1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احادیث اور اہل حدیث کا عمل بالرفع الیدین

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏دسمبر 21، 2017۔

  1. ‏جنوری 08، 2018 #121
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    پھر کیوں اس قدر مخالفت کی جاتی ہے احناف کی؟

    وہ کیسے؟
     
  2. ‏جنوری 08، 2018 #122
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    اب تک کے ابحاث سے یہ بات بالکل واضح ہوچکی کہ رفع الیدین کے بارے انواع و اقسام کی صحیح احادیث موجود ہیں۔ اس کے مطابق عمل کےنے والے بھی دنیا میں موجود ہیں۔
    ایک بات بڑی واضح ہے کہ احناف جس حدیث پر عامل ہیں وہ اپنے مفہوم میں واضح ہے جبکہ اہل حدیث جس پر عمل پیرا ہیں وہ ایسی نہیں ہے۔نماز یں رفع الیدین کے حامیوں میں شوافع تین جگہ کے قائل ہیں اہل حدیث چار جگہ کے۔ دونوں کا مستدل صحیح احادیث عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے مروی ہیں۔
     
  3. ‏جنوری 10، 2018 #123
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    وہی پرانا انداز وہی پرانے اعتراضات،اب ان اعتراضات کی گنجائش نہیں رہی،علماء اہلحدیث نے ان تمام باطل اعتراضات کا مدلل جواب دے دیا ہے،اور دیوبند کے بڑے بڑے علماء نے مسلک اہلحدیث قبول کیا ہے اور قرآن و سنت کی راہ کو اپنایا ہے۔الحمدللہ
    ایسے لوگ صرف اپنے علماء سے سن کر اعتراضات کرتے ہیں ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کیونکہ ان کے ہاں تحقیق نہیں تقلید ہوتی ہے جس میں بس اندھا دھند بات کو تسلیم کرنا سکھایا جاتا ہے اسی وجہ سے یہ لوگ اعتراضات کرتے ہیں۔
    دیوبند کا مسلک کیا ہے اور اس فرقے کے کیسے کیسے شرکیہ و کفریہ عقائد ہیں یہ جاننے اور ان سے بچنے کے لیے آپ ان کتابوں کا مطالعہ کریں۔

    اس غلط فہمی کا ازالہ کہ دیوبند "اہل سنت والجماعت" ہیں۔
    عقائد علماء "اہل سنت" دیوبند
    ان کے تباہ کن عقیدہ صوفیت جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کریں۔
    الدیوبندییۃ تعریف۔عقائد
    آل دیوبند سے 210 سوالات

    ظالم اپنے باطل مذھب کو بچانے کے لیے قرآن و حدیث میں تحریف کرنے سے بھی باز نہیں آئے۔
    قرآن و حدیث میں تحریف
    مذھب اسلام کے مقابلے میں ان کا باطل مذھب حنفیت ہے۔استغفراللہ
    جبکہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو ہرگز قبول نہیں کرنا۔
    بہشتی زیور کا خود ساختہ اسلام
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 10، 2018 #124
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    میرے عقلمند بھائی میں نے عقائد کی بات ہی نہیں کی۔ میں ان مسائل پر مبنی موضوعات ڈسکس کر رہا ہوں جن کا تعلق نماز سے ہے جو روزانہ پانچ مرتبہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
    بہشتی زیور کے لنک میں کچھ گڑبڑ ہے وہ کھل نہیں رہا۔ اس میں سے نماز سے متعلق مسائل میں قابل اعتراض بات آپ یہاں لکھ دیں تاکہ اسے دیکھا جاسکے۔
    بھائی یہ یقین رکھیں کہ جو چیز صریحاً غلط ہو اس پر کوئی عقلمند بضد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہیئے اگر آخرت کی فکر ہے تب۔ ہاں اگر دنیاوی نام و نمود اور اپنا طرہ بلند رکھنے کی بات ہے تب لگے رہیں صحیح غلط کی تمیز کی پھر ضرورت ہی نہیں۔
     
  5. ‏جنوری 10، 2018 #125
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    پیارے ، خوبصورت ، ''عقلمند'' بھائی یہ کام آپ کا نہیں ہے
    ، اتحاد ۔ اتفاق ''عقلمدی'' پیارے ، پیاری ، کو آپ اپنے قریہ تک رکھے۔ ہم جانتے ہیں کے آپ (17)، سالہ (متعصب) :آئی ڈیز پسند: :قریہ سے بھاگے ہوئے :
    نوجوان ہیں مگر……

    علی: بھائی اپنا تعارف تو کروائے گا!

    عبدالرحمن بھٹی: شریر گھوڑے

    کشمیری: بھائی چاہتے کیا ہو؟

    عبدالرحمن الحنفی: کشمیری چائے کہاں ملتی ہے؟

    رانا: میرے سؤال کا جواب دیجیئے!

    لولی all time (انگلش نام والا): میں سعودیہ عرب سے ہوں.


    مشاہد: اس کا حوالہ درکار ہے!؟


    سلفی حنیفی حنیف: (چھلانگیں)


    طارق: کونسا اتحاد؟


    جی مرشد جی: میرے قریہ کی کہانی ۔

     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 10، 2018 #126
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    ان کو دیکھنے سے مختلف آئی ڈیز سامنے آتی ہے

    1عبدالرحمن بھٹی
    2سلفی حنفی حنیف
    3وجاہت
    4لولی ال ٹائم
    5عبدالرحمن الحنفی
    6 جی مرشد جی
    7 8 (انشاءاللہ بعد میں پر کبھی)
    انتہائی متعصبانہ جھگڑالوں 17 سالہ نوجوان
    اتحاد ، اتفاق ، پیارے ، پیاری ، قریہ ، عقلمندی ، مگر ……………
     
  7. ‏جنوری 11، 2018 #127
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    بھائی احناف سے اتنا خوف زدہ کیوں ہو؟
    کہیں خواب میں بھی تو نہیں ڈرتے؟
    محمد بن قاسم رحمہ اللہ کی کتنی عمر تھی جب ان کی سربراہی میں مسلمانوں نے ’’دیبل‘‘ فتح کیا تھا؟
    کسی بات کا مدار بھائی عمر پر نہیں علم و عقل پر ہوتا ہے۔
    بحث میں حصہ لیں اور دلائل دیں۔ صرف احناف سے دشمنی ظاہر کرنے کے لئے گھٹیا قسم کی پوسٹیں لگانے کا کیا فائدہ؟
    لوگوں کو علم دیں ان میں قربت کے لئے کوشش کریں۔
    ان میں عداوت و نفرت کے بیج نہ بوئیں۔
     
  8. ‏جنوری 16، 2018 #128
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    اہل حدیث حضرات رفع الیدین میں اس حدیث پر عمل کرتے ہیں جس میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رکوع جاتے، رکوع سے اٹھتے اور تیسری رکعت کو اٹھتے وقت کی رفع الیدین کا ذکر ہے۔
    ان کی اس مذکورہ حدیث میں وہ ان جگہوں پر رفع الیدین کرتے ہیں جن کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے۔
    صحيح البخاري (1 / 148):
    739 - حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ " إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ "، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


    اگر یہ اصول ہے تو صحیح بخاری میں ہی کئی احادیث ہیں جن میں اس سے کم رفع الیدین مذکور ہے۔
    صحيح البخاري (1 / 148):
    735 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ "


    بلکہ ایک حدیث میں سوائے تکبیر تحریمہ کے کسی اور جگہ رفع الیدین کرنا مذکور نہیں۔
    صحيح البخاري (1 / 165):
    828 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، وَحَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَيَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ القِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اليُسْرَى، وَنَصَبَ اليُمْنَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اليُسْرَى، وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ»


    اس حدیث میں سوائے تکبیر تحریمہ کے نماز میں کہیں اور جگہ رفع الیدین کا ذکر نہیں۔
    یہ حدیث صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی مطابقت رکھتی ہے جس میں نماز میں رفع الیدین سے منع کیا گیا ہے۔
    صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث (جس میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع ایدین کا ذکر ہے) سے بھی مطابقت پائی جاتی ہے اس حدیث میں۔
    سنن النسائي - (ج 3 / ص 202)
    1058 أخبرنا محمود بن غيلان المروزي قال حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله أنه قال ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة .(تحقيق الألباني :صحيح)
    واللہ اعلم بالصواب
     
  9. ‏جنوری 20، 2018 #129
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السنن الكبرى للنسائي (2 / 31):
    1100 - أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ»
    اس حدیث پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ سفیان مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے لہٰذا یہ حدیث قابل قبول نہیں۔
    کیا اس پر یہی اعتراض ہے یا کچھ اور بھی اعتراض ہے؟
    جناب @ابن داود صاحب
    جناب @اسحاق سلفی صاحب
     
  10. ‏نومبر 12، 2018 #130
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ»
    اس حدیث پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ سفیان مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے لہٰذا یہ حدیث قابل قبول نہیں۔
    کیا اس پر یہی اعتراض ہے یا کچھ اور بھی اعتراض ہے؟
    جی جناب @ابن داود صاحب اور @اسحاق سلفی صاحب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں