1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اتخابی سیاست

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏مارچ 30، 2013۔

  1. ‏مارچ 30، 2013 #31
    sufi

    sufi رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2012
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    303
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    Voting ki mukhalifat karne walay batain k Akhir Musalman apny Badshah/Amir/saddar ka intikhab kaisy karainge ?
    Kia shuraa key zariye se ?
    Tu Shuraa ka intikhaab kon aur kaise karega ?
     
  2. ‏مارچ 31، 2013 #32
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہ گفتگو مبہم نہیں ہے۔۔۔
    جب آپ ایک نظام کو خود صحیح اور درست نہیں سمجھ رہے تو اس پورے نظام کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کرتے؟؟؟۔۔۔ یہاں مجھے کنعان بھائی سے مدد درکار ہے تاکہ وہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں۔۔۔ یہ کہ مورگیج پر گھر لینا کیا ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے اور کیا اس میں سود ہوتا ہے۔۔۔
    والسلام علیکم۔۔۔
     
  3. ‏مارچ 31، 2013 #33
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    مارگیج

    السلام علیکم

    آپ نے مجھے اس قابل سمجھا اس پر شکریہ۔ مورگیج پر میں آپکو تمام آگاہی کروں گا مگر اس پر کیا درست ھے اور کیا غلط اس سے میری معذرت ہو گی کیونکہ اس پر ہر کسی کی اپنی ڈیسیزن ھے وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس پر کیا فیصلہ لیتا ھے اس پر اس کی زاتی رائے جو بھی ہو گی وہی بہتر سمجھتا ھے، مجھے اگر میری رائے پوچھیں گے تو بعد میں بتا دوں گا۔

    مورگیج :
    یہاں پر اگر کوئی کونسل سے گھر کرایہ پر لیتا ھے تو پرائیویٹ لینڈر کی نسبت اس گھر کا کرایہ آدھا ہوتا ھے۔

    کونسل کے گھر میں پہلے دو سال کی لمٹ تھی [SUP](اب شائد کچھ زیادہ وہ گئی ہو کتنی ھے مجھے نہیں معلوم)[/SUP] کونسل کے اسی گھر جس میں آپ کو رہتے ہوئے دو سال ہو گئے ہوں آپ یہ گھر کونسل سے خرید سکتے ہیں جس پر اس گھر میں مارکیٹ میں جو قیمت لگے گی اس پر کونسل آپکو ٣٠ فیصد کم کر دے گی۔ یعنی اگر گھر کی قیمت ١ لاکھ روپے لگی ھے تو کونسل آپکو وہ گھر ٧٠ ہزار میں بیچے گی۔ اگر آپ دو سال میں گھر نہیں خریدتے تو پھر جتنے سال بعد آپ گھر خریدنا چاہیں اس پر آپکو انتے فیصد ریٹ کونسل اور کم کر دے گی۔

    کونسل کو اس پر پیمنٹس کرنے کے لئے آپکو مختلف کمپنیاں ہیں یہاں جو فنانس دیتی ہیں اور اسی طرح کچھ بینک اینڈ بلڈنگ سوسائٹی بھی ہیں جو فنانس دیتی ہیں۔ سب کے چارج ریٹ مختلف ہیں اس لئے جس کا ریٹ کم ہو اسے سے کنٹریکٹ بنوا لیں۔

    فنانس کمپنی ساری پیمنٹ کونسل کو ادا کرے گی اور گھر کے کاغذات اپنے پاس رکھے گی، آپ گھر کے مالک ہونگے۔ فنانس کمپنی اپنا ١٠ فیصد یا جتنا انٹرسٹ سیٹ اپ ہو گا وہ آپ سے کیش یا چیک کی صورت میں یکمشت اکٹھا لے گی اس کے بعد جو کرایہ آپ اسکا ماہانہ ادا کر رہے ہیں اس پر بقیہ رقم کے کتنے سال بنتے ہیں اس میں سیٹ اپ کر دے گی۔ جس پر آپ آسانی سے مارگیج رقم ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ ھے بھائی موگیج، فنانس کمپنی یا بینک سے دینا ھے اور اس نے اپنی رقم پر ٢٠ سال واپسی پر انتظار کرنا ھے جس پر اس کپمنی میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں بھی انہوں نے ادا کرنی ھے اور پیپر بھی کالے کرنے ہیں۔

    آپ نے ایک لاکھ میں گھر لیا ١٠ سال یا ٢٠ سال بعد اس کی ویلیو بھی بڑھے گی مثلاً اگر میں نے ١ لاکھ پر ٢٠ انٹرسٹ دیا تو وہی گھر اتنے سالوں میں ٢٠ لاکھ کا ہو گا۔

    اب آپ خود ہی دیکھ لیں اس پر کیا کرنا ھے۔

    والسلام
     
  4. ‏مارچ 31، 2013 #34
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    سب سے پہلے تو میں کنعان بھائی کا بےحد ممنون ہوں کے آپ نے میری درخواست پر بڑی مفید معلومات فراہم کیں۔۔۔
    اب میں اُن بھائیوں سے مخاطب ہوں اس خبر کو پڑھیں ربط۔
    اور بتائیں کہ بھی تو طاغوتی نظام کا ایک حصہ ہے لیکن جس ملک میں یہ ہورہا ہے وہاں جمہوریت نہیں ہے۔۔۔
     
  5. ‏مارچ 31، 2013 #35
    سیف الاسلام

    سیف الاسلام مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2013
    پیغامات:
    35
    موصول شکریہ جات:
    123
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اس نظام سے حسب استطاعت بچیں اور دوسروں کو بچائیں۔
    لیکن اسے نظام طاغوت وغیرہ قابل غور ہے ۔؟؟
     
  6. ‏مارچ 31، 2013 #36
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    سیف الاسلام بھائی۔۔۔مجھے یہ بتائیں وہ کونسے عوامل ہیں جو اس نظام کو طاغوتی کہنے میں مانع ہیں۔۔۔۔
     
  7. ‏مارچ 31، 2013 #37
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کی گفتگو مبہم ہی ہے۔
    یہاں آپ مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ ہم آواز کیوں نہیں اٹھاتے، ان مذھبی جماعتوں کو بھی مشورہ دیجئے کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں جن کی باتیں لوگ مانتے بھی ہیں۔ لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یہ مذھبی جماعتوں کے قائدین ان کے دلوں کی کیفیت تو اللہ جانتا ہے، جہاں تک مجھے اندازہ ہے یہ لوگ صرف اپنی اپنی جماعتوں کو تقویت پہنچانے کی غرض سے اس نظام میں حصہ لیتے ہیں تاکہ جب وہ منتخب ہو کر اسمبلیوں میں بیٹھے گے تو اپنا مفاد حاصل کر سکیں گے۔
    ہم اس نظام کو غلط کہتے ہیں، کوئی پوچھے تو اسے بھی صاف بتاتے ہیں کہ یہ نظام غلط ہے، اور اسے غلط کہتے ہیں رہے گے جب تک اللہ کی توفیق ہے۔ ان شاءاللہ
    لیکن مختلف تاویلیں اور تحریفات کر کے ایک غلط چیز کو صحیح سمجھنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
     
  8. ‏مارچ 31، 2013 #38
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    السلام علیکم۔۔۔
    چلیں آپ ٹھیک فرمارہے ہیں۔۔۔ یہ غلط نظام ہے میں آپ کی تائید کرتا کے واقعی جمہوریت اسلام کے خلاف ہے۔۔۔ لیکن آپ خود جائزہ لیں جو الزامات آپ لگارہے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے قائدین کے دلوں کی کیفیت تو اللہ جانتا ہے۔۔۔ اس خیال کا آپ کے ذہن میں آنا ظاہر ہے اسی وجہ سے ہوگا کہ جو کردار مذہبی جماعتوں کو ریاست کے لئے ادا کرنا چاہئے تھا اس میں وہ ناکام رہیں۔۔۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ علماء دین کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا ایک اسلامی ریاست میں وہ اس ذمہ داری سے محروم رہے۔۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ نہ ہمارے پاس اسلامی نظام ہے اور ہمارے پاس طاغوتی نظام ابھی جو نظام چل رہا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کا نافذ کیا ہوا ہے اس سے شاید ہی کسی کو کوئی اختلاف ہو۔۔۔

    کل میں جرگہ پروگرام میں دیکھ رہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے احسان اللہ احسان صاحب فرما رہے تھے کہ ہم اس نظام سیکولر نظام کے خلاف ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں یہ اللہ کے نظام کے خلاف ہے۔۔۔ پھر انہوں نے تین جماعتوں کا نام لیا۔۔۔ مجھے کنفرم ہوگیا کہ ان پر جو خوارج ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ ان تین جماعتوں کے علاوہ باقی جتنی جماعتیں وہ بھی الیکشن میں جیب کر سیکولر نظام کو ہی نافذ العمل بنائیں گی۔۔۔ تو یہ کس شریعت اور کس اللہ کے نظام کی بات کرتے ہیں۔۔۔ دوسری چیز یہ پپٹس ہیں۔۔۔ جن کو پوری طرح پروٹوکول دیا جارہا ہے کہ وہ سوسائٹی یا معاشرے میں موجود ایک فرقے کے لئے دہشت کی علامت بننے رہیں۔۔۔۔ خیر بحث اپنے موضوع سے الگ ہورہی اس لئے اس کو یہیں موقوف کرتا ہوں۔۔۔

    آپ کو اگر جمہوریت یا اس سے منتخب اسمبلیوں پر اعتراض ہے تو اپنے ضمیر کی آواز کو بھی سنیں اور جو لنکس اور حقائق میں نے بتائیں خلافت کو دفن کرنے کے بعد قائم کئے جانے والے نظام کے حوالے سے اس پر اسی شدومد کے ساتھ اعتراض کیجئے تاکہ انصاف ہوسکے۔۔۔ جمہوریت میں آج بھی وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو خلافت کے بعد قائم ہونے والے نظاموں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔۔۔ بات ساری یہ ہی ہے آپ نے ابھی خلافت کے بعد قائم ہونے والے نظام میں زندگی نہیں گذاری لیکن جن لوگوں نے اس نظام کو اپنی زندگیوں کے آدھے حصے سے بھی زیادہ عمر کا حصہ دیا ہے کبھی اُن سے ملاقات کیجئے اُن کے ساتھ بیٹھئے تو آپ کو پتہ چلے گا ہم امریکہ یورپ کے خلاف ہیں۔۔۔ میں آپ کی بات نہیں کررہا۔۔۔ ایسی کون سی برائی نہیں جو اس معاشرے میں موجود نہ ہو۔۔۔ لیکن اس معاشرے میں آپ کو انصاف ملے گا۔۔۔ اس مثال دیتا ہوں۔۔۔

    برطانیہ میں حکومت نے ایک عالم دین کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جس کی سماعت ہوئی شاید اُن عالم دین کا تعلق اردن سے تھا وہ اس لئے مشہور تھے اشتعال انگیز تقاریر کیا کرتے تھے جب اُن پر کیس چلا تو وہاں کی عدالت نے مقدمہ اس گمان کو سامنے رکھتے ہوئے خارج کردیا ہے ہمیں لگتا ہے کہ اگر یہ ملزم اپنے ملک ڈپوٹ کرکے بھیجدیا جائے تو وہاں کی حکومت اس کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے گی۔۔۔ اس خبر کی تصدیق کنعان بھائی سے درخواست ہے اگر ان کی معلومات ہیں تو پیش کردیجئے

    اب آپ انصاف کیجئے! گوانتانامو کی جیل میں ہر ملک اور ہر قومیت کا بندہ موجود ہے جو مسلمان ہیں۔۔۔ جن کو افغانستان سے گرفتار کیا تھا اور باقی دیگر ممالک سے تو جن ممالک نے اپنے شہریوں کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔۔۔ وہ سب اسلامی ممالک ہیں اور برطانیہ ایک غیر مسلم ملک دیکھیں کتنا فرق ہے انصاف کا یہ کہلاتا ہے عدل جو ہماری میراث ہے اور کافروں نے نافذ کیا ہوا ہے اگر آپ اس سلسلے میں میری رہنمائی کرسکیں کے اس وقت کس اسلامی ملک میں عدل موجود ہے تو یقین کیجئے میں تیار ہوں وہاں ہجرت کرلئے ۔۔۔ یہ بات اس لئے نہیں کی آپ کو شرمندگی اٹھانی پڑے بلکہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک بھی اسلامی ملک ایسا نہیں جہاں پر عدل کا نظام نافذ ہو۔۔۔

    ارسلان بھائی! زمینی حقائق کو تسلیم کیجئے۔۔۔ خلافت کے علاوہ ہر نظام باطل نظام ہے۔۔۔ سوچ کو پختہ کیجئے۔۔۔ صرف جمہوریت ہی اسلام کے خلاف نہیں ہے۔۔۔ اسلام کے خلاف ہر وہ نظام ہے جس سے حبل اللہ ٹوٹتی ہو۔۔۔ اور امت ولاتفرقوا کی نصیحت کے باوجود متفرق ہوجائے۔۔۔ سرحدوں میں بٹ کر ہم ہر قوم اپنا الگ تشخص بنالے کہ۔۔۔ تم فلاں تو میں فلاں کی بدبودار نعروں میں خود ہو بدمست کرلیں۔۔۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظام ہمیں دیا تھا وہی نظام حق کا نظام ہے اس کے بعد یا اس کے علاوہ ہر نظام ہمارے لئے اتنا ہی باطل ہے جتنا آپ کے نزدیک جمہوریت۔۔۔ تاریخ کے کچھ اوراق پلٹتے ہیں۔۔۔ ہندوستان کی ایک بیٹی نے خط لکھا تو عرب کی سرزمین سے محمد بن قاسم نے جاکر تاریخ رقم کی۔۔۔ آج بھی وہی سرزمین ہے آج بھی ہندوستان میں اور برما میں اور فلسطین میں اور شام میں اور عراق میں اور افغانستان میں اور لیبیا میں مسلمان موجود ہیں۔۔۔ اور مصائب اور مظالم کا شکار ہیں۔۔۔ جغرافیائی نقشہ وہی ہے لیکن کیا کوئی محمد بن قاسم ہے؟؟؟۔۔۔ یہاں پر ہم کہیں گے ان للہ وان الیہ راجعون۔۔۔ لہذا اب جس نظام سے ہمارا قومی تشخص برقرار رہ سکتا ہے اب ہمیں اس کی طرف دیکھنا چاہئے۔۔۔ آپ اُمت بنانا چاہتے ہیں میری بھی یہ ہی خواہش ہے۔۔۔ لیکن کیسے؟؟؟۔۔۔ اس سوال کا جواب اگر نہیں ہے تو کیا ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اپنی بقاء کے اور اپنے تابناک مستقل سے بچنے کے لئے اپنی آنے والی نسل کی بقا کے لئے خلافت کے علاوہ کسی دوسرے نظام کا حصہ بن سکیں۔۔۔ بھلے وہ جمہوریت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔

    ارسلام بھائی! آپ کے نزدیک اگر جمہوریت کفر کا نظام ہے تو میرے نزدیک خلافت کے علاوہ ہر نظام کفر کا نظام ہے۔۔۔

    وما علینا الالبلاغ۔۔۔
    والسلام علیکم۔
     
  9. ‏مارچ 31، 2013 #39
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    میں نے بھی ایک تھریڈ میں گفتگو کےدوران اس بات کو واضح کیا تھا کہ اسلام کے نظام کے علاوہ ہر نظام باطل ہے۔
     
  10. ‏مارچ 31، 2013 #40
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    ابوقتادہ کو برطانیہ بدر کرنے کی کوشش ناکام


    ابوقتادہ کو برطانیہ بدر کرنے کی کوشش ناکام​

    [SUP]
    آخری وقت اشاعت: بدھ 27 مارچ 2013 ,‭ 17:17 GMT 22:17 PST[/SUP]

    ابوقطادہ اور برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے

    برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے کو ایک شدت پسند مسلمان مبلغ کو ملک بدر کرنے کی طویل جد و جہد کے آخری مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ابو قتادہ نامی یہ شدت پسند اردن میں دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    لندن کی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ حکومت ان لوگوں کو ملک بدر نہیں کر سکتی جن پر بیان لینے کے لیے تشدد کیے جانے کا خدشہ ہو۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے کے سلسلے میں پر عزم ہے، اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’اس دوران ہم اردن کے ساتھ مل کر ملک بدری کی راہ میں حائل قانونی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

    اپنے فیصلے میں لارڈ ڈائسن نے کہا کہ ابوقتادہ کو اردن بھیجنے سے ’انصاف کی عدم فراہمی کا واضح خطرہ موجود ہے۔‘

    ججوں نے کہا کہ عدالت یہ تسلیم کرتی ہے کہ قتادہ ’کو بہت خطرناک شخص سمجھا جاتا ہے،‘ لیکن یہ بات انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ’غیر متعلق‘ ہے۔

    ابوقتادہ اب جیل سے رہائی کی اپیل دائر کر سکتے ہیں جہاں انھیں امیگریشن کے قوانین کے تحت رکھا گیا ہے۔

    اپریل 1999 میں ابوقتادہ پر اردن میں ان کی غیرموجودگی میں دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

    ابوقتادہ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ کو کسی شخص کو ایک ایسے ملک میں نہیں بھیجنا چاہیے جس کا ’انسانی حقوق کا ریکارڈ مشکوک ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس بات کی ’ٹھوس اور پرزور شہادت موجود ہے‘ کہ ان کے موکل کو بیان دینے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    [SUP]ح[/SUP]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں