1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

أحمد بن يحيى، البَلَاذُري ۔

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏نومبر 28، 2012۔

  1. ‏نومبر 28، 2012 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام بلاذری رحمہ اللہ بلاشک وشبہ ثقہ وثبت ہیں:

    امام صفدي رحمه الله (المتوفى764)نے کہا:
    وكان أحمد بن يحيى بن جابر عالماً فاضلاً شاعراً راوية نسّابة متقناً [الوافي بالوفيات 3/ 104]۔

    فائدہ:
    امام بلاذری رحمہ اللہ کو امام صفدی نے متقن کہا ہے اورامام ابن الصلاح فرماتے ہیں:
    الأولى : قال ( ابن أبي حاتم ) : إذا قيل للواحد إنه ( ثقة أو : متقن ) فهو ممن يحتج بحديثه ،[مقدمة ابن الصلاح ص: 61]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
    فاما الكبير فإنه احمد بن يحيى صاحب التاريخ المشهور من طبقة أبي داود السجستاني حافظ اخباري علامة[تذكرة الحفاظ للذهبي: 3/ 892]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ان کی مروایات کی تحسین کی ہے مثلا ایک جگہ کہا:

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    وروى البلاذري بإسناد لا بأس به أن حفص بن أبي العاص كان يحضر طعام عمر الحديث[الإصابة لابن حجر: 2/ 98]۔
    یادرہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہ مستدل روایت امام بلاذری کی کتاب أنساب الأشراف ہی میں ہے چنانچہ امام بلاذری نے کہا:
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ كَانَ يُحْضِرُ طَعَامَ عُمَرَ فَلا يَأْكُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ طَعَامِنَا؟ فَقَالَ: إِنَّ طَعَامَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[أنساب الأشراف للبلاذري: 10/ 318]۔

    اسی طرح امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی امام بلازری کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے صحیح قراردیا۔
    امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا أحمد بن يحيى ثنا محمد بن الصباح ثنا إسماعيل بن زكريا عن عثمان بن الأسود قال : جاء رجل إلى ابن عباس فقال : من أين جئت ؟ فقال : شربت من زمزم فقال له ابن عباس : أشربت منها كما ينبغي ؟ قال : و كيف ذاك يا أبا عباس ؟ قال : إذا شربت منها فاستقبل القبلة و اذكر اسم الله و تنفس ثلاثا و تضلع منها فإذا فرغت منها فاحمد الله فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آية بيننا و بين المنافقين انهم لا يتضلعون من زمزم هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه إن كان عثمان بن الأسود سمع من ابن عباس [المستدرك للحاكم: 1/ 645]۔

    اورکسی روای کی روایت کی تصحیح یا تحسین اس راوی کی توثیق ہوتی ہے۔

    امام ابن الملقن فرماتے ہیں:
    وَقَالَ غَيره: فِيهِ جَهَالَة، مَا رَوَى عَنهُ سُوَى ابْن خُنَيْس. وَجزم بِهَذَا الذَّهَبِيّ فِي «الْمُغنِي» فَقَالَ: لَا يعرف لَكِن صحّح الْحَاكِم حَدِيثه - كَمَا ترَى - وَكَذَا ابْن حبَان، وَهُوَ مُؤذن بمعرفته وثقته.[البدر المنير لابن الملقن: 4/ 269]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)فرماتے ہیں:
    الثقة: من وثَّقَه كثيرٌ ولم يُضعَّف. ودُونَه: من لم يُوثق ولا ضُعِّف. فإن حُرِّج حديثُ هذا في ((الصحيحين))، فهو مُوَثَّق بذلك، وإن صَحَّح له مثلُ الترمذيِّ وابنِ خزيمة فجيِّدُ أيضاً، وإن صَحَّحَ له كالدارقطنيِّ والحاكم، فأقلُّ أحوالهِ: حُسْنُ حديثه. [الموقظة في علم مصطلح الحديث للذهبي: ص: 17،]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    قلت صحح ابن خزيمة حديثه ومقتضاه أن يكون عنده من الثقات [تعجيل المنفعة ص: 248]۔



    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ امام بلاذری رحمہ اللہ ثقہ ہیں۔
     
  2. ‏دسمبر 31، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    رجوع:
    ہم نے بہت پہلے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے مقدمہ فتح الباری کے حوالہ بھی امام بلاذری رحمہ اللہ کی توثیق نقل کی تھی لیکن اس بات کو یزید سے متعلق اپنی ایک آنے والی کتاب میں درج کرتے وقت جب ہم نے اس کی نظرثانی کی تو معلوم ہوا کہ ابن حجررحمہ اللہ کی یہ اپنی بات نہیں ہے بلکہ یہ بات امام بلاذری رحمہ اللہ کے کلام کا حصہ ہے لہٰذا ہم نے اس حوالہ کو ختم کردیا اور اپنی آنے والی کتاب میں یہ توثیق شامل نہیں کی ہے ۔اللہ ہماری اس غلط فہمی کو معاف فرمائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں