1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احرام کے متعلق مسلہ درپیش۔قران،سنت سے رہنمای درکار ہے۔

'احرام وحرم' میں موضوعات آغاز کردہ از ارشد, ‏ستمبر 16، 2012۔

  1. ‏ستمبر 16، 2012 #1
    ارشد

    ارشد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 20، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    معزز علماء اکرام ،برا؁ مہربانی اس مسلہ میں قران،سنت کی روشنی میں رہنماٰی فرمایں۔
    ایک شخص عمرہ کی نیت سے معقات سے احرام باندھتا ہے، ۔مکہ پہنچ کر ایک ہوٹل میں ،احرام کی حالت میں عمرہ کرنے سے پہلے تھوڑی دیر آرام کرتا ہے ، جب عمرہ کے لیے جانا ہوتا ہے تو لا علمی اور غفلت میں ترو تازہ اور فریش ہونے کی غرض سے حمام میں دو منٹ کے لیے احرام نکال کر سارے بدن پہ پانی بہاتا ہے پھر احرام باندھتا یے۔اس شخص نےعمرہ سے پہلے اسطرح احرام نکال کر دوبارہ پہنا ، پھر عمرہ کیا، تو کیا عمرہ مکمل ہوا؟ لاعلمی میں یہ ہوا، تو کیا یہ شخص گناہ کا مرتکب ہوا؟تو اسکا ازالہ کیسے ھوگا؟؟ اس کا کفارہ کیا ہوگا، کیا دم واجب ہوگا؟؟ وہ شخص اپنی لاعلمی اور اس بھول پر بہت نادم اور پریشان ہے۔اہل علم سے گزارش ہے اس مسلہ کا حل بتایں۔۔
    جزاک اللہ خیر
     
  2. ‏ستمبر 18، 2012 #2
    ارشد

    ارشد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 20، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    یاد دہانی۔
     
  3. ‏ستمبر 19، 2012 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بھائی! نہانے کیلئے احرام اتار کر دوبارہ پہن لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احرام کے محظورات میں سے نہیں!
    بلکہ بہتر یہی ہے کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر پہلے غسل وغیرہ کرلیا جائے، پھر عمرہ کیا جائے۔

    صحیح بخاری میں سیدنا ابن عمر﷜ سے مروی ہے:
    كان ابنُ عمرَ رضيَ اللهُ عنهما ، إذا دخلَ أدنى الحَرَمَ أَمْسَكَ عن التَّلْبِيَةِ ، ثم يَبيتُ بذِي طُوَىً ، ثم يُصلِّي بهِ الصبحَ ويغتسلُ، ويُحَدِّثُ أنَّ نبيَّ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان يفعلُ ذلكَ .
    کہ سیدنا ابن عمر﷜ جب حرم (مکہ) کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنا بند کر دیتے، وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے، وہیں نمازِ فجر ادا کرتے اور غسل فرماتے اور بیان کرتے کہ نبی کریمﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں