1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں ؟ اور اس کا جواب کیا ھونا چاھیے !!!

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 24، 2014۔

  1. ‏مارچ 07، 2015 #11
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    یہی طریقہ ہمارے علاقے میں رائج ہے ۔ پہلے بہت سارے لوگ کرتے تھے اب کئ مقلدین نے بھی چھوڑدیا ہے ۔

    نمازچوٹ جانے کے چند وجوہات و عذر ہیں ۔
    بے ہوشی کی حالت۔
    نیند کی حالت ۔
    بھول جانے کی حالت ۔
    کفار سے حالت جنگ میں ۔

    نبی علیہ السلام کی جنگ احزاب میں ایک دن میں تقریباً تین نمازیں چوٹ گئ تھی جن کو اگلے روز ادا کیا گیا ۔ اور ان کو بددعا بھی تھی جن کی وجہ سے نمازیں قضا ہوگئ تھی ۔
    مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مفہوم ۔
    کہ اگر کوئی سوجائے اور کئ نمازیں رہ جائے تو جب سونے سے اٹھ جائے تو جتنی نمازیں رہ گئ اس سے پڑھ لے ۔
    اس طرح بے ہوشی والا ، ہوش میں آنے کے بعد اور بھولنے والا یاد آجانے کے بعد پڑھ لے ۔
    بے ہوشی کی حالت میں نماز اس سے اس وجہ سے ساقط ہے کہ اس کو نارمل حالت نہ مل جائے ۔
    کیونکہ یہ مرفوع القلم ہے ۔
    "عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا دیا گیا (یعنی تین قسم کے لوگ مرفوع القلم اور غیر مکلف ہیں) ایک تو سونے والے سے جاگنے تک اور بچہ سے بڑا ہونے تک اور مجنون سے ہوش آنے تک (جب تک جنون نہ ختم ہو جائے اس وقت تک وہ غیرمکلف ہے)۔"(احمد، ابو داود، نسائی۔

    واللہ اعلم ۔
     
  2. ‏مارچ 07، 2015 #12
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,726
    موصول شکریہ جات:
    6,476
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    1620442_797342373654511_2107991608681890742_n.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 07، 2015 #13
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    @محمد ارسلان
    بھائی آپ نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جب وہ لوگ اس بات سے روکتے ہیں تو اہل حدیث کے پیچھے نماز کیسے پڑھنے دیں گے اس طرح کا ایک مسلہ میں نے اپنے بارے میں شیخ توصیف الرحمن سے پوچھا
    تھا
    سوال۔ میر ے گھر والے دیوبند ہیں۔وہ مجھے اہل حدیث کی مسجد میں نماز پڑنے نہیں دیتے۔میرے
    والدیں نہیں ہیں ۔اور میر عمر کم ہے میں کیا کرؤ وہ مجھے زبردستی لے جاتے ہیں ۔اور اکیلے گھر میں بھی نہیں پڑھنے دیتے
    جواب۔ آپ دیوبند کی کی مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد اکیلے مسجد میں ہی نماز ادا کر لیں
    پھر میں نے جمعہ اور عید کے بارے میں سوال کیا ۔تو انہوں کے کہا آپ چھپ کر ادا کر لیا کریں
     
  4. ‏مارچ 07، 2015 #14
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    محدث فتویٰ : فتویٰ نمبر : 3718
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    اس طرح کا اسقاط جائزنہیں ہے درمختار میں ہے کہ اگر روزہ کے فدیہ کی مرنے والا وصیت کہ جائے تو اس کے وارث ارادا کردیں تو اس سے ساقط ہوجائے گا۔اوراگر وصیت نہ کرے۔او ر وارث از خودادا کریں۔تو یہ صحیح نہیں۔بخلاف نماز کے کہ وہ بدنی عبادت ہے۔اور حج میں نیابت جائز ہے۔شامی میں ہے ک اس طر ح میت سے نماز ساقط نہیں ہوتی۔اور ایسے ہی روزے کا ھکم ہے۔ہاں اگر ورثہ خود نماز پڑھیں۔او روزہ رکھیں اور اس کا ثواب میت کو بخشیں تو صحیح ہے کیونکہ آدمی اپنا عمل غیر کو ہبہ کرسکتا ہے۔عبادت تین قسم کی ہے۔مالی ۔بدنی۔ اور مرکب مالی عبادات مثلاذکواۃ وغیرہ میں نیابت جائز ہے۔جب کہ اس کی قدرت نہ ہو اور بدنی عبادات میں نیابت جائز نہیں ۔مثلا نماز روزہ اورمرکب عبادات مثلا حج وغیرہ میں اگر نفلی ہو تو نیابت جائز ہے۔اگر فرضی ہو و نیابت جائز نہیں۔میت اگر روزہ کے فدیہ کی وصیت کرجائے تو درست ہے۔اور اگر وارث از خودفدیہ دیں تو امام محمد نے زیادت میں کہا ہے کہ امید ہے اللہ اس کو معاف فرمائے گا۔او ر عجز کی حالت میں رہی ہوئی نمازون کو بھی بعض نے روزہ پر قیاس کیا ہے۔لیکن روزے کے متعلق تو یقین سے کہتے ہیں کہ وہ فدیہ ہوگیا۔اور نماز کے متعلق توفع کے الفاظ بیان کرتے ہیں۔اگر آدمی اپنی بیماری کی حالت میں نمازوں کا فدیہ دے تو یہ جائز نہیں ہے۔اگر بوڑھا آدمی جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو۔اپنے روزے کا فدیہ دے تو جائز ہے۔او ر عاجز آدمی نماز کا فدیہ نہیں دے سکتا۔ اگر ویسے نہ پڑھ سکتا ہو تو اشار ہ سے پڑھے۔اگراشارے کی طاقت بھی نہ ہو تو جب نمازیں زیادہ ہوجایئں گی توساقط ہوجایئں گی۔ہاں روزے کا فدیہ چونکہ نص سے ثابت ہے۔اس پر نماز کو قیاس نہیں کیا جاسکتا بدنی عبادت میں نیابت اصولا منع ہے۔الحاصل ایسی اسقاط کتاب وسنت اور فقہ کی کتابوں کے بھی برخلاف ہے۔ خصوصا جب کہ اس کے ساتھ یہ عیدہ بھی شامل ہو جائے کہ اس طرح فرائض ساقط ہوجاتے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ شامی کی عبارت کے مطابق ورثاء خود نماز روزہ ادا کرکے اس کو ثواب پہنچایئں۔واللہ اعلم

    (رشید احمد۔عبد الوہاب ۔محمد وسیم الدین۔محمد اسد علی۔محمد عبد المطلب ۔سید محمد نزیر حسین فتاوی نزیریہ ص203)




    فتاویٰ علمائے حدیث
    جلد 11 ص 345
    محدث فتویٰ
     
  5. ‏مارچ 07، 2015 #15
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    فتویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 543 ۔547 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن
    تنویرالابصار اور درمختار میں ہے اگر کوئی فوت ہُوا اور اس کی نماز یں رہ گئی تھیں اور اس نے کفارہ کی وصیت کی تو ہر نماز کے عوض صدقہ فطر کے برابر فدیہ دیا جائے، اسی طرح وتر اور روزے کاحکم ہے، باقی یہ فدیہ صرف اس کے تہائی مال سے ادا کیا جائیگا، اگر کسی نے اپنی نماز کا فدیہ مرضِ موت میں دیا تو صحیح نہیں بخلاف روزہ کے کہ اس کا فدیہ مرض موت میں دینا جائز ہے۔

    (۱؎ درمختار باب قضاء الفوائت مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۱)

    وفی ردالمحتار اذا اوصی بفدیۃ الصوم یحکم بالجواز قطعا، واذالم یوص فتطوع بھا الوارث فقال محمد فی الزیادات یجزیہ ان شاء اﷲتعالٰی وکذا علقہ بالمشئیۃ فیما اذااوصی بفدیۃ الصلٰوۃ فاذالم یوص فالشبھۃ اقوی۱؎

    ردالمحتار میں ہے جب کسی نے فدیہ صوم کی وصیت کی توقطعاً جواز کا حکم دیا جائے، اور اگر اس نے وصیت نہ کی مگر وارث نے بطور نفل فدیۃً ادا کردیا تو امام محمد نے زیادات میں فرمایا اگر اﷲتعالٰی نے چاہا تو یہ فدیۃً کفایت کرجائے گا، اسی طرح انہوں نے اسے مشیتِ باری تعالیٰ سے معلق فرمایا، جب کسی نے نماز کے فدیہ کی وصیت کی تو جب اس نے وصیت نہ کی ہوتو شبہ بہت قوی ہوگا ۔

    (۱؎ ردالمحتار باب قضاء الفوائت مصطفی البابی مصر ۱ /۵۴۱)
    فی البحرا الرائق، الولی لایصوم عنہ ولا یصلی لحدیث النسائی عہ لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد اھ۱؎ واﷲتعالٰی اعلم۔
    بحرا لرائق میں ہے ولی میت کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ حدیث نسائی میں ہے کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے۔ اھ، واﷲ تعالیٰ اعلم(ت)

    (۱؎ البحرالرائق ،فصل فی العوارض ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۲ /۲۸۵)

    عہ ای فی سننہ الکبری عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما(م)
     
  6. ‏مارچ 08، 2015 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,892
    موصول شکریہ جات:
    2,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    اہل حدیث سے مناظرہ کے لئے ۔۔آپ کو کتنی محنت کرنا پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فتاوی علمائے اہل حدیث کی گیارہویں جلد کھنگال ڈالی ۔۔
    اس میں ۔۔نکلا کیا ۔۔۔درمختار ۔۔۔اور فتاوی شامی۔۔۔۔۔۔
    یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ۔۔۔۔۔۔مختار ثقفی متنبی ۔۔۔۔کو ہیرو کے روپ ۔۔میں پیش کیا جاتا ۔
    ’’ در مختار ‘کو بھی آپ نے یہاں ویسے ہی پیش فرمادیا ۔۔۔
    اہل حدیث نہ تو ۔۔اسقاط صلاۃ ۔۔کےلئے ۔۔حیلے کرتے ہیں ۔۔۔۔نہ درمختار کو ’‘ اختیار ’‘ کرتے ہیں ۔
    فتاوی علمائے اہل حدیث ‘‘ میں حنفیوں کا فتوی نقل کرکے ان کا مذہب بتایا گیا ،کہ وہ ایسا کہتے ہیں ۔۔یہ مطلب نہیں کہ ’‘علمائے اہل حدیث ‘‘ بھی ایسا ہی مانتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 08، 2015 #17
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    ایسا لگتا ہے کہ میں نے بڑی غلطی کردی ہے جو فتاوی اہل حدیث سے اس مسئلے کے بارے میں کچھ نقل کردیا
    ویسے یہ بھی بہت حیرت انگیز چیز ہے کہ یہ فتویٰ تو ہے اہل حدیث مولوی کا اور وہ اس مسئلے کے حل کے لئے حوالے دے رہا در مختار ۔۔۔۔اور فتاویٰ شامی کے اس بھی زیادہ حیران کرنے والی بات یہ کہ فتویٰ دینے والا وہابی مولوی آخر میں یہ کہتا ہے کہ
    بہتر یہ ہے کہ شامی کی عبارت کے مطابق ورثاء خود نماز روزہ ادا کرکے اس کو ثواب پہنچایئں۔واللہ اعلم
    جب کہ فتویٰ رضویہ کے مطابق حدیث نسائی میں ہے کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے
    یعنی جن کے بارے آپ یہ پرو پیگنڈہ کرتے نہیں تھکتے کہ یہ لوگ احادیث کے احکام کے خلاف فتوہ دیتے ہیں وہ لوگ تو احادیث سے استدلال کرتے ہوئے فتوہ دیتےہیں اور جن وہابیہ کے بارے میں آپ لوگ یہ گمان کرتے ہیں یہ احادیث کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں در اصل وہی لوگ احادیث کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں
    ویسے نہ میں مناظرہ کرتا ہوں نہ اس بات کا میں مکلف ہوں میں تو صرف وہابیہ کو آئینہ دیکھتا ہوں
     
  8. ‏مارچ 08، 2015 #18
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    لیجئے میں وہ سوال جس پر یہ فتوی دیا گیا نقل کئے دیتا ہوں ساتھ میں اس مسئلے پر اہل حدیث مولوی کا جواب بھی اور ساتھ میں اس سائٹ کا لنک بھی فراہم کئے دیتا ہوں
    جب مرد کو دفن کرچکتے ہیں۔تو میت کے رشتہ داروں میں سے کوئی...الخ
    شروع از M Aamir بتاریخ : 07 June 2013 08:55 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اس علاقہ میں میں یہ رواج ہے کہ جب مرد کو دفن کرچکتے ہیں۔تو میت کے رشتہ داروں میں سے کوئی آدمی ایک یا چند قرآن مجید ھاجیوں اور ھافظوں سے بلا کر کہتا ہے کہ میں نے یہ قرآن مجید اس میت کے متروکہ نماز و روزہ کے عوض تم کو دیتا ہوںاور پھر وہ آدمی اسی طرح دوسرے کو وہ قرآن مجید بخشتا ہے اور پھر وہ کسی اور کو علی ہذا القیاس چند بار اس کو پھیر کر پھر اسی آدمی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔او اس طرھ کرنے سے ان کا خیال ہے کہ اس کے نماز روزہ جو کہ اس کے زمہ واجب الادا تھے اس سے ساقط ہوجاتے ہیں۔اور اس علاقہ کے بعض علماء اس کی عوام کو تلقین کرتے ہیں۔کیا اسی طرح نماز روزہ ساقط ہوجاتے ہیں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتهالحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


    اس طرح کا اسقاط جائزنہیں ہے درمختار میں ہے کہ اگر روزہ کے فدیہ کی مرنے والا وصیت کہ جائے تو اس کے وارث ارادا کردیں تو اس سے ساقط ہوجائے گا۔اوراگر وصیت نہ کرے۔او ر وارث از خودادا کریں۔تو یہ صحیح نہیں۔بخلاف نماز کے کہ وہ بدنی عبادت ہے۔اور حج میں نیابت جائز ہے۔شامی میں ہے ک اس طر ح میت سے نماز ساقط نہیں ہوتی۔اور ایسے ہی روزے کا ھکم ہے۔ہاں اگر ورثہ خود نماز پڑھیں۔او روزہ رکھیں اور اس کا ثواب میت کو بخشیں تو صحیح ہے کیونکہ آدمی اپنا عمل غیر کو ہبہ کرسکتا ہے۔عبادت تین قسم کی ہے۔مالی ۔بدنی۔ اور مرکب مالی عبادات مثلاذکواۃ وغیرہ میں نیابت جائز ہے۔جب کہ اس کی قدرت نہ ہو اور بدنی عبادات میں نیابت جائز نہیں ۔مثلا نماز روزہ اورمرکب عبادات مثلا حج وغیرہ میں اگر نفلی ہو تو نیابت جائز ہے۔اگر فرضی ہو و نیابت جائز نہیں۔میت اگر روزہ کے فدیہ کی وصیت کرجائے تو درست ہے۔اور اگر وارث از خودفدیہ دیں تو امام محمد نے زیادت میں کہا ہے کہ امید ہے اللہ اس کو معاف فرمائے گا۔او ر عجز کی حالت میں رہی ہوئی نمازون کو بھی بعض نے روزہ پر قیاس کیا ہے۔لیکن روزے کے متعلق تو یقین سے کہتے ہیں کہ وہ فدیہ ہوگیا۔اور نماز کے متعلق توفع کے الفاظ بیان کرتے ہیں۔اگر آدمی اپنی بیماری کی حالت میں نمازوں کا فدیہ دے تو یہ جائز نہیں ہے۔اگر بوڑھا آدمی جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو۔اپنے روزے کا فدیہ دے تو جائز ہے۔او ر عاجز آدمی نماز کا فدیہ نہیں دے سکتا۔ اگر ویسے نہ پڑھ سکتا ہو تو اشار ہ سے پڑھے۔اگراشارے کی طاقت بھی نہ ہو تو جب نمازیں زیادہ ہوجایئں گی توساقط ہوجایئں گی۔ہاں روزے کا فدیہ چونکہ نص سے ثابت ہے۔اس پر نماز کو قیاس نہیں کیا جاسکتا بدنی عبادت میں نیابت اصولا منع ہے۔الحاصل ایسی اسقاط کتاب وسنت اور فقہ کی کتابوں کے بھی برخلاف ہے۔ خصوصا جب کہ اس کے ساتھ یہ عیدہ بھی شامل ہو جائے کہ اس طرح فرائض ساقط ہوجاتے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ شامی کی عبارت کے مطابق ورثاء خود نماز روزہ ادا کرکے اس کو ثواب پہنچایئں۔واللہ اعلم

    (رشید احمد۔عبد الوہاب ۔محمد وسیم الدین۔محمد اسد علی۔محمد عبد المطلب ۔سید محمد نزیر حسین فتاوی نزیریہ ص203)




    فتاویٰ علمائے حدیث
    جلد 11 ص 345
    محدث فتویٰ

    لنک
    یہاں اہل حدیث مولوی نے درمختار اور شامی کا رد نہیں کیا بلکہ ان کے مطابق فتویٰ دیا ہے
    آنکھ میں سرمہ لگا کے ملاحظہ فرمائے گا صاف نظر آجائے گا
     
  9. ‏مارچ 12، 2015 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,634
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اگر اس طرح کی کوئی صورت ہے تو شرع میں اس کی کوئی اصل معلوم نہیں۔
    غلط کام حنفی کرے یا غیر مقلد، وہ غلط ہی ہوتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں