• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
بیل بوٹی والی جائے نماز پر پڑھنے کا حکم

س: جس جائے نماز پر بیل بوٹی و نقش و نگار اور بعض مساجد کی تصاویر بنی ہوتی ہیں، ان پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج: ایسی جائے نمازوں پر نماز ادا کرنا بہتر نہیں ہے۔ خواہ وہ تصاویر بیل بوٹے ہوں یا بعض مساجد کی کیونکہ یہ تصاویر انسان کے ذہن اور دل کو اپنی طرف مشغول کرنے کا سبب بنتی ہیں جس سے نمازی کے خشوع میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اس کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک تصاویر والا پردہ تھا جس کے ساتھ انہوں نے اپنے گھر کو ایک طرف ڈھانپا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
'' کہ ہم سے اس پردے کو ہٹادو ۔ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آتی رہتی ہیں ''۔( بخاری کتاب الصلوٰۃ )

علامی صغانی لکتے ہیں :
''اس حدیث میں دلیل ہے کہ وہ ہر چیز جو نمازی کو نماز سے غافل کردے ، اس کو دور کر دینا چاہئے خوا ہ وہ چیز اس کے مکان میں ہو یا نماز کی جگہ میں ''۔
دوسری دلیل میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دھاری دار چادر میں نماز پڑھی ۔ نماز میں اس چادر کی د ھاریوں کی طر ف ایک نظر دیکھا ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میری یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جا ؤ اور اس سے ایک سادہ چادر لے آؤ۔ اس چادرے نے تو مجھے میری نماز سے غافل کر دیا ۔
( صحیح بخاری ، کتاب الصلوٰۃ )
اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہی واضح ہوتا ہے کہ نماز کے سامنے ایسی چیزوں کا ہونا نا پسندیدہ ہے جو نماز میں خلل ڈالیں۔ خواہ وہ تصاویر والی چٹائیاں ہو ں یا جائے نماز ہاں یہ بات یاد رہے کہ اگر کوئی شخص ایسی جائے نمازوں پر نماز ادا کر لیتا ہے توا سکی نماز کو باطل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
مسئلہ رفیع یدین اور آمین بالجہر

س: ہمارے محلے میں ہر بدھ جماعت اسلامی والوں کا درس ہوتا ہے آج میں بھی شوقیہ چلی گئی وہاں جو سوال زیر بحث آیا وہ یہ کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ رفع الدین اور آمین کہیں یا نہ کہیں آپ کی مرضی ہے کافی بحث ہوئی ۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے رفع بدین کیاتھا کہ کفار آپ کے پیچھے بغلوں میں بت دبا کر کھڑے ہو جاتے تھے اسلئے آپ نے رفع یدین کیا اور کروایا۔ اس کے بعد آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا کیا ایسا ہی ہے ؟ پھر یہ کہ کیاآپ نے واقعی چھوڑ دیا تھا اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ امام شافعی اور امام مالک کے درمیان بھی بحث جاری رہی اور وہ فیصلہ نہیں کر پائے۔ قرآن و سنت کی ر وشنی میں مفصل جواب دیں ۔

ج: صور ت مسؤلہ میں جو دو مسئلے ذکر کیے گئے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور مسئلہ رفیع الیدین تو ایسا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رفیع الیدین کو چھوڑ اہو ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
'' تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ اور جب رکوع کیلئے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ا سی طرح اٹھاتے تھے ''۔
(بخاری (۷۳۵) مسلم ۹۳،۹۳:۴، مسند احمد ۱۴۷،۶۲،۱۸:۲،۸:۲ ۔مؤطا امام مالک ۷۵:۱، مصنف عبدالرزاق (۲۵۱۸،۲۵۱۷)ابن ماجہ(۸۵۸)
اسی طرح رفع الیدین کی رویات سید ناوائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سنن ابو داؤد ١ ۱/۱۹۳ (۷۲۶٢) نسائی اور مسلم ١۱/۱۷۳ میں بھی مروی ہے اور سید ناوائل بن حجر رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں ۔ چنانچہ علاما بدر الدین عینی حنفی بخاری کی شرح عمدۃ القاری ۳/۹٩ پر رمقطراز ہیں کہ :
'' وائل بن حجر ۹٩ ہجری میں مدینہ میں مسلمان ہوئے ''۔
یہ حضر موت کے علاقہ میں رہنےو الےتھے اور حضر موت سے مدینہ تک اس وقت کی مسافت کے لحاظ سے چھ ماہ کا سفر تھا جب پہلی دفعہ آپ کے پاس آئےا ور آپ سے دین کے احکامات سیکھ کر دوبارہ اپنے وطن واپس چلے گئے پھر اس کے بعد ١٠۱۰ھ میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیان کرتے ہیں:
'' پھر میں اس کے بعد ایک زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ان دنوں سخت سردی تھی میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے اوپر موٹی چاردیں تھیں۔ ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے''۔ (ابو داؤد (۷۲۷)١۱:۱۹۳)
اس سے معلوم ہوا کہ ١۱۰٠ ھ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین ثابت ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے جو حضرات نسخ کے قائل ہیں وہ ١٠۱۰ھ کے بعد کی عدم رفع الیدین کی کوئی صحیح روایت پیش کریں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین کا حکم اس لئے دیا کہ کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بت لے کر کھڑے ہو جاتے تھے جاہلوں کا پھیلا ہوا بہت بڑا جھوٹ ہے جسے بیان کرنے والا اگر کوئی عالم ہے توا سے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہئے ایسی بات کا وجود تو پورے ذخیرہ حدیث میں کہیں بھی نہیں ۔ نہ کسی صحیح حدیث میں نہ ہی کسی ضعیف حدیث میں بعض لوگوں کو اپنا گرد اکھٹا کرنے کے شوق میں اور سیاسی اور جمہوری مصلحتوں میں آکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھوٹی بات منسوب کرنا اور اس پر اصرار کرنا خدا کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ ایسی مصلحتوں کا دنیا میں تو کوئی فائدہ نہ ہوگا لیکن آخر میں لوگوں کو خوش کرنے کی خاطر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایسی مہم بازی کا جو نتیجہ ملے گا ، اس سے پھر وہاں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔دوسری بات یہ ہے کہ کفار کا آ پ کے پیچھے آ کر نماز کیلئے کھڑا ہو ان ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اگر رفع الیدین اس لئے کیا کہ لوگ بغلوں میں جو بت رکھتے تھے ان کو گرانے کا ایک طریقہ تھا تو کیا پہلی دفعہ تکبیر تحریم کے ساتھ جو رفع یدین کے وقت بت نہیں گرنے دیتے وہ رکوع کی رفع یدین کے وقت کیسے گرنے دیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ترک رفع الیدین کے متعلق کوئی صحیح حدیث مروی نہیں بلکہ عماملہ اس کے برعکس ہے۔ امام جلال الدین الیسوطی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب الازھار المتنائرۃ فی الاخبار المتواتر ۃ میں رفع یدین کی حدیث کو متواتر کہا ہے۔ ا سطرح نظم المتنائر میں الحدیث المتواتر اور تدریب الراوی وغیرہ ملاحظہ ہوں۔ امام شافعی اور امام مالک تو صحیح روایت کے مطابق رفع یدین کے قائلو فاعل تھے ان میں اس مسئلہ پر کوئی اختلاف اور بحث تمیحص مروی نہیں ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عن کی رفع یدین والی روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
'' یہی بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے اہل علم کہتے ہیں ۔ ان میں سے ابن عمر ، جابر بن عبداللہ ، ابو ہریرہ ، انس، ابن عباس ، عبداللہ بن الزبیرہ وغیرہ ۔ اور تابعین میں سے حسن بصری عطا ، طاوئس، مجاہد، نافع، سالم، سعید بن جبیر وغیرہ۔ اوریہی بات امام مالک، امام معمر، امام اور زاعی ابن عینیہ ، امام عبداللہ بن مبارک، امام شافعی ، امام احمد اور امام اسحاق بن راوہیہ کہتے ہیں''۔ (ترمذی ٢۲/۳۷)
امام تر مذی رحمہ اللہ کی اس صراحت سے معلوم ہو گیا کہ امام مالک، امام شافعی اور امام احم بن جنبل وغیرہ بھی رفع یدین کے قائل و فاعل تھے۔
لہٰذا یہ بات کہنی کہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف تھا ختم نہیں ہو سکا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بفرض محال اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ شافعی رحمہ اللہ و مالک رحمہ اللہ میں یہ اختلاف تھا تو پھر بھی ان کے اختلاف کی وجہ سے مسئلہ رفع یدین پر کوئی آنچ نہیں آسکتی کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر سنت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ترک نہیں کی اور آپ کی حدیث کے مد مقابل تو کسی امام کی بات قابل حجت نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں امام کی بات کو ترجیح دیتا ہے تو گویا اس نے امام جو کہ امتی ہے اس کا درجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھا ہے۔ اس کے علاوہ آمین بالجہر کی بھی احادیث کئی ایک ہیں۔ سید ناوائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
'' میں نے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے غیر المغضوب علیھم ولا الضالین پڑھا اور آمین کے ساتھ اپنی آواز کو دراز کیا''۔ (ابو داؤد ۹۳۲) ترمذی (۲۴۸)، درامی١۱:٢۲۸۴٨٤، دارقطنی١۱:٣۳۳۳٣٣،٣۳۳۴٣٤، بیہقی ١۱:٥۵۷٧، ابن ابی شبیہ ۲٢:٤۴۲۵٢٥)
بعض روایتوں میں مدبھا صوتہ، کی جگہ رفع بھا صوتہ آتا ہے۔ یعنی اپنی آواز کو بلند کیا ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ:
'' عبداللہ بن زبری اورا ن کے مقتدیوں نے اس قدر بلند آواز سے آمین کہی کہ مسجد لرز گئی ''۔ ( بخاری ٢۲:٢۲۶۲٢، مسند شافعی ۱۵، ١۲۱۲، بیہقی٢۲:۵۹٩)
اسی طرح حضرت عطاء تابعی رحمہ اللہ سے مروی ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ ہیں کہتے ہیں کہ :
'' میں نے مسجد حرام میں دو سو (٢۲۰۰٠) صحابہ کرام کو پایا جب امام ولا الضالین کہتا تو سب صحابہ بلند آواز سے آمین کہتے تھے''۔ بیہقی ۲٢:٥۵۹٩، ابن حبان (۱۹۹۷،١۱۹۹۶)
'' سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس قدر یہودی آمین اور سلام پر حسد کرتے ہیں اس قدر کسی چیز پر حسد نہیں کرتے ''۔ (مصباح الزجاچہ ۱١/۲۹۷)
امام بو صیری رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام رواۃ سے امام مسلم نے حجت لی ہے۔ یہی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند احمد ۶٢:١۱۳۴٣٤، ۱۳۵١٣٥، بیہقی ٢۲:٥۵۶٦، مجمع الزوائد ، ابن ماجہ (۸۵۶٥٦) صحیح ابن خزیمہ ۵۷۴٥٧ ٤ وغیرہ میں موجودہ ہے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ آمین رفع یدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں جو کہ منسوخ نہیں ہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ہمیشہ عمل درآمد کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر صحیح معنوں میں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
مسئلہ رفع الیدین

نماز میں چار مقامات پر فع الیدین کرنا صحیح احادیث سے بات ہے۔ تکبیر تحریمہ کے وقت، رکو ع جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اور تیسری رکعت کو اٹھتے ہوئے اور اس کے خلاف ایک بھی حدیث نہیں ہے۔
'' سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رویات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کیلئے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد کہتے اور سجدوں میں رفع یدین نہ کرتے تھے ''۔(بخاری ۱١/۱۰۲٠٢، مسلم ۱١/۱۶۸٦٨)

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ رفع الیدین کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ لوگ بغلوں میں بت رکھ کر نماز پڑھتے تھے ، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رفع الیدین کرائی ۔ تو غور کرنے کی بات ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے والے صحابہ کرام کے بارے میں کیا کہا جا رہاہے کہ وہ بت رکھ کر نماز پڑھتے تھے۔ یہ صحابہ کرام کی توہین ہے۔ دوسری بات یاد رہے کہ اس قصے کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے تو در کنار کسی ضعیف حدیث سے بھی نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں اگر بعض لوگ بغلوں میں بت رکھتے تھے تو جب وہ پہلی دفع رفع الیدین کرنے سے نہیں گرتے تھے تو وہ دوسری دفعہ رفع الیدین کرنے سے بھی نہیں گرتے تھے۔ وہ تو اسی وقت گر جانے چاہئے جب تکبیر تحریمہ کیلئے ہاتھ اٹھائے جاتے تھے۔ بت گرانے کیلئے اس کے بعد رکوع میں اور رکوع کے بعد ہاتھ اٹھوانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
رفع الیدین کا مسئلہ

س: میں حنفی مسلک سے تعلق رکھتا تھا اب الحمد اللہ میں اہل حدیث ہو گیا ہوں ۔ میرا سوال رفع الیدین کے بارے میں ہے ۔ آپ اس کی حقیقت قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کریں اور میرے لے کوئی ایک ایسی کتاب تجویز کریں جس میں نماز اور اس سے متعلق مسائل موجود ہوں ۔

ج: نماز کے افتتاح کے وقت ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دو رکعت پڑھ کے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا سنت متواتر ہے ۔ تقریباً وہ تمام کتب حدیث جن میں باب صفہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے۔ ان میں سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے:
'' سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شرو ع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کیلئے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ کو اسی طرح اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے اور سجدوں میں رفع یدین نہ کرتے تھے''۔ (بخاری ١۱/ ۱۰۲٢، مسلم ١۱/ ۱۶۸٨)

اور شروع سے لے کر آج تک اہل حدیث کی یہ علمات رہی ہے جیسا کہ امام ابو احمد الحاکم محمد بن محمد بن اسحاق نے اپنی کتاب شعار اصحاب الحدیث میں ص ۴۷٤٧ رفع الیدین کا باب باندھ کر بتایا ہے۔ اسی طرح امام حاکم، امام بخاری رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے بارے میں فرماتے ہیں :
'' امام بخاری رحمہ اللہ کے ساتھ اہل حدیث کے شعار ( علامتیں ) اکہری اقامت اور رفع یدین وغیرہ کا علی الاعلان اظہار کرتے تھے''۔ (سیر العلام النباء ۱۲١٢/ ۴۶۵١٦٨)
لہٰذا رفع یدین سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور شروع سے لے کر آج تک کتاب و سنت کے متوالوں کا عمل ہے۔ مسئلہ رفع یدین کی تفصیل کیلئے محدث العصر امام محمد گوندلوی رحمہ اللہ کی کتاب التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لھا نساسخ اور استاذ الاستاذہ حافظ عبدالمنان نوری پوری حفظہ الہہ کتاب '' مسئلہ رفع الیدین۔ تحریری مناظرہ '' وغیرہ ملاحظہ کریں۔ یا نامز کے عام فہم مسائل کیلئے صلوۃ الرسول ( مخرج ) حکیم صادق سیالکوٹی اور رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز از مولانا اسماعیل سفلی ملاحظہ کریں ۔ ان شاء اللہ العزیز کافی معلومات حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ملیں گی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
رفع الیدین کی روایت کرنے والے سید نا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں۔

س: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت عدم رفع الیدین کے بارے میں بتائیں کہاں تک صحیح ہے ؟ فقہ حنفی اور حدیث کا تقابل بھی چند مسائل میں بتائیں۔

ج: سید نا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن کے عظیم شہزادے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنے سے تین دن قبل ان کے متعلق بشارت دی جیسا کہ کتاب الثقات لابن حبان ٣ ۳/۴۲۴٤،۴۲۵٤٢٥ اور کتاب مشاہیر علماء الامصار لابن حبان کے ص ٤۴۴٤ رقم ٢۲۷۶٧٦ پر مرقوم ہے۔
آپ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی خدمت پر مامور فرمایا تھا اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنایہ ۵٥/ ۷۰ پر وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ ان وفود میں کیا ہے جو ٩۹ھ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تھے۔ علامہ عینی نے عمدۃ القاری شرح بخاری ۵٥/۲۷۴٢ قدیم میں فرمایا ہے کہ :
'' وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ میں ٩۹ھ میں مسلمان ہوئے ''۔
یہ صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین ذکر کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم مع شرح النووی۱١/۱۷۳١، ابن خزیمہ ١۱/۳۴۶٦ ، ابن حبان ٣۳/۱۶۷١، اور ابی عوانہ ٦۶/٩۹۷٧ وغیرہ پر مروی ہے۔ پھر آپ دوبارہ آئندہ سال ( یعنی ١٠۱۰ھ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو پھر رفع الیدین کا مشاہدہ کیا ۔ ابن حبان ٣۳/۱۶۸١ اور سنن ا بو داؤد وغٰرہ میں ہے ۔ علامہ سندھی حنفی حاشیہ نسائی ص ١۱۴۰پر راقم ہیں۔
'' مالک بن الحو یرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ آپ کی عمر کے آخری حصہ میں نماز پڑھی ا ور ان دونوں کی روایت میں رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے رفع الیدین کا تذکر ہے جو رفع یدین کے باقی رہنے اور اس کے منسوخ ہونے کے دعوے کو باطل کرنے کی دلیل ہے ''۔
حافظ ابن حجر عسقلانی تہذیب التہذیب ٦۶/۳۲٣ رقم ٧۷۵۵۵٥٥٥ میں ر اقم ہیں ۔
'' وائل امیر معاوی ابن سفیان رضی اللہ عنہ کے ایام حکومت میں فوت ہوئے ''۔
٢ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے عدم رفع الیدین کے متعلق مروی روایت ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔ امام عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ یہ ثابت نہیں ۔ ترمذی ۱١/۵۹ ٥٩ امام احمد نے کہا ضعیف ہے۔ العلل و معرفۃ الرجال ١۱/۱۱۲ ، ۱۱۷٧ امام ابو حاتم رازی نے کہا ( ھذا خطاء علل الحدیث امام ابن حبان نے کہا وھو فی الحقیقۃ اضعف شی التلخیص ١۱/۲۲۲ کہ یہ حقیقت میں سب سےز یادہ ضعیف ہے۔ امام ابن قیم نے المنار المنیف میں کہا باطل ہے ۔ لہٰذا یہ روایت قابل حجت نہیں ، تفصیل کیلئے استاذ الاستاذہ حافظ عبدالمنان حفظ اللہ کی کتاب مسئلہ رفع الیدین تحریری مناظرہ ملا حظہ کریں۔ انشاء اللہ تشفی ہو جائے گی۔
٣ فقہ حنفی اور احادیث نبویہ کیلئے مولانا محمد جو نا گڑھی رحمہ اللہ کی سیف محمدی، شمع محمدی وغیرہ کا مطالعہ کریں ۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
نماز میں ہاتھوں کا سینے کے اوپر باندھنا

س: نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے، ناف کے اوپر یا سینے کے اوپر باندھے جائیں ۔

ج: نماز میں ہاتھ سینے کے اوپر باندھنے چاہئےں جو کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے:
'' وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنا دائیاں ہاتھ پائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھے''۔ (صحیح ابن خزیمہ (٤٧۴۷۹٩) بیہقی ۲٢/۳۰ ٣٠)
اس طرح اس روایت میں تائید ہیں ۔ مسند احمد ٥۵/ ۲۲۶٢ پر مروی ہے کہ :
'' ھلب صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھا ہو اتھا ''۔

اس کی تائید اس مرسل روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام ابو داؤد نے سنن ابو داؤد (٧۷۵۶٥٦) میں روایت کیا ہے کہ:
سیدنا طاؤس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دایاں ہاتھ نماز میں اپنے بائیاں اہتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر باندھتے تھے''۔
ان احادیث کی رو سے نمازی کو اپنے ہاتھ نماز کے اند راپنے سینے پر باندھنے چاہئیں۔ اور زیر ناف ہاتھ باندھنے والی روایت انتہائی ضعیف ہے۔ امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ متفق علی ضعفہ کہ اس حدیث کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے اور جو روایت تخت السرہ والی ابو داود سے مروی ہے اس میں عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی ضعیف راوی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی

س: نماز جنازہ میں سورۃ الفاتحہ لازمی پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ احادیث سے جواب دیں ۔
٢۔ نماز میں مقتدی کو سورۃ فاتحہ امام کے پیچھے پڑھنی چاہئے یا کہ نہیں ؟

جواب : آپ کے سوالات کے ترتیب وار جوابات حاضر خدمت ہیں۔ طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے انہوں نے کہا : '' میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ۔ انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ پڑھی ۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا آپ فاتحہ پڑھتے ہیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا بے شک یہ سنت اور حق ہے ''۔
(المنتقی لابن جارود (٥۵۳۴٣٤) بخاری مع فتح الباری ۳٣/،۲۰۳ ابو داؤد (٣۳۱۹۴١٩٤) نسائی ۴٤/۷۴ ،۷۵ ٧٥ ترمذی (١۱۰۲۸٠٢٨) حاکم ۱١/ ۳۵۷٥٧ بیہقی ٤۴/۳۸٣٨)
اور اصول حدیث میں یہ بات متحقق ہے کہ جب صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہے کہ من السنۃ کذ ااس مسئلہ میں سنت اسی طرح ہے تو وہ مسند و مرفوع روایت سمجھی جاتی ہے ۔ یہی بات احناف، شوافع اور جمہور علماء اصولین کے نزدیک درست ہے جیسا کہ المجموع للنوی ۵٥/۲۳۲ ٢ اور ابن الہم حنفی نے اپنی کتاب '' التحریر '' میں لکھا اور اس کے شارح ابن امیر الحاج ۲٢/٣۳۳۴٣٤ پر لکھا ہے کہ ہمارے متعقدمین علماء کے نزدیک یہ بات درست ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ مین سورۃ فاتحہ پڑھنا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا ۔ اور صحابہ کرام بھی نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔
(۲٢) صحیح احادیث کی رو سے امام ہو یا مقتدی مفردست پر ہر نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
'' سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورۃ فاتحہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہے ''۔
(بخاری مع الفتح الباری ۲٢/۲۳۶٢،۲۳۷٢٣، مسلم ١۱/ ۲۹۵، ابوداؤد (٨۸۲۲٢٢)نسائی ٢۲/١۱۳۷٣٧،۱۳۸١ ، ترمذی(٤۲۴۷٧)، ابن ماجہ (٨۸۳۷٣)
اس حدیث سے معلوم ہوا جو بھی نمازی خواہ امام ہو یا مقتدی، مفرد ہو یا رکوع پانے ولا ااگر سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
اس حدیث کی شرح میں علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
'' اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ہر رکعت میں ہر نمازی خواہ امام ہو یا منفرد یا مقتدی، خوا ہ امام آہستہ پڑھے یا بلند آواز سے فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ''۔
اسی طرح علامہ کرمانی شرح بخاری میں فرماتے ہیں ۔
اس حدیث میں دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ امام اور مقتدی پر ہر نماز میں واجب ہے ''۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے ۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔
صبح کے وقت ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ قرأت کر رہے تھے۔ آپ پر قرأت تقیل ہو گئی ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ شاید تم امام کے پیچھے پڑھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا جلدی جلدی پڑھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا۔ صرف سورۃ فاتحہ پڑھا کر وکیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ ابو داؤد مع عون ١۱/ ۳۰۴٠ دار قطنی ۱١/۳۱۸ ٣١٨ حاکم ۱١/۲۳۸ ٢٣٨ بیہقی ۲٢/۱۶۴٤ مسند احمد ٥۵/۳۱۶٦ ابن خزیمہ ۳٣/۳۰۴٠٤ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر نمازی پر نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنی لازمی ہے ۔
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
asslam o allikum bahi yeh book shiek mubasher ahmad rabbani hf ki ha (ap ka masal our un ka hall is ka 3 parts han ..muktaquddsia na publish ki thi

bohat try ka bawjood mujha yeh book nahi mili.agar is 3 parts pdf ma upload kar den to behtar ho gha

jzk feimanALLAH
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
قرأت کرتے وقت ہر آیت پر وقف کرنا

س: نماز میں امام کو قرأ ت کرتے وقت کیا ہر آیت پر رکنا چاہئے ۔ دلائل کی رو سے واضح کریں ۔

ج: قرآن قرآن کا مسنون اور افضل طریقہ یہ ہے کہ آدمی تلاوت کرتے وقت آیت پر وقف کرے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ہر آیت پر ٹھہرتے تھے۔ سیدہ اُ م سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :
'' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قرأ ت کرتے تو ہر آیت کو علیحدہ علیحدہ پڑھتے۔ آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے پھر ٹھہر جاتے پھر الحمد اللہ رب العالمین کہتے پھر وقف کرتے پھر الرحمن الرحیم کہتے پھر وقف کرتے ''۔
( مشکوۃ مع تفقیح الرواۃ ٢۲/ ۶۱، مسند احمد ٢۲/ ۳۰۲٢، ترمذی ٥۵/ ۱۷۰٠، حاکم ١۱/۲۲ ٢٢، ابن خزیمہ ۱١/ ۲۴٧، بیہقی ٢۲/۴۴ ٤٤، دارقطنی ١۱/۳۱۳٣١٣، طحاوی ۱١/۱۳۸ ١٣٨، ابوداؤد ۱١/۵۶۷ ٢٦٧)

ایک روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قرأت کرتے ، ہر آیت کو الگ الگ کرتے ( مثلاً بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے پھر وقف کرتے۔ امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح علی شرط الشیخین اور امام دار قطنی نے صحیح الاسناد اور امام نووی نے اسے صحیح کہا ہے۔ المجومع ۳٣/۳۳۳ ٣٣٣۔
'' امام بیہقی نے شعیب الایمان میں اور دیگر اہل علم نے کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہر آیت پر وقف اضل ہے ''۔ (الاتقان صفحہ ١٢٢۱۲۲)

امام ابو عمر الدروافی نے فرمایا :
'' ائمہ سلف اور قراء کرام کی ایک جماعت آیات پر وقف مستحب سمجھتی ہے ''۔ (ارواء الغلیل ۲٢/۶۲)
مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ امام ہو یا مفنرد یا نمازی غرض قرأ ت کرتے وقت آیات پر وقف کرنا چاہئے۔ یہی طریقہ افضل ہے ۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
جہری نماز میں قرآنی آیات کا جواب دینا

س: نماز جمعہ یا کسی بھی جہری نماز میں حب سبح اسم رب الاعلی اور اسی طرح دیگر سورتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو مقتدی بھی جواب دیتے ہیں کیا مقتدی کا آیت سن کر جواب دینا کسی حدیث سے ثابت ہے ۔

ج: سنن ابو داؤد میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو یہ روایت آتی ہے کہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سبح اسم ربک الاعلی پڑھے تو کہتے سبحان ربی الاعلی ''۔

یہ روایت ضعیف ہے ۔ اس کی سند میں ابو اسحاق بیعی جو کہ مد لس ہے اور صیغہ عن سے روایت کرتا ہے اور یہاں تصریح بالسماع نہیں ہے۔ علاوہ ازٰن ثقات رواۃ نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں تر مذی شریف میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پر سورہ رحمن پڑھی اور صحابہ خاموش رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سورہ میں نے جنوں پر پڑھی ۔ فکانو احسن مر دود ا منکم تو وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے۔جب ہر بار میں اس آیت پر پہنچتا تھا ( فبای الا ء ربکما تکذبن ) تو وہ جواب میں کہتے ہیں لا بشی ء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد اے ہمارے رب تیری نعمتوں میں سے ہم کسی چیز کو نہیں چھٹلاتے ۔ پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ( ترمذی ۳۲۹۱، بن کثیر۴/۳۲۹۱، ابن عدی ،۳/۱۰۷۴، مستردک۲/۴۷۳) میں مروی ہے اور پانے شواہد کی بنا پر حسن درجہ کی ہے مگر اس میں نماز کا ذکر نہیں ہے۔ یہ عام حالات میں تالوت کا ذکر ہے اس کے علاوہ ایک اور حسن حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض نماز میں اللھم حاسبنی حسباً بسیرا کہتے ۔
امام حاکم نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہنی نے تلخیص میں ان کی موافقت کی ہے ۔ (مستدرک ۵۰۱'۲۰۰،مسنداحمد۶/۴۸'ابن خزیمہ ۸۴۹)
ان احادیث سے یہ بات ثابت معلوم ہوتی ہے کہ جو آدمی قرأت کرے، وہ جواب دے یا عام حالات میں جب تلاوت قرآن ہو تو سامع بھی جواب دے سکتا ہے لیکن مقتدی کا قرآن سن کر جواب دینا مجھے کسی حدیث سے نہیں ملا واللہ اعلم بالصواب
 
Top