1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احترام والے اوراق کا کیا جاۓ!!!

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اگست 30، 2013۔

  1. ‏اگست 30، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    احترام والے اوراق کا کیا جاۓ!!!

    ان اخبارات اوراوراق کا کیا حکم ہے جن میں اللہ تعالی کے اسماء اورانبیاء کرام کے نام پاۓ جاتے ہيں مثلا عبداللہ ، یا عبدالکریم وغیرہ ؟
    ان اوراق کو ہم کس طرح ضائع کریں ؟

    الحمد للہ
    اس طرح کے اوراق جن میں اللہ تعالی کا ذکر اوراحترام والے نام یا آیات قرآنیہ اوراحادیث نبویہ پائ جائيں ان کی حفاظت کرنا اوران کا خیال رکھنا واجب ہے اوریہ ضروری ہے کہ انہیں کسی ایسی جگہ پر نہ پیھنکا جاۓ جہاں پر توہین کاپہلوں نکلتا ہو یہاں تک کہ ان اوراق کی ضرورت نہ رہے ۔
    اورجب ان اوراق سے فارغ ہوں اوران کی ضرورت ختم ہوجاۓ تو انہيں یاتوکسی پاک صاف جگہ پر دفن کردیا جاۓ اوریا پھر انہیں جلادیا جاۓ اوریا انہیں کسی حفاظت والی جگہ سنبھال کررکھا جاۓ مثلا الماری وغیرہ میں ۔ .
    شیخ ابن باز 1740; عنہ کا فتوی ۔ ، دیکھیں کتاب فتاوی اسلامیۃ ( 4 / 313 ) ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 30، 2013 #2
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اگست 31، 2013 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏اگست 31، 2013 #4
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏اگست 31، 2013 #5
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏مئی 02، 2014 #6
    بنوں والا

    بنوں والا رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    ahtiram wale awraq ko agr darya mai bahaya jaye tu ap ka iss par aiteraz hai ya nahi hai aur agr hai tu kewoon hai ?//????
     
  7. ‏مئی 02، 2014 #7
    حافظ اختر علی

    حافظ اختر علی سینئر رکن
    جگہ:
    قصور،پنجاب،پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    768
    موصول شکریہ جات:
    726
    تمغے کے پوائنٹ:
    317

    مقدس اوراق کے لیے چند ایک تدابیر کو مد نظر رکھا جائے تو کوئی قابل اعتراض پہلو بھی نہیں نکلے گا:
    • کسی محفوظ جگہ پر جلایا جائے تاکہ عام کم علم لوگ جہالت کی بنیاد پر فساد بپا نہ کر دیں
    • کنویں وغیرہ آج بھی موجود ہیں جہاں مقدس اوراق کو دفن کیا جاتا ہے اس لیے دفنانے کا اہتمام کیا جائے
    • اور سب سے اہم بات یہ کہ دریا یا نہر وغیرہ میں بہا دیے جائیں۔
     
  8. ‏مئی 02، 2014 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    قرآنیہ اور احادیث نبویہ اوراق کو جلانے سے میں متفق نہیں۔

    والسلام
     
  9. ‏مئی 02، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ''بما سواه من القرآن فی کل صحيفة او مصحف ان يحرق.''
    صحيح بخاری : 4987
    ان کے علاوہ کسی بھی صحیفے یا مصحف میں لکھا ہوا قرآن جلا دیا جائے۔
     
  10. ‏مئی 02، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لہذا بہتر یہی ہے کہ بوسیدہ اوراق قرآن کریم کے ہوں۔ یا حدیث پاک کے یا کسی دینی کتاب کے جن میں قرآن و حدیث کے حوالے نقل کئے گئے ہوں ان کو جلایا نہ جائے اور مذکورہ بالا طریقہ سے ان کو دفنا دیا جائے۔ مگر اس خیال سے کہ آج کل دفنانے کیلئے محفوظ زمین کا ملنا مشکل ہے بالخصوص شہروں میں نیز جہاں محفوظ جگہ سمجھ کر ان اوراق کو دفنایا گیا ہے، عین ممکن ہے کہ کوئی انسان لاعلمی میں اس جگہ پر پیشاب کرے اور گندے اثرات ان اوراق مبارکہ تک پہنچ جائیں۔ دریا برد کرنے میں بھی بے ادبی کا آج کل بہت امکان ہے جبکہ اختلاف و انتشار امت سے بچنے اور فتنہ و فساد کے امکانات ختم کرنے کی خاطر صحابہ کرام کی موجودگی میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کے نسخوں کو جلوا دیا اور کسی صحابی نے اس پر انکار نہ کیا۔ پس جلانے کے جواز پر جبکہ نیت قرآنی تقدس کی حفاظت کرنا ہو۔ معاذ اللہ بے ادبی کرنا نہ ہو، صحابہ کرام کا اجماع ہو چکا ہے۔ اسی لئے فقہائے کرام نے بہت نرم لہجے میں جلانے سے منع فرمایا مگر جلانے پر کوئی سخت حکم نہ لگایا، کہ اس کے جواز کی بنیاد موجود تھی۔
    پس مذکورہ استاد صاحب سے کوئی غیر شرعی کام نہیں ہوا۔ عام لوگوں کو چونکہ علم نہیں اس لئے وہ ایسے مواقع پر بھڑک جاتے کچھ مخالفین بھی شرارت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ اور ہدایت نصیب فرمائے۔
    حوالہ
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں