1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابولہب کے خواب کی حقیقت

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 10، 2014۔

  1. ‏اگست 10، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ابولہب کے خواب کی حقیقت

    سعیدی: بخاری شریف ج:۲، ص:۷۶۴ میں ہے کہ ابو لہب کا فر کو مرنے کے بعد پینے کا پانی ملتا تھا اس نے کہا: لعتاقتی ثویبہ کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کیا تھا یہ پانی اسی کا صلہ ہے۔ یعنی میلاد کی خوشی میں کافر شریک ہو جائے تو اسے بھی فائدہ پہنچے (ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ص:۳۲)

    محمدی :
    اول: سعیدی بریلوی پر مجھے افسوس اور ترس آ رہا ہے کہ عید میلاد کے جواز میں اگر کوئی دلیل ملی ہے تو ابو لہب کے عمل میں۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن تھا، جس کی ہلاکت اور بدبختی کا ذکر قرآنِ مجید میں خود رب رحمان نے اس کا نام لے کر کیا ہے۔ تبت یدا ابی لہب وتب الخ۔ حالانکہ ظاہر بات ہے کہ اس کا یہ عمل اس وقت کا تھا جب اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں آج جس کی پیدائش و میلاد کی خوشی میں لونڈی آزاد کر رہا ہوں وہ بڑا ہو کر نبی و رسول بنے گا او ر میں اس کا مقابلہ کروں گا ، اس نے جو کچھ کیا وہ ایک قریبی رشتہ دار اور اپنے فوت شدہ بھائی عبد اللہ کے لخت جگر کے ناطے سے کیا، اور وہ بھی صرف ولادت کے وقت صرف ایک دفعہ، دوسرے سال ولادت کے دن پھر دوسری لونڈی کو آزاد نہیں کیا۔
     
  2. ‏اگست 10، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دوم:
    اس واقعہ سے استدلال تب صحیح ہو سکتا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ابو لہبی عمل کی تحسین فرمائی ہوتی یا صحابہ کرام اس کے عمل سے حجت پکڑتے ہوئے میلاد کو بطور عید مناتے اور وہ بھی اسی طرح اپنی لونڈیاں آزاد کرتے ، خصوصاً حضرت عباس رضی اللہ عنہ جن کی طرف یہ خواب منسوب ہے وہ بیداری کے بعد اس خواب سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا سمجھتے اور اپنی زندگی میں جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہوئے لونڈی آزاد فرماتے۔ حضرت عروہ تابعی رحمہ اللہ جنہوں نے اس خواب کو روایت کیا ہے وہ اس واقعہ سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا سمجھ کر جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں مناتے اور لونڈی آزاد کرتے اور خود امام بخاری جس نے اس خواب کو نقل کیا ہے وہ اپنی زندگی میں جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل سمجھ کر مناتے اور اپنی صحیح میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استنباط فرماتے۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو لہب کے عمل کے اس فائدے کی تصدیق نہیں فرمائی اور نہ اس کے عمل کو اختیار فرمایا اور صحابہ کرام خصوصاً حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کوئی حیثیت نہیں دی اور نہ حضرت عروہ اور نہ حضرت امام بخاری نے عید میلاد النبی منانے کی دلیل بنائی اور نہ میلاد منایا تو پھر آج سنت رسول کو چھوڑ کر طریقہ صحابہ کو چھوڑ کر اس سے منہ موڑ کر سنت ابو لہبی سے استدلال عجیب نہیں؟۔بلکہ مسلم شریف کی حدیث جس میں ہے کہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں (جو ہر سال موسم حج میں ایک ہزار اونٹ ذبح کیا کرتا تھا اور ایک ہزار جوڑے پہنانا تھا اور جس نے حلف الفضول کیلئے اپنے گھر دعوت دی تھی) پوچھا جو صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا اس کو یہ عمل نفع دیں گے تو آپ نے فرمایا نہیں اس لئے کہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ اے میرے رب قیامت کے دن میری خطا معاف کرو۔(مسلم ص:۱۱۵، ج:اول) سے بھی اس خواب کی عدم صحت یقینی طور پر ثابت ہو گئی۔
     
  3. ‏اگست 10، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوم:
    احناف کا اصول ہے کہ خبر واحد سے قرآن مجید کی تقیید اور اس کے حکم عمومی سے تخصیص نہیں کی جا سکتی (اصول فقہ اصول شاشی) اس اصول کی وجہ سے حنفیہ نے صحیح مرفوع احادیث کو رد کر دیا کہ فلاں حدیث فلاں آیت کے خلاف ہے، کہ آیت میں عموم ہے اور یہ حدیث اس عموم کی تخصیص کر رہی ہے لہٰذا حدیث پر عمل قرآنی نص کے خلاف ہے مگر نام نہاد حنفی ایسے بدعی مسائل میں اپنے حنفی اصول کو توڑتا ہے اور اپنے اصول کو چھوڑ کر قرآن کے مقابلہ میں خبر واحد اور ضعیف روایتوں سے استدلال کرتا ہے۔ دیکھو یہ روایت خبر واحد ہے اور منقطع یعنی عروہ تابعی نے یہ نہیں بتایا کہ مجھے یہ خواب کا واقعہ کس نے بتایا اور وہ خواب کا واقعہ ہے۔ نبی و رسول کے خواب کے علاوہ کسی کا خواب معتبر نہیں۔ قرآنی آیات اس خبر واحد مرسل منقطع کے خلاف موجو دہیں۔
     
  4. ‏اگست 10، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ابولہب مشرک کا انگلی سے جنت کا پانی پینا قرآنی آیات کے سراسر خلاف ہے

    آیت اول :
    وقد منا الی ما عملوا من عملٍ فجعلناہ ھباءً منثورا۔(پ ۱۹ الفرقان آیت:۲۳)
    ترجمہ: اور جو کچھ انہوں نے کام کئے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کر دیا (ترجمہ احمد رضا صاحب) اس کی تفسیر میں نعیم الدین مراد آبادی لکھتا ہے ف:۴۷ حالت کفر میں مثل صلہ رحمی مہمانداری یتیم نوازی وغیرہ (خزائن العرفان ص:۵۱۸، تختی خورد)
    دوسری آیت:
    اولئک الذین کفروا بایات ربہم ولقائہ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا ۔(کہف آیت:۱۰۵)
    ترجمہ یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کیلئے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے (ترجمہ احمد رضا) اس کی تفسیر نعیم الدین بریلوی سے سنئےف:۲۱۷ رسول و قرآن پر ایمان نہ لائے اور بعثت و حساب اور ثواب کے منکر رہےف:۲۱۸ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ روز قیامت بعضے لوگ ایسے اعمال لائیں گے جو ان کے خیالوں میں مکہ مکرمہ کے پہاڑوں سے زیادہ بڑے ہوں گے لیکن جب تو لے جائیں گے تو ان میں وزن نہ ہو گا (خزائن العرفان ص:۴۳۸)
    گویا یہ آیتیں بتا رہی ہیں کہ کافروں کے سب اعمال برباد ہیں ان کا کوئی وزن نہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی ۔
    تیسری آیت:
    ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون۔(انعام:۸۹)
    کہ بالفرض اگر یہ انبیاء کرام شرک کرتے تو ان کے بھی عمل ضائع ہو جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرمایا : لئن اشرکت لیھبطن عملک۔(زمر :۶۵، پ:۲۴) کہ اگر بالفرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شرک کریں تو آپ کے بھی عمل ضائع ہو جائیں جبکہ انبیاء کرام کے متعلق شرک کرنے کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تو ابو لہب جس نے ساری زندگی شرک و کفر میں گزاری اور میلاد والے کی مخالفت کرتے ہوئے مر گیا، تو ابو لہب کی کیا حیثیت ہے کہ شرک و کفر کرنے کے باوجود اس کا یہ عمل بدستور قائم رہا اور ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    چوتھی آیت:
    ونادی اصحاب النار اصحاب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء اومما رزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمھما علی الکافرین (اعراف :۵۰، پ:۸)
    دوزخی لوگ بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا کچھ فیض دو، یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا، کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں (پانی اور کھانا) کو کافروں پر حرام کررکھا ہے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا (ترجمہ احمد رضا) یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ جہنمیوں کیلئے پانی حرام ہو گا اور پانی کا فیض بھی ان پر نہیں ہو گا تو پھر ابو لہب کیلئے انگلی سے پانی کیسا۔ایسی کون طاقت ہے جو قرآن کے برخلاف ابو لہب کو انگلی سے پانی مہیا کر رہی ہے۔اور اس کو یہ فیض پہنچا رہی ہے ۔
     
  5. ‏اگست 10، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پانچویں آیت:
    لا یذوقون فیھا بردا ولا شرابا۔(پ:۳۰، بنا آیت:۲۴)
    ترجمہ :بے شک جہنم تاک میں ہے سرکشوں کا ٹھکانا، اس میں قرنوں (ہمیشہ) رہیں گے، اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا چلتا پیپ۔ جیسے کو تیسا بدلہ۔ (ترجمہ احمد رضا) یہ آیت بھی واضح کر رہی ہے کہ جہنمیوں کو ٹھنڈک کا مزہ اور ٹھنڈا پانی کسی صورت میں نہیں ملے گا بلکہ کھولتا ہوا پانی ملے گا۔قرآن مجید کی ان پانچ آیتوں کے مقابلہ میں جو روایت ابو لہب کے خواب والی پیش کی جاتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابو لہب دشمن رسول ، منکر بعثت منکر حساب اور دشمنان رسول کے گرو گھنٹال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن اول اور گستاخ۔ جس نے آپ کو تکلیفیں در تکلیفیں دیں اور اپنے بیٹوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرایا، ایسا پریشان کرایا کہ نبی رحمت نے اس کے ایک بیٹے کے متعلق فرما دیا کہ اس کو جنگل کا درندہ کھائے گا، کیا ایسے کافرو مشرک کو مرنے کے بعد پینے کا پانی ملتا تھا، ایک طرف قرآنِ مجید کی سچی آیات ہیں دوسری طرف ایک دشمن رسول کی بات کہ مجھے پانی ملتا ہے بات کس کی معتبر۔ تم خود فیصلہ کر سکتے ہو جو نبی غیرت والا نبی ہے ابو لہب جیسے کافر ابوجہل کی بیٹی کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کیلئے سوکن بنانا برداشت اور پسند نہیں فرماتا اور صاف اعلان فرماتا ہے)
    واللہ لا یجتمع بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبنت عدو اللہ عند رجل واحد۔(بخاری شریف ج:اول ص:۵۲۸)
    کہ اللہ کی قسم نبی کی بیٹی اور کافر کی بیٹی ایک آدمی کے نکاح میں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔
     
  6. ‏اگست 10، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جیسے دشمن بلکہ ابوجہل سے بڑے دشمن ابو لہب کو اللہ تعالیٰ اس کے مرنے کے بعد پینے کا پانی عطا فرمائے، کیا یہ بات تسلیم کے قابل ہو سکتی ہے، کیا اللہ تعالیٰ جو خود غیرت مند ذات ہے جو اپنے نبی کے ساتھ حد سے زیادہ پیار فرماتا ہے وہ اپنے نبی کی عزت کی پرواہ کئے بغیر اس کے دشمن کو پانی پلائے اور اپنے نبی کو پانی پلائے ۔ جو اللہ تعالیٰ ایسے دشمن رسول کے متعلق یہ فرمائے تبت یدا ابی لہب وتب ما اغنی عنہ مالہ وما کسب سیصلی نارا ذات لہب الخ۔ کہ تباہ ہو گئے ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود تباہ ہوگیا اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا اب دھنستا ہے لپیٹ مارتی آگ میں الخ (ترجمہ احمد رضا )نعیم الدین مراد آبادی بریلوی لکھتا ہے ف۲ … دونوں ہاتھوں سے مراد اس کی ذات ہے۔۳۔ یعنی اس کی اولاد مروی ہے کہ ابو لہب نے جب پہلی آیت سنی تو کہنے لگا کہ جو کچھ میرے بھتیجے کہتے ہیں اگر سچ ہے تو میں اپنی جان کیلئے اپنی مال و اولاد کو فدیہ کروں گا۔ اس آیت میں اس کا خیال ردّ فرمایا گیا کہ یہ خیال غلط ہے، اس وقت کوئی چیز کام آنے والی نہیں (خزائن العرفان ص:۸۶۶)
    قرآنِ مجید تو تبت یدا فرما کر اس کے ہاتھوں کی تباہی کی اطلاع دے رہا ہے تو پھر ابولہب کے ہاتھوں میں انگلی کیسے محفوظ رہ گئی اور پھر اس سے پانی کیسے جاری ہو گیا تو پھر اس کے ہاتھ تباہ تو نہ ہوئے وہ تو الٹے صحیح سالم اورصحیح ثابت رہے اب کس کی بات سچی۔ اللہ تعالیٰ کی، یا ابو لہب کی۔ قرآن مجید کی بات صحیح ہے جس کو اللہ علام الغیوب نے اتارا یا ابو لہب کے خواب کی بات، جو قرآنِ مجید کی نص کے خلاف ہے۔ قرآن مجید کی یہ نص سچ برحق ہے اس کے مطابق ابو لہب کا انجام جو مسلمانوں اور کافروں کے سامنے مکہ میں واضح ہوا وہ یہ ہے کہ ابو لہب طاعون کی بیماری میں ہلاک ہوا، اہل عرب طاعون سے سخت خائف تھے اس کے پاس کوئی نہیں گیا کہ اٹھا کر اس کو دفن کر دیں، اس لئے اس کی لاش کو اس کے گھر سے کسی نے نہ اٹھایا بلکہ چھت کھول کر اوپر ہی سے اس قدر مٹی اور پتھر اس کے ناپاک جسم پر پھینکے گئے کہ وہی اس کی گور بن گئی، یہ پیشگوئی جملہ کفار کی آنکھوں کے سامنے پندرہ برس بعد از نزول آیت پوری ہوئی (رحمۃ للعالمین ص:۳۰۶، ج:۳، ص:۸۵، ج:۲) قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ)۔
     
  7. ‏اگست 10، 2014 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جو اللہ ایسے دشمن رسول کیلئے قرآن مجید میں تو فرما دے کہ اس کو اس کا مال کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس سے دنیا میں اپنے نبی کو بھی خوش کر دے کہ دیکھو اس کافر اور مشرک اور گستاخ رسول نے آپ کیلئے تبا لک الخ کہا تو میں اللہ تعالیٰ غیور ذات نے اس موذی گستاخ رسول کیلئے تبت یدا ابی لہب الخ یہ سورت اتاردی کہ اس پر جب ہماری پکڑ آئے گی تو اس کو اس کا مال نہیں بچائے گا۔
    تو کیا وہی اللہ جو نبی کو تسلیاں دیتا رہا ایسے دشمن رسول کے مال (لونڈی) کی خیرات کو اس دشمن رسول کیلئے خیر بنا سکتا ہے اور پانی پلانے کا سبب بنا سکتا ہے، ایک طرف اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے: ما اغنی عنہ مالہ وما کسب اور دوسری طرف صرف خواب ہے۔ بتاؤ بات کس کی سچی، اللہ کی یا دشمن رسول اللہ کی۔ نعوذ باللہ۔
    اللہ تعالیٰ کو میلاد نبوی کے وقت ابو لہب کی لونڈی کی آزادی تو یاد رہی اور اس کے عوض اس دشمن رسول کیلئے انگلی سے پانی پینے کا انتظام بھی فرما دیا مگر اللہ تعالیٰ کو وہ تکالیف نظر نہ آئیں جو یہ گستاخ رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعثت کے بعد تقریباً ۱۵ سال لگاتار دیتا رہا، اور مرتے دم تک دیتا رہا یا نعوذ باللہ میلاد پر خوش ہو کر لونڈی کو آزاد کر دینا اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا اہم ہے کہ اس نے جو صاحب میلاد کو تکالیف دیں وہ سب ہیچ ہیں۔ یا نعوذ باللہ۔
     
  8. ‏اگست 10، 2014 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    چہارم:
    لونڈی کا آزاد کرنا اور گلی کوچوں کی سجاوٹ گھروں اور بازاروں میں بقع نور بنانے پر لاکھوں روپے برباد، کرناان دونوں میں کیا نسبت ہے، جیسے اس نے ولادت کے موقعہ پر خوش ہو کر ایک انسان کو ایک بڑا فائدہ پہنچایا اور اس کو آزادی دے دی وہ قیدن تھی نوکر انی تھی، آزاد ہو گئی، خوش ہو گئی، تم بھی اس جذبہ کو سامنے رکھ کر خوشی میں آ کر بے سود ضائع ہونے والی رقم کو انسانیت کے فائدہ پر خرچ کرو۔ ہر سال کی اتنی رقم جو ضائع ہو جاتی ہے انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے ایک ہسپتال بنواؤ۔ یتیموں، بیواؤں کیلئے دستکاری کے سکول قائم کر لو، بیمار آدمی ہسپتال میں داخل ہو، اس کا دوا دارو کیا جائے وہ بیماری سے شفایاب اور تندرست ہو کر چلا جائے، یتیم لڑکی کو دستکاری سکھلا کر ہنر مند بنا دیا جائے ، بیوہ کو دستکاری سیکھا کر اسے اپنے یتیم بچوں کے پیٹ پالنے کے لائق بنا دیا جائے۔ اگر تم ابو لہب کے لونڈی کو آزاد کرنے کے فلسفہ پر عمل کرنا چاہتے ہو تو یہ کام کرو تا کہ جیسے اس نے ایک انسان کو فائدہ پہنچایا تھا تم بھی انسانیت کو فائدہ پہنچاؤ۔ پھر ہم مانیں کہ واقعی ابو لہب کے عمل پر تمہارا عمل ہے جیسی خوشی اس کی تھی تم نے بھی ایسی ہی خوشی کو اپنایا ہے۔
    نیز یہ روایت بھی ابو لہب کیلئے انگلی سے پانی پینے کے خواب کو رد کرتی ہے۔ احمد سعید کاظمی لکھتا ہے جو الحادی للفتاوی ج:۲، ص:۲۶۸ طبع مصر میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب القبور میں اور طبرانی نے اوسط میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نواح بدر میں جا رہا تھا کہ اچانک قبر کے ایک گڑھے سے ایک شخص برآمد ہوا جس کے گلے میں زنجیر تھی اس نے مجھے پکار کر کہا اے عبد اللہ مجھے پانی پلا، اسی گڑھے سے ایک اور شخص برآمد ہوا جس کے ہاتھ میں کوڑا تھا اس نے مجھے پکار کر کہا اے عبد اللہ اسے پانی نہ پلانا، یہ کافر ہے پھر اسے کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ وہ اپنے گڑھے کی طرف واپس چلا گیا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا؟… تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا اور وہ اس کا عذاب تھا جو اسے قیامت تک ہوتا رہے گا (الحاوی للفتاوی) (مقالات کاظمی مضمون حیات النبی ج:۲، ص:۹۹) اگر ابوجہل کیلئے دنیا کا پانی پلانا اس لئے ممنوع ہے کہ وہ کافر ہے تو ابو لہب کیلئے آخرت کا پانی پلانا بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا کہ وہ ابوجہل سے بڑا کافر تھا۔

     
  9. ‏اگست 10، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سعیدی: اُچ شریف میں ایک ہندو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس و جلسہ سے متاثر ہو کر پکا مسلمان بن گیا اور اس کا اسلامی نام فیض رسول ہے۔
    ملتان میں روز نامہ خبریں کے دفتر کا عیسائی عید میلاد النبی سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا (ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ص:۳۲)

    محمدی:
    اُچ شہر کا یہ نام نہاد نو مسلم (سابق ہندو) آپ جیسے بدعتیوں کا ہم مسلک ہو گا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے جیسے تم دھوم دھام کے شوقین ہو وہ بھی ایسی دھوم دھام کا دلدادہ تھا۔ میلاد کے دھوم دھام کو دیکھ کر میلادی بن گیا، یوں تو اسلام کی دھوم دھام حج کے موقعہ پر بیت اللہ شریف، عرفات ، منی وغیرہ مقامات پر ہوتی ہے، جس کی دھوم دھام کرنے کی شریعت نے بھی اجازت دے رکھی ہے ایسے موقع پر کوئی ہندو، عیسائی، اسلام کی یہ دھوم دھام دیکھ کر اگر سچا مسلمان بن جائے تو یہ قابل تعریف ہے کہ اس نے ایک اسلامی دھوم دھام کو دیکھ کر اسلام کو قبول کیاہے جو دھوم دھام سرے سے ثابت اور جائز بھی نہ ہو جس کی اجازت شریعت نے نہ دی ہو ، اسلام کی بناوٹی دھوم کو دیکھ کر ہندو عیسائی جو مسلمان ہو جائے تو اس کا اسلام بھی بدعات رسومات والا اسلام ہو گا نہ کہ اصلی اسلام۔
     
  10. ‏اگست 10، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نیز مذہب اسلام کی سچائی کی نشانی اگر دھوم دھام سے عید میلاد منانے سے ہے تو پھر سچے اسلام کی نشانی دھوم دھام سے جلوس غم حسین شہادت حسین منانے سے کیوں نہیں۔ ان کی دھوم دھام کو دیکھ کر بھی کئی ہندو عیسائی، ایسے دھوم دھام کے شوقین مسلمان ہو گئے ہوں گے۔
    ان جلوسوں کی دھوم دھام کو دیکھ کر جو ہندو و عیسائی مسلمان ہوتے ہوں گے وہ صرف دھوم دھام کے مسلمان ہوں گے، کام کے مسلمان نہیں ہوں گے۔ کام کا مسلمان وہ ہوتا ہے جو سنت رسول کے مطابق زندگی گزارتا ہو، اسوہ حسنہ کا پیرو ہو، دیکھئے جتنے لوگ دھوم دھام سے میلاد ربیع الاول اور عشرہ محرم مناتے ہیں ان کی دھوم دھام فقط بدعات پر عمل کرنے تک محدود ہوتی ہے سنت پر عمل کرنے کی دھوم دھام ان کے اندر ہرگز نہیں ہوتی۔ سنت پر عمل کرنا ان کو بھاتا نہیں، یہ لوگ زکوٰۃ نہیں دیں گے اگرچہ ان پر فرض ہو چکی ہو مگر بدعات پر جمعراتوں، قل خوانیوں ، برسیوں پر ہزاروں روپے کے پکوان پکوا کر کھلا دیں گے، یہ فقط دھوم دھام نظر آنے کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے، زکوٰۃ دینا اس پر فرض ہے دوسرے کے ایصال ثواب کرنے کا اس پر فریضہ نہیں ہے۔ زکوٰۃ نہیں دیں گے قل خوانی ضرور کریں گے، ان لوگوں کے اندر نماز سنت کے مطابق پڑھنے کی دھوم دھوم نظر نہیں آتی، صف بندی کی دھوم دھام ان کے اندر نہیں حالانکہ صف بندی کی تلقین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے دھوم دھام سے فرمائی ہے چنانچہ ان کا حال صف بندی میں یہ ہوتا ہے کہ کوئی آگے ہوتا ہے کوئی پیچھے، ہر ایک دوسرے سے کٹ کٹا کھڑا ہوتا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کٹ کٹے سے روکا ہے۔ نماز کے اندر چادر سلوار لٹک رہی ہے مگر پرواہ نہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ا س سے دھوم دھوم کے ساتھ روکا ہے، ان کی نماز جلدی جلدی کی ہوتی ہے سکون و اطمیان کرنے کی دھوم دھام ان کے اندر ذرہ بھر بھی نظر نہیں آتی، جنازہ کی نماز کی ادائیگی میں تو جلد بازی کرنا ان کی پہچان ہو چکی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں