1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احادیث اور اہل حدیث کا عمل بالرفع الیدین

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏دسمبر 21، 2017۔

  1. ‏دسمبر 10، 2018 #131
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اور بھی اعتراض ہیں، اور کچھ یہاں فورم پر بیان کیئے جا چکے ہیں، جیسے
    امام احمد، امام بخاری، اور امام ابو حاتم رازی نے اسے شاذ قرار دیا ہے!
     
  2. ‏دسمبر 13، 2018 #132
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    1ـ کیا شاذ روایت قابل عمل نہیں ہوتی؟
    اپنے جواب کو قرآن و حدیث کے ساتھ تقویت دیجئے گا۔
    2ـ مذکورہ روایت پر تمام اعتراضات مختصراً یہاں ایک ساتھ جمع فرما دیں۔
    شکریہ
     
  3. ‏دسمبر 14، 2018 #133
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلامم علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    صحیح و حسن حدیث کی تعریف پڑھیں، تو معلوم ہو جائے گا!
    اس کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی!
    چاہیں تو شکریہ واپس لے لیں!
     
    Last edited: ‏دسمبر 14، 2018
  4. ‏دسمبر 15، 2018 #134
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    کہاں سے پڑھوں؟
     
  5. ‏دسمبر 17، 2018 #135
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اصول حدیث کی کتب سے!
     
  6. ‏دسمبر 17، 2018 #136
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    سفیان کی عن عاصم بن کلیب کی روایت صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
    لہٰذا تدلیس کے الزام سے حدیث کا اکار کرنا اچھا نہیں۔
     
  7. ‏دسمبر 17، 2018 #137
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    شاذ کی بات بھی غلط ہے؛
    سنن أبي داود:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ
    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ لَمْ يَقُلْ ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ وَخَالِدٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَزِيدَ لَمْ يَذْكُرُوا ثُمَّ لَا يَعُودُ
    حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَرَّةً وَاحِدَةً (حکم: صحیح)

    براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے اس کے بعد رفع الیدین نہ کرتے۔
     
  8. ‏دسمبر 17، 2018 #138
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيباني:
    قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ , "أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى الَّتِي يَفْتَتِحُ بِهَا الصَّلاةَ، ثُمَّ لا يَرْفَعُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلاةِ"
    علی بن ابی طالب، کرم اللہ وجہ، رفع الیدین کرتے پہلی تکبیر میں جس سے نماز شروع ہوتی ہے، پھر نماز میں کہیں بھی رفع الیدین نا کرتے۔
     
  9. ‏دسمبر 17، 2018 #139
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيباني:
    قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةِ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُمَا فِيمَا سِوَى ذَلِكَ»
     
  10. ‏دسمبر 17، 2018 #140
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    مصنف ابن أبي شيبة: من كان يرفع يديه في أول تكبيرة ثم لا يعود
    حدثنا أبو بكر قال نا وكيع عن ابن أبي ليلى عن الحكم وعيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء بن عازب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه ثم لا يرفعها حتى يفرغ.
    براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے اس کے بعد نماز سے فارغ ہونے تک رفع الیدین نہ کرتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں