1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابن ابی دائود کے ایک قول کی وضاحت

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از رحمانی, ‏اکتوبر 23، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 23، 2015 #1
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    امام ابودائود علیہ الرحمہ(متوفی 275ہجری)علم حدیث کے شہرہ آفاق اورمتفق علیہ امام ہیں ان کی تالیف کردہ سنن کو کتب احادیث میں بنیادی مقام حاصل ہے،امام ابودائود کو اللہ پاک نے قوی حافظہ،فقاہت نفس ،معتدل مزاجی سے نوازاتھا،جس کی جھلک ان کی تالیف کردہ "سنن "میں بھی ملتی ہے۔

    ان کے ایک بیٹے ہیں،عبداللہ،جن کی کنیت ابوبکر ہے،ان کی پیدائش 230ہجری میں ہوئی،قاعدہ ہے کہ انسان جس فن میں ماہر ہوتاہے اس کی طبعی خواہش ہوتی ہےکہ اپنے بیٹے کوبھی اس کا ماہر بنائے، امام ابودائود اپنے بیٹے عبداللہ کو کم سنی سے ہی محدثین کے پاس لےجایاکرتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے عظیم محدثین سے ابتدائے عمر میں روایت کی اورآخر عمر میں حال یہ ہوگیاکہ علو سند میں ان کا کوئی ہمسر باقی نہیں رہا، جس کی وجہ سے روات حدیث کے جم غفیر نے ان کی طرف رجوع کیا،اس میں کوئی شک نہیں جیساکہ کتب تراجم وطبقات میں مذکور ہے کہ ان کا حافظ قوی تھا،ہزاروں حدیثیں زبان کی نوک پر تھیں،ان کے شاگردوں میں ابن عدی اورامام طحاوی بھی شامل ہیں۔(سیراعلام النبلاء،لسان المیزان )

    عبداللہ کے اندر نہ اپنے والد کی طرح معتدل مزاجی تھی اورنہ ہی انہیں اپنے والد کی طرح فقاہت کا مقام حاصل تھا،یہی وجہ ہےکہ ہم دیکھتےہیں کہ ان کی زندگی میں مختلف نشیب وفراز آتے ہیں، جس میں متعدد محدثین سے ان کی چپقلش ہوتی ہے، ایک زمانہ ایسابھی آتاہے جب وہ ناصبی ہوتے ہیں،پھر ہدایت ملنے پر توبہ کرتےہیں اورحنبلی بن جاتے ہیں۔

    عبداللہ بن ابی دائود کے امام ابوحنیفہ کے سلسلے میں کہے گئے جملےپر کلام کرنے سے قبل میں چاہتاہوں کہ خود ان کی شخصیت پر جوالزامات ہیں ان پر بات کی جائے ،تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ امام ابوحنیفہ کی تضلیل کو اجماع واتفاق کہنے والی شخصیت بذات خود کتنی متنازعہ ہے۔

    کذب:
    ان کےوالد کا ان کے سلسلےمیں ریمارک ہے کہ وہ جھوٹے ہیں،(الکامل فی الضعفاء وسیراعلام النبلاء13/231 اس کی سند پر کلام کیاگیا لیکن ابن عدی اورحافظ ذہبی کے طرزعمل سے معلوم ہوتاہے کہ اس کی کچھ نہ کچھ حقیقت ضرورہے ورنہ اس کی تاویل وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ پڑتی ،نہ حافظ ذہبی کو یہ کہناپڑتا کہ جھوٹ سے مراد حدیث رسول میں جھوٹ نہیں ہے لہجہ کا جھوٹ ہے یاعام بات چیت میں جھوٹ ہے اورنہ ابن عدی کو یہ کہناپڑتاکہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے والد نے ان کو جھوٹاکیوں کہا۔پھریہ کہ مشہور محدث ابن صاعد نے بھی یہ بات کہی ہے کہ ان کے والد یعنی امام ابودائود نے اپنے بیٹے کےبارےمیں جوکہاہے (یعنی کذب بیان کی بات ،وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ابن عدی نے نے ہی نقل کیاہے کہ امام ابودائود فرماتے ہیں کہ مصیبت کی بات یہ ہے کہ میرابیٹاعہدہ قضاکاخواہاں ہے۔بات اتنی ہی حد تک محدود نہیں ہے ابراہیم اصبہانی نے بھی ان کو خداکی قسم کھاکر جھوٹاقراردیاہے۔

    ناصبیت:
    ابن عدی ہی کہتےہیں کہ ان کو ابتداء میں ناصبیت کی جانب منسوب کیاگیا،بات صرف منسوب کی حد تک نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک ایسی روایت بیان کی جس سے حضرت عائشہ کی اورحضرت علی رضی اللہ عنہماکی سخت توہین ہوتی ہے اورجس کی بناء پر یہ قتل ہوتے ہوتے بچے تھے،بعد میں جب انہوں نےحضرت علی کے فضائل بیان کرنے شروع کئے تب بھی امام ابن جریرطبری ان سے مطمئن نہیں ہوئے اوران کا کہنایہ تھاکہ یہ محض ڈھونگ ہے۔

    بیان میں بےاعتدالی:


    جوش وجذبہ میں اکثران سے بےاعتدالیاں ہوئی ہیں، مثلاروایت بیان کرتے کرتے ایسی روایت بیان کرناجس سے صحابہ کرام ،ام المومنین کی واضح توہین ہورہی ہو مگر محض علو سند کےشوق میں بیان کردینایہ اوراس قسم کی فروگذاشت ان کی زندگی میں نظرآتی ہے، جن میں سے ایک واقعہ تووہی ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ اورحضرت علی رضی اللہ عنھما کے بارے میں ایک سخت توہین والی روایت کی تھی،جس پرحافظ ذہبی نے ان کےبارے میں "خفیف الراس" کا ریمارک کیاہے،خفیف الرس کا عربی میں وہی مطلب ہے جو ہمارےیہاں "دماغ کا ہلکا"کاہے۔ اس کے علاوہ حدیث طیر جس کی صحت کےبارے میں محدثین میں اختلاف ہے،یہ صاحب فرماتےہیں:

    إن صح حديث الطير فنبوة النبي -صلى الله عليه وسلم- باطل، لأنه حكى عن حاجب النبي -صلى الله عليه وسلم- خيانة -يعني: أنسا- وحاجب النبي لا يكون خائنا (2) (سیراعلام النبلاء13/232)

    اس پرحافظ ذہبی نے سخت نکیر کی ہےاورکہاہے۔

    قلت: هذه عبارة رديئة، وكلام نحس، بل نبوة محمد -صلى الله عليه وسلم- حق قطعي، إن صح خبر الطير، وإن لم يصح، وما وجه الارتباط؟(المصدرالسابق)


    علم سے عاری ہونا:امام بغوی کا علیہ حدیث میں جو مقام ومرتبہ ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے وہ خداکی قسم کھاکر ابن ابی دائود کو علم سے عاری قراردیتے تھے۔ ابن عدی کی ہی روایت ہے۔
    ابن عدي: سمعت أبا القاسم البغوي، وقد كتب إليه أبو بكر بن أبي داود رقعة، يسأله عن لفظ حديث لجده، فلما قرأ رقعته، قال: أنت عندي والله منسلخ من العلم (المصدرالسابق)


    کثرت خطا:امام دارقطنی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں لیکن حدیث پر کلام کرنےمیں بہت غلطیاں کرتےہیں۔

    أبو عبد الرحمن السلمي: سألت الدارقطني عن ابن أبي داود، فقال: ثقة، كثير الخطأ في الكلام على الحديث (تذکرۃ الحفاظ 2/771)


    امام ابن جریرطبری پر ظلم وزیادتی:

    حافظ ابن جریر طبری کے سلسلےمیں ابن ابی دائود نے وہی کام کیاجو ذہلی نے امام بخاری کے سلسلے میں کیاتھا۔ امام جریر حدیث اورفقہ دونوں میں امام تھے، ان کی امامت مسلم تھی امام الائمہ ابن خزیمہ کا ان کےبارےمیں قول تھا میں ان سے زیادہ علم والا کسی اور کو نہیں جانتا،ذہلی کی طرح مسئلہ لفظ کو بہانہ بناکر ابن ابی دائود اوران کے شاگردوں اورہمنوائوں نے امام ابن جریر طبری کاناطقہ تنگ کردیا،

    قلت: وقد قام ابن أبي داود وأصحابه - وكانوا خلقا كثيرا - على ابن جرير ونسبوه إلى بدعة اللفظ فصنف الرجل معتقدا حسنا سمعناه تنصل فيه مما قيل عنه وتألم لذلك. [لسان المیزان 4/ص:494]


    امام ابن جریر طبری کوکس کس طرح پریشان کیاگیا اس سلسلےمیں کتب تراجم میں جوکچھ لکھاہے وہ نہایت عبرت آمیز ہے،حافظ ذہبی کایہ صاف صاف کہناہے کہ دونوں کے درمیان عداوت تھی یعنی ابن جریر طبری اور عبداللہ بن ابودائود،لیکن اس کے باوجود ابن جریر طبری کی بات محض زبان تک محدود تھی لیکن ابوبکر بن ابی دائود نے حنابلہ کی قوت وشوکت سے اس سلسلے میں پورافائدہ اٹھایا۔

    عبداللہ کی شخصیت صاف نہیں:

    یہ تمام باتیں جو ماقبل میں ذکر کی گئی ہیں اس سے یہ بات توواضح ہورہی ہے کہ امام ابوحنیفہ کی گمراہی کو متفق علیہ کہنے والے شخصیت خود غیرمتفق ہے اوران کی حرکات وسکنات پر اکابر محدثین کو اعتراض رہاہے لہذا جو لوگ بغیرسوچے سمجھے عبداللہ بن ابودائود کے اس جملہ کو اپنے گلے کاہار بنائے ہیں اوریہ ان کی ہرمحفل کا ترانہ ہے بالخصوص جہاں احناف یاامام ابوحنیفہ کے سلسلے میں کچھ کہناہوتو ذرا عبداللہ بن ابودائود کی شخصیت کو بھی دیکھیں۔

    کچھ اہم باتیں:


    میں جرح وتعدیل کے تعلق سے ایک بات واضح کرتاچلوں ،چوں کہ اکثر لوگ اس میں ٹھوکرکھاتے ہیں، ایک چیز ہے کسی محدث کا امام ابوحنیفہ کے تعلق سے کچھ کہنا اوراس محدث تک سند کا صحیح ہونا،دوسری بات ہے کہ اس قول کا بذات خود صحیح ہونا،دونوں میں بہت فرق ہے، یہ عین ممکن ہے کہ دوسری صدی ہجری یاتیسری صدی ہجری کا ایک شخص امام ابوحنیفہ کے بارے میں ایک بات کہے اوراس محدث تک وہ بات صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو،دوسری چیز ہے کہ اس محدث نے جو بات کہی ہے اس بات کا بذات خود درست ہونا.

    ہمارے وہ احباب جو رات دن عدم تقلید کی دعوت دیتے ہیں اورتقلید کو کفروشرک گردانتےہیں عموماًان سے ان دوچیزوں میں فرق میں چوک ہوجاتی ہے، وہ کسی محدث تک کسی بات کے سند کے صحیح ہونے کا لازمہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے جوکچھ کہاہے وہ بالکل درست ہےحالانکہ دونوں میں لزوم ضروری اورواجب نہیں ہے ۔حلقہ غیرمقلدین کے ذہبی العصر یعنی شیخ معلمی نے بھی یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے تنکیل کی ابتداء میں امام ابوحنیفہ کی مذمت میں وارد اقوال کی درستگی دس شرطوں کا ذکر کیاہے۔میں ان کی بیان کردہ کچھ شرطوں کا ذکرتاہوں۔


    (1) السادس: ظهور أن المراد في الكلام ظاهره.

    (2) السابع: ظهور أن الذامّ بنى ذمه على حجة لا نحو أن يبلغه إنسان أن فلاناً قال كذا أو فعل كذا فيحسبه صادقاً وهو كاذب أو غالط.

    (3) الثامن: ظهور أن الذام بنى ذمه على حجة لا على أمر حمله على وجه مذموم وإنما وقع على وجه سائغ.

    (4) التاسع: ظهور أنه لم يكن للمتكلم فيه عذر أو تأويل فيما أنكره الذام.(التنکیل1/187)


    عربی زبان سے ناواقف حضرات کیلئے ترجمہ کردیتاہوں،

    چھٹی شرط یہ ہے کہ کلام کا ظاہری معنی ہی مراد ہے دوسراکوئی اورمعنی مراد نہیں ہے یہ ثابت کیاجائے

    ساتویں شرط یہ ہے کہ مذمت کرنے والے نے مذمت کسی دلیل کی بنیاد پر کی ہو ایسانہ ہو کہ کسی نے کچھ کہہ دیاہواوراس کو کسی نے مذمت کی بنیاد بنالیاہو

    آٹھویں شرط یہ ہے کہ مذمت کرنے والے نے جس دلیل کو بنیاد بنایاہے وہ واقعتا مذمت کیلئے درست ہو ایسانہ ہو کہ اس سے دیگرمعانی اورمطالب کا بھی احتمال ہو۔

    نویں شرط یہ ہے کہ جس فعل اورقول کی مذمت کی جارہی ہو اس قول وفعل کے قائل وفاعل کے پاس کوئی عذر اورتاویل نہ ہو۔


    عبداللہ بن ابی دائود کی پیش کردہ روایت:

    حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن علي بن مخلد الوراق لفظا، قال: في كتابي عن أبي بكر مُحَمَّد بن عبد الله بن صالح الأبهري الفقيه المالكي، قال: سمعت أبا بكر بن أبي داود السجستاني، يوما وهو يقول لأصحابه: ما تقولون في مسألة اتفق عليها مالك وأصحابه، والشافعي وأصحابه، والأوزاعي وأصحابه، والحسن بن صالح وأصحابه، وسفيان الثوري وأصحابه، وأحمد بن حنبل وأصحابه؟ فقالوا له: يا أبا بكر، لا تكون مسألة أصح من هذه، فقال: هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة.(تاریخ بغداد،مترجم امام ابوحنیفہ)


    اس قول میں کئی باتیں سند اورمتن کے لحاظ سے محل نظر ہیں:

    نمبرایک :
    سندکے لحاظ سےیہ بات محل نظرہے کہ عبداللہ بن ابی دائود نے محض امام مالک،امام شافعی،امام سفیان ثوری،امام احمد بن حنبل اوردیگر کے متعلق ایک دعویٰ کیاہے کہ وہ لوگ امام ابوحنیفہ کو گمراہ سمجھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ عبداللہ بن ابودائود کی پیدائش 230ہجری میں ہوئی جب کہ اس تاریخ سے قبل امام مالک، امام شافعی،امام اوزاعی،امام سفیان ثوری،امام حسن بن صالح وغیرہ کی وفات ہوچکی تھی اورامام احمد بن حنبل سے بھی ان کا سماع ثابت نہیں ہے۔اب اس قول کے درست ہونے کی ایک ہی شکل ہے کہ اس کی سند پیش کی جائے۔

    نمبردو :

    حسن بن صالح اورامام شافعی سے امام ابوحنیفہ کی تضلیل کا قول منقول نہیں ہے بلکہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے ان سے امام ابوحنیفہ کی فقاہت،دینداری اورخداترسی کی تعریف منقول ہے۔

    نمبرتین:
    جن بعض حضرات سے امام ابوحنیفہ کے خلاف سخت کلمات منقول ہیں توکیاواقعتاًا ن کلمات سے جوظاہر معنی متبادر ہورہے ہیں وہی مراد ہیں یاپھر محض دل کی تنگی اورانقباض خاطر کی حالت میں ایک بات انہوں نے کہہ دی اوربس ،معلمی نے بھی تنکیل میں اس بات کو بیان کیاہے کہ بسااوقات عالم ایک سخت جملہ کہتاہے لیکن اس کا ظاہری معنی مراد نہیں لیتا ہے بلکہ محض اپنی بیزار ی کااظہار مقصود ہوتاہے ۔

    امام سفیان ثوری اورامام ابوحنیفہ کے درمیان معاصرت کافتنہ موجود تھا جس کا ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم وفضلہ اور سبکی نے طبقات الشافعیہ میں اعتراف کیاہے،لہذا امام سفیان ثوری کے جرح کی توکوئی وقعت نہیں جیساکہ خود ذہبی نے ابن ابی دائود کے ترجمہ میں لکھاہےکہ ابن صاعد اورابن جریرطبری کےعبداللہ بن ابودائود پر کی گئی جرح کا عداوت کی وجہ سے کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔امام مالک کے اقوال کے سلسلے میں مشہور مالکی محدث ابوجعفرالدائودی نے بڑی صفائی اورصراحت کے ساتھ کہاہےکہ ایساامام مالک نےاس وقت کہاہوگاجب ا ن کا دل کسی وجہ سے تنگ ہوگا اورعالم اس حالت میں کبھی ایسی بات کہہ دیتاہے جس سے وہ بعد میں توبہ کرلیتاہے جب کہ مشہور مالکی محدث اورفقیہ ابوالولید باجی اس سلسلے میں لکھتے ہیں میرے نزدیک اس طرح کی روایات غلط ہیں کیونکہ امام مالک جس علم ،عقل دینداری اورپرہیز گاری سے متصف تھے وہاں یہ ممکن نہیں کہ وہ اس طرح کی باتیں کسی کےحق میں کہیں، پھر آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اورامام محمد بن الحسن نے امام مالک سے استفادہ کیا ہے علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ کا علمی مقام اورزہد وتقویٰ کہ انہوں نے کوڑے کھائے لیکن قضاکاعہدہ قبول نہیں کیا توایسے شخص کے بارے میں امام مالک اس طرح کی بات کس طرح کہہ سکتے ہیں، آگے چل کر وہ ایک بڑی اہم بات لکھتے ہیں کہ امام مالک سے جوکچھ جرح منقول ہے وہ صرف حدیث کے روات تک محدود ہے،امام مالک نے اہل الرائے(فقہاء) میں سے کسی پربھی جرح نہیں کیاہے،پھر وہ مزید لکھتے ہیں کہ میں نے فرق الفقہاء میں امام مالک کے اس طرح کے اقوال کے اسباب اوروجوہات بیان کئے ہیں۔(المنتقیٰ شرح الموطا،7/299-300)اس سب سے اہم بات یہ ہے کہ امام مالک سے امام ابوحنیفہ کی بڑی وضاحت کے ساتھ تعریف منقول ہے کہ اگر وہ لکڑی کے ستون کو بھی سونے کا ثابت کرناچاہیں تو اپنےزوراستدلال سے لکڑی کے ستون کو سونے کا ستون ثابت کردیں گے۔

    دوسرے ابن عبدالبر نے ایک نہایت اہم بات ذکرکی ہےکہ امام مالک سے امام ابوحنیفہ کے مطاعن کے جتنے جملے ہیں اس کے نقل کرنے والے روات حدیث ہی ہیں، ورنہ امام مالک کے وہ شاگر د جو فقہ میں ان کے جانشیں ہیں انہوں نے امام مالک سے اس طرح کاکوئی جملہ نقل نہیں کیا۔

    وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ قَالَ فِي أَبِي حنيفَة نَحْو مَا ذكر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وروى ذَلِكَ كُلَّهُ عَنْ مَالِكٍ أَهْلُ الْحَدِيثِ وَأَمَّا اصحاب مَالك من أهل الرأى فَلَا يروون من ذَلِك شَيْئا عَنْ مَالِكٍ(الانتقاء ص151)

    پھرامام مالک کے جو اونچے درجہ کے فقہاء شاگرد ہیں جیسے قاسم،اشہب اوردیگرحضرات ان سے امام ابوحنیفہ کے خلاف کوئی جملہ منقول نہیں ،جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اما مالک اوران کے شاگردوں کی جانب علی الاطلاق تضلیل کا دعویٰ درست نہیں ہے۔

    ابن ابی دائود کا دعویٰ یہ ہے کہ مذکور اصحاب کے علاوہ ان کے شاگرد بھی ان کی تضلیل پر متفق تھے۔زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ اگرہم آج کے دور کے کسی عالم کےکسی موقف کے سلسلےمیں کہیں کہ یہی موقف ان کے شاگردوں کابھی ہے تواس سے کیاسمجھاجائے گایہی نہ کہ تمام شاگرد اس قول پر متفق ہیں اور یہی ابن ابی دائود کا بھی مقصود ہے جب ہی توابن ابی دائود نے یہ کہنے کی جرات کی ہے کہ كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة،اب جولوگ ابن ابی دائود کے قول کو سچ مانتے ہیں ان کی ذمہ داری ہےکہ وہ ان کے تمام شاگردوں سے اورکم ازکم تواکثرشاگردوں سے امام ابوحنیفہ کی تضلیل کی سند پیش کریں اوریہ ایسی بات ہے کہ چاہ کربھی غیرمقلدحضرات اس شرط کو پورانہیں کرسکتے کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

    پھرکچھ اورباتیں بھی ہیں جس سےیہ مقولہ ناقابل اعتبار ٹھہرتاہے۔
    اولا:
    بعض حضرات جیسے امام مالک ہیں،سفیان ثوری ہیں،امام اوزاعی ہیں،امام شافعی ہیں ان کے شاگردوں میں سے اچھی خاصی تعداد ان کی ہے جو ابن بی دائود کی پیدائش سے پہلے وفات پاچکے تھےیااگرعبداللہ بن ابودائودنے انکا زمانہ پایابھی توان سے سماع کا شرف حاصل نہیں ہوسکا۔

    ثانیا:
    واصحابہ سے پتہ چلتاکہ انہوں نے کن سے یہ بات سنی ہے،سبھوں سے یہ بات سنی ،اکثر سے سنی یامحض گنتی پوراکرنے کیلئے ہرایک کےذکرکردہ ناموں سے محض دوتین افراد سے یہ بات سنی ۔

    ثالثا:
    ابن ابی دائود نےجتنے نام ذکر کئے ہیں ان میں سے کسی کےبارے میں یہ بات نہ کسی نے کہی ہے اورنہ کہی جاسکتی ہے کہ فلاں امام یامحدث کے تمام شاگرد ثقہ ہیں،پھر ہمیں نہیں معلوم ہے کہ ابن ابی دائود نے جن سے یہ بات سنی وہ ثقہ تھے یاغیرثقہ تھے ،لہذا جب تک اس کا نہ پتاچلایاجائے کہ ابن ابی دائود نے امام ابوحنیفہ کی تضلیل والاقول کن اصحاب سے سنا اوروہ ثقہ تھے یاغیرثقہ تھے،اس روایت کو قول کے اعتبار سے معتبر مانناہی غلط ہے۔

    اس کی واضح مثال یہ ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی قیاس والی مشہور حدیث ہے، اس میں غیرمقلدین حضرات کا سارازور اس بات پر ہے کہ اناس من اصحاب معاذ بن جبل میں اصحاب معاذ بن جبل کی تعین نہیں ہوئی لہذا وہ مجہول ہوگئے اورپتہ نہیں کہ یہ اصحاب معاذ بن جبل ثقہ تھے یاغیرثقہ تھے۔

    صحابی جلیل کے شاگرد میں تو ثقہ اورغیرثقہ کی بحث ہوتی ہے لیکن ذکر کردہ ائمہ کے شاگردوں میں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ،ہوسکتاہے کہ بعض افراد کے خیال میں معاذ بن جبل کے شاگردوں سے ان ذکرکردہ ائمہ کےشاگردزیادہ محترم ہوں۔کہنے کا مطلب یہ ہےکہ جب اناس من اصحاب معاذ بن جبل میں یہ سب فنی بحثیں ہوسکتی ہیں اورہوتی ہیں توپھر یہاں ابن ابی دائود کے مقولہ میں تمام باتیں نظرانداز کیوں کردی جاتی ہیں محض اس لئے کہ امام ابوحنیفہ کے خلاف کچھ بھی کہاجائے سب درست !جب کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی ذکرکردہ حدیث کی تصحیح کئی ائمہ کرام نے کی ہے،جب کہ ابن ابی دائود کی روایت کی تصحیح آج تک کسی محدث نے نہیں کی تھی بس کسی کسی نے اپنی کتاب میں ذکر کردیاتھااورہمارے دور میں مقبل الوادعی نے اس روایت کی تصحیح کی ہے۔

    رابعا:
    امام دارقطنی نے ابن ابی دائود کو کثیر الخطاء علی الکلام فی الحدیث قراردیاہے،سوال یہ ہے کہ جب وہ احادیث پر کلام کرنے میں کثرت خطاکے مرتکب ہوسکتے ہیں توپھرامام ابوحنیفہ پر کلام کرتے ہوئے خطاکامرتکب ہوجاناان سے کون سی بعید بات ہے؟جب کہ یہ ظاہر ہےکہ انسان احادیث کے سلسلے میں جو اہتمام برقراررکھتاہےوہ افراد کے سلسلے میں نہیں رکھتا۔

    اس ناتمام بحث سے اتنی بات واضح ہوگئی کہ ابن ابی دائود نے جو دعویٰ کیاہے وہ درست نہیں ہے اور نہ ہی اپنے دعویٰ کو درست کرنے کیلئے ابن ابی دائود کے پاس دلیل تھی اورنہ ان کے پاس دلیل ہے جو اس قول کو درست مانتے ہیں۔ [/H1]
     
    Last edited: ‏اکتوبر 23، 2015
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں