1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت الکرسی

'اذکار وادعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جون 01، 2011۔

  1. ‏جون 01، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    آیت الکرسی

    [​IMG]
    یہ آیت الکرسی ہے جو قرآن کریم کی تمام آیات سے عظیم آیت ہے اور جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہےیہ اللہ تعالی کی صفات جلال ،اس کی علوشان اور اس کی قدرت وعظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے ۔سیدنا ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا:’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے ؟‘‘کہتے ہیں میں نے جواب دیا ،اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے (دوربارہ) پوچھا:’’اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس کتاب اللہ کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے ؟‘‘میں نے کہا :(الله لااله الاهو الحي القيوم) (یعنی آیت الکرسی)تورسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:’’اللہ کی قسم !(تونے درست کہا)اے ابو منذر!تمہیں علم مبارک ہو۔‘‘(مسلم،کتاب الصلوۃ،باب فضل سورۃ الکہف وآیۃ الکرسی:81)
    سیدنا ابوہریرہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکوۃ (صدقہ فطر) کی حفاظت کےلیے مقررفرمایا تو ایک رات کو ایک آنے والا آیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )کھانے والی چیزیں بھڑنا شروع کردیں ،میں نے اسے پکڑلیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔اس نے کہا کہ مجھے چھوڑدو،میں محتاج،عیال دار اور سخت حاجت مند ہوں۔میں نے اسے چھوڑدیا ۔صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ابوہریرہ!اپنے رات کے قیدی کا حال تو سناؤ؟‘‘ میں نےعرض کی ،اے اللہ کے رسولﷺ ! جب اس نے کہا کہ وہ سخت حاجت منداور عیال دار ہے تو میں نے رحم کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ۔آپﷺ نے فرمایا’’اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور پھرآئے گا۔‘‘اب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ واقعی دوبارہ آئے گا،کیونکہ رسول اللہ ﷺنے یہ خبردے دی تھی کہ وہ دوبارہ آئے گل ،سومیں چوکنا رہا ،چنانچہ وہ آیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )خوراک ڈالنا شروع کردی ۔میں نے اسے پکڑلیا اور کہا کہ تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔کہنے لگأ مجھے چھوڑدو میں بہت محتاج ہوں اور مجھ پر اہل وعیال کی ذمہ داری کا بوجھ ہے ،اب میں آئندہ نہیں آؤں گا۔میں نے رحم کھاتے ہوئے اسے پھر چھوڑدیا ۔صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ابوہریرہ! اپنے قیدی کا حال سناؤ؟‘‘ میں نےعرض کی ،اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سخت حاجت اور اہل وعیال کی ذمہ داری کے بوجھ کا ذکر کیا تو میں نے ترس کھاتے ہوئے اسے پھرچھوڑ دیا۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے،وہ پھر آئے گا۔‘‘میں نےتیسری بار اس کی گھات لگائی تو وہ پھرآیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )کھانے کی اشیاءا ڈالنا شروع کردیں ۔میں نے اسے پکڑلیا اور کہا ،اب میں تجھے ضروررسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔بس یہ تیسری اور آخری دفعہ ہے ،تو روز کہتا ہے کہ اب نہیں آئے گا لیکن وعدہ کرنے کے باوجود پھر آجاتا ہے ۔
    صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’اپنے رات کی قیدی کا حال سناؤ؟‘‘میں نےعرض کی ،اے اللہ کی رسول ﷺ !اس نےکہا تھا کہ وہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھائے گا جن سےاللہ تعالی مجھے نفع دے گاتو (یہ سن کر ) میں نے اسے پھرچھوڑ دیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا :’’وہ کلمات کیا ہیں ؟‘‘میں نےعرض کی،اس نے مجھ سے کہا کہ جب بستر پر آؤ تو اول سے آخر تک مکمل آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تو اس سے ساری رات اللہ تعالی کی طرف سے ایک محافظ تمہاری حفاظت کرے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔اب صحابہ کرام  خیروبھلائی کے سیکھنے کے حددرجہ شائق تھے۔یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’اس نے تم سے بات تو سچی کی ہے حالانکہ وہ خود تو جھوٹا ہے،اے ابوہریرہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم تین راتیں کس سے باتیں کرتے رہے ہو؟‘‘میں نے عرض کی ،نہیں ،تو رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے بتایا’’وہ شیطان تھا۔‘‘(بخاری ،کتاب الوکالۃ)
    اس حدیث سے آیت الکرسی کی فضیلت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کانام آیت الکرسی ہونے کی تصدیق بھی معلوم ہوئی ہے۔
    سیدنا ابوامامہ  بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخلے سےسوائے موت کے کوئی چیز نہیں روکتی۔‘‘مطلب یہ ہے کہ آیت الکرسی پڑھنے والا موت کے بعد سیدھا جنت میں جائے گا۔(عمل الیوم واللیلۃ للنسائی:100)
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 11، 2015 #2
    انجم ملک

    انجم ملک رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 11، 2014
    پیغامات:
    211
    موصول شکریہ جات:
    104
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک ﷲ خیرا

    بیشک
     
  3. ‏اگست 26، 2015 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,246
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آیہ الکرسی کے متعلق چند وضاحت

    ہندی کے ایک امیج میں آیہ الکرسی کے متعلق چند فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ہندی امیج میں جو لکھاہے اس کی حقیقت اردو میں بیان کرتا ہوں ۔


    (1)لکھاہے "گھر سے نکلتے وقت آیۃ الکرسی پڑھوگے تو ستر ہزار فرشتے ہرطرف سے آپ کی حفاظت کریں گے" ۔
    مذکورہ بالا قول کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آپ ﷺ سے گھر سے نکلتے وقت آیۃ الکرسی پڑھنا ثابت نہیں ہے ، اس لئے یہ فضیلت بیان کرنا صحیح نہیں ہے ۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ سے اللہ گھر سے نکلتے وقت آیہ الکرسی اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیت پڑھنے کی فضیلت کے متعلق سوال کیا گیا تو شیخ نے جواب دیا کہ یہ سنت ہی نہیں ہے تو پھر کیسے ہم کہیں کہ گھر سے نکلتے وقت آیہ الکرسی اور بقرہ کی آخری دوآیت پڑھنے کے کیا فوائد ہیں ؟ (فتاوى نور على الدرب -العثيمين، الجزء : 5 ، الصفحة : 2 )

    (2) لکھا ہے"گھر میں داخل ہوتے وقت پڑھوگے تو آپ کے گھر سے محتاجگی دور ہوجائے گی" ۔
    آیہ الکرسی کے متعلق یہ بات بھی کسی نص سے ثابت نہیں ہے ۔

    (3)لکھا ہے "وضو کے بعد پڑھوگے تو آپ کے ستر درجے بلند ہوں گے
    وضو کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے کے متعلق حدیث آئی ہے وہ حدیث یہ ہے ۔
    عن نافع عن ابن عمر رفعه :من قرأ آية الكرسي على أثر وضوئه أعطاه الله عز وجل ثواب أربعين عالما ، ورفع له أربعين درجة ، وزوجه أربعين حوراء .
    (مسند الفردوس و کنز العمال)
    ترجمہ : جس نے وضو کے بعد آیہ الکرسی پڑھا اسے اللہ تعالی چالیس سال کا ثواب دیتا ہے ، اس کے چالیس درجات بلند کرتا ہے اور اسے چالیس بیویاں حوروں میں سے عطا کرتا ہے ۔
    یہ روایت باطل اور موضوع ہے، اس کی سند میں مقاتل بن سلیمان بہت مشہور کذاب راوی ہے ۔
    گویا وضو کے بعد آیہ الکرسی پڑھنے کی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔

    (4) لکھا ہے "رات کو سوتے وقت تین بار پڑھوگے تو ساری رات اللہ کی حفاظت میں رہوگے" ۔
    رات میں(سونے سے پہلے) آیہ الکرسی پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔
    "إذا أويتَ إلى فراشِكَ فاقرأ آيةَ الكرسي ، فإنه لن يزالَ معكَ من اللّه تعالى حافظ ، ولا يقربَك شيطانٌ حتى تُصْبِحَ"(بخاری)
    ترجمہ: بخاری شریف میں ہے کہ جب تو بستر پہ آئے اور آیہ الکرسی پڑھے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک محافظ مقرر کر دیا جاتا ہے اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آسکتا ۔
    اس حدیث سے رات میں سونے سے پہلے آیہ الکرسی پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوئی ۔ یہاں یہ واضح رہے کہ تین بار پڑھنے کی قید نہیں ہے کیونکہ اس کا ذکر حدیث رسول میں نہیں ۔

    (5)لکھا ہے "اگر فرض نماز کے بعد پڑھوگے تو مرنے کے بعد آپ کا ایک پیر زمین پر اور دوسرا جنت میں ہوگا
    مذکورہ بالا قول بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ، اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنے والا گنہگار ہوگا۔
    البتہ فرض نمازوں کے بعد آیہ الکرسی پڑھنے کے متعلق یہ روایت آئی ہے ۔
    عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ.
    (عمل الیوم واللیلۃ للنسائی:100)
    ترجمہ : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :جوشخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اسے جنت میں داخلے سےسوائے موت کے کوئی چیز نہیں روکتی۔
    اس حدیث کو بعض اہل علم نے ضعیف اور بعض نے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسی معنی کی یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ میں درج کیا ہے اور اسے مجموعی طرق کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے ۔ روایت دیکھیں:
    "من قرأ آيةَ الكُرسيِّ في دُبُرِ كلِّ صلاةٍ لم يحُلْ بينه وبين دخولِ الجنَّةِ إلَّا الموتُ"۔

    ٭ایک بات ذہن نشیں رہے کہ آیہ الکرسی جہاں قرآن کی آیت ہے وہیں صحیح احادیث سے بھی اس کی بڑی فضیلت ثابت ہے ، اس لئے کوئی جتنی بار اور جب چاہے پڑھ سکتا ہے مگر پڑھنے کے اوقات اور عدد کو اپنی طرف سے خاص کرنا جو حدیث رسول ﷺ سے ثابت نہیں قطعا جائز نہیں۔

    اللہ تعالی ہمیں سنت کی پیروی کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین

    20150825071336.jpg
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 11، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. ‏جنوری 29، 2019 #5
    طارق راحیل

    طارق راحیل مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2011
    پیغامات:
    390
    موصول شکریہ جات:
    692
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    "إذا أويتَ إلى فراشِكَ فاقرأ آيةَ الكرسي ، فإنه لن يزالَ معكَ من اللّه تعالى حافظ ، ولا يقربَك شيطانٌ حتى تُصْبِحَ"(بخاری)

    اس حدیث کا نمبر درکار ہے
     
  6. ‏جنوری 29، 2019 #6
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    730
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    @مقبول احمد سلفی
    السلام علیکم
    جب اس کے پڑھنے والے کے قریب شیطان نہیں آسکتا تو شیطان خود کیسے پڑھ کے سکھا سکتا ہے اورکیا شیطان کو قران کریم کی سورتوں کے فضائل کا علم ہے ۔
    پھر شیطان کا انسانی شکل میں آکر چیزیں چوری کرنا جب کہ وہ تو جنوں کی نسل سے ہے غائب رہ کر بھی کر سکتا تھا؟
    برائے مہربانی ان اشکالات کو دور فرمائیں۔
     
  7. ‏جنوری 29، 2019 #7
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,246
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    لنک پہ کلک کریں ، آپ براہ راست صحیح بخاری کی اس روایت پہ چلے جائیں گے ۔
     
  8. ‏جنوری 29، 2019 #8
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,246
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ہم مومن کے ایمان کا تقاضہ ہے کہ اگر کوئی بات وحی الہی سے معلوم ہوجائے تو بلاتردد اس پر ایمان لانا ہے ، قیل وقال اور چوں چرا ہرگز نہیں کرنا ہے ۔ آپ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ معراج کی تصدیق کرنا نہیں سنامحض اس وجہ سے کہ محمد ﷺ جو کچھ بتائے وہ جھوٹ نہیں ہوسکتا اور آپ کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ہے۔
    اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ جنات لطیف جسم والی مخلوق ہے ، اس میں نیک و بد دونوں ہیں یعنی ایسے بھی جنات ہیں جو دین کا علم رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو دین سے غافل ہیں ،شرارت کرتے ہیں اور اللہ کی عبادت سے غافل ہیں ۔ اللہ نے جنات کو بھی اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ، نبی ﷺ پر جنوں کی ایک جماعت کا ایمان لانا قرآن میں مذکور ہے اس وجہ سے جنات میں بھی ایسے ہیں جو دین کا علم رکھتے ہیں، شیطان بھی جنوں میں سے ہی ہے ، شرارتی جنات کو اپنے متعلق تو ضرور معلوم ہوگا کہ کون سے آیت پڑھنے یا دعا کرنے سے اللہ انسان کی حفاظت کرتا ہے اور شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس نے اپنے علم وتجربہ کی بات کی اور رسول اللہ ﷺ نے شیطان کی بات صحیح ہونے کی تصدیق کردی تو اس پہ مہرنبوت لگ گئی ۔ اب اس میں ترددکا کوئی پہلو ہی نہیں رہ جاتا۔
    جہاں تک انسانی شکل میں شیطان کے ظاہر ہونے کی بات ہے تو پہلے بتا چکا ہوں کہ شیطان لطیف جسم والی ہے ،جب کبھی انسانوں کے پاس آتا ہے عموما کوئی نہ کوئی شکل اختیار کرتا ہے ، اس بات کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان میری شکل نہیں اختیار کرسکتا۔ نبی ﷺ کی شکل چھوڑ کے باقی تمام انسانوں کی شکل اختیار کرسکتا ہے حتی کہ حیوان وغیرہ کا بھی ۔ اس وجہ سےکوئی ایک انسانی شکل میں حاضر ہوا جیسے کہ وہ کوئی نہ شکل اختیار کرکے لوگوں کے پاس جاتا ہے۔
    اس سے متعلق میرا مضمون بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 29، 2019
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں