1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اتحاد بین المسلمین

'اعلانات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طارق عبداللہ, ‏ستمبر 30، 2015۔

  1. ‏ستمبر 30، 2015 #1
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام علیکم
    آجکل اتحاد بین المسلمین پر کافی لکها ، کها اور کیا جارها هے . اچهی بات اور کوشش هے . میری ذاتی رائے هے کے امت میں اختلاف صرف 2 طرح کے هیں ، ایک: جزوی اختلافات اور دو: بنیادی اختلافات.
    جزوی اختلافات اکثر فقہی اختلافات هیں جن پر گرفت هو هی نهیں سکتی کیونکہ شریعت الله نے آزادی دی هے . جزئیاتی اختلافات پر اتحاد پهلے هوا هے ، آج بهی هے اور ان شاء اللہ مستقبل میں بهی هوگا.
    اب آجاتے هیں اسلام کی بنیادوں سے اختلاف پر.. بنیاد سے اختلاف کا سیدها مطلب دین سے خروج هے اسلام کی بنیاروں سے اختلاف رکهنے اور کرنے والے هم میں سے نهیں.. نہ تو ایسوں سے اتحاد پهلے هوا هے نہ هی آج یا مستقبل میں کیا جاسکتا هے .
    یہ تو میں نے اپنی کهی . آپکی رائے میں کیا ممکنات میں هے ایسا کوئی اتحاد؟
     
  2. ‏اکتوبر 01، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    فقہیات کا اکثری اختلاف گویا جزوی اختلاف ہے ، اس کا مطلب فقہیات میں بھی بعض اختلافات ایسے ہیں جو بنیادی ہیں ۔
    جزوی اختلاف کی تو آپ نے قدرے وضاحت کردی ،دین کی بنیادوں سے اختلاف سے آپ کی کیا مراد ہے ؟
     
  3. ‏اکتوبر 01، 2015 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ﺍﺳﻼ‌ﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﭻ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﭘﺮ ﮨﮯ- ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :ﺑُﻨِﻲَ ﺍﻹ‌ِﺳْﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠٰﯽ ﺧَﻤْﺲٍ : ﺷَﻬَﺎﺩَﺓِ ﺃﻥْ ﻟَّﺎ ﺇِﻟٰﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﷲُ ﻭَﺃﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﺭَﺳُﻮْﻝُ ﺍﷲِ، ﻭَﺇِﻗَﺎﻡِ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ، ﻭَﺇِﻳْﺘَﺎﺀِ ﺍﻟﺰَّﮐَﺎﺓِ، ﻭَﺍﻟْﺤَﺞِّ، ﻭَﺻَﻮْﻡِ ﺭَﻣَﻀَﺎﻥَ.
    شہادت میں توحید اور ختم رسالت مشروط ہیں.
    بنیاد سے مراد ایسے اقوال اور اعمال بهی ہیں جنکا کہنا اور کرنا کفر هو۔
    کیا پتہ میں تشفی بخش جواب دے پایا یا نہیں لیکن اتحاد بین المسلمین کی شرائط میں اول شرط خالص توحید اور ختم رسالت تو هونی هی چاهئے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 03، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شاید آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ امت کے اندر اتفاقی باتیں زیادہ ہیں ، جبکہ اختلافی کم ، اور ان اختلافی امور میں سے بھی زیادہ ایسے ہیں کہ اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی انسان پر کفر یا فسق کا فتوی نہیں لگتا ، اور ایسی اختلافی باتوں کی تعداد کم ہے جن میں معاملہ کفر و شرک اور فسق و فجور تک پہنچتا ہو ۔۔
     
  5. ‏اکتوبر 03، 2015 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    1. ”اتحاد بین المسلمین“ تو ممکن ہے، لیکن ”اتحاد بین المختلفین“ ممکن نہیں ہے، الا یہ کہ ہم ”تقیہ“ یا ”منافقت“ کا دامن تھام کر ”اتحاد“ کرنے کی کوشش کریں۔
    2. کند ہم جنس، باہم جنس پرواز ؛ کبوتر با کبوتر، باز با باز ۔ ایک فطری اور پائیدار اتحاد اس طرح ہوتا ہے کہ ایک جیسے فکر کے لوگ از خود ایک ساتھ چل پڑتے ہیں، جیسے کبوتر، کبوتروں کے ساتھ اور باز، بازوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔
    3. اسلام کے حوالہ سے ”اتحاد کا فارمولہ“ تو خود اللہ نے قرآن میں پیش کیا ہوا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ”سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن و حدیث) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (آلِ عمران۔ 103)
    4. اگر ہم اللہ کے اس فارمولہ پر ”متفق“ ہوجائیں اور یہ طے کرلیں کہ ”دین اسلام“ صرف اور صرف اُنہی عقائد، عبادات، مذہبی رسومات اور معاملات کو مانیں گے جو دائرہ قرآن و صحیح احادیث کے اندر ہیں، تو ہمارا باہمی اختلاف تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ اور ہم میں ایک ”فطری اتحاد“ پیدا ہوجائے گا جو دیرپا بھی ہوگا اور امت کے لئے فائدہ مند بھی۔
    5. وگرنہ اس روئے زمین پر ”اتحاد بین المسلمین“ کے نام پر جتنے بھی ”اتحاد بین المختلفین“ بنتے رہیں گے، وہ سب کے سب ”منافقت“ کا شاخسانہ ہی ثابت ہوں گے۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
  6. ‏اکتوبر 03، 2015 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    محترم خضر صاحب
    میری کہی بات مزید قوی اور مزید واضح طور پر یوسف صاحب نے بطور جواب پیش کی هے انکا بیحد شکریہ۔
    مقصود کلام اور اسکے پیچهے تشویش بهی وهی تهی کہ آخر اتفاق واتحاد کسطرح ممکن هو سکتا هے ان سےجو اساسیات دین کے انکاری هیں ۔
    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں