1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت تطہیر اور اہل تشیع [انتظامیہ]

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از بہرام, ‏جون 25، 2013۔

  1. ‏جون 25، 2013 #1
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    آیت تطہیر میں ازواج البنی بھی شامل ہیں یہ آپ کے اماموں کا قول ہے آئیں دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیت تطہیر کی عملی تفسیر کرکے کیا بتانا چاہتے ہیں

    نزلَت هذِهِ الآيةُ على النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا في بيتِ أمِّ سلَمةَ، فدعا النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ فاطمَةَ وحَسنًا وحُسَيْنًا فجلَّلَهُم بِكِساءٍ وعليٌّ خَلفَ ظَهْرِهِ فجلَّلَهُ بِكِساءٍ ثمَّ قالَ: اللَّهمَّ هؤلاءِ أَهْلُ بيتي فأذهِب عنهمُ الرِّجسَ وطَهِّرهم تطهيرًا قالَت أمُّ سلمةَ: وأَنا معَهُم يا رسولَ اللَّهِ؟ قالَ: أنتِ على مَكانِكِ وأنتِ إلي خَيرٍ
    الراوي: عمر بن أبي سلمة المحدث:الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 3787
    خلاصة حكم المحدث: صحيح


    ترجمہ از ڈاکٹر طاہر القادری

    ''حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت ''اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔'' نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اﷲ علیہم کو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔''


    إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
    اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔''
    قرآن مجید کی یہ آیت آیت تطہیر کہلاتی ہے اس کی عملی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر میں سیدہ فاطمہ علیہا السلام حسنین کریمین علیہ السلام اور مولا علی علیہ السلام کو لے کر فرمایا " اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں " پھر آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی اس پر ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے درخواست کی کہ مجھے بھی اس آیت تطہیر کی تفسیر میں شامل کرلیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہیں رہو تم خیر پر ہو یعنی آیت تطہیر کی جو تفسیر رسول اللہ نے بیان فرمائی اس میں ازواج کو ان کی درخواست پر بھی شامل نہیں کیا
    کیا اب بھی حدیث رسول کے مقابلے پر قول امام کو ترجیح دی جائے گی جس کا طنہ آپ لوگوں کو دیتے ہیں ؟

    اس مضمون کی تائید آیت مباہلہ کی تفسیر سے بھی ہوتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عملی طور سےخود فرمائی ہے

    پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آ چکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں
    آل عمران : 61
    ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )

    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمارہا کہ آپ ان عیسائیوں کو مباہلہ کا چلنج دیں اور اس طرح کہ ہم اپنے بیٹے اور تم اپنے بیٹے ہم اپنی عورتیں اور تم اپنی عورتیں اور ہم اپنی جانیں اور تم اپنی جانیں لےکر آؤ اور مباہلہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے حکم پر کس طرح عمل کیا اور اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر فرمائی وہ اس حدیث صحیح سے معلوم ہوگا

    لما أنزل اللهُ هذه الآيةُ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ الآية دعا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ عليًّا وفاطمةَ وحسَنًا وحُسينًا ، فقالَ : اللَّهمَّ هؤلاءِ أَهلي
    الراوي: سعد بن أبي وقاص المحدث:الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 2999
    خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

    ترجمہ از ڈاکٹر طاہرالقادری

    ''حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی : ''آپ فرما دیں کہ آ جاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے آپ کو بھی اور تمہیں بھی (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں۔'' تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا، پھر فرمایا : یا اﷲ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔''
     
  2. ‏جون 25، 2013 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بالا پوسٹ درج ذیل دھاگے سے غیر متعلق ہونے کی بنا پر منتقل کی گئی ہے:
    کیا محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تکفیری تھے ؟؟؟؟

    بہرام صاحب،
    یہ بتا دیجئے کہ آپ کو اہل بیت سے ازواج مطہرات کو خارج کرنے کی کوئی قرآنی دلیل بھی میسر ہے ؟ اگر ہے تو پیش کیجئے تاکہ ہم قرآنی آیات پر بات ختم کر کے آپ کی پیش کردہ احادیث پر بات شروع کریں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 25، 2013 #3
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ اپنے اس اقتباس کے ساتھ اس کو منتقل کرتے کیونکہ اگر جواب غیر متعلق ہے تو سوال تو اولا غیر متعلق ہوا اقتباس میں پیش کردیتا ہوں
    یاد رہے ہم آیت تطہیر کی تفسیر پر بات کررہے ہیں اگر بات اس آیت کی تفسیر تک محدود رہے تو بہتر رہے گا ورنہ آپ میرے جوابات کو غیر متعلق قرار دے کر کسی اور دھاگہ میں منتقل فرمادیں گے اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آپ آیت تطہیر کی وہ تفسیر مانو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے یا عمل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے اماموں کے قول کو ترجیح دیں گے
    کہ جس بات کا طنہ آپ مقلدوں کو دیتے ہیں
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 25، 2013 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اس اقتباس کا موجودہ دھاگے سے تعلق نہیں۔ لہٰذا آپ کی بالا پوسٹ اور میری یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جائیں گی۔ آپ اس سوال کا جواب دیجئے جو اوپر پوسٹ میں آپ سے پوچھا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ مجھ سے کوئی ایک سوال کر سکتے ہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 23، 2018 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ازواج مطہرات کو اہل بیت کہا گیا ہے
    سورۃ الاحزاب کی ان آیات کو غور سے پڑھیں :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا (32)
    اے نبی کی ازواج !تم اور عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم ڈر رکھو سو (تم مردوں) سے دب کر نہ بولو کہ جس کے دل میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ (کہیں) لالچ کرے اور معقول بات کہو "

    وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا آیۃ33
    اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو (اپنا بناؤ سنگار) دکھاتی نہ پھرو جیسے زمانہ جاہلیت میں دکھاتے پھرنے کا دستور تھا ۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو ۔ اے گھروالو اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوف صاف کرے " 33

    وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا 34آیۃ
    اور اللہ کی آیتوں اور حکمت میں سے جو کچھ تمہارے گھروں میں سے پڑھا جاتا ہے اسے یاد کرو بےشک اللہ بھید جاننے والا خبردار ہے "
    ــــــــــــــــــــــــ
    ان واضح آیات کے باوجود جو ازواج مطہرات کو اہل بیت سے نہیں مانتا ،وہ یقیناً قرآن کا مخالف ہے ،
     
  6. ‏جون 23، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اہل بیت سے کون مراد ہیں اور ان کے حقوق


    اہلِ بیت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ آل و اولاد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے، ان میں سیدناعلی کی اولاد، سیدنا جعفر کی اولاد، سیدناعقیل کی اولاد، سیدناعباس کی اولاد، بنو حارث بن عبدالمطلب اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات اور بنات طاہرات رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    ﴿ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)
    (اے(پیغمبر کے) اہلِ بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے)

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس ضمن میں لکھتے ہیں:

    ’’قرآن مجید میں جو تدبر کرے گا اس کو کبھی بھی اس بات میں شک نہیں ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات بھی مذکورہ آیتِ کریمہ کے ضمن میں داخل ہیں ۔ اس لئے کہ سیاق کلام انہی کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے فوراً بعد فرمایا:

    ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ (الاحزاب:34)

    (اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں یعنی حدیث) ان کو یاد رکھو)

    آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے گھروں میں کتاب و سنت میں سے جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے اس پر عمل کرو، سیدنا قتادہ رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اس نعمت کو یاد کرو جو اور لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے خاص کی گئی ہے۔ یعنی وحی تمہارے گھروں میں نازل ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو اس نعمت سے مالا مال تھیں اور اس عمومی رحمت میں آپ کو خاص مقام عطاء ہوا تھاکیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑ کر کسی کے بستر پر وحی نازل نہیں ہوئی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا بعض علماء کا کہنا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ خصوصیت اس لئے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سوا کسی بھی کنواری سے شادی نہیں کی، اور آپ کے سوا ان کے بستر پر کبھی کوئی دوسرا مرد نہیں سویا۔(یعنی دوسرے سے شادی ہی نہیں کی)۔

    لہٰذا مناسب تھا کہ اس خصوصیت ورتبۂ عالیہ سے آپ نوازی جاتیں اور جب آپ کی ازواج ِ مطہرات اہلِ بیت میں داخل ہیں تو آپ کے اقارب و اعزا ء بدرجۂ اولیٰ اس میں داخل ہیں اور وہ اس نام کے زیادہ مستحق ہیں‘‘([1])۔

    لہٰذا اہل سنت و الجماعت اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں ، اور ان کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وصیت کو اپنے سامنے رکھتے ہیں جسے آپ نے غدیر خم (ایک جگہ کا نام ہے) کے موقع پر فرمایا تھا:

    ’’أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي‘‘([2])

    (میرے اہل بیت کے (حقوق کا خیال رکھنے کے) سلسلے میں ،تمہیں میں اللہ تعالی (کے تقویٰ) کو یاد رکھنے کی وصیت کرتا ہوں)۔

    اہل سنت و الجماعت ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تکریم و تعظیم کرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی علامت ہے۔ اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ سنت کی اتباع پر قائم ہوں، جیسے کہ ان کے سلف صالح سیدنا عباس اور ان کی اولاد، سیدنا علی اور ان کی آل اولاد رضی اللہ عنہم کا حال تھا، اور ان میں سے جو سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہوں اور دین پر قائم نہ ہوں، پھر ان سے عقیدت و دوستی جائز نہ ہوگی، چاہے اہل بیت (سید) میں سے ہوں۔

    اہل بیت کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کا مؤقف بہت ہی اعتدال و انصاف پر مبنی ہے اہل بیت میں سے جو دین و ایمان پر قائم ہیں ان سے گہری محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور ان میں سے جو سنت کے مخالف اور دین سے منحرف ہوں ان سے دور رہتے ہیں، چاہے وہ نسبی طور پر اہل بیت میں داخل کیوں نہ ہوں۔ اس لئے کہ اہل بیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی ہونے سے کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم نہ ہوں۔ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

    ﴿وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ﴾ (الشعراء:214)

    (اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دیں)

    تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا:

    ’’فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِينِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا‘‘([3])

    (اے قریش!(یا اس جیسا کوئی لفظ) اپنے آپ کو خرید لو(یعنی نیک اعمال کرکے جنت حاصل کرلو اور جہنم سے بچ جاؤ)، اللہ تعالیٰ کے سامنے میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو لیکن اللہ کے سامنے میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا)۔

    ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں:

    ’’مَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ‘‘([4])

    (جس کا عمل اسے پیچھے چھوڑ جائے اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا)۔

    اہل سنت والجماعت رافضی شیعوں کے غلط عقیدہ سے پاک ہیں، جو بعض اہل بیت کے سلسلے میں غلو سے کام لیتے ہوئے ان کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں، اسی طرح نواصب کے گمراہ کن طریقوں سے بھی پاک ہیں، جو اصحابِ استقامت اہل بیت سے بھی بغض ودشمنی رکھتے ہیں انہیں لعن طعن کرتے ہیں ۔الحمدللہ اہل سنت والجماعت ان بدعتیوں اور خرافیوں کی گمراہی سے بھی پاک ہیں جو اہل بیت کو وسیلہ بناتے ہیں اور اللہ کے سوا ان کو اپنا رب والہ مانتے ہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت و الجماعت اس بارے میں اور دیگر معاملات میں بھی منہجِ اعتدال اور صراطِ مستقیم پر قائم ہیں جن کے رویہ میں کوئی افراط و تفریط نہیں اور نہ ہی اہل بیت کے حق میں حق تلفی و غلو ہے۔ خود معتدل و دین پر قائم اہل بیت اپنے لئے غلو پسند نہیں کرتے ہیں، اور غلو کرنے والوں سے برأت وبیزاری کا اظہار کرتے ہیں، خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق غلو کرنے والوں کو آگ میں جلا دینے کا حکم ارشاد فرمایا تھا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے قتل کو جائز قرار دیا ہے، لیکن وہ آگ کے بجائے تلوار سے قتل کے قائل تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے غلو کرنے والوں کے سردار عبداللہ بن سبأ کو قتل کرنے کے لئے تلاش کروایا تھا لیکن وہ بھاگ گیا تھا اور کہیں چھپ گیا تھا‘‘([5])۔

    [1] دیکھیں تفسیر ابن کثیر میں ان آیات کی تفسیر۔

    [2] مسلم فضائل الصحابة (2408)، أحمد (4/367)، الدارمي فضائل القرآن (3316).

    [3]البخاري الوصايا (2602)، مسلم الإيمان (206)، النسائي الوصايا (3646)، أحمد (2/361)، الدارمي الرقاق (2732).

    [4]مسلم الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار (2699)، الترمذي القراءات (2945)، ابن ماجه المقدمة (225)، أحمد (2/252)، الدارمي المقدمة (344).

    [5] اہل بیت کے تفصیلی فضائل وحقوق کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی کتاب ’’اہل سنت والجماعت کے نزدیک اہل بیت کا مقام ومرتبہ‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں