1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابن جریج کا متعہ سے رجوع

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جولائی 21، 2017۔

  1. ‏جولائی 21، 2017 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,201
    موصول شکریہ جات:
    8,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کچھ منکرین حدیث اور شیعہ بخاری وغیرہ پر تنقید کرتے ہوئے ، یہ بات بہ کثرت دہراتے ہیں کہ محدثین نے ابن جریج (رحمہ اللہ ) سے روایت کی ہے ، جس نے ستر عورتوں سے متعہ کیا تھا ۔
    اس حوالے سے ایک گزارش تو یہ ہے کہ متعہ پہلے جائز تھا ، بعد میں اس کی حلت منسوخ ہوگئی ، لیکن پھر بھی کچھ صحابہ کرام اور تابعین اس کے جواز کے قائل رہے ( شاید انہیں حرمت کے دلائل نہ ملے ہوں یا ممکن ہے انہوں نے ان دلائل کو ناسخ نہ سمجھا ہو ) ، ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی جواز کے قائل رہے ، ابن عباس مکہ کے مفتی تھے ، جس کے سبب اہل مکہ میں جواز کی رائے رائج رہی ، ابن جریج بھی مکی ہیں ، وہ بھی اس کے جواز کے قائل تھے ، لیکن مستخرج ابی عوانہ وغیرہ میں ان سے رجوع کرنا ثابت ہے ، امام ابو عوانہ نے ان کی سند سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک میں صراحت کے ساتھ منقول ہے :
    قال ابن جريج يومئذ: اشهدوا أني قد رجعت عنها بعد ثمانية عشر حديثا أروي فيها, لا بأس بها.
    مستخرج أبي عوانة ط الجامعة الإسلامية (11/ 250)
    ابن جریج نے کہا ، سب گواہ ہو جاؤ ، حرمت کے سلسلے میں مجھے اٹھارہ روایات ملی ہیں ، میں اس بنا پر جواز والی رائے سے رجوع کر چکا ہوں ۔​
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 27، 2017 #2
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    السلام علیکم خضر بھائی یہاں تو عبدالوہاب بن عطا بیان کر رہا ہے، اور وہ مدلس ہے۔
     
  3. ‏جولائی 27، 2017 #3
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,202
    موصول شکریہ جات:
    345
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    رقم الحديث: 3261
    (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالا : ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : أنبا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ : " اسْتَمْتِعُوا بِهَذِهِ النِّسَاءِ " . قَالَ : فَجِئْتُ أَنَا وَابْنُ عَمِّي إِلَى امْرَأَةٍ بِبُرْدَيْنِ ، فَنَظَرَتْ فَإِذَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي خَيْرٌ مِنْ بُرْدِي ، وَإِذَا أَنَا أَشَبُّ مِنْهُ . قَالَتْ : بُرْدٌ كَبُرْدٍ . قَالَ : فَتَزَوَّجْتُهَا ، فَاسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا عَلَى ذَلِكَ الْبَرْدِ أَيَّامًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، قَامُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِ الْحَجَرِ وَالرُّكْنِ فَقَالَ : " أَلا إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ بِهَذِهِ الْمُتْعَةِ ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ كَانَ اسْتَمْتَعَ مِنَ امْرَأَةٍ ، فَلا يَرْجِعْ إِلَيْهَا ، وَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ أَجَلِهِ شَيْءٌ ، فَلا يَأْخُذْ مِنْهَا مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا " . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ يَوْمَئِذٍ : اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ رَجَعْتُ عَنْهَا بَعْدَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا أَرْوِي فِيهَا لا بَأْسَ بِهَا . حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَادَوَيْهِ الصَّنْعَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى أَبِي ، عَنْ رَبَاحٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : مَنْ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسْوَةِ عَلَى جِهَةِ النِّكَاحِ ، فَلْيُفَارِقْهُنَّ . لَمْ نَكْتُبْهُ لِمَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْهُ . حَدَّثَنَا الدَّبَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْجُنَيْدِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْسُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ . ح وَأَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِإِسْنَادِهِمْ بِحَدِيثِهِمْ فِيهِ .



    عبد الوهاب بن عطاء ( م ، 4 )

    الإمام الصدوق العابد المحدث ، أبو نصر البصري الخفاف ، مولى بني عجل ، سكن بغداد . [ ص: 452 ]

    وحدث عن حميد الطويل ، وسعيد الجريري ، وسليمان التيمي ، وابن عون ، وخالد الحذاء ، وثور بن يزيد ، وسعيد بن أبي عروبة ، فأكثر عنه ،ومحمد بن عمرو بن علقمة ، وأبي عمرو بن العلاء ، وروى عنه حرفه .

    حمل عنه القراءة أحمد بن جبير الأنطاكي ، وخلف بن هشام .

    وحدث عنه أحمد بن حنبل ، وعمرو الناقد ، والحسن بن محمد الزعفراني ، وعباس الدوري ، ويحيى بن جعفر ، والحارث بن أبي أسامة وخلق كثير .

    قال ابن سعد : كان كثير الحديث ، لزم ابن أبي عروبة ، وعرف بصحبته .

    وقال يحيى بن معين : ثقة . وكذا قال الدارقطني وغيره .

    وروي أنه كان عبدا صالحا بكاء .

    وقال البخاري : ليس بالقوي .

    وقال أحمد بن حنبل : كان عبد الوهاب يقرأ عند سعيد تصانيفه ، فكان عبد الله الأفطس يقول : حدثنا عبد الوهاب طرب طرب . قال : وكان يحيى بن سعيد القطان حسن الرأي فيه .

    وقال المروذي : قلت لأبي عبد الله : أعبد الوهاب ثقة ؟ قال : تدري [ ص: 453 ] ما تقول ؟ الثقة يحيى القطان ! .

    وروى الأثرم عن أحمد قال : كان عبد الوهاب عالما بسعيد .

    وقال يحيى بن جعفر : بلغنا أنه كان مستملي سعيد ، وكان أكثر الناس بكاء .

    وقال أبو حاتم : يكتب حديثه .

    وقال أبو زرعة : هو أصلح من علي بن عاصم روى عن ثور حديثين ليسا من حديثه .

    قلت : أحدهما في العباس : " اللهم اخلفه في ولده " حسنه الترمذي .

    توفي في آخر سنة أربع ومائتين .

    وروى الميموني عن أحمد قال : ضعيف الحديث مضطرب . [ ص: 454 ]

    قلت : حديثه في درجة الحسن .


    سير أعلام النبلاء » الطبقة العاشرة »
     
    Last edited: ‏جولائی 27، 2017
  4. ‏جولائی 27، 2017 #4
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    مظاہر بھائی میرا سوال اس کی ثقاہت پر نہیں تھا، تدلیس پر تھا۔
     
  5. ‏جولائی 28، 2017 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,201
    موصول شکریہ جات:
    8,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    4524 - حدثنا محمَّد بن إسحاق الصغاني، ويحيى بن أبي طالب (1)، قالا: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، قال: أخبرنا عبد الملك بن جريج، عن
    [ص:250] عبد العزيز بن عمر أن الربيع بن سَبْرة حدثه، عن أبيه قال: "خرجنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حتى إذا كنا بعسفان قال: استمتعوا بهذه النساء، قال: فجئت أنا وابن عمي إلى امرأة ببردين، فنظَرَتْ فإذا بُرد ابن عمي خير من بُردي وإذا أنا أشب منه. قالت: برد كبرد، قال: فتزوجتها، فاستمتعت منها على ذلك البرد أيامًا، حتى إذا كان يوم التروية قام النبي -صلى الله عليه وسلم- بين الحجر والركن، فقال: ألا إني كنت أمرتكم بهذه المتعة وإن الله قد حرمها إلى يوم القيامة، فمن كان استمتع من امرأة فلا يرجع إليها، وإن كان بقي من أجله شيء فلا يأخذ منها مما أعطاها شيئًا" (2).
    قال ابن جريج يومئذ: اشهدوا أني قد رجعت عنها بعد ثمانية عشر حديثا أروي فيها, لا بأس بها.
    مستخرج أبي عوانة ط الجامعة الإسلامية (11/ 249)
    1۔حدیث کی روایت کرتے ہوئے ، انہوں نے تصریح بالسماع کی ہے ۔ بعد میں اسی سند سے ابن جریج کا قول منقول ہے ۔
    2۔ اسی ’ ’قال ابن جریج یومئذ ‘ کا سیاق سے ظاہر ہوتا ہے ، کہ انہوں نے یہ بات بذات خود ان سے سنی ہے۔
    3۔ ویسے بھی ابن جریج نے یہ اعلان حدیث بیان کرنے کے بعد کیا ہے ، اگر عبد الوہاب نے حدیث میں تدلیس نہیں کی ، تو یہی ظاہر ہے کہ اس کے متصل بعد ابن جریج کا قول بیان کرنے میں بھی تدلیس نہیں کی ہوگی ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں