1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابن عدی رحمہ اللہ کی کتاب الکامل میں یحیی بن معین رحمہ اللہ کی جرح سے متعلق سوال

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏ستمبر 20، 2018۔

  1. ‏ستمبر 20، 2018 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    577
    موصول شکریہ جات:
    210
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الکامل میں یحیی بن معین رحمہ اللہ سے باسند، راویوں کے متعلق جرح پیش کی ہے مثلاً ایک راوی جسر بن فرقد کے متعلق ابن معین رحمہ اللہ کا قول

    1- حدثنا علي بن أحمد بن سليمان، حدثنا أحمد بن سعد بن أبي مريم، قال: سألت يعني يحيى بن معين عن جسر أبي جعفر فقال ليس بشيء، ولا يكتب حديثه

    الکامل جلد 2 ص 421

    ایک دوسرے راوی کے متعلق ابن معین رحمہ اللہ کا قول باسند نقل کیا

    2 - حدثناعلي بن أحمد بن سليمان، أخبرنا أحمد بن سعد بن أبي مريم قال: قيل ليحيى بنمعين: حديث مالك: اللقاح واحد، ليس يرويه أحد غيره قال: دع مالكا، مالك أمير المؤمنين في الحديث قال: وقد رواه ابن جريج

    الکامل ج 1 ص 176


    سوال یہ ہے کہ الکامل میں جتنی بھی جگہ ابن معین رحمہ اللہ کا قول اس سند سے ہے جرح یا تعدیل کے متعلق تو کیا ابن معین رحمہ اللہ تک اس کی سند ثابت ہے ؟

    جزاک اللہ خیراً
     
  2. ‏ستمبر 21، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,245
    موصول شکریہ جات:
    8,210
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ابن مَعین سے ان کے مختلف شاگردوں نے جرح و تعدیل اور علل کے سوالات نقل کیے ہیں، ان کی کتابیں بھی الگ الگ شاگردوں کی روایات سے مطبوع ہیں۔
    ابن عدی نے بھی ان کے مختلف شاگردوں سے مختلف اسانید سے اقوال نقل کیے ہیں۔
    یہان ابن معین کے شاگرد احمد بن سعد ابن ابی مریم ہیں، جو کہ صدوق درجے کے راوی ہیں۔
    علامہ زاہد الکوثری نے ان پر اعتراض کیاہے، لیکن شیخ معلمی نے ان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے، آخر میں فرمایا ہے کہ:
    وعلى كل حال فأحمد هذا قد قبله الأئمة واحتجوا به ولم يطعن فيه أحد منهم. والله الموفق.
    (التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل (1/ 306)

    اس کو ائمہ کرام نے قابل حجت جانا ہے، کسی نے بھی ان پر جرح نہیں کی۔
    ابن عدی کے شیخ علی بن احمد بن سلیمان بھی ثقہ راوی ہیں۔
    لہذا یہ سند بالکل صحیح ہے۔
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 21، 2018 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    577
    موصول شکریہ جات:
    210
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم ۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں