1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابوحنیفه نعمان بن ثابت, امام ایوب سختیانی کی نظر میں.

'فقہاء' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏نومبر 09، 2017۔

  1. ‏نومبر 09، 2017 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    "اخبرنا القاضی ابوبکر احمد ابن الحسن الحیری وابوالقاسم عبدالرحمن بن محمد بن یعقوب الاصم حدثنا محمد بن اسحاق الصاغانی حدثنا سعید بن عامر حدثنا سلام بن ابی مطیع قال کان ایوب قاعدا فی المسجد الحرام فرآه ابوحنیفه فاقبل نحوه فلما راسه ایوب قد اقبل نحوه قال لاصحابه قوموالا یعدنا بجربه فقاموا فتفرقوا."
    (تاریخ بغداد ج ۱۳ ص ۳۹۷.)
    "کهتے هیں که امام سختیانی مسجد الحرام میں بیٹهے هوئے تهے تو امام صاحب نے انکی طرف رخ کیا. امام ایوب نے اپنے شاگرد سے کها تم یهاں سے چلے جاؤ کهیں یه تم کو اپنی خارش نه لگا دیں. مراد که ان کی صحبت سے بچو. ایوب سختیانی کے اس فرمان کی فورا تعمیل هوئی."

    بعض حضرات اس جرح کا جواب دیتے هوئے کهتے هیں که اسکی سند میں سلام بن ابی مطیع هے جو که مختلف فیه راوی هے اور ابن حبان نے کها که جب منفرد هو تو احتج نهیں کثیر الوهم هے

    الجواب:
    سلام بن ابی مطیع راوی ثقه صدوق صحیح یا حسن الحدیث راوی هے جمهور نے اسکی توثیق کی هے. اور اس سے احتجاج کیا هے
    تفصیل دیکهے:

    الجرح:
    قال ابن عدی لیس بمستقیم الحدیث عن قتاده.
    (الکامل فی الضعفاء الرجال ج ۴ ص ۳۱۷ ت ۷۶۹.)
    یه کوئی جرح نهیں هے سلام بن ابی مطیع قتاده سے روایت میں لیس بمستقیم هے مطلب قتاده سے روایت میں ضعیف هے اس سے راوی ساقط الاعتبار نهیں هوتا نه اسکا ضعیف هونا لازم آتا هے بس صرف قتاده سے روایت جو هو گی هو ضعیف هو گی. ایسے بهت سے راوی هیں جو اپنے کسی خاص استاد سے راویت کرنے میں ضعیف هیں مگر کس اور سے روایت میں ثقه هے
    نیز اسکا جواب آگے بهی آئے گا ان شاءالله.
    ۲: قال امام حاکم فی المدخل: "منسوب الی الغفله وسوء الحفظ"
    یه جرح بهی مردود هے اسکی وجه یه هے که اگر یه جرح صحیح هوتی تو امام حاکم المستدرک میں اسکی حدیث کی تصحیح نه کرتے. وه خود بهی اس جرح سے راضی نهیں تهے. تفصیل آرهی هے ان شاءالله.
    اور اگر یه جرح ثابت بهی هو جائے تو جمهور کے مقابله میں مردود هے.
    ۳: ابن حبان نے کثیر الوهم لایحتج به اذا انفرد فی کتاب الضعفاء والمتروکین.
    (المغنی الذهبی ت ۲۵۰۶.)

    یه جرح تین وجه سے مردود هے پهلی یه که ابن حبان متشدد هے.
    دوسری وجه یه هے که جمهور کے مقابله میں هے.
    تیسری وجه یه هے که ذهبی نے اسکا جواب دیا هے جو که آگے آرها هے انشاءالله.
    اور محدثین نے اس جرح کا کوئی اعتبار نهیں کیا.

    اور اب الله کے حکم سے تعدیل دیکهے.


    التعدیل:

    ۱: امام احمد نے ثقه صاحب السنه کها(العلل ومعرفه الرجال ج ۱ ص ۲۵۳, ۲۲/۲)

    فائده:
    علامه عینی حنفی نے ایک راوی جو کے مختلط هونے کی بنا پر ضعیف هے, پر جرح کی اور امام احمد سے توثیق نقل کی
    اور کها:
    "وثقه احمد وکفی بذلک."
    (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۲۳۴.)
    کهتے هیں امام احمد کی اسکے حق میں ثوثیق کافی هے.
    احمد نے ثقه کها هے راوی کو.
    یهاں دیکهے که یهاں جمهور نے راوی کو اختلاط کی بنا پر ضعیف کها هے مگر عینی کهتے هیں که نهیں بهائی احمد نے ثوثیق کر دی بس یه هی کافی هے.
    کیا یه اصول یهاں مقبول هے؟
    ۲: ابن خلفون نے ثقات میں ذکر کیا هے؛
    ۳: ابو عوانه نے اپنی صحیحه میں راوی لی.

    (الکامل تهذیب الکامل المغلطائی الحنفی ج ۶ ص ۱۸۲ ت ۲۳۱۶.)
    ۴: ابو حاتم نے صالح الحدیث کها.
    (الجرح والتعدیل ۲۵۸/۱/۲.)
    ۵: ابن مهدی نے روایت لی هے.
    (ایضا.)

    ۶: ابو سلمه نے سلام بن مطیع کے متعلق کها هو اعقل اهل البصر.
    (سیر اعلام النبلاء ج ۷ ص ۹۶ ط الحدیث ت ۱۱۶ تهذیب التهذیب لابن حجر.)
    ۷: ابن عدی کے مکمل الفاظ هیں
    "لا باس به لم ار احد من المتقدمین نسبه الی الضعیف."
    (الکامل ج ۴ ص ۳۱۷.)
    لهذا ثابت هوا که ابن عدی کی جرح صرف اور صرف قتاده سے روایت میں هے اور یه سند سلام بن مطیع نے قتاده سے بالکل نهیں لی اس سند میں قتاده موجود نهیں هے.
    ابن عدی نے صاف صاف کها که لا باس به هے میں نے متقدمین میں سے کسی کو اس یعنی مطیع کو ضعیف کی طرف منسوب کرتے نهیں دیکها
    ۸. امام نسائی نے ثقه لیس به باس کها.(سیر اعلام النبلاء ج ۷ ص ۴۲۸. تهذیب التهذیب ج ۴)

    ۹. امام بزار نے مسند میں کها
    "کان من خیار الناس و عقلائهم."
    (تهذیب التهذیب ج ۴ ص ۲۸۸ ومسند البزار ۲۵۷۸, ۴۴۲.)
    ۱۰. امام ترمذی نے اس کی حدیث کے متعلق کها هذا حدیث حسن صحیح غریب.
    کها اور سلام کے متعلق کها ثقه.
    (سنن الترمذی رقم ۳۲۱۳, وفی نسخه ۳۲۷۱.)
    ۱۱: امام بخاری نے متابعت میں روایت لی.(مقدمه فتح الباری ۴۶, رجال الصحیح البخاری للباجی ص ۱۶۸. والجمع لابن القیسرانی ج ۱ ص ۱۹۶ ت ۷۳۵.)
    اور تاریخ الکبیر ج ۴ ص ۱۳۴ ت ۲۲۲۹ میں ذکر کیا اور تاریخ الصغیر ج ۲ ص ۱۵۹ میں ذکر کیا.
    ۱۲: ابن شاهین نے ثقات میں ذکر کیا(اسماء الثقات ج ۱ ص ۱۰۱ ت ۴۶۸.)
    ۱۳: امام مسلم نے متابعت میں روایت لی.(رجال صحیح مسلم لابن منجویه ص ۶۹ اور ابن القیسرانی ت ۷۳۵.)

    ۱۴: علامه ذهبی نے الکاشف میں ذکر کیا ت ۲۲۱۲.
    المغنی میں ذکر کیا
    دیوان الضعفاء میں ذکر کیا اور کها:
    "صدوق لا باس به."
    (دیوان الضعفاء ت ۱۶۸۶ ج ۱ ص ۱۶۶.)
    اور سیر اعلام النبلاء میں امام الثقه القدوه کها
    (سیر اعلام ج ۷ ص ۴۲۹.)

    اور ابن حبان کی جرح کا جواب دیتے هوئے کهتے هیں:
    "قلت قد احتج به الشخیان ولا ینحط حدیثه عن درجه الحسن."
    "کهتے هیں که بخاری مسلم نے اس سے احتج کیا هے اور اسکی حدیث درجه حسن سے نهیں گرتی" لهذا ثابت هو گیا که علامه ذهبی بهی ابن حبان کی جرح کو تسلیم کرتے نهیں هیں. ابن حبان کی جرح کسی لهذا سے بهی قابل قبول نهیں هے اهل باطل جتنی مرضی کوشش کر لے یه جرح مردود هے مردود هے مردود هے. الحمدالله.

    اور علامه ذهبی نے
    "من تکلم فیه وهو موثق ت امریر میں ذکر کیا هے.
    (ت ۱۶۰, اور ت الرحیلی ج ۱ ص ۱۶۱ ص ۲۳۵ وفی نسخه ۱۵)

    اور العبر میں ذکر کیا ج ۱ ص ۲۶۲.
    ۱۵: ابو نعیم نے حلیه الاولیاء میں ذکر کیا ج ۶ ص ۱۸۸.
    یعنی کے وه اولیا الله میں سے هیں.!


    ۱۶: ابو داود نے ثقه کها
    (تهذیب الکامل فی اسماء الرجال للمزی ج ۸ ص ۲۳۱, سوالات آلاجری ت ۵۰۹.)
    ۱۷: ابن حجر نے ثقه صاحب السنه کها

    (تقریب ۲۷۱۱.)
    ۱۸: امام حاکم نے اس کی حدیث کے متعلق کها:
    "هذا حدیث صحیح علی شرط صحیح البخاری"
    (المستدرک ج ۲ ص ۱۶۳, دوسرا نسخه ج ۲ ص ۵۱۱, رقم ۲۶۱۴, ۲۷۳۷ وغیره.)

    لهذا ثابت هوا که امام حاکم بهی سلام پر جرح کو قبول نهیں کرتے.
    ۱۹: ابن عبدالهادی نے فمن تکلم فیه الامام احمد عدح اوذم میں ذکر کیا
    (ص ۷۱ ت ۴۲ٹ.)

    ۲۰: صالح بن حماد الرفاعی نے الثقات الذین ضعفوا فی بعض الشیوخم من ذکر کیا اور اس کو ثقه کها ص ۱۶۳.
    نیز قابل غور بات یه هے که جو ابن عدی نے جرح کی تهی کے قتاده سے روایت میں ضعیف هے.
    تو جناب نے اپنی مذکورۃ کتاب میں اسکی تحقیق کر کے سلام بن ابی مطیع کو قتاده سے مطلق ثقه بهی قرار دیا هے. فتدبر.!

    ۲۱: ابن معین نے بهی توثیق کی هے.
    (تاریخ الدوری ج ۲ ص ۲۲۲.)


    لهذا اس تفصیل سے معلوم هوا که بخاری مسلم نے اس سے روایت لی هے اور اس سے احتجاج کیا هے اور محدثین نے ثقه صدوق کها هے اس پر کوئی ایسی جرح ثابت نهیں هے جس سے راوی ضعیف ثابت هو اور دلائل سے ثابت کردیا گیا هے که یه راوی ثقه صدوق حسن یا صحیح حدیث راوی هے.
    اور پهر اسکی تائید ایک اور راویت سے بهی هوتی هے.
    "حدثنی احمد بن محمد بن یحیی بن سعید القطان ثنا ابو نعیم قال کنا مع سفیان جلوسا فی المسجدالحرام فاقبل ابوحنیفه یریده فلما رآه سفیان قال قوموا بنا لا یعدنا هذا...الخ"
    (کتاب السنه لعبدالله بن احمد بن حنبل ج ۱ ص ۱۹۹, رقم ۲۹۱ ط دارابن القیم, محقق (الدکتور محمد بن سعید بن سالم القحطانی.) نے کها اسناده صحیح.)
    لهذا سلام پر جرح هی مردود هے
    .
    نیز اس کی سند میں ایک اور راوی پر بهی جرح کی جاتی هے جسکا نام سعید بن عامر حالانکه یه راوی ثقه هے.
    بهرحال ایوب سختیانی کی ایک اور جرح بهی صحیح سند سے مروی هے جیسا که تاریخ بغداد میں هے.
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 09، 2017 #2
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    اس روایت کو پیش کرنے کا آپ کا مقصد کیا ہے ذرا وضاحت فرمائیں۔
     
  3. ‏نومبر 09، 2017 #3
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    @انتظامیہ کو اس قسم کی پوسٹس پر توجہ دینی چاہیئے۔ ایسی پوسٹس خواہ مخواہ کے انتشار کو ہوا دیتی ہیں۔ کسی کی فقہ پر دلیل سے اعتراض کیا جانا صحیح طریقہ ہے مگر کسی کی شخصیت کو نشانہ بنانا ہرگز مباح نہیں جبکہ اس شخصیت کے ساتھ مسلم کی ایک کثیر تعداد عقیدت رکھتی ہو۔
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 09، 2017 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @انتظامیہ کو اس پر ضرور نظر ڈالنی چاہیئے!
    اس تھریڈ کو محدثین کے زمرے سے فقہاء کے زمرے میں منتقل کیا جانا چاہیئے!
    @محمد نعیم یونس
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 10، 2017 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,366
    موصول شکریہ جات:
    1,080
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اس طرح کے بہیترے اقوال ایک دوسرے کے خلاف مل جائیں گے. لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی بحوث سے کیا فائدہ ہے؟؟؟
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 10، 2017 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,519
    موصول شکریہ جات:
    6,610
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    منتقل کر دیا گیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 10، 2017 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,454
    موصول شکریہ جات:
    722
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    صرف دو لفظوں کی تشریح درکار ھے کہ ان دونوں لفظوں کو مندرجہ بالا فقرہ میں کن کن معانی میں کہنے والے نے لیا ھے !
    1- انتشار
    2- عقیدت
    بالتفصیل ذکر کیا جائے اور تفصیل تمام ابہام سے پاک ھو - یاد رھے میں یہاں "شخصیت" پر کوئی بات نہیں کہہ رھا ھوں بلکہ سمجھنا چاھتا ھوں آخر ان الفاظ کے معانی کیا کیا لئیے گئے ھونگے!! اس لئیے بات کو الجھانے کے بجائے سمجھانے والا انداز، جسے کہتے ہیں استاذانہ انداز ،(جیسا اساتذہ جاہلوں کو سمجھانے کی خاطر اختیار کرتے ہیں) اختیار کیا جائے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 10، 2017 #8
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    388
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    صرف احناف پر دو ہاتھ کرنے کی چکر مین ہی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف بدزبانی کی جاتی ہے ۔ اسلام کی فقہی تاریخ میں اکیلے یہی فقیہ ہیں جن پر شیعوں سے دو ہاتھ آگے لعن و طعن کی جاتی ہے گر ورنہ بے رحم تاریخ میں دوسرے بھی بہت سے داغدار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 10، 2017 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے بھائی! امام سختیانی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر سخت جرح کی ہے!
    اس میں بد زبانی کیا ہے؟
    تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھیں، کہ امام مالک،امام احمد بن حنبل اور امام بخاری کے ساتھ ان اہل الرائے فقہاء نے کیا کیا مظالم کیئے ہیں!

    بہر حال! امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر محدثین نے بہت شدید کلام کیا ہے، اور یہ اسی لیئے کیا ہے کہ لوگ متنبہ رہیں!
     
    • متفق متفق x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 11، 2017 #10
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    یہود و نصاریٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟
    وجہ اس کی یہ ہے کہ انہیں یقین ہے کہ مسلم جواباً کچھ نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ جن انبیاء کو یہ مانتے ہیں وہ ہمیں بھی اپنی جان سے عزیز ہیں۔ ان کے خلاف کیسے ہو سکتے ہیں؟
    شیعہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟
    اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جن سے وہ عقیدت ظاہر کرتے ہیں وہ اہل سنت کے لئے قابل احترام ہستیاں ہیں۔ ان کی مخالفت کیسے کریں گے؟
    اہل حدیث ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر طعن کیوں کرتے ہیں؟
    وجہ یہی ہے کہ یہ کسی فقیہ کے معتقد نہیں اور جن کے معتقد ہیں ان کی ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں