1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں ؟ اور اس کا جواب کیا ھونا چاھیے !!!

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 24، 2014۔

  1. ‏مارچ 24، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    اسلام علیکم: میرے پیج حق کی طرف رجوع پر سوال پوچھا ہیں


    میرا نام رضی خان ہے تعلق صوبہ سرحد ضلع صوابی سے هیں اللہ تعلی کی رحمت و فضل سے میں دوبئی میں yuotube اورircpk کے ذریعےاهلحدیث سے متاثر هو کر حنفی چهوڑکر اهلحدیث قبول کیا اور ویزا کینسل کرکے ابهی گاوں میں مقیم هوں گوکہ یہاں سب حنفی هے اور اهلحدیث کے سخت خلاف هیں میرا ایک سوال میری بہن کا سسر تقریبا دوسال لمبی بیماری کے بعد مر گیا چونکه چارپائ میں تها اور بہت ضعیف تها تو تقریبا دوسال سے نماز نہ پهڑا تو یہاں کے علماء اور مفتیوں نے اسکے دونوں بیٹوں کو دوسالوں کے نمازوں کا حساب لگا کر 320000 یعنی 3 لاکه بیس هزار روپے نمازوں فدیہ دینے کو کها ہے دو بیٹوں میں سے ایک پر میری بهن شادی ہے اور مالی حالت کمزور ہے دونوں بھائی آدها آدها ادا کرے گا اور میری بہن نے بولا کہ ہم نے اس میں 22500 ادا کیے

    قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی کیا دلیل هے شکریه
     
  2. ‏مارچ 24، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,638
    موصول شکریہ جات:
    8,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس کی دلیل تو ان سے پوچھنا چاہیے جنہوں نے نمازوں کا فدیہ ایجاد کیا ہے ۔
    ہماری تو یہی دلیل ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جس کا نہ کوئی فدیہ ہے اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے ادا کرسکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن وسنت میں ایسی کوئی رہنمائی نہیں ملتی ۔
    اگر ایسا کوئی مسئلہ ہوتا تو اللہ کے رسول وضاحت فرمادیتے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 24، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055


    کیا اس کا سبب قرآن و سنت سے دوری نہیں ؟
     
  4. ‏مارچ 24، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,795
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مولویوں نے یہاں بھی کھانے کا ڈھونگ نہیں چھوڑا
     
  5. ‏مارچ 24، 2014 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    نماز ترك كرنے كا كفارہ !!!!!!!!!
    نماز كا كفارہ كيا ہے ؟

    ايك يا اوقات نماز ضائع كرنے پر بطور كفارہ كيا قيمت ادا كرنا ہو گى ؟

    الحمد للہ:

    جس نے ايك يا زيادہ فرضى نمازيں بغير كسى عذر كے ترك كرديں اسے اللہ تعالى كے ہاں سچى توبہ كرنى چاہيے، اور اس كے ذمہ كوئى قضاء اور كفارہ نہيں، كيونكہ فرضى نماز جان بوجھ كر عمدا ترك كرنا كفر ہے.


    اور اس ميں سچى اور پكى توبہ كے علاوہ كوئى كفارہ نہيں.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 50 ).

    اسى طرح نماز ايك مؤقت شدہ عبادت ہے جو محدود وقت كے ساتھ معني ہے، اور جس كسى نے بغير كسى عذر بھى مؤقت شدہ عبادت ترك كى حتى كہ اس كا متعين كردہ وقت ہى جاتا رہا مثلا نماز اور روزہ، اور پھر وہ اس عمل سے توبہ كرے تو اس پر كوئى قضاء نہيں ہے، اس ليے كہ شارع كى جانب سے وہ عبادت مؤقت تھى اور اس كا ابتدائى اور آخرى وقت مقرر كردہ ہے.

    ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 1 / 322 ).

    ليكن اگر كسى شخص نے شرعى عذر كى بنا پر نماز ترك كى مثلا نيند يا بھول كر تو اس كا كفارہ يہ ہے كہ جب اسے ياد آئے اور سويا ہوا بيدار ہو تو اسى وقت نماز ادا كر لے، اس كے علاوہ كوئى اور كفارہ نہيں.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 24، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    sahj اس حنفی فتویٰ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
     
  7. ‏مارچ 25، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    حق کی طرف رجوع
    آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں

    میں اهلحدیث هوں وہ میری نہی مانتی میں اپنی بهن کو بتا دوں گی لیکن میں اپنی تسلی کیلیے اسکا جواب مناسب ڈوهنڈنا چاہا

    میں عالم نہی هوں اور الله کی رضا کیلے آپ لوگ میری مدد کیا کریں اللہ تعلی هم سب قرآن و حدیث سمجهنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیں آمین

    مجهے مسجد میں رفع یدین اور تیز آمین سے منع کیا گیا کہ اس سے مسجد میں فتنہ پیدا هو گا اور میں نے نماز والی کتاب لائ هے جب میں ان کو دکهاتا هوں بولتے هیں یہ امام شافعی مزهب والی کتاب اور حدیث صعیف هیں میری بهنیں رشتدار سب میرے پاس بار بار آئے کہ اپنی دین واپس لوٹو -
     
  8. ‏مارچ 25، 2014 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,795
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اس کا بہتر جواب تو علماء ہی دیں گے، جہاں تک میرا اپنا ذاتی خیال ہے وہ یہ کہ اگر سوال پوچھنے والا بھائی اہلحدیث ہے تو اسے دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑھنی ہی نہیں چاہئے، وہ کوشش کرے کہ ساتھ میں کہیں اور اہلحدیث مسجد اگرچہ وہ کچھ فاصلے پر ہی کیوں نہ ہو وہاں جا کر ادا کر لیا کرے، کم از کم موحد کے پیچھے نماز پڑھنے کا اطمینان تو ہو گا، اگر اہلحدیث مسجد نہیں ہے تو وہاں کی اہلحدیث انتظامیہ سے درخواست کریں کہ وہ مخیر حضرات کو کہیں ایک چھوٹی سی اہلحدیث مسجد بنانے کے لئے، اور ابھی فی الحال اگر دیگر چند ساتھی اہلحدیث ہیں تو وہ کسی اور جگہ جماعت کروا لیا کریں، لیکن دیوبندیوں کے پیچھے نماز پڑحنے سے نہیں۔
     
  9. ‏مارچ 26، 2014 #9
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,634
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یا تو یہ مسئلہ مکمل بیان نہیں کیا گیا یا یہ مسئلہ بتانے والے مولوی صاحب نے درست نہیں بتایا۔
    فقہ حنفی کی رو سے مسئلہ یہ ہے:۔
    اگر مرنے والے نے مرنے سے پہلے وصیت کی تھی تو فطرے کے بقدر ایک نماز کا فدیہ میت کے صرف "ثلث" ترکے سے ادا کیا جائے گا الا یہ کہ ورثاء خود راضی ہوں اپنے حصوں سے ادا کرنے پر۔ مذکورہ مسئلہ میں ان کی عدم رضا معلوم ہو رہی ہے۔
    اور اگر میت نے وصیت نہیں کی تھی تو ورثاء پر ادائیگی بالکل بھی لازم نہیں۔ تبرعا ادا کرنا چاہیں تو اللہ پاک سے امید ہے کہ قبول ہوگا لیکن بہر حال لازم ہرگز نہیں۔
    ملاحظہ: اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہے تو اس کے مال سے اس کی اجازت کے بعد بھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔


    کذا فی الشامیۃ
    ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة

    ش:
    (قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار۔
    و
    ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة
    و
    (قوله نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته
    الدر المختار و حاشیۃ ابن العابدین 2۔72 ط دار الفکر

    واللہ اعلم بالصواب


    نماز کا فدیہ نصوص میں مذکور نہیں بلکہ یہ قیاسا ثابت ہوتا ہے۔


    اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.
    المصدر السابق


    نوٹ:۔ اول: مسئلہ صرف "واللہ اعلم" تک ہے۔
    دوم: مجھے فتوی دینے کی باضابطہ اجازت اور مشق نہیں۔ اللہ پاک سے قوی امید ہے کہ یہ درست ہوگا۔ لیکن اگر کسی مستند دارالافتاء سے تصدیق کروالیں تو بہتر ہے۔
     
  10. ‏مارچ 07، 2015 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,892
    موصول شکریہ جات:
    2,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    ہمارے علاقے میں میت کی طرف سے اس کی فوت شدہ نمازوں ،اور روزوں کا فدیہ ادا کرنے کا (بلکہ ان کو ساقط کرنے کا) ۔۔زبردست ۔۔طریقہ رائج ہے ۔
    جس میں ہینگ بھی نہیں لگتی ،اور رنگ بھی چوکھا آتا ہے ( یعنی محنت اور خرچ بھی زیادہ نہیں ہوتا ،اور فائدہ بھی کمال ہوتا ہے )

    اس کی صورت یہ ہے کہ عام طور پر میت کے ذمہ بے شمار نمازیں ،اور روزے بقایا ہوتے ہیں ۔۔۔۔
    جن کا حساب لگانا بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
    اور حساب لگا بھی لیا جائے تو ۔۔حنفی فدیہ ۔۔۔کی مقدار لاکھوں روپے مالیت کی بنتی ہے ۔۔۔

    تو اسکا ایک سمارٹ حل اور آسان طریقہ مقلدین کے غمخوار مولویوں نے یہ نکالا ہے ۔۔۔
    کہ حسب توفیق چند ہزار روپئیے ،اور ایک عدد نسخہ قرآن ، میت کے جنازے کے ساتھ جنازہ گاہ لے جاتے ہیں ۔۔۔
    نماز جنازہ کے سلام کے بعد ایک دائرے میں چند لوگ بیٹھ جاتے ہیں ۔امام بھی بھی میر مجلس بن کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔۔

    ساتھ لائی گئے روپئیے ، مصحف قرآن کے ساتھ ایک کپڑے میں باندھ کر ایک آدمی اسے لے اس طرح گھماتا ہے کہ امام سے شروع کرکے پورے دائرے میں موجود
    ہر آدمی کے ہاتھ لگواتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس طرح تین پھیروں میں یہ مبارک عمل مکمل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخر میں مولوی صاحب دعاء کرواتے ہیں ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔مردہ جنت گیا لو رسید ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں