میں جان ڈالو، جب تک وہ ان میں جان نہ ڈالیں گے عذاب میں مبتلاء رہیں گے۔ افسوس ہے کہ اس آخری زمانے میں مسلمانوں میں بھی اس کا رواج ہوگیا ہے۔ جس کے سبب نادان مخالفوں نے اعتراض کئے ( صحیح البخاری )
    - - - - - - -
    وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا كَاشِفَ لَهُ إِلا هُوَ (سورۃ یونس 10 آیت 107)
    "اگر تجھ کو خدا کوئی تکلیف پہنچا دے تو کوئی اس کے سوا نہیں جو اس کو ہٹا سکے اور اگر وہ تجھ کو کچھ بھلائی پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔"
    ایک جگہ نہایت عاجزی سے اقرار عبودیت کی تعلیم ہے کہ
    قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (١٦٢)
    " تو کہ دے میری نمازیں اور میری دعائیں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیئے ہے جو سب جہاں کا مربی ہے۔"
    ایک دفعہ کفار کی مختلف درخواستوں سے آپ کے دل پر کسی قدر گھبراہٹ ہوئی اور کفار ناہنجار کی گردن کشی سے طبعی طور پر رنج پیدا ہوا تو ارشاد باری پہنچا کہ۔
    وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ (سورۃ الانعام 6 آیت 35)
    " اگر تجھ کو ان کے انکار سے تکلیف پہنچتی ہے اور تجھ پر بوجھ پڑتا ہے تو اگر تجھ میں طاقت ہے کہ زمیں میں سرنگ نکال کر یا آسمان پر سیڑھی لگا کر کوئی نشان مطلوب ان کو دکھلا سکے تو دکھلا دے، کدا اگر چاہتا تو سب کو ایک جگہ ہدایت پر جمع کردیتا۔ تو ایسی گھبراہٹ کرنے سے نادان مت بن۔"
    ایک جگہ صاف لفظوں میں فرمایہ کہ ۔
    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (سورۃ الکہف 18 آیت 110)
    " میں بھی تمہاری طرح ایک آدمی ہوں، مجھ کو خدائی میں کوئی حصہ نہیں۔ ہاں مجھ کو اطلاع پہنچتی ہے کہ تمہارا سب کا خدا ایک ہی ہے۔ پس جو کوئی اس سے ملنے کی امید رکھے وہ اپنے اعمال میں شرک نہ کرے یعنی اخلاص سے بے ریا عمل کرے۔ "
    ایک جگہ فرمایا۔
    قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (١١)وَأُمِرْتُ لأنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (١٢)قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (١٣)قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي (١٤)فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ (١٥) (سورۃ الزمر 39 آیات 11 تا 15)
    " تو کہ دے کہ مجھے یہی حکم ہے کہ اللہ کی خالص عبادت کروں اور سب سے پہلے اس کا تابعدار بنوں ( نہ کہ شریک اور ساجھی ) تو یہ بھی کہ دے کہ اللہ کی نافرمانی کرنے پر مجھے بھی عذاب کا ڈر ہے یہ بھی کہ دے کہ میں تو اللہ ہی کی خالص عبادت کروں گا۔ تم سوائے اس کے جس کی چاہو کرو۔ ( پڑے اپنا سر کھاؤ )"
    خلاسہ یہ ہے کہ ان آیتوں اور نیز دیگر آیات سے یہ تو بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام علیہ السلام کے دل میں عظمت الہٰی ایسی جاگیر تھی کہ مقابلہ تعظیم خداوندی کے اپنی عزت یا بڑائی ہیچ جانتے تھے۔ ہر طرح سے خدا کی توحید اور تعظیم ہی کی تعلیم دیتے رہے یہاں تک کہ خدا کے سامنے اپنا مرتبہ عبودیت کے کوئی دوسرا تجویز نہیں فرمایا۔
    اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص جر ہر طرح سے خدا کی عظمت کرتا ہو اور اس کی توحید کا قائل نہ خود ہی ہو بلکہ دوسروں کو بھی باوجود مخالفت شدید کے یہی سکھاتا ہو اور اسی تعظیم الہٰی کے سبب سے ہی اپنے گھر بار سے نکالا جائے مگر وہ اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کرے تو ایسا خدا کا بندہ ایسی جرأت کرسکتا ہے کہ خدا پر جھوٹا دعویٰ پیغمبری کرے۔ جس کے معنی دوسرے لفظوں میں صریح یہ ہیں کہ گویا خدا کو وہ علیم قدیر مالک الملک نہیں جانتا، جب ہی تو اتنی دلیری کرتا ہے کہ ایک معمولی آدمی ہوکر نیابت خداوندی کا مدعی ہوتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی منصف ہاں کہے بلکہ چاروں طرف سے گونج آئے گی کہ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔
    پس آنحضرت فداہ روحی نے جو باوجود اس قدر تعظیم الہی کے دعوٰی کیا تو یہ کس بنا پر تھا؟ بے شک سچے الہام اور حقانی اعلام پر فتفکر۔
    آپ کے عملی طریق سے نبوت کا ثبوت
    ( دلیل سوم ) جاری ہے۔۔

    Anti Munkir e Hadith
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. زیشان علی
    جوابات:
    2
    مناظر:
    153
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    456
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    3
    مناظر:
    244
  4. عبدالرحیم رحمانی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    199
  5. عبدالرحیم رحمانی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    209

اس صفحے کو مشتہر کریں