1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اتحادی دین اور مساوات E=MC2

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏نومبر 03، 2014۔

  1. ‏نومبر 03، 2014 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    اتحادی دین اور مساوات E=MC2


    سچی بات یہ ہے کہ اصلی دین تو اس برصغیر ہند و پاک میں کبھی آیا ہی نہیں - وہ جو محمد بن قاسم رحمتہ الله علیہ اپنے ساتھ لائے تھے ، اس کے آثار بہت جلد مٹ گئے - اس ملک میں تو توحید کے ماننے والوں کی بجائے "ذاتِ خداوندی" کے ساتھ "اتحاد" کا عقیدہ رکھنے والے اہل طریقت نے قرآن و حدیث کے اسلام کو اپنے رنگ میں پیش کیا اور دینداری کے بعض ظواہر کے ذریعے اسے ایسا کیمافلاج (Camouflage) کیا کہ ایک عالم اس کے دام میں آ گیا - پھر خانقاہیں بنیں ، ہا ہو کی محفلیں گرم ہوئیں ، قبریں اونچی کی گئیں ، قبے وجود میں آئے ، اور عرس و میلوں کی دھوم مچ گئی ، جبینوں میں سجدہ ہائے تعظیمی اور جیبوں میں نذرانے مچلنے لگے ، قرآن و حدیث کی جگہ ملفوظات و مکتوبات ، واردات نے لے لی ، "حضرت" ، "فنا فی الله" ہو کر "کبریائی" کے سنگھاسن پر بیٹھے اور اپنے پیچھے قیامت تک کے لئے "خدائی" کی ایک گدی اور "کِردگاری" کی ایک میراث چھوڑ گئے.......

    پھر کہیں جا کر اسلام کی شوکت پارہ پارہ ہوئی ، عصمتوں کے کفنوں کے تار ہوا میں بکھرے ، نونہالوں کے گرم و سیال خون کو دھرتی نے چوسا اور کَلرنگ بنی ، بستیوں سے دھواں اٹھا اور کھیتوں میں آگ لگی ، سبائی فتنہ گروں نے یقینی کامیابی کی خوشی میں قہقہے لگائے ، بلآخر اس اتحادی دین کی فتح اور اپنی ناکامی پر اسلام کا دمکتا ہوا چہرہ اُتر گیا!

    دنیا والے زمائہ حال کے یہودی دماغ پر عش عش کرتے ہیں کہ کس طرح اس نے سائنس کے کلیات و بدیہات کو زیر و زَبر کر ڈالا اور اپنے ایک سادہ سے فارمولے کے ذریعے ثابت کر دکھایا کہ سائنس والوں کا صدیوں کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ مادہ ناقابل تلف ہے اور یہ کہ مادہ بہرحال مادہ ہی رہے گا ، توانائی میں تبدیل ہو جائے ممکن نہیں - اس جرمن یہودی نے ثابت کر دکھایا کہ مادہ تلف ہو کر توانائی کی صورت اختیار کر سکتا ہے اور یہ جو پہلے کہا جاتا تھا کہ سائنس کے لحاظ سے مادہ کی بربادی ممکن نہیں ہے اس لئے کائنات کا برباد ہونا اور قیامت کا آنا بھی امر محال ہے ، یہ بات باقی نہ رہی اور سائنس کے لحاظ سے بھی قیامت کا وقوع ممکنات کے دائرے میں آ گیا - شروع شروع میں اس بات کو ماننے میں تامل ہوتا رہا لیکن جب جاپان کے دو شہروں نے صفحئہ ہستی سے مٹ کر اس کی صداقت کی گواہی دے دی تو دنیا والوں کومانے بغیر چارہ نہ رہا - کس قدر سادہ تھی اس جرمن یہودی سائنس داں کی مساوات (Equation) (E=MC2) (یا) ا = م س ٢ ("ا" سے توانائی ، "م" سے وزن مادہ اور "س" سے مراد رفتار روشنی) - لیکن حیف اس دنیا پر کہ اس نے تیرہ سو برس پہلے گزرے ہوۓ اس یمنی یہودی کی کچھ "قدر" نہ کی جس نے اس سے زیادہ سادہ مساوات کے ذریعے دو شہر نہیں ، دو عالم تہ و بالا کر ڈالے ، اور قرآن و حدیث کے مقابلے کے لئے ایک ایسے "اتحادی دین" کی داغ بیل ڈالی جس نے تھوڑے ہی عرصہ بعد مکمل غلبہ اور پوری سرفرازی حاصل کر کے قرآن و حدیث کا راستہ روک دیا! وہ سادہ تر مساوات یوں تھی: خ = پ ا٣ (یعنی "خدائی" = پیر کامل x اتحاد ثلاثہ) - پھر اس آفاقی فارمولے کے ذریعے وہ "بزرگ و برتر" ذاتیں عالم واقع میں نمودار ہوئیں جن کی آج دھوم مچی ہوئی ہے - دہرے غم انہوں نے سہے: کبھی "خدائی" کی دردِ سری انگیز کی اور کبھی بندگی کے دردِ جگر میں وہ مبتلا رہے -
     
  2. ‏نومبر 03، 2014 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

  3. ‏نومبر 03، 2014 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ابن السوداء کی روحانی ذریت سے کچھ بعید نہیں ہے اور تاریخ اسلام اس امر پر شاہد ہے کہ اتحاد بین الفریقین ایک دیوانے کی بڑ یا خواب ہی تو ہے
     
  4. ‏نومبر 03، 2014 #4
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مَا كَانَ اللَّـهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ

    تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔

    ابن سباء کی روحانی ذریت سے اتحاد کیسے ممکن ہے۔

    اپنے آپ کو سنی کہلوانے والے اگر اُن کے دامِ فریب میں پھنس چکے ہیں تو وہ وقت بہت قریب ہے جب یہ بھی ابن سباء کی روحانی اولاد بن جائیں گے۔

    افسوس اُن لوگوں پر ہے جو اس امر کا پرچار کرتے ہیں کہ شرکیہ نعرے لگانے کے باوجود اُن کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھو۔
     
  5. ‏نومبر 03، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ایک فریق جارحیت کے ساتھ اور دوسرا فریق دفاع کے ساتھ تو معاملات کیسے چل سکتے ہیں محرم کے آتے ہی سارا اتحاد اڑن چھو ہو جاتا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں