1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابدال کے متعلق روایات کا جائزہ

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏جولائی 01، 2016۔

Tags:
  1. ‏جولائی 15، 2016 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    یہ حدیث سنن ابی داود میں بھی ہے اور مزید تفصیل سے ہے اسلئے ہم وہاں سے ترجمہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں :
    امام ابو داود فرماتے ہیں :
    (حدثنا محمد بن المثنى حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن صالح أبي الخليل عن صاحب له
    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ [ص:108] بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ، وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا، فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ، وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الْأَرْضِ، فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ: «تِسْعَ سِنِينَ»، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «سَبْعَ سِنِينَ»

    (سنن ابی داود، 4286 ۔۔صحیح ابن حبان 6757 ، مسند إسحاق بن راهويه ۱۹۵۴ ۔ مسند الامام احمد 26689 ۔ مسند ابی یعلی 6940 )

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہو گا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا ، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے ، اسے یہ پسند نہ ہو گا ، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے ، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے ، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی ، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی ، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال قبیلہ بنی کلب میں ہو گا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا ، وہ اس پر غالب آئیں گے ، یہی کلب کا لشکر ہو گا ، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے ، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا ، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا (یعنی مستحکم ہوگا )، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا ، پھر وفات پا جائے گا ، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بعض نے ہشام سے ” نو سال “ کی روایت کی ہے اور بعض نے ” سات “ کی ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تخریج : علامہ حافظ زبیر علی زئی ؒ نے سنن ابی داود کی تخریج میں اسے دو علتوں کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے
    ایک ابو صالح جس سے روایت نقل کر رہا ہے وہ مجہول ہے ، اور دوسری علت یہ کہ ’’ قتادہ رحمہ اللہ ‘‘ مدلس ہیں اور یہاں انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی بلکہ ’’ عنعنہ ‘‘ سے نقل کیا ہے ،(سنن ابی داود معہ انگلش ترجمہ طبع دار السلام جلد چہارم صفحہ ۵۱۰ )

    اور علامہ ناصر الدین الالبانی ؒ نے ’’ سلسلہ احادیث ضعیفہ ‘‘ (رقم 1965 ) میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ، لکھتے ہیں :
    ( ورجاله كلهم ثقات غير صاحب أبي خليل، ولم يسم، فهو مجهول ) یعنی ویسے تو اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں ،سوائے ابو خلیل کے ساتھی کے ، جس کی تصریح نہیں کہ وہ کون ہے ،لہذا مجہول ہوا )
    اور دوسری علت انہوں نے یہ بتائی کہ اس کی اسناد میں قتادہ پر چار وجوہ سے اختلاف واقع ہے ،
    (ولكنهم قد اختلفوا في إسناده على قتادة على وجوه أربعة: ۔۔۔۔ ) آگے انہوں نے اس کی تفصیل بتائی ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور مسند احمد کی تخریج میں علامہ شعیب الارناؤط نے اس حدیث کو دو وجہ سے ضعیف کہا ہے ،
    ( حديث ضعيف لإبهام صاحب أبي خليل، ولاضطراب قتادة فيه )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 15، 2016 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بقیہ احادیث پر وقت ملتے ہی عرض کرتا ہوں ۔۔ان شاء اللہ تعالی
     
  3. ‏جولائی 15، 2016 #13
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جزاک اللہ خیراً شیخ محترم

    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  4. ‏جولائی 15، 2016 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ وہی روایت ہے جو سنن ابی داود اور مسند احمد کے حوالے سے گزری ،اور اسکی اسنادی حالت میں نے بتادی ہے،
    البتہ یہاں چونکہ یہ علامہ حافظ ابن قیم ؒ کی کتاب " المنار المنیف " کے حوالے سے ہے ، اور مصنف نے اس کو
    " حسن " بھی کہا ہے ، تواتنی گذارش ضروری ہے کہ :
    جس طریق سے انہوں یہ روایت نقل کی ہے وہ وہی " مبہم راوی " کے حوالے سے ہی ہے ،وہ لکھتے ہیں :
    وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَبِي الْخَلِيلِ الضَّبْعِيِّ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:۔۔۔۔۔
    اور اس ابہام کی وضاحت کیلئے انہوں نے جو طریق نقل فرمایا ہے وہ یہ ہے :
    (عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ۔۔۔۔۔۔ )
    اور یہ طریق مکمل یوں ہے :
    عمران بن داور عن قتادة عن أبي الخليل عن عبد الله بن
    الحارث بن نوفل عن أم سلمة ‘‘
    اور یہ عمران بن داور ابو العوام ضعیف ہے ،امام ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :
    ضعفه النسائي ، وقال أحمد: أرجو أن يكون صالح الحديث ،وقال أبو داود: ضعيف ،
    ابن عدي: هو ممن يكتب حديثه. ،وقال يزيد بن زريع: كان حروريا يرى السيف.وروى عباس، عن يحيى: ليس بشئ.

    اسلئے علامہ ابن قیم ؒ کا اس حدیث کی تحسین کرنا صحیح نہیں ،یہ ضعیف ہے ،
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 15، 2016 #15
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نقباء، نجباء، ابدال، اخیار، قطب اور غوث

    محمد بن علی بن جعفر ابوبکر الکتانی الصوفی کہتے ہیں:
    النقباء ثلاث مأۃ، والنجباء سبعون، والبدلاء أربعون، والأخیار سبعة، والعمد أربعة، والغوث واحد.
    "نقباء تین سو ہیں، نجباء ستر ہیں، ابدال چالیس ہیں، اخیار سات ، قطب چار اور غوث ایک ہے۔"
    (تاریخ بغداد للخطیب: ۷۵/۳)

    موضوع (من گھڑت) : یہ جھوٹی کہانی ہے، اس کو گھڑنے والا شخص علی بن عبد اللہ بن الحسن بن جہضم الہمدانی ہے۔ اس کے بارے میں:
    ٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: متھم بوضع الحدیث."یہ حدیث گھڑنے کے ساتھ متہم ہے۔" (میزان الاعتدال للذھبی: ۱۴۲/۳)
    نیز فرماتے ہیں: لیس بثقة، بل متّھم، یأتی بمصائب."یہ ثقہ نہیں بلکہ متہم راوی ہے جو کہ جھوٹ بیان کرتا ہے۔" (سیر اعلام النبلاء للذھبی: ۲۷۶/۱۷)
    ٭ نیز یہ نہ قرآن ہے نہ حدیث، نہ قول صحابی ہے نہ قول تابعی۔
    ٭ یہ باطل و ضعیف قول آگے یوں ہے: فمسکن النقباء المغرب، و مسکن النجباء مصر، ومسکن الأبدال الشام، والأخیار سیّاحون فی الأرض، والعمد فی زوایا الأرض، ومسکن الغوث مکّة، فإذا عرضت الحاجة من أمر العامّة ابتھل الغوث، فلایتمّ مسألته حتّی تجاب دعوته."
    " نقباء کا مسکن مغرب، نجباء کا مصر، ابدال کا شام ہے۔ اخیار سیّاح (گھومنے پھرنے والے) ہوتے ہیں۔ قطب زمین کے گوشوں میں ہوتے ہیں۔ جب مخلوق کو عمومی مصیب آجائے تو دعا کے لیے نقباء ہاتھ پھیلاتے ہیں، اگر قبول نہ ہو تو نجباء، پھر اخیار، پھر قطب، اگر پھر بھی قبول نہ ہو تو غوث دُعا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے حتی کہ اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے۔ " (تاریخ بغداد للخطیب:۷۵/۳)
    ٭شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وکذا کلّ حدیث یروی عن النبی ّﷺ فی عدّۃ الأولیاء والأبدال والنقباء والنجباء والأوتاد والأقطاب، مثل أربعة أو سبعة أو اثنی عشر أو أربعین أوسبعین أو ثلاثمائة و ثلاثة عشر أو القطب الواحد، فلیس فی ذلک شیء صحیح عن النبی ﷺ، ولم ینطق السلف بشیء من ھذہ الألفاظ إلا بلفظ الأبدال.....
    "اسی طرح ہر وہ روایت جو نبی اکرم ﷺ سے اولیاء، ابدال، نقباء، نجباء، اوتاد اور اقطاب کی تعداد مثلا چار، سات، بارہ، چالیس، ستر، تین سو، تیرہ یا ایک قطب کے بارے میں بیان کی گئی ہے، ان میں سے کوئی بھی نبی اکرم ﷺ سے ثابت نہیں نہ ان الفاظ میں سے سلف نے کوئی لفظ بولا ہے، سوائے ابدال کے لفظ کے۔۔۔۔"
    (الفرقان بین الاولیاء الرحمن و اولیاء الشیطان لابن تیمیة: ۱۰۱)
    یہ تحریر درج ذیل لنک سے کاپی کی گئی ہے
    ضعیف اور موضوع احادیث
     
    Last edited: ‏جولائی 15، 2016
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 15، 2016 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    چالیس ابدال

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    خیار أمّتی فی کلّ قرن خمس مأۃ، والأبدال أربعون، فلا الخمسمأۃ مکانه، وأدخل من الأربعین مکانه۔۔۔۔۔۔
    "میری امت میں ہر زمانہ میں پانچ سو خیار (پسندیدہ لوگ) ہوں گے اور چالیس ابدال ۔ ان دونوں میں کمی نہ ہوگی۔ ان میں سے جو فوت ہوگا ، ان پانچ سو میں سے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے شخص کو ان چالیس میں داخل کردے گا۔۔۔"
    (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبھانی: ۸/۱ ، تاریخ ابن عساکر :۳۰۲/۱، ۳۰۳)

    ضعیف: یہ روایت کئی وجوہ سے باطل ہے جیسا کہ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ اس کے بارے میں لکھتے ہیں: موضوع، وفیه مجاھیل.
    "یہ من گھڑت روایت ہے۔ اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔" (الموضوعات لابن الجوزی : ۱۵۱/۳)
    اس روایت کے باطل ہونے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
    ۱:اس کا راوی سعید بن ابی زیدون کے حالات نہیں ملے۔
    ۲: عبد اللہ بن ہارون الصوری راوی کی توثیق نہیں مل سکی۔ اس کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :"یہ اوزاعی سے بیان کرتا ہے اور غیر معروف راوی ہے۔اس کی طرف سے ابدال کے اوصاف میں بیان کی گئی روایت جھوٹ ہے۔" (میزان الاعتدال للذہبی : 516/2)
    ۳: اس میں امام زہری رحمہ اللہ کی تدلیس موجود ہے۔ سماع کی تصریح نہیں ملی۔

    علماء کرام کی آراء:
    ٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: و لیس فی ھذہ الأحادیث شی ء صحیح. "
    یعنی ان احادیث میں سے کوئی بھی ثابت نہیں۔" (الموضوعات لابن الجوزی: ۱۵۲/۳)
    ٭شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تکلّم به بعض السلف، یروی فیه عن النبیّ ﷺ حدیث ضعیف. "اس بارے میں بعض پرانے بزرگوں نے بات کی ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہﷺ سے ایک غیر ثابت حدیث مروی ہے۔" (مجموع الفتاوی: ۳۹۴/۴)
    نیز فرماتے ہیں:
    "الأشبه أنّه لیس من کلام النبیّ ﷺ. "درست بات یہی ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا کلام نہیں ہے۔ " (مجموع الفتاوی: ۴۴۱/۱۱)
    ٭شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أحادیث الأبدال و الأقطاب و الأغواث والنقباء والنجباء والأوتاد کلّھما باطلة علی رسول اللہ ﷺ. "ابدال، اقطاب، اغواث، نقباء اور اوتاد کے بارے میں تمام کی تمام احادیث خود گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کے ذمے لگائی گئی ہیں۔" (المنار المنیف لابن القیم: ص ۱۳۶)


    لمحہ فکریہ :
    "حاجی کفایت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں: اعلیٰ حضرت (احمد رضا خان بریلوی) بنارس تشریف لے گئے۔ ایک دن دو پہر کو ایک جگہ دعوت تھی۔ میں ہمراہ تھا، واپسی میں تانگے والے سے فرمایا: اس طرف فلاں مندر کے سامنے سے ہوتے ہوئے چل۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اعلیٰ حضرت بنارس کب تشریف لائے اور کیسے یہاں کی گلیوں سے واقف ہوئے اور اس مندر کا نام کب سنا؟ اس حیرت میں تھا کہ تانگہ مندر کے سامنے پہنچا، دیکھا کہ ایک سادھو مندر سے نکلا اور تانگہ کی طرف دوڑا۔ آپ نے تانگہ رُکوا دیا۔ اس نے اعلیٰ حضرت کو ادب سے سلام کیا اور کان میں کچھ باتیں ہوئیں جو میری سمجھ سے باہر تھیں، پھر وہ سادھو مندر میں چلا گیا، ادھر تانگہ بھی چل پڑا، تب میں نے عرض کی: حضور! یہ کون تھا؟ ابدالِ وقت۔ عرض کی: مندر میں؟ فرمایا: آم کھائیے، پتے نہ گنیے۔"
    (اعلیٰ حضرت، اعلی سیرت از محمد رضا الحسن قادری بریلوی: ص۱۳۴)
    منقول
     
    Last edited: ‏جولائی 15، 2016
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 16، 2016 #17
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترم اسحاق سلفی بھائی
    اگر یہ موضوع باقی ہے تو جاری رکھیے۔ اور اگر پورا ہو چکا ہے تو اس روایت کی وضاحت بھی فرما دیجیے:

     
  8. ‏جولائی 16، 2016 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس میں ’ عبد اللہ بن صفوان ‘ راوی کون ہیں ؟
    فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل میں اس کو ’ عبد اللہ بن صفوان بن عبد اللہ ‘ بھی کہا گیا ہے ، یہ کون راوی ہیں ؟
     
  9. ‏جولائی 16، 2016 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    زہری کے شیوخ میں ہیں عبد اللہ بن صفوان بن امیہ القرشی۔ ان کی صحابیت میں اختلاف ہے۔ ابن اثیر نے اسد الغابه اور ابن حجر نے الاصابہ میں انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے اور ابن حجرؒ نے ابن حبان کا ان کے بارے میں صحبت کا قول بھی تہذیب میں ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہ ابن حبان نے ان کا تابعین ثقات میں بھی ذکر کیا ہے۔ ذہبیؒ نے ان کی صحابیت کا انکار کیا ہے۔
    ذہبی نے انہیں اشراف قریش اور سید اہل مکۃ فی زمانہ لحلمہ و سخائہ و عقلہ کے نام سے ذکر کیا ہے۔
    ان کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رض کے ساتھ شہید کیا گیا۔

    زہری سے یہ روایت دو طرح مروی ہے۔ عن عبد اللہ بن صفوان اور عن صفوان بن عبد اللہ۔ موخر الذکر روایت عبد اللہ بن مبارکؒ سے ابن نعیم نے الفتن میں روایت كی ہے۔ صفوان بن عبد اللہ الاکبر مذکور عبد اللہ بن صفوان بن امیہ کے بیٹے ہیں اور مسلم کے راوی ہیں۔
    ابن شہابؒ تدلیس میں مشہور ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ انہوں نے عن صفوان عن عبد اللہ کی سند سے روایت سنی ہو اور چونکہ ان کی تدلیس کے بارے میں ائمہ کے قبول کرنے کا ذکر ہے اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے دونوں سے الگ الگ سنی ہو۔
    اگر کتاب الجہاد لابن المبارکؒ کی ابن المبارکؒ کی جانب نسبت اور ان تک سند درست ہے تو اس میں اخبرنی صفوان بن عبد اللہ کا ذکر ہے۔ یہ پہلے احتمال کو ترجیح دیتا ہے اور یہی راجح معلوم ہوتا ہے۔

    فضائل کی روایت میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے نام کے ذکر میں تھوڑی غلطی ہو گئی ہے۔ ابن حجرؒ نے المطالب العالیہ میں اسحاق سے عن صفوان بن عبد اللہ او عبد اللہ بن صفوان کی سند سے یہ روایت ذکر کی ہے۔
    و اللہ اعلم
     
  10. ‏جولائی 16، 2016 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل (2/ 905)
    1726 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ صِفِّينَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَهْلَ الشَّامِ فَقَالَ: عَلِيٌّ «لَا تَسُبَّ أَهْلَ الشَّامِ جَمًّا غَفِيرًا فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ، فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ، فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ» .

    یہاں عبد اللہ بن صفوان کے ساتھ عبد اللہ بن صفوان بن عبد اللہ کا اضافہ اس بات کی نفی کرتا ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن صفوان بن امیہ ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں