1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

أرضِ شام سے پیغامات

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از بنتِ تسنيم, ‏دسمبر 03، 2018۔

  1. ‏دسمبر 03، 2018 #1
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    ارض شام سے پیغامات
    أستاذة ام عبدالله اور أستاذة ام إبراهيم - الريح المرسلۃ مہاجر كيمپ


    بسم اللہ والحمد للہ و الصلاۃ السلام علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

    ہم دونوں معلمّات ہیں اور الریح المرسلۃ مہاجر كيمپ میں دعوت کا کام کر رہی ہیں۔مہاجرین کے یہ کیمپ بیوہ خواتین چلا رہی ہیں۔اور الحمد للہ، ہم نے دین کی تعلیم کے لیے یہاں دورۂ اسلامی کا آغاز کیا ہے جس میں خواتین کو تعلیم القرآن، فقہ، عقیدہ کی تعلیم دی جا رہی ہے اور الحمد للہ، بہت اچھا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

    بفضل للہ، ہم نے ایک بہترین ٹیم تشکیل دے دی ہے جو کئی مہاجر کیمپوں میں دینی تعلیم کا آغاز کر چکی ہے۔اللہ پاک کے فضل سے ہم نئے دورہ جات کا اجراکر کے داعیات تیار کر رہے ہیں۔جو ہم تعلیم فراہم کر رہے ہیں شاید کہ وہ ہماری ضرورت کے مطابق ناکافی ہے لیکن ہم اپنی طاقت و استطاعت کے مطابق کوشاں ہیں۔یہاں ہم اس حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہیں ’’مجھ سے جو سنو آگے پہنچاؤ، چاہے قرآن کی آیت ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ہم اسی منہج پر کام کر رہے ہیں یعنی ایک آیت اور اس کا مفہوم سکھایا یا دو آیتیں پڑھ کر انہیں سکھایا۔اسی طریقے سے بفضل اللہ ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہاں کیمپوں میں ایسی خواتین بھی تھیں جو بالکل بھی پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھیں۔الحمد للہ، اب وہ نا صرف پڑھتی لکھتی ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی پڑھنا لکھنا سکھا رہی ہیں۔خصوصاً قرآن الحکیم کی تعلیم، جو ہماری مادری زبان میں ہے۔اب جب بھی قرآن پڑھتی ہیں تو بہت خوشی سے پڑھتی ہیں جب کہ پہلے صرف ’’بسم اللہ،الحمد للہ‘‘ جانتی تھیں۔اب جیسے ایک بہن قرآن مجید پڑھتی ہے تو اس کے معنی بھی سمجھ لیتی ہے۔جیسے فتح و نصرت من جانب اللہ ہے، نا کہ اس کے بندوں کی طرف سے، اور نہ اس کے بندوں کے ہاتھ میں ہے۔اب قرآنی آیات سے وہ سمجھنے لگی ہیں کہ بے گھر ہو کر مہاجر کیمپوں میں مقیم ہونے پر بھی اللہ ان کےساتھ ہے اور انہیں اللہ کی قربت کا احساس ہوتا ہے۔

    اگر سب بھائیوں کو ان مہاجر کیمپوں کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے تو اللہ کی قسم، ہر ماں داعی بن جائے گی چاہے انہیں صرف ایک حدیث ہی آتی ہو۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’(دوزخ کی) آگ سے بچو (صدقہ دے کر) گو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو‘‘۔

    بالکل اسی منہج پر ہم مہاجر کیمپ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگوں کی شدیدضروریات میں سے ایک ضرورت ہے۔اللہ کی قسم،حتٰی کہ بوڑھی خواتین بھی حصول علم کے لیے بہت محنت کر رہی ہیں۔ہمارے ساتھ ایک ۶۵ سالہ خاتون ہیں جنہوں نے قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا ہے اور الحمد للہ، اب تک ۲پارے حفظ کر چکی ہیں۔اور بھی ایسی بہت سی بہنیں ہیں جو ناخواندہ تھیں اور قرآن پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔اب قرآن سیکھنے کے لیے بہت محنت کر رہی ہیں ماشاء الله ۔
    الحمد للہ، ہمیں اس کام پر بہت اچھی پذیرائی مل رہی ہے لیکن ہمارےپاس داعی معلمات کی کمی ہے۔ہمیں اس کام کو مزید بڑھانا ہے۔یہاں اس مہاجر کیمپ میں بھی بہت اچھے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔اس وقت ہمارے پاس ایک سو نوجوان اورضعیف العمر طالبات زیرِ تعلیم ہیں جو حصول علم میں کوشاں ہیں اور خواہش کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل ہو۔ہم علم سکھا تو رہی ہیں لیکن درحقیقت ہمیں خودبھی مزید علم کی ضرورت ہے۔

    ہم انٹرنیٹ کے ذریعے علم سیکھتی ہیں، پھر یہاں آ کر وہ علم آگے پہنچاتی ہیں۔ داعیات دین کہاں ہیں؟ علماکہاں ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شام آ کر لوگوں کو علم سکھائیں؟

    سابقہ نظام حکومت کی وجہ سے ہمیں علمِ دین سے دور رکھا جاتا تھا۔اور اب ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔آئے روز بڑی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں۔ہم جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟ اگر ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ہی علم نہ ہو گا تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟

    مہاجر کیمپوں میں خواتین کو علم ِدین سے روشناس کروانا نہایت ضروری ہے۔کیونکہ پورے شام میں، مرد جنگوں میں شہید ہو رہے ہیں اور پیچھے اپنی زوجات اور بچے چھوڑ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خواتین، مردوں کی معاون ہیں۔
    ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ خواتین، فروغِ تعلیم میں اساسی کردار ادا کرتی ہیں۔کیونکہ بشار الأسد کے دور میں، علمی میدان عورتوں سے خالی رہا ہے۔بہت کم عورتیں تعلیم یافتہ رہی ہیں وہ بھی جو دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں۔لیکن، الحمد للہ، اگر یہ تعلیمی کاوشیں ان مہاجر کیمپوں میں جاری رہیں تو ان شاءاللہ العظيم، ہم لوگوں کو جہالت سے نکال لیں گے۔اور ہم مجاہدینِ حق کی جماعت تیار کر لیں گے اور ایسی مائیں بھی جو مجاہدین و مجاہداتِ حق کی تربیت کر سکیں گی۔
    یہاں بہت سی ایسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو مہاجرین میں بے حیائی اور برے اخلاق کی ترویج کے لیے فنڈز دیتی ہیں۔ہمیں ہر حال میں ان ہتھکنڈوں کو ناکام بنانا ہے۔یہ تنظیمیں اگرچہ زمینی یا فضائی حملے نہیں کرتیں لیکن ہمارے عقیدہ پر حملہ آور ضرور ہیں۔

    لیکن اگر ہم رسوخ فی العلم، درست منہج اور اسی طرح کے حل سے خود کو مضبوط بنا لیں اور علمائےحق ہمارا ساتھ دیں اور ہمیں عطیات بھی وصول ہوں تو یہ حملے ناکام ہو جائیں گے۔یہاں شام میں دعوت کا کام کرنے والوں کو بہت ہی کم حمایت حاصل ہے۔اگر ہم ان داعیان کی مدد کریں، ان کاساتھ دیں تو ان شاءاللہ، ہمارا مسلم معاشرہ صحت مندی سے پھلنے پھولنے لگے گا۔
    یہاں مغربی تنظیموں کے مرد و خواتین بہت بھاری تنخواہ اور عطیات کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔نفس تو مال کا حریص ہے۔مغربی تنظیمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خوب مال خرچ کرتی ہیں۔سو ایسی صورت حال میں کہاں ہیں اسلام اور اہلِ اسلام؟اسلام کی ترویج کے لیے مسلمانوں کو اپنا مال خرچ کرنا چاہیے اور دعوت کے کام کی پشت بانی کرنی چاہیے۔

    یہاں خواتین کے حوالے سے ہم بہت زیادہ مسائل دیکھ رہے ہیں۔بہت سی خواتین یہ کہتی ہیں کہ ’’اگر ہمیں کوئی مالی امداد ملے تو ہم علمی دروس میں شرکت کر سکتی ہیں‘‘۔آخر صرف مائیں ہی تو ذمہ دار نہیں ہیں۔مائیں پریشان ہیں کہ ’’ہمیں اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے‘‘۔ہم ان کی زیادہ نہیں تھوڑی سی بھی مدد کر دیں تاکہ وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لیے آئیں، جو بندۂ مومن کے لیے خوراک اور پانی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

    غیر ملکی تنظیموں نے مہاجر کیمپوں میں ’’شامی بچوں کی تعلیم و ہدایت‘‘ کے نام پر اپنی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔وہ لوگ تفریح کے نام پر بچوں کو اختلاط، موسیقی اور ناچ وغیرہ سکھا رہی ہیں۔یہاں پھر ہم کہتے ہیں کہ اسلام کہاں ہے؟ اور داعیان و داعیات اسلام کہاں ہیں؟

    اس معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیں علمائےکرام کے ایک مکمل تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔مہاجرین کیمپوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔تقريباً پورے شام کے لوگ اب مہاجر کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔اور ہمیں ان لوگوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے ہر کیمپ میں ایک مرکز کی ضرورت ہے۔لوگوں کو شرعی لباس پہننے کی طرف ترغیب دینی ہے۔بچوں کو حلال اور حرام کے بارے میں سمجھانا ہے اور اختلاط مردوزن سے بچنے کی تلقین کرنی ہے۔بچوں کے درمیان چوری چکاری اور گالم گلوچ جیسی عاداتِ بد بڑے پیمانے پر پھیل گئی ہیں۔اللہ المستعان

    شام کے لوگوں کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے ویسی امداد اور حمایت حاصل نہیں ہو رہی جیسا کہ حق ہے۔ہمیں آپ سے خوارک، پانی یا لباس نہیں چاہیے۔ہمیں آپ کی طرف سے عطیات اور معاونت کی ضرورت ہے۔ہم دنیا بھر کے علمائےکرام کو پیغام دیتے ہیں کہ ارض شام میں آج ہم جو کچھ بھی مشکلات جھیل رہے ہیں، کل ان حالات کا سامنا آپ سب کو بھی ہو گا۔

    پس، اہلِ شام کے معاملے میں اللہ سے ڈریں۔اور ہمارا پیغام سننے والے تمام لوگوں سے ہم مخاطب ہیں کہ ان جنگ زدہ علاقوں میں مسلمانوں کی مدد کیجیے، انہیں عطیات بھیجیے۔دیکھیے کیسے مغربی طاقتیں مل کر، لوگوں کے ذریعے اور مال کے ذریعے اسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔جیسے آپ پانی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔اللہ کی قسم، اہلِ شام کو خوارک اور پانی سے زیادہ علم ِ دین کی ضرورت ہے۔ہم اللہ سے امید کرتے ہیں اور آپ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ اہلِ شام کے ذریعے اللہ عزوجل آپ لوگوں کو فتح یاب کرے گا، جو آپ کی خاطر سب سے پہلے اٹھے اور اللہ کی راہ میں کھڑے ہوئے۔

    آپ لوگ اہلِ شام کے لیے خصوصاً مہاجرین کیمپوں میں صدقات خرچ کیجیے،جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دین سے دور اور علم سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

    اللہ کی قسم! جب آپ کویہ معلوم ہوتا ہے کہ ۴بچوں کی ماں بالکل اَن پڑھ ہے تو دل غم زدہ ہو جاتا ہے اور آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔آپ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرتے ہیں جب کہ شامی مہاجرین کو حصول علم کے لیے اور اپنے اللہ کے بارے میں جاننے کے لیے ایک قلم اور کاغذ درکار ہے حتی کہ جو بھی ذریعے میسر ہو۔داعیان الی اللہ، صحيح تعاون اور عطیات کے ضرورت مند ہیں۔جزاکم اللہ خیرا۔

    عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‌‌‌‏ مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۔سنن ابن ماجه ٢٧٦٢
    ’’ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا ‘‘۔


    نواۓ افغان جہاد رجب /شعبان ۱۴۳۹ھ مارچ/اپریل ۲۰۱۸
     
  2. ‏اپریل 09، 2019 #2
    zahra

    zahra مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 04، 2018
    پیغامات:
    144
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    nice sharing keep sharing really appreciated
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں