1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 24، 2013۔

  1. ‏اگست 24، 2013 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    مؤمل بن إسماعيل القرشى العدوى أبو عبد الرحمن البصرى۔
    آپ امام سفیان ثوری وغیرہ کے شاگر دہیں۔
    اور امام احمد ، امام علی ابن المدینی اوامام اسحاق بن راھویہ وغیرہ کے استاذ ہیں۔
    آپ کی احادیث بخاری تعلیقا ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں ہیں۔ دیکھئے:[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 176]
     
  2. ‏اگست 24، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    درج ذیل اقوال سے تضعیف ثابت نہیں ہوتی


    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    مؤمل كان يخطئ
    مؤمل غلطی کرتے تھے[علل أحمد رواية المروذي :ص: 60]۔

    عرض ہے کہ غلطیاں ثقہ رواۃ سے بھی ہوتی ہیں اس لئے محض غلطی کرنے کی وجہ سے کسی کو ضعیف نہیں کہہ سکتے ہیں ۔بلکہ ضعیف کہنے کے لئے ضروری ہے کہ راوی کی بکثرت غلطی ثابت ہو۔

    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى 275)سے ابوعبیدنے نقل کرتے ہوئے کہا:
    سألت أبا داود عن مؤمل بن إِسماعيل ، فعظمه ورفع من شأنه الا انه يهم في الشئ
    میں نے امام ابوداؤد سے مؤمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس راوی کی عظمت شان کو بیان کیا اور کہا : لیکن یہ بعض چیزوں میں غلطی کرتے ہیں[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 178]۔

    عرض ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی محض بعض چیزوں میں انہیں غلطی کرنے والا کہا ہے یعنی ان کی غطیاں امام ابوداؤد کے نزدیک کم ہیں۔


    امام يعقوب بن سفيان الفسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ومؤمل بن إسماعيل سني شيخ جليل ، سمعت سليمان بن حرب يحسن الثناء عليه يقول : كان مشيختنا يعرفون له ويوصون به ، إلاَّ أن حديثه لا يشبه حديث أصحابه ، حتى ربما قَال : كان لا يسعه أن يحدث وقد يجب على أهل العلم أن يقفوا عن حديثه ، ويتخففوا من الرواية عنه؛ فإنه منكر يروي المناكير عن ثقات شيوخنا ، وهذا أشد فلو كانت هذه المناكير عن ضعاف لكنا نجعل له عذرًا.
    مؤمل بن اسماعیل سنی اور جلیل القدر شیخ تھے ، میں نے سلیمان بن حرب سے ان کی عمدہ تعریف کرتے ہوئے سنا ۔آپ کہتے تھے: ہمارے مشائخ انہیں جانتے تھے اور ان سے طلب علم کے مشورہ دیتے تھے ۔مگران کی حدیث ان کے دیگر ساتھیوں جیسی نہیں ہے ، حتی کہ آپ نے بعض دفعہ کہا: آپ کے لئے حدیث بیان کرنا مناسب نہ تھا ، اور اہل علم پر واجب ہے کہ ان سے حدیث لینے میں محتاط رہیں اور ان سے بہت کم روایت کریں ، کیونکہ یہ منکر ہیں اور ہمارے ثقہ مشائخ سے مناکیر بیان کرتے ہیں ، اور یہ بہت بڑی بات ہے کیونکہ اگر یہ مناکیر ضعیف رواۃ سے بیان کی جاتیں توہم مؤمل کو معذور سمجھتے [المعرفة والتاريخ للفسوي: 3/ 52]

    اس قول میں سلیمان بن حرب نے مؤمل کو منکر کہنے کی وجہ یعنی ان پر جرح کاسبب یہ بتلایا ہے کہ ”یروی المناکیر“ (وہ منکر روایات بیان کرتے ہیں)۔
    اور اس بنیاد کسی کو منکر نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مناکیر روایت کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ روایت کرنے والا ہی اس کا ذمہ دار ہے۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    قلت: ما كل من روى المناكير يضعف
    میں کہتاہوں کہ: ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جو منکر روایات بیان کرے اسے ضعیف قراردیا جائے گا[ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 118]

    مولانا عبد الحي اللكنوي الحنفی(المتوفى1304):
    بين قولهم : هذا حديث منكر ، وبين قولهم : هذا الراوي منكر الحديث ، وبين قولهم : يروي المناكير فرق
    محدثین کے قول ”یہ راوی منکرالحدیث ہے“ اور ان کے قول ” یہ منکراحادیث بیان کرتا ہے“ میں فرق ہے۔[الرفع والتكميل ص: 200]

    مولانا آگے لکھتے ہیں:
    وَكَذَا لَا تَظنن من قَوْلهم فلَان روى الْمَنَاكِير اَوْ حَدِيثه هَذَا مُنكرونحو ذلك انه ضعيف
    اسی طرح محدثین کے قول فلاں نے منکر رویات بیان کی یا اس کی یہ حدیث منکر ہے یا اس جیسے الفاظ سے یہ ہر گز نہ سمجھو کہ یہ راوی ضعیف ہے[الرفع والتكميل ص: 201]

    رہی بات یہ کہ مؤمل نے جن مشائخ سے منکر روایات بیان کی ہیں وہ ثقہ تھے تو بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ ان اساتذہ سے اوپر کے رواۃ میں ضعف موجود نہ ہو۔

    عبد الباقي بن قانع(المتوفى351)نے کہا:
    صالح يخطئ
    ابن قانع نے کہا : یہ صالح ہے غلطی کرتاہے[تهذيب التهذيب لابن حجر: 10/ 339 ، وابن حجر ینقل کتابہ]
    عرض ہے کہ اس قول میں بھی صرف غلطی کرنے کی بات ہےاورمحض غلطی کرنے سے کوئی راوی ضعیف نہیں ہوجاتا کیونکہ بڑے بڑے ثقہ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    ربما أخطأ
    یہ کبھی کبھار غلطی کرتے تھے[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 9/ 187]۔

    عرض ہے کہ کبھی کبھار غلطی کرنے سے کوئی راوی ضعیف نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا بکثرت غلطی کرنا ثابت نہ ہو۔

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
    صدوق كثير الخطأ
    یہ سچے ہیں اور زیادہ غلطیاں کرنے والے ہیں[سؤالات الحاكم للدارقطني: ص: 276]۔

    امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اس قول سے بھی تضعیف ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ خود امام دارقطنی رحمہ اللہ نے مؤمل بن اسماعیل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    إسناد صحيح
    اس کی سند صحیح ہے[سنن الدارقطني: 2/ 186]

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام دارقطنی کے قول میں ”کثیر الخطاء“ سے مراد متعدد بار غلطی کرنا ہے یا غیر قادح غلطی کرنا ہے ۔ کیونکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ ان کی روایات کو صحیح بھی کہتے ہیں لہٰذا ان دونوں طرزعمل میں تطبیق دینا ضروی ہے ۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اپنی ضعفاء والی کتاب میں مؤمل کا تذکرہ نہیں کیاہے۔

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
    مؤمل بن إسماعيل وثقه ابن معين وضعفه الجمهور
    مؤمل بن اسماعیل کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے او جمہور نے ان کی تضعیف کی ہے[مجمع الزوائد للهيثمي: 5/ 63]

    عرض ہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کے اس جملہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مؤمل بن اسماعیل ضعیف ہے کیونکہ یہاں پر امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اپنے الفاظ میں مؤمل پر جرح نہیں کی ہے اور دوسرے مقامات پر اپنے الفاظ میں امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مؤمل کو ثقہ کہا ہے کماسیاتی۔
    نیز امام ہیثمی رحمہ اللہ کا یہ کہنا بھی محل نظر ہے کہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیساکہ تفصیل آرہی ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    صدوق سيء الحفظ
    آپ سچے ہیں ، برے حافظہ والے ہیں[تقريب التهذيب لابن حجر: رقم7029]

    عرض ہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے نزدیک اس صیغہ سے تضعیف مراد نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کے نزدیک ایسا راوی حسن الحدیث ہوتا ہے دیکھئے: یزید بن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی جائزہ : ص681-682

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ایک دوسری کتاب میں کہا:
    في حديثه عن الثوري ضعف
    سفیان ثوری سے مؤمل کی حدیث میں ضعیف ہے[فتح الباري لابن حجر 9/ 239]

    عرض ہے کہ غالبا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ بات امام ابن معین کی طرف منسوب ایک قول کی بنیاد پر کہی ہے چنانچہ ابن حجررحمہ اللہ سے قبل اس طرح کی بات امام ابن معین سے ابن محرز نے نقل کی ہے دیکھئے:[معرفة الرجال لابن معين: 1/ 114]
    لیکن ابن محرز مجہول ہے اس کے ثقہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ۔
    نیز خود ابن معین رحمہ اللہ سے ان کے شاگرد امام عثمان الدارمي رحمه الله (المتوفى280)نے کہا:
    قلت ليحيى بن معين أي شيء حال المؤمل في سفيان فقال هو ثقة قلت هو ثقة قلت هو أحب إليك أو عبيد الله فلم يفضل أحدا على الآخر
    میں نے امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے کہا: سفیان ثوری کی حدیث میں مؤمل کی حالت کیسی ہے تو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کہا: وہ ثقہ ہیں ۔ میں نے کہا: وہ ثقہ ہیں تو یہ بتائیں کہ آپ کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہیں یا عبیداللہ ؟ تو امام ابن معین نے ان دونوں میں کسی کو بھی دوسرے پر فضیلت نہیں دی[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 374 واسنادہ صحیح]
    امام ابن رجب رحمہ اللہ نے اسی قول کو عثمان بن سعید کی کتاب سے نقل کیا ہے دیکھئے: [شرح علل الترمذي لابن رجب ص: 274]

    نوٹ: اس قول کو ابن ابی حاتم نے اپنے استاذ”يعقوب بن إسحاق“ سے نقل کیا ہے اوریہ ثقہ ہیں کیونکہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ان سے روایت بیان کی ہے اور ان پر کوئی جرح موجود نہیں ہے دیکھئے: ص۔۔۔

    معلوم ہوا کہ امام ابن معین رحمہ اللہ سے یہ بات ثابت ہی نہیں ہے کہ انہوں نے مؤمل کو سفیان ثوری کے طریق میں ضعیف کہا ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ثابت ہے کہ امام ابن معین نے مؤمل کو سفیان ثوری کے طریق میں ثقہ قرار دیا ہے ۔
     
  3. ‏اگست 24، 2013 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    درج ذیل اقوال ثابت نہیں ہیں


    امام مزي رحمه الله (المتوفى742)نے کہا:
    وقال البخاري : منكر الحديث
    امام بخاری نے کہا: یہ منکرالحدیث ہے[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 178]

    عرض ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ قول ثابت نہیں ہے ۔ بلکہ امام مزی سے یہ قول نقل کرنے میں غلطی ہوئی ہے ۔دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے ”مؤمل بن سعيد بن يوسف“ کو منکرالحدیث کہا ہے ۔اورامام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب میں اسی نام سے پہلے ”مؤمل بن اسماعیل“ کا تذکرہ ہے ۔ چونکہ امام بخاری کی کتاب میں دونوں نام ایک ساتھ مذکور ہیں اس لئے جلدبازی میں امام مزی سے چوک ہوگئی اور دوسرے راوی سے متعلق امام بخاری کی جرح کو پہلے راوی سے متعلق سمجھ لیا۔
    ذیل میں اس بات کے تین دلائل ملاحظہ ہوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے مؤمل بن اسماعیل کو منکرالحدیث نہیں کہا ہے:
    پہلی دلیل :
    امام بخاری کی اپنی کتاب التاریخ الکبیر میں مؤمل بن اسماعیل کا تذکرہ یوں ہے:
    مؤمل بن إسماعيل، أبو عبد الرحمن.مولى آل عمر بن الخطاب القرشي.سمع الثوري، وحماد بن سلمة.مات سنة خمس، أو ست، ومئتين.البصري، سكن مكة.
    مؤمل بن اسماعیل ، ابوعبدالرحمن ،مولی آل عمربن الخطاب القرشی ۔ انہوں نے سفیان ثوری اورحمادبن سلمہ سے سناہے اور205 یا 206 میں آپ کی وفات ہوئی ہے ہے آپ بصری تھے اورمکہ میں سکونت پذیر تھے[التاريخ الكبير للبخاري: 8/ 49]

    قارئیں غورفرمائیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے مؤمل بن اسماعیل کے پورے تذکرہ میں کہیں بھی انہیں منکرالحدیث نہیں کہا ہے۔
    البتہ ان کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے ”مؤمل بن سعيد بن يوسف“ کا تذکرہ کیا اورکہا:
    مؤمل بن سعيد بن يوسف، أبو فراس، الرحبي، الشامي.سمع أباه، سمع منه سليمان بن سلمة.منكر الحديث.
    مؤمل بن سعید بن یوسف ، ابوفراس ، الرحبی ، الشامی ، انہوں نے اپنے والد سے سنا اوران سے سلیمان بن سلمہ نے سنا یہ منکرالحدیث تھے[التاريخ الكبير للبخاري: 8/ 49]

    معلوم ہواکہ امام بخاری نے مؤمل بن اسماعیل کو نہیں بلکہ اس کے بعد مذکور مؤمل بن سعید کو منکرالحدیث کہاہے۔
    دوسری دلیل:
    اگر امام بخاری نے مؤمل بن اسماعیل کو منکر الحدیث کہا ہوتا تو امام بخاری رحمہ اللہ اس کاتذکرہ اپنی ضعفاء والی کتاب میں بھی کرتے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعفاء والی کتاب میں مؤمل بن اسماعیل کا تذکرہ نہیں کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک مؤمل بن اسماعیل منکرالحدیث ہرگز نہیں۔
    تیسری دلیل:
    امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں مؤمل بن اسماعیل سے شواہد میں روایات لی ہیں کماسیاتی ، اور اگرامام بخاری کے نزدیک یہ منکرالحدیث ہوتے تو امام بخاری رحمہ اللہ ان سے شواہد میں بھی روایات نہیں لیتے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ کا خود کہنا ہے :
    كل من قلت فيه منكر الحديث فلا تحل الرواية عنه
    میں نے جسے بھی ”منکرالحدیث“ کہا ہے اس سے روایت لینا جائز نہیں ہے[بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 2/ 264 بحوالہ التاريخ الأوسط للبخاري]

    ان دلائل سے معلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے مؤمل بن اسماعیل کو منکرالحدیث نہیں کہا ہے بلکہ اس کے بعد مذکور اسی نام کے دوسرے راوی مؤمل بن سعید کو منکرالحدیث کہاہے لیکن امام مزی رحمہ اللہ سے سبقت نظر کی وجہ سے دوسرے راوی پر کی گئی جرح پہلے راوی سے متعلق نقل ہوگئی ۔

    بطور فائدہ عرض ہے کہ سبقت نظر کی وجہ سے نقل میں اسی طرح کی غلطی ایک دوسرے مقام پر حافظ ابن حجررحمہ اللہ سے بھی ہوئی ہے چنانچہ:
    ”أبو علي جندل بن والق“ نام کا ایک راوی ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں امام مسلم سے سخت جرح نقل کرتے ہوئے کہا:
    قال مسلم في الكنى متروك
    امام مسلم ''الکنی'' میں فرماتے ہیں کہ یہ متروک ہے[تهذيب التهذيب لابن حجر: 2/ 102]

    عرض ہے کہ الکنی میں ''أبو علي جندل بن والق'' کاذکر موجود ہے لیکن اس کے کسی بھی دستیاب نسخہ میں اس راوی پر یہ جرح نہیں ملتی بلکہ اس کے فورا بعد جو دوسرا راوی ''أبو علي الحسن بن عمرو'' ہے اس کے بارے میں امام مسلم کی جرح متروک موجود ہے۔
    ظن غالب ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے امام مسلم کی جرح نقل کرنے میں سہو ہوا ہے اور سبقت نظر کے سبب بعدوالے راوی سے متعلق جرح کو پہلے والے راوی سے متعلق سمجھ لیا واللہ اعلم۔

    یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے امام مزی رحمہ اللہ نے مومل بن اسماعیل سے متعلق امام بخاری کی جرح منکر الحدیث نقل کردی حالانکہ امام بخاری کی کتاب میں مُؤَمَّل بْن إِسماعِيل کاذکر موجود ہے لیکن اس کے کسی بھی دستیاب نسخہ میں اس راوی پر یہ جرح نہیں ملتی بلکہ اس کے فورا بعد جو دوسرا راوی''مُؤَمَّل بْن سَعِيد''ہے اس کے بارے میں امام بخاری کی جرح منکرالحدیث موجود ہے۔
    ظن غالب ہے کہ امام مزی رحمہ اللہ سے امام بخاری رحمہ اللہ کی جرح نقل کرنے میں سہو ہوا ہے اور سبقت نظر کے سبب بعدوالے راوی سے متعلق جرح کو پہلے والے راوی سے متعلق سمجھ لیا ۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے امام ابوزرعہ(المتوفى264) سے کہا:
    في حديثه خطأ كثير
    اس کی حدیث میں بہت غلطی ہے[ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 228]

    عرض ہے کہ یہ قول امام ابوزرعہ سے ثابت نہیں ہے نیز دوسرے کسی بھی امام نے امام ابوزرعہ سے مؤمل پر جرح نقل نہیں کی ہے ۔

    ابن محرز مجہول و نا معلوم التوثیق نے ابن معین سے نقل کیا:
    قبيصة ليس بحجة فى سفيان ولا ابو حذيفة ولا يحيى بن آدم ولا مؤمل
    قبیصہ سفیان کی روایت میں حجت نہیں ہے اور نہ ہی ابوحذیفہ اور نہ ہی یحیی بن آدم اور نہ ہی مؤمل [معرفة الرجال، رواية ابن محرز: 1/ 114]

    عرض ہے کہ یہ قول امام ابن معین رحمہ اللہ سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اسے نقل کرنے والا ابن محرز مجہول و نامعلوم التوثیق ہے۔
    نیز امام ابن معین اس سے بالکل برعکس بات ثابت ہے وہ یہ کہ امام ابن معین رحمہ اللہ سفیان ثوری کی روایت میں مؤمل کو ثقہ کہا ہے چنانچہ:

    امام عثمان الدارمي رحمه الله (المتوفى280)نے کہا:
    قلت ليحيى بن معين أي شيء حال المؤمل في سفيان فقال هو ثقة قلت هو ثقة قلت هو أحب إليك أو عبيد الله فلم يفضل أحدا على الآخر
    میں نے امام یحیی بن معین رحمہ اللہ سے کہا: سفیان ثوری کی حدیث میں مؤمل کی حالت کیسی ہے تو امام ابن معین رحمہ اللہ نے کہا: وہ ثقہ ہیں ۔ میں نے کہا: وہ ثقہ ہیں تو یہ بتائیں کہ آپ کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہیں یا عبیداللہ ؟ تو امام ابن معین نے ان دونوں میں کسی کو بھی دوسرے پر فضیلت نہیں دی[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 374 واسنادہ صحیح]
    امام ابن رجب رحمہ اللہ نے اسی قول کو عثمان بن سعید کی کتاب سے نقل کیا ہے دیکھئے: [شرح علل الترمذي لابن رجب ص: 274]

    امام مزي رحمه الله (المتوفى742)نے بغیر کسی حوالہ کے کہا :
    وَقَال غيره : دفن كتبه فكان يحدث من حفظه ، فكثر خطؤه
    دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ اپنی کتابیں دفن ہونے کے یہ اپنے حافظ سے روایت کرتے تھے تو ان سے بکثرت غلطیاں ہوئیں[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 178]

    عرض ہے کہ یہ قول بھی ثابت نہیں ہے نیز قائل کا بھی نام معلوم نہیں ۔
     
  4. ‏اگست 24، 2013 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جارحین کے اقوال

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    صدوق شديد في السنة كثير الخطأ يكتب حديثه
    یہ سچے اور کٹرسنی ہیں ، زیادہ غلطی کرنے والے ہیں ان کی حدیث لکھی جائے گی[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 374]۔

    یادرہے کہ امام ابوحاتم متشددین میں سے ہیں چنانچہ
    امام ذهبي رحمه الله نے کہا:
    فإنه متعنت في الرجال
    امام ابوحاتم راویوں پرکلام کرنے میں متشدد ہیں[سير أعلام النبلاء للذهبي: 13/ 260]

    حافظ ابن حجر رحمه الله نے کہا:
    وأبو حاتم عنده عنت
    ابوحاتم کے یہاں تشدد ہے[مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 441]

    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
    مؤمل بن إسماعيل ثقة كثير الغلط
    مؤمل بن اسماعیل ثقہ ہیں اور زیادہ غلطی کرنے والے ہیں[الطبقات الكبرى ط دار صادر 5/ 501]
    امام ابن سعد جمہور کے خلاف جب جرح کرین تو معتبر نہیں جیسا کہ حافظ بن حجررحمہ اللہ کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے دیکھئے:[مقدمة فتح الباري 2/ 322 ].


    امام مروزي رحمه الله (المتوفى294)نے کہا:
    إذا انفرد بحديث وجب أن توقف ويتثبت فيه لأنه كان سيء الحفظ كثير الغلط
    جب یہ کسی حدیث کی روایت میں منفرد ہوں تو توقف کیا جائے گا اور چھان بین کی جائے گی ، کیونکہ یہ برے حافظہ والے تھے اور زیادہ غلطی کرتے تھے[تعظيم قدر الصلاة 2/ 574]۔

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى:303)نے کہا:
    مؤمل بن إسماعيل كثير الخطأ
    مؤمل بن اسماعیل زیادہ غلطی کرنے والے تھے[سنن النسائي الكبرى 6/ 26]۔

    یادرہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ جرح کرنے میں متشدد ہیں چنانچہ:
    امام ذہبی نے ایک مقام پر کہا:
    والنسائي مع تعنته في الرجال، فقد احتج به
    امام نسائی نے راویوں پر جرح میں متشدد ہونے کے باوجود ان سے حجت پکڑی ہے[ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 437]

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کہا:
    وقد احتج به النسائي مع تعنته
    امام نسائی نے متشدد ہونے کے باوجود ان سے حجت پکڑی ہے[مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 387]

    امام زكريا بن يحيى الساجى رحمه الله (المتوفى307)نے کہا:
    صدوق كثير الخطأ
    یہ سچے ہیں اور زیادہ غلطی کرنے والے ہیں[تهذيب التهذيب لابن حجر: 10/ 339]۔

    یادرہے کہ امام ساجی بھی جرح کرنے میں متشدد ہیں کیونکہ آپ نے بہت سارے رواۃ پر بلاوجہ کلام کیا ہے جیساکہ امام ذہبی اور حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کئی مقامات پر وضاحت کی ہے مثلا:
    امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایک مقام پر کہا:
    وضعفه زكريا الساجي بلا مستند
    زکریا ساجی نے انہیں بغیرکسی دلیل کے ضعیف کہا ہے[ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 47]

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے بھی ایک مقام پر کہا
    ضعفه الساجي بلا حجة
    ساجی نے انہیں بغیر کسی دلیل کے ضعیف کہاہے[مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 463]

    امام ساجی رحمہ اللہ سے متعلق اس طرح کی بات کئی مقامات پر کہی گئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام ساجی جرح میں متشدد ہیں۔

     
  5. ‏اگست 24، 2013 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    موثقین کے اقوال

    (25 بچیس محدثین سے مؤمل بن اسماعیل کی توثیق)​

    (1) امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233):
    آپ نے کہا:
    ثقة
    آپ ثقہ ہیں[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 3/ 60]

    (2) امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234):
    آپ نے مؤمل سے روایت لی ہے دیکھیں:[التاريخ الكبير للبخاري: 1/ 288 نیز دیگرکتب رجال]
    اور امام ابن المدینی صرف ثقہ سے ہی روایت کرتے ہیں دیکھئے:[تهذيب التهذيب لابن حجر: 9/ 114] نیز دیکھیں:[مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 435]

    (3) امام إسحاق بن ابن راهويه (المتوفی 238):
    آپ نے کہا:
    كان ثقة
    آپ ثقہ تھے [المزكيات لابی اسحاق المزکی:ص: 82 وسندہ حسن]۔

    (4) امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241):
    آپ نے مؤمل بن اسماعیل سے روایت کیا ہے دیکھئے:[مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 269]۔
    اور امام احمد رحمہ اللہ بھی صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں

    عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله نے کہا:
    كان أبي إذا رضي عن إنسان وكان عنده ثقة حدث عنه
    میرے والد جب کسی انسان سے راضی ہوتے اوروہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتا تو اس سے روایت کرتے تھے[العلل ومعرفة الرجال لأحمد: 1/ 238]

    امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
    روى عنه أحمد، وشيوخه ثقات
    ان سے امام احمد نے روایت کیا ہے اور امام احمد کے تمام اساتذہ ثقہ ہیں[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 1/ 199]
    نیز دیکھئے:[التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 2/ 659]

    جناب ظفراحمدتھانوی حنفی نے کہا:
    وکذا شیوخ احمد کلھم ثقات
    اسی طرح امام احمد کے تمام اساتذہ ثقہ ہیں[قواعد فی علوم الحدیث : ص 218]

    (5) امام بخاري رحمه الله (المتوفى256):
    آپ نے صحیح بخاری میں ان سے اشتشہاد کیا ہے دیکھئے:صحيح البخاري رقم 2700 ۔
    امام مزی رحمہ اللہ نے کہا:
    استشهد به البخاري.
    امام بخاری نے ان سے استشہادا روایت لی ہے[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 179]

    اورامام بخاری رحمہ اللہ جس سے استشہادا روایت لیں وہ عام طور سے ثقہ ہوتا ہے۔
    محمد بن طاهر ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)کہتے ہیں:
    بل استشھد بہ فی مواضع لیبین انہ ثقہ
    امام بخاری رحمہ اللہ نے ان (حمادبن سلمہ ) سے صحیح بخاری میں کئی مقامات پر استشہادا روایت کیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ یہ ثقہ ہیں [شروط الأئمة الستة:18]

    (6) امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى 275):
    آپ سے ابوعبیدنے نقل کرتے ہوئے کہا:
    سألت أبا داود عن مؤمل بن إِسماعيل ، فعظمه ورفع من شأنه الا انه يهم في الشئ
    میں نے امام ابوداؤد سے مؤمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس راوی کی عظمت شان کو بیان کیا اور کہا : لیکن یہ بعض چیزوں میں غلطی کرتے ہیں[تهذيب الكمال للمزي: 29/ 178]۔

    امام داؤد نے صرف معمولی جرح کی اور اس کے ساتھ ان کی عظمت شان کو بیان کیا ہے یہ سیاق اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابوداؤد کے نزدیک مؤمل ثقہ ہیں۔

    (7) امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    حسن صحيح
    یہ حدیث حسن صحیح ہے[سنن الترمذي ت شاكر 2/ 274 رقم 415]

    (8) امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310):
    آپ نے مؤمل بن اسماعیل کے ایک روایت کے بارے میں کہا:
    صح منها عندنا سنده
    ان احادیث کی سند ہمارے نزدیک صحیح ہے[تهذيب الآثار مسند عمر، للطبري: 1/ 8 ایضا : 1/ 21]

    (9) امام ابن خزيمة رحمه الله (المتوفى311):
    آپ نے مؤمل کی کئی احادیث کواپنی صحیح میں نقل کیا ہے جن میں سے ایک زیربحث حدیث بھی ہے۔

    (10) امام بغوي رحمه الله (المتوفى317):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    صحيح
    یہ صحیح ہے[شرح السنة للبغوي 6/ 377]

    (11) امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354):
    آپ نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے [الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 9/ 187]۔

    (12) امام أبو بكر ، الإسماعيلي (المتوفی371):
    امام اسماعیلی نے مستخرج علی صحیح البخاری میں مؤمل کی روایت درج کی ہے دیکھئے:[فتح الباري لابن حجر 13/ 33]

    (13) امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385):
    آپ نے مؤمل بن اسماعیل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    إسناد صحيح
    اس کی سند صحیح ہے[سنن الدارقطني: 2/ 186]

    (14) امام ابن شاهين رحمه الله (المتوفى385):
    آپ نے کہا:
    مؤمل المكي ثقة قاله يحيى
    مؤمل مکی ثقہ ہے امام ابن معین نے یہی کہا[تاريخ أسماء الثقات لابن ابن شاهين: ص: 231]

    (15) امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    هذا حديث صحيح الإسناد
    یہ حدیث صحیح الاسناد ہے[المستدرك على الصحيحين للحاكم (ط مقبل) 2/ 648]

    (16) امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456):
    آپ نے محلی میں اس کی روایت سے حجت پکڑی ہے دیکھئے:[المحلى لابن حزم: 4/ 74]۔
    اور آپ نے اس کتاب کے مقدمہ میں کہا:
    وليعلم من قرأ كتابنا هذا أننا لم نحتج إلا بخبر صحيح من رواية الثقات
    ہماری یہ کتاب پڑھنے والا جان لے کہ ہم نے صرف ثقہ رواۃ کی صحیح روایت سے ہی حجت پکڑی ہے
    [المحلى لابن حزم: 1/ 21]

    (17) امام ابن القطان رحمه الله (المتوفى628):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    وإسناده حسن
    اس کی سند حسن ہے[بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 5/ 84]

    (18) امام ضياء المقدسي رحمه الله (المتوفى643):
    امام ضياء المقدسي رحمه الله (المتوفى643) نے الأحاديث المختارة میں ان کی روایت لی ، دیکھئے :[ المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما 2/ 388 رقم 774وقال المحقق اسنادہ حسن]

    (19) امام منذري رحمه الله (المتوفى656):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    رواه البزار بإسناد حسن
    اسے بزار سے حسن سند سے روایت کیا ہے[الترغيب والترهيب للمنذري: 4/ 118]

    (20) امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    رواه ابن ماجه بإسناد حسن
    اسے ابن ماجہ نے حسن سند سے روایت کیا ہے[إغاثة اللهفان 1/ 342]

    (21) امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    كان من ثقات البصريين
    یہ بصرہ کے ثقہ لوگوں میں تھے[العبر في خبر من غبر 1/ 350]

    (22) امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا:
    آپ نے مؤمل کی ایک روایت کے بارے میں کہا:
    إسناد صحيح
    یہ سند صحیح ہے[تفسير ابن كثير / دار طيبة 3/ 52]

    (23) امام ابن الملقن رحمه الله (المتوفى804)نے کہا:
    مؤمل بن إسماعيل صدوق وقد تكلم فيه
    مؤمل بن اسماعیل صدوق ہے اور ان کے بارے میں کلام کیا گیاہے[البدر المنير لابن الملقن: 4/ 652]

    (24) امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
    آپ نے کہا:
    مؤمل بن إسماعيل، وهو ثقة وفيه ضعف
    مؤمل بن اسماعیل ثقہ ہیں اوران میں ضعف ہے[مجمع الزوائد للهيثمي: 8/ 111]

    (25) امام بوصيري رحمه الله (المتوفى840):
    آپ نے مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    هذا إسناد حسن
    یہ سند حسن ہے[اتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة 6/ 165]
     
  6. ‏اگست 24، 2013 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ترجیح


    گذشتہ سطور میں جارحین اورموثقین دونوں کے اقوال پیش کئے جاچکے ہیں ۔ان تامم اقوال کو بنظر غائر پڑھنے کے بعد ہرشخص اسی نتیجے پر پہونچے گا کہ مؤثقین کے اقوال ہی راجح ہیں ۔چنانچہ جرح وتعدیل میں تعارض کے وقت ترجیح کے جو بھی اصول ہیں ، ہر اصول کی روشنی میں مؤثقین کے اقوال ہی راجح قرار پائیں گے تفصیل ملاحظہ ہو:
     
  7. ‏اگست 24، 2013 #7
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    متشددین اور معتدلین کے اعتبار سے
    جرح وتعدیل میں تعارض کے وقت اگر جرح متشددین کی طرف سے ہو تو وہ رد کردی جاتی ہے۔
    اس اصول کے تحت بھی مؤمل بن اسماعیل پر کی گئی جرح قابل رد ہوگی کیونکہ ان پر خطاء کثیر کی جرح کرنے والوں کی اکثریت متشددین کی ہے جیساکہ متعلقہ مقامات پر وضاحت کی جاچکی ہے۔
    اور توثیق کرنے والوں میں امام احمد وغیرہ معتدلین میں سے ہیں ۔ بلکہ توثیق کرنے والوں میں کئی ایک متشددین میں سے بھی ہیں اور متشدددین جب توثیق کرتے ہیں تو ان کی توثیق بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
     
  8. ‏اگست 24، 2013 #8
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جرح مفسراورجرح غیرمفسر کے اعتبار سے
    اگرمفسر اور غیرمفسر کے لحاظ سے ترجیح دی جائے تو بھی مؤمل بن اسماعیل کی توثیق ہی راجح ہوگی ۔ کیونکہ جن لوگوں نے ان پر مفسر جرح کی ہے ان کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔ بعض نے زیادہ غلطی کرنے والا کہا ہے جبکہ بعض نے معمولی غلطی کرنے ولا کہا ہے اور اصولی طورپر انہیں کی بات راجح ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو:
    زیادہ غلطی کرنے کا الزام درج ذیل لوگوں نے لگایا ہے:

    1: امام ابوحاتم : كثير الخطأ (زیادہ غلطی کرنے والے تھے)۔
    2: امام ابن سعد : کثیر الغلط(زیادہ غلطی کرنے والے تھے)۔
    3: امام مروذی : کثیرالغلط(زیادہ غلطی کرنے والے تھے)۔
    4: امام نسائی: کثیرالخطاء(زیادہ غلطی کرنے والے تھے)۔
    5: ساجی: کثیرالخطاء(زیادہ غلطی کرنے والے تھے)۔

    اس کے برخلاف معمولی غلطی کا الزام درج ذیل لوگوں نے لگایاہے:

    1: امام احمد: مؤمل كان يخطئ(غلطی کرتے تھے(یعنی کبھی کبھار))۔
    2: امام ابوداؤ: يهم في الشئ۔(بعض چیزوں میں وہم کے شکارہوتے تھے)
    3: امام ابن حبان : ربما أخطأ(کبھی کبھارغلطی کرتے تھے)
    4:امام ہیثمی : و ثقة وفيه ضعف (ثقہ ہیں لیکن ان میں ضعف ہے ٍضعف سے مراد معمولی غلطی ہے)
    5: ابن قانع : صالح يخطئ (غلطی کرتے تھے(یعنی کبھی کبھار))۔
    ان تمام اقوال کے حوالے گذشتہ سطور میں پیش کئے جاچکے ہیں۔

    غورفرمائیں کہ جن محدثین نے بھی ان پر مفسرجرح کی ہے وہ آپس میں متفق نہیں ہیں بلکہ بعض مومل کو زیادہ غلطی کرنے والا بتلارہے اور بعض معمولی غلطی کرنے والا بتلارہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کس گروہ کی بات راجح ہے۔تو درج ذیل امور کی بناپر معمولی غلطی کی جرح کرنے والوں ہی کی بات راجح ہے۔
    اولا:
    زیادہ غلطی کرنے کی جرح جن محدثین نے کی ہے ان میں سے اکثر متشددین میں شمار ہوتے ہیں اور معتدلین کے خلاف متشددین کی جرح قابل قبول نہیں ہوتی۔
    ثانیا:
    کم غلطی کی جرح کرنے والوں میں امام ابن حبان جیسے متشدد بھی ہیں اور متشدد جب توثیق کریں تو ان کی توثیق کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔بنابریں جب ابن حبان جیسے متشدد بھی مؤمل کو معمولی غلطی کرنے والا بتلارہے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان غلطیاں زیادہ نہیں تھیں ورنہ ابن حبان رحمہ اللہ معمولی جرح نہ کرتے ۔
    ثالثا:
    معمولی غلطی کی جرح کرنے والوں میں سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ، مؤمل بن اسماعیل کے شاگرد ہیں یعنی مؤمل کے بارے میں اچھی طرح واقف ہیں جبکہ زیادہ جرح کرنے والوں میں کوئی بھی مؤمل کا شاگرد نہیں ہے اس لئے ظاہر ہے وہ مؤمل کے بارے میں مؤمل کے شاگردوں سے بہتر رائے نہیں دے سکتے ۔
     
  9. ‏اگست 24، 2013 #9
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جمہور کے اعتبار سے:
    اگر جرح وتعدیل کے اقوال میں تعارض کے وقت تطبیق یا ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہوتی ہے تو جمہور کے قول کو راجح قرار دیا جاتا ہے ۔ اس لئے اعتبار دیکھا جائے توبھی مؤمل بن اسماعیل کی توثیق ہی راجح ہوگی کیونکہ انہیں ثقہ کہنے والوں کی تعداد پر ان پرجرح کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔
     
  10. ‏اگست 31، 2013 #10
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    احناف کی شہادت


    احناف میں سے بھی کئی ایک نے مؤمل بن اسماعیل کو ثقہ تسلیم کیا ہے چنانچہ:

    مولانا ظفراحمد عثمانی حنفی مؤمل عن سفیان والی ایک سند کے بارے میں لکھتے ہیں:
    رجالہ ثقات
    اس کے رجال ثقہ ہیں [اعلاء السنن: ج2 ص915]

    علامہ عینی حنفی مؤمل کی ایک حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
    إسناده صح
    اس کی سند صحیح ہے [ج8 ص 197]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں