1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجماعِ اُمت حجت ہے

'مصادر شریعت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏نومبر 12، 2012۔

  1. ‏نومبر 12، 2012 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    9۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
    اس آیت کی تشریح میں ابو حیان محمد بن یوسف الاندلسی(متوفی ۷۴۵ھ) نے کہا:
    امام بخاری نے آیتِ مذکورہ کے بعد لکھا ہے :
    کرمانی نے کہا:
     
  2. ‏نومبر 12، 2012 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    10۔ سیدنا الحارث الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اجماع شرعی حجت ہے۔


    11۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین آدمیوں کا قتل جائز ہے:
    (۱) قاتل (۲) شادی شدہ زانی (۳) اور ’’والتارک لدینہ المفارق للجماعة ‘‘ (صحیح مسلم :۱۶۷۶ترقیم دارالسلام:۴۳۷۵واللفظ لہ صحیح البخاری :۶۸۷۸)
    اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے:

    12۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اُمت کا ایک طائفہ(گروہ) ہمیشہ حق پر غالب رہے گا۔الخ (صحیح مسلم ح۱۹۲۰، ترقیم دارالسلام :۴۹۵۰)
    اس کی تشریح میں علامہ نووی نے لکھا ہے:
     
  3. ‏نومبر 12، 2012 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    13۔ سعید بن جمہان (صدوق حسن الحدیث تابعی ) رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا : سلطان (حکمران) لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور یہ کرتا ہے اور وہ کرتا ہے ؟ تو سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ زور سے جھٹک کر فرمایا:
    اس حدیث میں سواد اعظم سے مراد مسلمانوں کا اجماع ہے۔


    14۔ مشہور ثقہ تابعی امام عمر بن عبد العزیز الاموی رحمہ اللہ نے (اپنی خلافت کے دوران میں ) چاروں طرف لکھ کر (حکم) بھیجا:
    ثابت ہوا کہ عمربن عبد العزیز رحمہ اللہ اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔
     
  4. ‏نومبر 12، 2012 #14
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    15۔ مدینہ طیبہ کے امام ابو عبداللہ مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمر الاصجی الفقیہ المحدّث رحمہ اللہ ( متوفی ۱۷۹ھ) نے اپنی مشہور کتاب موطأامام مالک میں کئی مقامات پر اجماع سے استدلال کیا ، مثلاً امام مالک نے فرمایا:
    اور فرمایا:
    تنبیہ بلیغ:
    ایک روایت میں آیا ہے کہ تین مساجد کے علاوہ اعتکاف نہیں ہے ، لیکن یہ روایت اصول حدیث کی رُو سے ضعیف ہے ۔ ( دیکھیئے میری کتاب : توضیح الاحکام ج۲ ص۱۴۷)
    موطأا مام مالک میں ’’ الأمر المجتمع ‘‘ کے بہت سے دیگر حوالے بھی ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ امام مالک رحمہ اللہ اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔


    16۔ امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اصل (دلیل) قرآن یا سنت (حدیث) ہے اور اگر (ان میں) نہ ہو تو پھر ان دونوں پر قیاس (اجتہاد ) ہے اور جب رسول اللہ (ﷺ)تک حدیث متصل (سند سے ) ہو اور سند صحیح ہو تو یہ سنت اور اجماع خبر واحد سے بڑا ہے ۔‘‘ الخ (آداب الشافعی و مناقبہ لا بن ابی حاتم ۱۷۷۔۱۷۸، وسند ہ صحیح الحدیث: ۷۹ ص۵۷)
    امام شافعی نے فرمایا:
    ثابت ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کتاب و سنت کے بعد اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔ نیز دیکھئےکتاب الرسالہ( ۱۱۲،۱۱۰۵،۱۳۰۹۔۱۳۲۰،۱۸۱۲۔۱ ۸۲۱) وغیر ذلک
     
  5. ‏نومبر 12، 2012 #15
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    17۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ کے بارے میں پوچھا گیا: کیا ان دونوں کے درمیان بسم اللہ احمٰن الرحیم سے فصل ( جدائی ) کرنا چاہیئے؟ انھوں نے فرمایا:
    ثابت ہوا کہ امام احمد رحمہ اللہ اجماع کو حجت سمجھتے تھے بلکہ انھوں نے اجتہادی غلطی سے ایک اختلا فی مسئلے (قراءت خلف الامام) پر بھی اجماع کا دعویٰ کر دیا ۔! (دیکھیئے مسائل احمد ،روایۃ ابی داود ص۳۱قولہ:’’ أجمع الناس أن ھذہ (الآیۃ) فی الصلٰوۃ‘‘!!!)
    فائدہ:
    امام ابراہیم بن ابی طالب النیسابوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے احمد (بن حنبل) سے امام کی جہری حالت میں قراءت کے بارے میں پوچھا ؟ تو انھوں نے فرمایا:’’ یقرأ بفاتحة الکتاب‘‘ سورۃ فاتحہ پڑھے۔( تاریخ نیسابورللحاکم بحوالہ سیر اعلام النبلاء للذہبی۱۳؍۵۵۰۔۵۵۱ وسندہ صحیح)
    معلوم ہوا کہ مسائل ابی داؤد والا (مشار الیہ) قول منسوخ ہے۔ والحمد للہ
    اگر کوئی کہے کہ امام احمد نے فرمایا:
    تو اس کی وضاحت میں عرض ہے کہ یہ قول اس شخص کے بارے میں ہے جو اختلافی مسائل میں علم ہو نے کے باجود اختلافی چیز پر اجماع کا دعویٰ کرے۔
    مولانا محمد عطا ء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
    فائدہ:
    ’’ تلزم جماعة المسلمین وإمامھم ‘‘ اور ’’ الجماعة‘‘ والی آحادیث کا معنی تو آپ نے پڑھ لیا، اب ’’ وإمامھم‘‘ کا معنی پیشِ خدمت ہے:
    امامِ اہلسنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے میتۃ جاھلیۃ والی حدیث کے بارے میں فرمایا: کیاتجھے پتہ ہے کہ (اس حدیث میں ) امام کسے کہتے ہیں؟ جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو جائے، ہر آدمی یہی کہے کہ یہ(خلیفہ) امام ہے، پس اس حدیث کا یہی معنی ہے۔ (سوالات ابن ہانی : ۲۰۱۱، علمی مقالات ج۱ص۴۰۳، بتصرف یسیر)
    ثابت ہوا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی مسلمانوں کااجماع حجت سمجھتے تھے۔
     
  6. ‏نومبر 12، 2012 #16
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    18۔ مشہور ثقہ زاہد ابو نصر بشر بن الحارث بن عبد الرحمٰن بن عطا ء بن ہلال المروزی البغدادی رحمہ اللہ ( متوفی ۲۲۷ھ) نے فرمایا:
    ثابت ہوا کہ امام بشر الحافی رحمہ اللہ اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔


    19۔امام عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ بھی اجماع کے قائل تھے۔ دیکھیئے فقرہ نمبر۹


    20۔ امام مسلم بن الحجاج النیسابوری رحمہ اللہ ( متوفی ۲۶۱ھ) نے فرمایا:
    اس عبارت سے دو باتیں صاف صاف ثابت ہیں:
    امام مسلم نے دوسرے مقام پر فرمایا:
    ثابت ہوا کہ امام مسلم اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔


    21۔امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی رحمہ اللہ (متوفی ۲۷۹ھ) نے فرمایا:

    22۔ مشہور ثقہ تابعی امام محمد بن سیرین الانصاری البصری رحمہ اللہ ( متوفی ۱۱۰ھ) نے فرمایا:

    23۔ امام ابو حاتم ادریس الرازی رحمہ اللہ (متوفی ۲۷۷ھ) نے فرمایا:
    ثابت ہوا کہ ابو حاتم الرازی بھی اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔


    24۔ امام ابو حفص عمرو بن علی الفلاس الصیرفی رحمہ اللہ (متوفی ۲۴۹ھ) نے ایک راوی عبد القدوس بن حبیب الشامی کے بارے میں فرمایا:
     
  7. ‏نومبر 12، 2012 #17
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    25۔ امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحرین دینار النسائی رحمہ اللہ ( متوفی ۳۰۳ھ) اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔ دیکھیئے فقرہ نمبر۶


    26۔ امام ابو احمد عبد اللہ بن عدی الجرحانی رحمہ اللہ (متوفی ۳۶۵ھ) نے ایک کذاب راوی ابو داود سلیمان بن عمرو بن عبد اللہ بن وھب النخعی الکوفی کے بارے میں گواہی دی:

    27۔ امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ ( متوفی ۲۲۴ھ) نے سر کے مسح کے بارے میں فرمایا:
    ثابت ہوا کہ امام بخاری کے استاد امام عبید رحمہ اللہ (غریب الحدیث وغیرہ جیسی مفید کتا بوں کے مصنف) بھی کتاب و سنت کے بعد اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔


    28۔ طبقات ابن سعد والے محمد بن سعد بن منیع الہاشمی البصری البغدادی رحمہ اللہ (متوفی ۲۳۰ھ) نے فرمایا:

    29۔ حافظ ابو حاتم محمد بن حبان البستی ( متوفی ۳۵۴ھ) نے احکامِ مصطفیٰ (ﷺ) کے بارے میں 110 قسمیں بیان کیں ، جن میں قسم نمبر79کے تحت فرمایا:
    حافظ ابن حبان نے ایک بہترین اصول سمجھایا:
    حافظ ابن حبان نے عظیم اصول سمجھایا کہ مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے ، بشرطیکہ:
    ان بیانات سے دو باتیں صاف ثابت ہیں:
    1: ابن حبان کے نزدیک اجماع حجت ہے۔
    2: ابن حبان کے نزدیک (حجت ہونے کے لحاظ سے ) سنت اور حدیث ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (دیکھیئے فقرہ:۱۶)
    لہٰذا مرزا غلام قادیانی (کذاب) اور اس کے پیروکار قادیانیوں کا حجت ہونے کے لحاظ سے حدیث اور سنت میں فرق کرنا باطل ہے۔
    اجماع کے بارے میں حافظ ابن حبان کے مزید حوالوں کے لیے دیکھیئے الاحسان (۵؍۴۷۱، دوسرا نسخہ ۵؍۱۴۰،تیسرا نسخہ ۷؍۴۴۲۔۴۴۳) وغیرہ
     
  8. ‏نومبر 12، 2012 #18
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    30۔ امام ابو محمد اسحاق بن ابراہیم بن مخلد الحنظلی المروزی عرف اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (متوفی ۲۳۸ھ) نے فرمایا:
    امام اسحاق بن راہویہ نے تکفیر کے کئی مسائل پر اجماع نقل فرمایاہے۔(دیکھیئے تعظیم قدر الصلوٰۃ للمروزی ۲؍۹۳۰فقرہ:۹۹۱)


    31۔ امام ابوعوانہ یعقوب ابن اسحاق بن ابراہیم الاسفر ائینی النیسابوری رحمہ اللہ ( متوفی ۳۱۶ھ) نے فرمایا:
    علمِ میراث میں عصبہ اسے کہتے ہیں جس کا میراث میں حصہ مقرر نہ ہو اور اسے ذوالفروض کے ترکہ میں سے حصہ پہنچتا ہو۔ (دیکھیئے القاموس الوحیدص۱۰۸۷)
     
  9. ‏نومبر 12، 2012 #19
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    32۔ حافظ ابو بکر احمد بن عمر و بن عبد الخالق البزار رحمہ اللہ ( متوفی ۲۹۲ھ) نے اپنے علم کے مطابق عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں فرمایا:

    33۔ امام ابو عبد اللہ محمد بن نصر المروزی الفقیہ رحمہ اللہ ( متوفی ۲۹۴ھ) نے اس بات پر اجماع نقل کیا کہ شرابی اگر شراب پینے کے بعد مسئلہ پوچھے کہ وہ نماز پڑھے یا نہ پڑھے تو اسے حکم دیا جائے گا کہ نماز پڑھے اور اسے چالیس دنوں کی نمازوں کے اعادے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ (دیکھیئے تعظیم قدر الصلوٰۃ ج۲ص۵۸۷۔۵۸۸فقرہ:۶۱۹)


    34۔ امام ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری الکاتب الصدوق رحمہ اللہ ( متوفی ۲۷۶ھ) نے فرمایا:
    ابن قتیبہ نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح بغیر کتاب و اثر کے انسانی گوشت کے حرام ہونے پرا جماع ہے، اسی طرح بندروں کے حرام ہونے پر بھی بغیر کتاب و اثر کے اجماع ہے۔ (تاویل مختلف الحدیث ص ۱۷۳)
     
  10. ‏نومبر 12، 2012 #20
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    35۔ امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری رحمہ اللہ ( متوفی ۳۱۸ھ) نے اپنی کتابوں مثلاً الاوسط وغیرہ میں بار بار اجماع سے استدلال کیا ہے، بلکہ اجماع کے موضوع پر مستقل ایک کتاب’’ الاجماع‘‘ لکھی ہے۔
    ابن المنذر نے فرمایا:
    اور فرمایا:
    تفصیل کے لیے پوری کتاب کا مطالعہ مفید ہے اور بعض مسائل میں اختلاف کی بنیاد پر سارے مسئلے یعنی اجماع کو ہی رد کر دینا باطل ہے۔


    36۔ ایک روایت کے بارے میں ابو نعیم احمد بن عبد اللہ بن احمد بن اسحاق بن مہران الاصبہانی رحمہ اللہ (متوفی ۴۳۰ھ) نے لکھا ہے:

    37۔ حافظ ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن عبدالبر النمری القرطبی الاندلسی رحمہ اللہ (متوفی ۴۶۳ھ) نے اپنی کتابوں میں بار بار اجماع سے استدلال کیا ہے، مثلاً انھوں نے اس معنعن روایت کے مقبول ہونے پر اجماع نقل کیا ہے جس میں تین شرطیں موجود ہوں:
    اجماع کے خلاف بات کو ابن عبد البر نے با معنی قرار دیا اور امام ابو قلابہ عبد اللہ بن زید الجرمی الشامی رحمہ اللہ (ثقہ تابعی) کے بارے میں فرمایا:
    نیز دیکھیئے جامع بیان العلم وفضلہ ( ۲؍۵۹تحت ح۷۳۰باب معرفۃ اصول العلم وحقیقۃ)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں