1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احناف کے نزدیک زیر ناف ہاتھ باندھنے والی روایت ضعیف ہے.

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 09، 2011۔

  1. ‏جون 16، 2011 #31
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    سماک بن حرب کوبعض محدثین ضعیف کہ رہے ہیں اور بعض ثفہ ۔ جو محدثین ضعیف کہ رہے ہیں ان کو چھوڑ کر ثقہ بیان کرنے والے محدثین کے قول کو کیوں قبول کرنا چاھئیے اس کا ٹھوس جواب نہیں آیا ۔
    پچھلی پوسٹ میں آپ نے ان کی تردید کچھ کمزور دلائل سے کی لیکن میں نے جب ان دلائل پر اعتراضات کیے آپ کے طرف کو جواب نہیں آیا ۔ اگر تحقیق میں ہیں تو بھی کم از کو بتا دیتے ۔

    آپ کے وہ دلائل یہ ہیں

    میرے اعتراضات ان دلائل پر یہ تھے
    آپ نے تاریخ بغداد کے حوالہ سے یحیی بن معین اور شعبہ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات سے ثابت کرنا چاہا کہ یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ شعبہ اور یحیی بن معین کی تاریخ پیدائش اور موت الخطیب البغدادی تک کس سند سے پہنچی ۔ اور اس روایت میں کوئی راوی مجہول تو نہیں ۔(آپ مجہول راوی کی بنیاد پر ایک روایت رد کوچکے ہیں )
    اسی طرح امام العجلی اور سفیان کی تاریخ پیدائش اور موت الخطیب البغدادی تک کس سند سے پہنچی۔
    خطیب بغدادی اور ان ائمہ کے بہت بعد 392 ہجری میں پیدا ہوئے ۔
    اسی طرح تاریخ الثقات کے مؤلف الحاقظ بن الشاہین 297 ہجری میں پیدا ہوئے ۔

    امام ابن مبارک کے قول کی تھذیب التھذیب کے الحافظ ابن حجر العسقلاني تک سند بتائیں


    لیکن یہان ایک جرح مفسر کے جواب میں کچھ نہیں ۔ دوبارہ عرض کرتا ہوں
    وقد قال الإمام النسائي رحمه الله كما في تحفة الأشراف(5/137) (لأن سماك بن حرب كان ربما لقن فقيل له عن ابن عباس ، وابن المبارك أثبت في سفيان من الفضل بن موسى ، وسماك إذا انفرد بأصل لم يكن حجة، لأنه كان يلقن فيقبل التلقين) انتهى
    سماک بن حرب کے اکیلے رویات کرنے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر مسلم میں رویایت ہیں تو وہ صحیح اس بنیاد پر ہیں ان میں سماک بن حرب روایت کرنے میں اکیلے نہیں اور یہاں سینے والی رویایت میں اکیلے ہیں

    "اگر" کہ کر کوئی بات کی جائے تو یہ دوغلی پالیسی نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ طرز خطاب ہے۔
    ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيرا (القرآن)
    کیا قرآن کی اس آیت کے مطلب میں آپ یہ لیں گے کبھی تو اللہ کہ رہے ہیں قرآن اللہ کی طرف سے ہے اور کبھی کہ رہے ہیں کہ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو معاذ اللہ یہ دوغلی پالیسی ہے۔


    ذرا وہ احاديث لکھ کر بتا دیجئیے جو مؤمل کی روایت سے صحیح بخاری میں آئی ہیں ۔ یا باب کا نام بتادیں ۔



    اس کے متعلق تب لکھوں گا ۔ جب آپ مؤمل بن اسماعیل کی بخاری والی احادیث بتائیں گے۔


    کیا ربما اخطا کہنا شکوک و شبہات پیدا نہیں کرتا ؟ پھر بھی وہ ثقہ ہیں حیرت ہے
    یہ رائے آپ نے اس لئیے قائم کی کہ شاید آپ سمجھ رہے ہیں کہ ابن حبان کا کہنا کا ربما اخطاء قدیم قول ہے ۔ یہ طرف احتمال ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ قول ان کا صحیح ابن حبان کی تالیف کے بعد کا ہو ۔ پھر ان کی جرح معتبر ہوگی۔ اپنی بات کی پکی دلیل دیں ۔
    کیا کسی غلطی کرنے والے کی حدیث کو صحیح اور اس راوی کو ثفہ سمیجھنا چاہئیے ؟

    کسی راوی کا عدم تذکرہ اس کے ثقہ ہونے کی دلیل نہیں ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان محدث نے ان کو اتنا ضعیف خیال کیا کہ ان کو لائق تذکرہ نہ سمجھا

    سنن الترمذی و ابن ماجہ میں ضعیف حدیث بھی ہیں ۔ ہاں مجھے بخاری میں حدیث نہیں ملی ۔ براہ مہربانی اس کا باب کا نام ضرور بتائیں ۔

    کسی راوی کا عدم تذکرہ اس کے ثقہ ہونے کی دلیل نہیں ۔

    کیا ظفر احمد کے علم میں تھا کا مؤمل امام احمد کے استاد تھے ۔ دلیل سے بتائین ۔ اگر ان کے علم میں نہیں تھا تو یہ دلیل باطل ہو جائے گی ۔

    بعض راویوں کے استثناء کے ساتھ کیوں ۔ یہ جملہ حوالے میں کیوں گسھیڑ دیا ۔ اس سے آپ کی دلیل خود کمزور ہوگئی ۔ یہ استثناء والے راوی کون ہیں ؟ اور کیا ان میں میں مؤمل شامل ہیں ۔ ٹھوس دلیل سے بتائیں ۔

    جمہور محدثین کے جو قول آپ نے زکر کیے ان جوابات آچکے ۔ ان پر تحقیق کے بعد یہ رائے قائم کریں۔
    یہ فیصلہ کن نتیجہ پہلے میرے اعتراضات کے تسلی بخش جوابات کے بعد قائم کیجئیے گا ۔
    آپ حضرات نے خود اس فورم میں کہا ہے کہ جب سفیان عن سے روایت کرے تو رد ہے تو اب سے دلیل کیوں پکڑ رہیے ہیں


    جن احناف نے مؤمل بن اسماعیل کو ضعیف کہا ان کا تذکرہ کیوں نہ کہا ۔
    جب آپ ان کا تذکرہ کریں گے تو پھر انشاء اللہ جواب دیا جائے گا۔

    میں نے اس تفصیل کا جواب دے دیا ہے۔

    امام ابن الحوزی کی سند بتادیں ۔ پھر انشاء اللہ جواب تحریر کروں گا۔ میرے پاس یہ کتاب لہیں ہے۔


    تذکرہ نہ کا ایک مطلب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ محدث اتنا ضعیف سمجھا کہ لائق تزکرہ نہیں سمجھا ۔
    جو آپ نے توثیق بتائی ان کے جوابات آگے آرہے ہیں۔
    آپ بیان کردہ جمہور کی توثیق کا جواب بھی ساتھ ساتھ مذکور ہے۔

    امام العجلی (مولود ١٨٢ ھ متوفی ٢٦١ھ) ہیں ) سند بیان کریں اگر بغیر سند کے ہے تو رد ہے
    تاریخ الثقات کے مؤلف الحاقظ بن الشاہین 297 ہجری میں پیدا ہوئے ۔

    ابن حبان کا کتاب الثقات میں زکر کرنا اس واوی کی توثیق نہیں کیون کہ کئی راویں کے متعلق انہوں نے کہا کہ لا اعرفہ اور کئی راویوں کا ذکر کر کے ان کا کچھ نہ کہنا معتبر نہیں جا نا جاتا جبتک اس کی توثیق صراحت سے نہ کریں (میزان الاعتدال )۔ ابن حبان کی کتاب توثیق پر کئی محدثین نے اعتراضات بھی کۓیے ہیں ۔
    بلکہ صرف کتاب الثقات کا حوالہ کافی نہیں کئی راويوں کو جن کو انہوں نے کتاب الثقات میں لکھا کتاب في المجروحین میں بھی لکھا اس حوالہ سے تفصیل کے ساتھ بتائین ۔ ابن حابن کس طرح کے الفاظ سے ذکر کیا ۔
    ۔
    ان محدثیں نے صرف ایک ایک حدیث کو صحیح کہا و ۔ اس میں کوئی وجہ ہوگی اگر یہ کوئی اعلی درجہ کے ثقہ ہوتے توان کی تمام احادیث کو یہ محدثین ثقہ کہتے
    میری تحقیق کے مطابق نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق کو بھی رویات صحیح نہیں ۔ اور یہ میری تحقیق نہیں کئي علماء کی بھی ہے۔
     
  2. ‏جون 16، 2011 #32
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بھائی میں میں نے فقہی اصطلاح میں معنی پوچھا تھا ۔ کسی محدث کا قول ہو۔ صلاہ کا لغوی معنی دعا کے ہیں ۔ اگر کوئی شخص دعا مانگ کر کہے میں نے صلاہ ادا کرلی اور اپنے دلیل میں کسی لغت کا حوالہ دے تو کیا یہ مقبول ہے ؟؟؟
    اس طرح احادیث کے متعلق بھی جو اصطلاحات ہیں کیا ان میں بھی لغت کا اعتبار ہو گا ۔ پھر تو احادیث کا مطلب کچھ کا کچھ نکل جائے گا ۔ اہل فن کی کسی کتاب کا حوالہ دیں ۔
    اور آپ کی نقل کردہ حدیث میں تو لفظ امتی کا ذکر بھی نہیں اور آپ نے اپنی پوسٹ میں لفظ امتی کا ذکر بھی کیا تھا ۔ کسی بھی موضوع میں جو اصطلاحات ہوتی ہیں ان مطلب وہی لیا جاتا ہے جو اس فیلڈ کے اہل فن بیان کریں
     
  3. ‏جون 16، 2011 #33
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    میرے کہنے کا مطلب تھا نماز میں ہاتھ باندھنے چاہئیے اور سیدھے ہاتھ کو بائیں پر رکھنا چاھئیے ۔ لیکن اس کا مقام کیا ہو گا ۔ سینہ پر یا ناف کے نیچے ۔ یہ مقام کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔
     
  4. ‏جون 16، 2011 #34
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ»
    افتاب بھائی آپ نے کہا
    اوپر والی حدیث پر عمل کریں اور پھر بتائیں کہ ایسا کرنے سے ہاتھ کہاں باندھے جائیں گے۔سینہ پر یا ناف کے نیچے۔
    اتنے واضح الفاظ سامنے ہونے کےباوجود پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ ’’لیکن اس کا مقام کیا ہوگا‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 17، 2011 #35
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    ابوالحسن علوی بھائی !ذرا وہ مدت بتائیں گے کب آپ نے یہ بات سنی اوراس تاثر پر قائم رہتے ہوئے کتنا عرصہ گزرگیااوراس کی تحقیق کی نوبت کیوں نہ آسکی ۔اورمحض سنی سنائی بات پر کسی کے متعلق کوئی منفی رائے قائم کرلینا کہاں تک درست ہے؟ اورشریعت میں اس کی کہاں تک گنجائش ہے۔
    کیایہ بہتر نہ ہوگاکہ آپ دوسرے سے تحقیق طلب کرنے کے بجائے جب کہ خود بھی’’پڑھے لکھے‘‘ہیں ’’لکھے پڑھے‘‘نہیں ہیں توتحقیق کریں ۔اصولی طورپر یہی بات صحیح ہے کہ اگرسنی نے سنی سنائی بات پر کسی کے خلاف منفی رائے قائم کرلی ہے تو اپنی غلطی سے مطلع ہونے کے بعد خود تحقیق کرے۔نہ کہ دوسروں کوزحمت دے کہ آپ کے بارے میں ہم نے فلاں بات سنی ہے براہ کرم ہمیں تحقیق کرے بتایئے کیابات صحیح ہے(الیس ھذا صحیح )
     
  6. ‏جون 17، 2011 #36
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جمشید بھائی جان،
    یہاں کچھ اور موضوع چل رہا ہے۔نیز صرف ’سنا ہے‘ کے الفاظ سے اتنی ساری چیزیں خود ہی فرض کر لینا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
     
  7. ‏جون 17، 2011 #37
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    پھر میری تحقیق؟!!
    اور اگر آپ کے نزدیک اس کے متعلّق کوئی روایت بھی صحیح نہیں تو پھر آپ لوگ ناف کے نیچے ہاتھ کیوں باندھتے ہیں؟!!
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 17، 2011 #38
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    میرا تعلق تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے اور ایک دیوبندی گھرانے سے تعلق ہے۔ والد محترم اور ان کی طرف سے رشتہ دار یعنی دھدھیال سب دیوبندی ہیں اور والدہ کی طرف سے رشتہ دار یعنی ننھیال اہل تشیع ہیں۔والد محترم دیوبند کی خدمات کے بہت معترف تھے۔ ان کے ایک قریبی دوست مولانا نور زمان صاحب دیوبند، انڈیا سے فارغ التحصیل تھے اور ہمارے گھر ان کا آنا جانا بہت تھا یہاں تک کہ میرا نام بھی انہوں نے ہی والد محترم کو تجویز کیا تھا۔ والد محترم ان کے خطبات جمعہ میں مجھے بھی لے کر جاتے تھے اور ان سے کافی استفادہ کا موقع ملا۔ ان کی ایک جامع مسجد، مسجد داریاں والی تھی جہاں نے میں نے حفظ کا آغاز کیا اور تقریبا ٢٣ پارے حفظ کیے۔
    دوسرا ہمارے محلے کی مسجد، مسجد مصلیاں والی میں ایک عالم دین دیوبند، انڈیا سے فارغ التحصیل تھے جن کا نام مولانا اسکندر صاحب تھا۔ راقم ان کے پاس بھی بچن میں پڑھتا رہا بلکہ ابھی تک یاد ہے کہ ان سے نماز اور اس کا ترجمہ سیکھتے تھے۔ان کے خطبات جمعہ اور نجی محافل میں کچھ استفادہ کیا۔ مولانا اسکندر صاحب مسجد میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے کیونکہ دیوبندی مسلک کی مسجد تھی لیکن ہمیں بتلاتے تھے کہ اہل الحدیث کی یہ بات درست ہے کہ رفع الیدین سنت ہے اور میں بھی گھر میں کرتا ہوں اور یہاں اس لیے نہیں کرتا کہ فتنہ پیدا ہونے کے امکانات ہیں وغیرہ ذلک۔ بعض مسائل میں کھل کر اہل الحدیث کی حمایت کر جاتے تھے لیکن خود اعلانیہ ان پر عمل نہ کرتے تھے۔یہ پہلا تاثر تھا جو شاید آٹھ سال کی عمر میں قائم ہوا۔
    اسی طرح بچپن دیوبندی جماعت اشاعت التوحید والسنۃ اور سپاہ صحابہ کے سایے تلے گزرا کیونکہ پنڈی گھیب میں دیوبندی مدارس میں انہی دو جماعتوں کا ہولڈ تھا۔ نوجوانی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستہ ہو گیا اور کافی وقت لگای، تبلیغی جماعت کے ساتھ فضائل اعمال کی تعلیم وتعلم اور چلوں اور رائے ونڈ کے تبلیغی دوروں اور مولانا طارق جمیل صاحب کے خطبات وغیرہ میں یہ تاثر مزید قوی ہوا کہ ضعیف اور موضوع روایات کا چلن عام ہے، اگرچہ میں ذاتی طور تبلیغی جماعت کے کام کے مثبت پہلو کی اب بھی تعریف کرتا ہوں۔ پھر ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کی تنظیم اسلامی سے وابستہ ہوا اور یہاں ایک سال کا رجوع الی القرآن کورس کیا۔ پھر معروف دیوبندی مدرسہ جامعہ اشرفیہ لاہور میں سہ سالہ درس نظامی کورس میں داخلہ لیا اور بوجوہ ایک سال بعد چھوڑ دیا اور کچھ اور بھی تاثرات قائم ہوئے جنہیں میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا، شاید آپ اس تبصرے سے ناراض ہو جائیں۔ پھر اہل حدیث کے مدرسہ جامعہ رحمانیہ میں داخلہ لیا تو دوران تعلیم تقابلی فقہ کے مطالعہ سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ فقہ حنفی کے اکثر مسائل کی بنیاد ضعیف روایات پر ہے۔پھر تقریبا چار سال تقابلی فقہ کا مضمون قرآن اکیڈمی، لاہور اور جامعہ رحمانیہ میں پڑھایا تو اس بچپن کے قائم شدہ تصور میں مزید اضافہ ہوا۔
    اس تاثر کو قائم کرنے والی ابتدائی کتاب عاصم الحداد رحمہ اللہ کی ’فقہ السنہ‘ ہے جو تقابلی فقہ پر اردو زبان میں ایک لاجواب کتاب ہے۔شیخ رحمہ اللہ مولانا مودودی رحمہ اللہ کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اور انہوں نے نہایت ہی نیوٹرل انداز میں یہ کتاب لکھی ہے۔ مجھے اس کتاب کا اسلوب بیان بہت ہی پسند ہے۔
    جہاں تک اپنی تحقیق کا معاملہ ہے تو میں عرض کر چکا ہوں کہ تقابلی فقہ کا ایک طالب علم اور استاذ ہونے کی وجہ سے میں ایک رائے رکھتا ہوں لیکن اسے بیان اس لیے نہیں کرتا کہ مقصود یہاں کوئی مناظرہ نہیں ہے۔ بس سوال اس لیے قائم کیا تھا کہ اگر واقعتا یہ تاثر غلط ہے تو یہ ایک سنہری موقع ہے کہ اس تاثر کی بنیادیں ہلا دی جائیں لیکن اس کے لیے کوئی ایسی صحیح روایت ہمارے کسی حنفی بھائی کی طرف پیش ہونی چاہیے، جس میں عورتوں کے سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہو۔بس اس سادہ سے مطالبہ پر آپ نے پوری تاریخ مانگ لی؟ سو ہم نے اجمالا بیان بھی کر دی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 17، 2011 #39
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جب کسی مسئلہ پر حدیث نہ ہو تو قیاس کیا جاتا ہے اور جب کوئی صحیح حدیث نہ ھوتو دیکھیں کون سی احادیث میں ضعف کم ہے اور اگر وہ حدیث قیاس کے قریب بھی ہو مسئلہ حل ۔
     
  10. ‏جون 17، 2011 #40
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    عربي میں يد کے کئی معنی پائے جاسکتے ہیں

    1- مفصل تک
    2- ما دون المرفق
    3- الی المنکب

    ید سے یہاں کیا مراد ہیں ۔ حدیث میں واضح نہیں ۔
    اگر صرف کف (مفصل ) تک لیں تو رسغ اور ساعد پر ہاتھردکھیں تو بعض الساعد پر ہاتھ رکھنا پڑے گا ۔ یا اگر ید ذراع پر بھی رکھیں تو بعض ذراع پر رکھا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھے جاسکتے ہیں ۔ اگر پوری ساعد پر ہاتھ رکھیں تو رسغ پر ہاتھ نہیں آئے گا۔
    پہلے يد کے معنی یہاں دلائل سے بتائیں پھر بولیں کے "اس طرح تو صرف سینے پر ہاتھ رکھے جاسکتے ہیں ۔"

    يد جو معنی مفصل تک لئیے جاسکتے ہیں اس کا ثبوت
    وقال تعالى لموسى : وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ سورة النمل آية 12
    جیب میں صرف ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے مرفق یا منکب نہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں