1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احکام و عبادات حکمت و فلسفہ

'مقالات علمیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 11، 2016۔

  1. ‏اگست 13، 2016 #21
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    زکوٰۃ
    زکوٰۃ بھی اُن عبادات میں سے ہے جو تمام آسمانی مذاہب کے صحیفوں میں فرض بتائی گئی جس کی تائید مختلف آسمانی صحیفوں سے ہے کہ جس طرح نماز ہر مذہب کا جزء لا ینفک تھی اسی طرح زکوٰۃ بھی تمام مذاہب کا ہمیشہ ضروری جزء رہی ہے۔ (عبادات، ص ۱۴۱)
    معنی و مفہوم
    زکوٰۃ کے مفہوم میں علماء لغت نے دو معنی بیان کیے ہیں۔
    (۱) پاک صاف کرنا یا پاکیزگی۔ نشوونما یا بڑھانا وغیرہ۔ (مفردات القرآن، ص۲۱۳؛معجم المقاییس اللغۃ، ۴۳۶)
    زکوٰۃ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ محمود احمد لکھتے ہیں:
    Zakat literally means purification, technically it is a tax on the wealth to provide social justice. (Economics of Islam, P. 87)
    امین احسن اصلاحی بیان کرتے ہیں:
    زکوٰۃ کے اندر نشوونما اور پاکیزگی دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ زکوٰۃ نفس اورمال دونوں کو پاکیزگی بھی بخشتی ہے اس سے مال میں برکت اور بڑھوتری بھی ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن، ۱؍۱۸۵)
    یعنی زکوٰۃ نکال کر مال کو پاک کیا جاتا ہے۔ گویا زکوٰۃ ایک میل ہے جس کے نکل جانے سے دولت کی چادر صاف ستھری ہو جاتی ہے۔ (اسلام کا نظام عبادت،ص۹۷)
    قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ (سورۃ التوبۃ، ۹:۱۰۳)
    شریعتِ موسوی… تصورِ زکوٰۃ و فلسفہ
    شریعت موسوی میں زکوٰۃ کے واضح احکامات موجود ہیں۔ بنی اسرائیل سے خدا نے جو عہد لیا تھا اس میں نماز اور زکوٰۃ دونوں تھیں ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ (سورۃ البقرۃ۲:۴۳)
    اور (اے بنی اسرائیل) نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔
    حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہے:
    وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ اِنَّہٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا وَكَانَ يَاْمُرُ اَہْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِيًّا (سورۃ مریم ۱۹:۵۴،۵۵)
    اور اس کتاب میں اسماعیل؈ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور سول نبی تھا وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔
    اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعت میں زکوٰۃ کی فرضیت کے متعلق بیان فرمایا:
    وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوۃِ (سورۃ الأنبیاء، ۲۱:۷۳)
    اور ہم نے انھیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی۔
    قرآنِ کریم کے ان ارشادات کی تائید تورات میں موجود ہے جیسا کہ کتاب مقدس میں فرمایا:
    جب تم زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو اپنے کھیت کے کونے کونے تک پورا پورا نہ کاٹنا اور نہ کٹائی کی گری ہوئی بالوں کو چن لینا اور تو اپنے انگورستان کا دانہ دانہ نہ توڑ لینا اور نہ اپنے انگورستان کے گرے ہوئے دانوں کو جمع کرنا ان کو غریبوں اورمسافروں کے لیے چھوڑ دینا، میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ (احبار،۱۹:۹،۱۰؛ احبار، ۳۳:۲۲؛ استثناء، ۱۶:۲۸،۲۹)
    اس سلسلے میںMax Weberبیان کرتا ہے:
    Land and vineyard are intentionally not to be completely harvested in order that something be left for the gerim and the poor of the ends of fields. (Max Weber, Ancient Judaism, P. 47)
    کھیتوں اور انگوروں کے باغوں کی جان بوجھ کر پوری فصل نہیں کاٹی جاتی تھی اس لیے کہ پردیسیوں، مسیکنوں اور یتیموں کا حصہ رکھنا یہودیت میں لازمی تھا۔
    زمین کی پیداوار اور درخت کے پھل کا دسواں حصہ بطورِ حق خدا مخصوص کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ کتاب مقدس میں درج ہے:
    زمین کی پیداوار کی ساری دہ یکی خواہ وہ زمین کے بیچ کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لیے پاک ہے اور اگر کوئی اس میں چھڑانا چاہے تو پانچواں حصہ اور ملا کر چھڑائے۔ (احبار، ۲۷:۳۰،۳۱)
    جانوروں کے ریوڑ میں سے بھی حقِ خدا ادا کرنا ضروری تھا اس سلسلے میں کتاب مقدس کی ہدایت یہ ہے:
    گائے، بیل اوربھیڑ،بکری یا جو جانور چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گزرتا ہو ان کی دہ یکی یعنی دس پیچھے ایک ایک جانورخداوند کے لیے پاک ٹھہرے کوئی اس کی دیکھ بھال نہ کرے کہ وہ اچھا ہے یا بُرا ہے اور نہ اسے بدلے اور اگر کہیں کوئی اسے بدلے تو وہ اصل اور بدل دونوں کے دونوں مقدس ٹھہریں اور اس کا فدیہ بھی نہ دیاجائے گا۔ (احبار ،۲۷:۳۲،۳۳)
    کھیت کے کناروں کا غلہ وغیرہ نادار اور غریبوں کے لیے مخصوص تھا جس کو یہودی شریعت میں "Peah"قرار دیا جاتا تھا۔
    Regulations, such as those reserving the corner of the field (Peah) for reaping by the needy gave practical effect to ethical generalizations. (The Standered Jewish Encyclopaedia, P. 427)
    فصل کی کٹائی کے دوران کھیت کے کناروں پر کتنی فصل چھوڑنا ضروری ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے بلکہ یہ کھیت کی لمبائی اور چوڑائی کو مد نظر رکھ کر چھوڑنا ضروری ہے، تالمود میں"Peah"کے مقاصد اور فلسفے کو انتہائی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
    The following have no prescribed measure Peah, (Corner of the field, the portion of the crop that must be left by the owner to the poor) First Fruit, Festival- offerings, deeds of kindness, and study of the law. And the following are the things the fruit of which a man enjoys in this world but the copital fund of which remains for him in the world to come. One should not leave Peah less than one-sixth of the field. And although there is no prescribed measure it should be fixed according to the size of the field, the number of the poor, and the need. (Lco Auerobach, The Talmud, P. 49(Retrived from November 7, 2009 http://www. sacred-texts.com/jud/bata/bata 04.htm)
    لہذا تالمود کے مطابق "Peah"کا فلسفہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کھیت کی پیداوار سے انسان اپنی اس زندگی میں فائدہ اٹھاتا ہے۔ مگر"Peah"انسان کی اُخروی زندگی میں فلاح اور نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔
    "Peah"یعنی زکوٰۃ جہاں آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے وہاں اس کی ایک حکمت مال میں برکت اور زیادہ ہونا بھی ہے۔ تالمود میں امراء کی دولت کا راز یہ بیان کیا گیا کہ وہ اپنی دولت کا ۱۰؍۱ حصہ غرباء و مساکین کے مخصوص کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں تالمود میں درج ہے:
    Rabbi Ishmael, the son of Joshua, was asked how did the people of the land of Israel become so weathy? He answered, "They gave their tithes in due season, as it is written, " Thou shalt give tithes in order that Thou mayest become rich." (H. Polano, The Talmud, P. 268)
    یوشع کے بیٹے ربی اسماعیل نے پوچھا کہ اسرائیل کی زمین کے لوگ اتنے دولت مند کیسے ہو گئے۔ اس نےجواب دیا کہ وہ مقررہ موسم میں اپنی دہ یکیاں دیتے ہیں جیسا کہ یہ لکھا ہے ’’ کہ تو دہ یکی دے تاکہ تو امیر ہو جائے۔‘‘
    تالمود کی رو سے صرف کھیتوں اور جانوروں کی ہی نہیں بلکہ درختوں کی"Peah"چھوڑنا بھی ضروری ہے۔
    of the trees, sumach, carob, nut trees, the almond, vines, the pomegranate, the olive and date palm are all subject to peah. (Leo Auerbach, The Talmud, P. 50(Retrived from November 7, 2009 http://www.sacred-texts.com/jud/bata/ bata 04.htm)
    "Peah"کے علاوہ ناداروں اور مسکینوں کی مدد کے لیے یہودی شریعت میں "Gleaning"کا تصور بھی موجود ہے جس کے حکمت و مقاصد بھی "Peah"ہی کی مانند ہیں۔ غلے کی وہ مقدار جو فصل کاٹنے کے دوران زمین پر گر پڑے اسے "Gleaning"کہتے ہیں۔
    اس سلسلے میںThe Standered Jewish Encyclopaediaمیں درج ہے:
    This tractate deals with the laws of all the different dues to poor, namely: Peah, laket ("gleaning of grapes") peret ("fallen grapes.") (The Standered Jewish Encyclopaedia P. 1485)
    تورات کے زمانے میں چونکہ دولت ازیادہ تر صرف زمین کی پیداوار اور جانوروں کے گلوں تک محدود ہی اس لیے ان ہی دونوں چیزوں کی زکوٰۃ کا زیادہ ذکر آیا ہے۔ (شبلی نعمانی، عبادات،ص ۱۴۳)
    تالمود میں"Gleaning"کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے۔
    If one cut a handfull, or pulled up a handfull, and a thorn pricked him and it fell from his hands to the ground, it belongs to the owner. If it fell on the inside of the hand or the inside of the sickle, it belongs to the poor. If it fell over the top of the hand or the top of the sickle, Rabbi Ismael says: it belongs to the poor. Rabbi Akiba says: it belongs to the owner. (Leo Auerbach, The Talmud, P. 51(Retrived from November 7, 2009 http://www. sacred-texts.com/ jud/bata/bata 04.htm)
    گویا اس قانون کی رو سے "Gleaning"کا انحصار اس بات پر ہے کہ اناج ہاتھ سے کٹائی کے دوران کس طرح گرتا ہے۔ اگر یہ زمین پر براہ راست گرتا ہے تو یہ مالک کا ہے اور اگر یہ ہاتھ کے اندر گرے تو یہ غریبوں کا حق ہے اسی طرح کٹی ہوئی فصل کا وہ حصہ جو ہوا اُڑا کرے جائے اور فصل کے گٹھوں کا وہ حصہ جو زمین کو چھوئے وہ غرباء کا حق ہے۔
    تالمود میں غریبوں کے حق اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اُسے دولت میں اضافے اور حفاظت کا ذریعہ بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح نمک گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بغیر نمک کے گوشت سڑ جاتا ہے ۔ لہٰذا جس طرح نمک گوشت کے لیے مفید ہے اسی طرح غریبوں اور ناداروں کو ان کا حق ادا کرنا دولت کے لیے مفید ہے۔ (H. Polano, The Talmud, P. 244)
    لہٰذا یہودی شریعت میں "Peah"اور"Gleaning کا فلسفہ، اخروی زندگی میں حصول فلاح، مال میں اضافہ و برکت، معاشرے کی فلاح و بہبود اور ناداروں، مسکینوں، بیواؤں اور یتیموں کو فائدہ پہنچانا ہے۔
    اسلام میں تصور و فلسفہ زکوٰۃ
    اسلام میں نماز کے بعد جس عبادت کا اصل تعلق خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ قرآنِ کریم میں بیشتر مقامات پر زکوٰہ کی فرضیت، اہمیت اور مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔
    اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ (سورۃ البقرۃ ۲:۲۷۷)
    ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اورنماز قائم کریں، اور زکوٰۃ دیں ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے۔
    زکوٰۃ ہر صاحبِ حیثیت و نصاب مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور یہ غرباء اور مساکین کا حق ہے قرآنِ پاک میں ارشاد ہے۔
    وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ (سورۃ الذّریٰت ۵۱:۱۹)
    اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اورمحروم کے لیے ۔
    محمد اسلم اس سلسلے میں بیان کرتے ہیں۔
    In the religious sense this term is applied to the share, given by the wealthy to the begger, and by so doing the rich increase their wealth and seek blessing. (Muslim Conduct of State, P. 250)
    زکوٰۃ کے معنی نمو پانے یا ترقی کے ہیں۔ اور شریعت کی رو سے مخصوص مال کا خاص شرائط کے ساتھ اس کے حق دار کو مالک بنا دینا ہے۔ یعنی صاحب نصاب کو اپنے مال میں سے فقیروں اور زکوٰۃ کے حق داروں کو مقررہ مقدار بطورِتملیک عطا کرنا ہے۔ (کتاب الفقہ علی مذاہب الاربعۃ، ۱؍۵۹۰۔)
    زکوٰۃ آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے جس کا اہم فائدہ نظامِ جماعت کے قیام کے لیے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے۔ (عبادات،ص ۱۴۱)
    نور محمد غفاری بیان کرتے ہیں:
    اسلام نے زکوٰۃ کا نظام قائم کر کے امراء کی دولت غربا تک پہنچائی جو دیگر معاشی اور سیاسی فوائد کے جلو میں امن و آشتی، خیر خواہی، اخوت و مروّت اور معاشرتی سازگاری لاتی ہے۔ (اسلام کا نظامِ عبادت، ۱۱۶)
    یعنی زکوٰۃ تقسیمِ دولت میں غیر فطری عدم مساوات کو ختم کرنے کا ذریعہ ہے اس کے ذریعے سے امیروں کی دولت غریبوں تک منتقل ہوتی ہے۔ (اسلامی نظریۂ حیات،ص ۴۶۰)
    حدیث مبارکہ ہے:
    تؤخذ من اغنیاء ھم وفتردّ علی فقراء ھم (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب اخذ الصدقۃ من الأغنیاء و ترد فی الفقراء حیث کانوا، رقم الحدیث ،۱۴۹۶،ص۲۴۳)
    اسلام کے نظامِ زکوٰۃ کی وضاحت کرتے ہوئے افضال الرحمن بیان کرتے ہیں:
    In a Muslim economy, inspite of the non-existance of intrest, people would never hoard idle each balances simply because of a 2__% levy in the form of Zakat which they have to pay under all the circumstances. (Economic Doctrine of Islam, 3/106)
    زکوٰۃ کا اصلی اورمرکزی مقصد وہی ہے جو خود لفظ زکوٰۃ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی ’’پاکی‘‘ اور ’’صفائی‘‘ کے ہیں۔ یعنی گناہ اور دوسری روحانی قلبی اور اخلاقی برائیوں سے پاک و صاف ہونا۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اسی معنی میں بار بار آیا ہے۔
    قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا (سورۃ الشمس ۹۱:۹)
    یقینا فلاح پا گیا وہ شخص جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔
    قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى(سورۃ الأعلی ،۸۷:۱۴)
    فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔
    اسی لیے حضور اکرمﷺ مومنین کو نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم فرمائے۔
    یامرنا بالصلوٰۃ والزکوٰۃ والصلۃ والعاف (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، رقم الحدیث ۱۳۹۴،ص۲۲۴)
    ہمیں (آپ) نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا حکم دیتے تھے۔
    زکوٰۃ خالص اللہ کی رضا کے لیے دی جاتی ہے۔ اسی لیے اس کی ادائیگی کا مقصد نبی اکرمﷺ نے رضائے الٰہی اور حصولِ جنت قرار دیا ہے۔ ارشادِ نبویﷺ ہے۔
    ان رجلا قال لنبی صلی اللہ علیہ وسلم اخبرنی بعمل یدخلنی الجنۃ قال مالہ مالہ وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ارب مالہ تعبد اللہ ولا تشرک بہ شیئا وتقیم الصلوٰۃ وتؤتی الزکوٰۃ وتصل الرحم۔ (ایضاً، رقم الحدیث ۱۳۹۶،ص۲۲۵)
    ایک شخص نے رسولِ اکرمﷺ سے عرض کیا مجھے آپﷺ ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ صحابہ نے فرمایا:اسے کیا ہو گیا؟ اسے کیا ہو گیا؟ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا اسے سوال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی (فرمایا) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔
    اشرف علی تھانوی زکوٰۃ کے اسرار بیان کرتے ہیں:
    جب خدا تعالیٰ کے لیے اپنے اس مال عزیز کو خرچ کرتا ہے جس پر اس کی زندگی کا مدار اور معیشت کا انحصار ہے۔ اور جو محبت اورتکلیف اور عرق ریزی سے کمایا گیا ہے۔ تب بخل کی پلیدی اس کے اندر سے نکل جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایمان میں بھی ایک شدت و صلابت پیدا ہوتی ہے۔ خدائے رحیم و کریم سے تعلق بڑھتا ہے۔ کیونکہ اپنے مال عزیز کو خدا کے لیے چھوڑنا نفس پر بھاری ہے اس لیے اس تکلیف کے اٹھانے سے خدا سے تعلق بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ (احکامِ اسلام عقل کی نظر میں،ص ۹۹)
    خدائے بزرگ و برتر انسان کی کمزور، فطرت سے بخوبی واقف ہے۔ انسان کو جب کبھی بھی سرمایہ میسر آتا ہے تو اس کا دل و دماغ الٹ جاتا ہے۔ غریب، متقی، پرہیزگار بھی رئیس ہونے پر فرعون بننے کی آرزو رکھتا ہے۔ یہ اس کو اپنی ذاتی املاک سمجھ کر حرص و طمع کے سلسلے کو غیر محدود طور پر بڑھانے کا متمنی ہوتا ہے۔ ان جذبات و خواہشات کو دبانے اور معاشرے میں انتشار کو پنپنے سے روکنے کے لیے زکوٰۃ و صدقات کے احکامات نازل کیے گئے۔ (اسلام کا تمدنی اور سیاسی نظام،ص ۲۳۱)
    الغرض زکوٰۃ امارت و غربت کا بہترین علاج ہے۔ آج اگر زکوٰۃ دقات کی تنظیم ہو اور صحیح نظام کے ساتھ غریبوں کی ضروریات کے لیے زکوٰۃ و صدقات وصول کیے جائیں اور ان کا مصرف معقول تجویز کیا جائے تو تمام پیچیدہ مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔ (فلسفہ عبادات اسلامی،ص ۴۳)
     
  2. ‏اگست 13، 2016 #22
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حج
    دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس کا کوئی مقدس مقام نہ رکھتی ہو اور اس کے پیروکار کسی خاص مذہبی موقع پر ایک جگہ اکٹھے نہ ہوتے ہوں۔ ان مقدس مقامات کی زیارت کے کچھ اصول اور طریقے ہیں جو اپنے اپنے عقیدے کے لحاظ سے ہر قوم و ملت کے لیے انتہائی محترم ہیں۔ شاہ ولی اللہ بیان کرتے ہیں کہ حج کی اصل بنیاد ہر امت میں موجود ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ۱؍۱۵۸)
    معنی و مفہوم
    لسان العرب میں حج کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔
    الحج: قصد التوجہ إلی البیت بالاعمال المشروعۃ فرضا و سنۃ۔(لسان العرب، ۳؍۵۲)
    لغات میں حج کے معنی قصد کرنا ،قصد زیارت کرنا یا کسی با عظمت شخص یا مقام کی زیارت کا ارادہ کرنے کو حج کہتے ہیں۔ (مفردات القرآن، ص۱۰۷)
    اور تاج العروس میں یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
    والحج: الغلبۃ بالحجۃ بالحجۃ کثرۃ الاختلاف والتردد (تاج العروس، ۳؍۳۱۴ ، معارف القرآن، ۲؍۱۲۲)
    یعنی دلیل و برہان کے ذریعے غالب آنا، اور حج کا مطلب کثرت سے آنا جانا اور لوٹنا بھی ہے۔
    شریعتِ موسوی، تصورِ حج و فلسفہ
    یہودیوں میں حج بہت قدیم زمانے سے رائج اور معروف ہے اس لیے ’’بیت المقدس ‘‘ اور اس کے قرب و جوار کے آثار و مقامات اب بھی ان کے لیے زیارت گاہ اورمرکزِ عقیدت ہیں۔
    یہودی فقہ کی مستند کتاب Talmudمیں درج ہے:
    بنی اسرائیل کو تین تہواروں کے موقع پر بیت المقدس کا حج یعنی حاضری دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ (H. Polano, Talmud, P. 323)
    کتاب خروج میں ’‘عید‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
    تو سال بھر میں تین بار میرے لیے عید منانا۔(خروج، ۲۳:۴۱)
    حج کے متعلقEncyclopaedia Judaicaمیں بیان کیا گیا ہے:
    In Hebrew the term aliyah (lit "going up") has been used since ancient time for pilgrimages to Jerusalem on the three festivals known as Shalosh regalim. The Torah prescribes that all males must go up to Jerusalem " three times a year." on the the three festivals. Passover, shavuot, and sukkot. (Encyclopaedia Judaica, 16/154)
    اور سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عید اور ہفتوں کی عید اور عہد خیام کے موقع پر تیرے ہاں کے سب مرد خداوند اپنے خدا کے آگے اسی جگہ حاضر ہو ا کریں جسے وہ چینگا اور جب آئیں تو خداوند کے حضورخالی نہ آئیں۔ (استثناء ۱۶:۱۶)
    "Passover"،"Shavuot"اور"Sukkot"کی وضاحتThe Encyclopaedia of Religionمیں یوں درج ہے:
    Thus on passover the reference is to the season of our freedom. On shavout to "the season of our Torah". and on sukkot " to the season of our regoicing." (The Encyclopaedia of Religion, 8/43;Encyclopaedia Biblica, 4/4819;Collier's Encyclopaedia, 13/658)
    "Passover"یہود میں آزادی کا تہوار ہے جب بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے مصر سے آزاد ہوئے اور"Shavuot"کا تہوار موسیٰ کو عطائے شریعت (تورات) کے دیے جانے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور"Sukkot"کے تہوار کو"Tabernacles"یا خیمہ عبادات کہا جاتا ہے جو بعض یہود کے نزدیک نو اور بعض کے نزدیک آٹھ دنوں پر مشتمل ہے۔ بنی اسرائیل کو ان تہواروں میں قربانیاں کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔
    اس سلسلے میں The Standered Jewish Encyclopaedia:کا مقالہ نگار بیان کرتا ہے:
    They had to offer up a special burnt offering on the occassion. (The Standered Jewish Encyclopaedia P. 1508)
    تالمود میں درج ہے کہ خداوند نے کہا تمہارے لیے اس موقع پر ایسا نہیں ہے کہ تم کفارے کے دن کی طرح روزہ رکھو بلکہ کھاؤ پیو اور خوش رہو اور امن کی قربانیاں گزارنو۔
    The Lord said this is not to be to you a fast as the day of atonement; eat drink be merry, and sacrifice peace-offerings there on. (H. Polano, The Talmud, P. 362)
    یہودیوں میںFeast of Tabenaclesیعنی عید المظال جس کو خیمہ عبادت بھی کہا جاتا ہے کے موقع پر بیت المقدس میں حاضر ہونا ضروری تھا۔ (Encyclopaedia Biblica, 4/4862)
    یہودی ہدایات کی مجموعہTalmudمیں ہے:
    The feast of Tabernacles begins on the fifteenth day of the seventh months, Tishri (october), and during its continuance, seven days, the Israelites are commanded to dwell in tabernacles or booths. This is designed to their homes during their forty years sojourn in the widderness. (H. Polano, The Talmud, P.361,362)
    عہد خیام ساتویں مہینے تشری(اکتوبر) کی پندرہویں تاریخ کو شروع ہوتی ہے اور اس عہد کے دوران اسرائیلیوں کو سات دین خیموں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ خیموں کے متعلق ان کی یاد داشت تازہ رہے جن کو ان کے باپ دادا نے بیابان میں چالیس سال اپنے سفر کے دوران بنائے تھے۔
    لہٰذا اس تہوار کا مقصد اپنے بزرگوں کی سنت کو زندہ رکھنا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنے ماضی کی یاد تازہ رکھنا ہے جس طرح مسلمانوں میں طوافِ کعبہ اور قربانی حضرت حاجرہ؈ اور حضرت ابراہیم ؈ کی سنت کو زندہ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مقرر کیا گیا ہے۔یہود بیت المقدس کی زیارت کا اس قدر اہتمام کرتے تھے کہTemple(عبادت گاہ) کی بربادی کے بعد بھی حج کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا۔
    According to The Standered Jewish Encyclopaedia :
    After the destruction of the temple some person would still go to pray at the temple site on the occassion of the feasts. (The Standered Jewish Encyclopaedia P. 1508)
    Israel Abrahamاس سلسلے میں بیان کرتا ہے:
    After the fall of the Temple ....... they can still be called pilgrimfeast. (Israel Abraham, Judaism, P. 53)
    Templeکی تباہی و بربادی کے بعد اگرچہ یہودی زائرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی مگر تب بھی ان تہواروں کو انتہائی اہتمام اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا تھا۔
    الغرض یہودی شریعت میں حج کا مقصد ماضی سے وابستگی، احساس ِعبدیت پیدا کرنے، مقدس مقامات سے اظہارِ محبت اور یہودی قوم میں اتحاد و یگانگت کے جذبات کو زندہ رکھنا تھا۔
    اسلام کا تصورِ حج اور فلسفہ
    شریعت کی اصطلاح میں حج سے مراد وہ جامع عبادت ہے جس میں مسلمان بیت اللہ پہنچ کر کچھ مخصوص اعمال اور عبادات کرتا ہے، چونکہ حج میں مسلمان بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے۔ اس لیے اس کو حج کہتے ہیں۔ (اسلام ایک نظر میں، ص ۱۴۹؛ حقیقۃ الحج، ص ۵)
    عفیف عبدالفتاح طبارہ بیان کرتے ہیں:
    فی الشرع الإسلامی قصد البیت الحرام بمکۃ للعبادۃ والحج من الشؤن الدینیۃ التی کانت تعرف من الدن اقدم العصور عند جمیع الأمم۔(روح الدین الاسلام، ص۲۵۱)
    مولانا وحید الدین خان فرماتے ہیں:
    کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں اور وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیاں دکھائی جاتی ہیں۔ (حقیقتِ حج،ص ۴۳)
    بیت اللہ کی عظمت اور رفعت کو نمایاں کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر اورکیا ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہماری خاطر بنوا کر اپنا گھر قرار دیا ہے۔ (تجلیاتِ کعبہ،ص ۲۲۸)
    جس نے بھی مقام رفعت و عظمت حاصل کیا۔ خدا تعالیٰ کی بندگی کے ذریعے ہی حاصل کیا۔ اور خانہ کعبہ ایک ایسا ہی مقام ہے جو خالص بندگی کے لیے قائم کیا گیا، قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى (سورۃ البقرۃ۲:۱۲۵)
    اور یہ کہ ہم نے اس گھر کعبے کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا جہاں ابراہیم؈ عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو۔
    وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا (سورۃ اٰل عمران ۳:۹۷)
    لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔
    حج ایک ایسی عبادت ہے جس کی ہر ادا یہ ظاہر کرتی ہے کہ حج کرنے والے کو اپنے مالکِ حقیقی سے کس قدر عشق و محبت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کون توحید کا قاتل ہے اور کون اللہ تعالیٰ سے خالص محبت کرتا ہے۔
    نور محمد غفاری حج کی حکمت بیان کرتے ہیں:
    حج کا اجتماع جہاں اسلامی شوکت کا مظہر ہے وہاں مسلمانوں میں احساس وحدت مرکز اور وحدت امت بھی پیدا کرتا ہے۔ حج کا روح پر ور منظر ہر سال اس حقیقت کا اعادہ کرتا ہے کہ تمام مسلمان ایک ہیں اور ان کا مرکز خانۂ کعبہ ہے۔ (اسلام کا نظامِ عبادات،ص ۱۶۵)
    چونکہ حج میں دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے وہ نہایت دشوار عمل ہے بڑی مشقت سے پورا ہوتا ہے اس لیے اس کی تکلیف کا برداشت کرنا خدا کی خالص عبادت ہے جس سے خطائیں معاف ہوتی ہیں حج پچھلے گناہوں کو ایسا دور کر دیتا ہے جیسا کہ ایمان ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ، ۱؍۱۵۹)
    نیز بے شمار مصالح و حکم کے ایک مصلحت فریضہ حج میں یہ بھی ہے کہ ساری امت تمام کرۂ ارضی تمام اقوامِ عالم اس نقطۂ مرکز سے دائمی پیوستگی بخش دی ہے۔ (حقیقتِ حج، ۹۱،۹۲)
    صدر الدین اصلاحی حج کی حکمت بیان کرتے ہیں :
    چونکہ کعبہ کی تعمیر توحید پر ہوتی ہے اس لیے حج توحید کا معلم ہے اور اس کودیکھتے ہی مومن کے دل میں وحدانیت کی روح جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے علاوہ لبیک اللھم لبیک کی مسلسل پکار حجر اسود کا بوسہ، طواف، سعی، قربانی، غرض حج کے کتنے ہی افعال ایسے ہیں جو توحید کے جذبات سے انسان کو سرشار کرتے جاتے ہیں۔ (اسلام ایک نظر میں، ۱۷۱،۱۷۲)
    حج کا ایک مقصد روزِ محشر کی یاد تازہ کرنا اور اس کی خاطر نیک اعمال کرنا ہے اس سلسلے میں نور محمد غفاری بیان کرتے ہیں:
    یہ ہجوم یاراں اگرچہ ایک طرف شوکت اور عظمت اسلام کا پتہ دیتا ہے تو دوسری طرف روزِ محشر کی اجتماع کی خبر دیتا ہے۔ (اسلام کا نظامِ عبادات،ص ۱۵۱)
    حج کے متعلق مولانا مودودی بیان فرماتے ہیں:
    ’’یہ مسلمان کے لیے ایک لازمی ٹریننگ کورس ہیں۔ انہی سے وہ مخصوص ذہنیت بنتی ہے جس سے خاص کر کریکٹر کی تشکیل ہوتی ہے اورمنظم عادات و خصائل کا پختہ سانچہ بنتا ہے۔ (اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر،ص ۱۸)
    کیونکہ حج کے ذریعہ طبیعتوں میں حوصلہ، صبر، تواضع ،توازن، تعاون، شفقت اور سادگی پیدا کرنے کے لیے ایک روحانی و جسمانی تربیت اور ایک اصلاحی مشق ہے۔
    ادریس کاندھلوی نے حج کو عشقِ الٰہی سے تعبیر کیا ہے،بیان کرتے ہیں:
    خانہ کعبہ خداوند ذوالجلال کے نور اورجمال کی تجلی کا گھر ہے۔ محبین اور عاشقین کا یہ فرض ہے کہ اس نور السمٰوٰت والارض اور محبوب برحق کے گہر پر عمر بھر میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور حاضری دے اور اس کے درودیوار کا دیوانہ وار چکر لگائے اور اس کے آستانے کو بوسہ دے جو شخص خدا کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی حاضری کو فرض نہ سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ جھوٹا عاشق ہے۔ (معارف القرآن، ۱؍۵۴۳)
    اشرف علی تھانوی حج کا ایک مقصد ایفائے عہد بھی قرار دیتے ہیں۔ حج کے سارے ارکان کبر اور بڑائی کےبڑے دشمن ہیں دور دراز کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔ احباب و اقارب چھوٹ جاتے ہیں۔ نفس پروری اور سستی اور کسل کا استیصال ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے ہزارہا سال سے انسان کے لیے خدا تعالیٰ کا ایک پاک معاہدہ چلا آرہا ہے جس کا ایفاء بذریعہ حج ہو جاتا ہے۔پس اس طرح سے اس میں ایفائے عہد کی بھی تعلیم ہے۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں،ص۱۴۲،۱۴۳)
    الغرض حج اسلام کا مذہبی رکن ہی نہیں بلکہ وہ اخلاقی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی یعنی قومی و ملی زندگی کے ہر رُخ اور ہر پہلو پر حاوی اور مسلمانوں کی عالمگیر بین الاقوامی حیثیت کا سب سے بلند ستارہ ہے۔ (شبلی نعمانی، عبادات،ص ۲۹۱)
     
  3. ‏اگست 13، 2016 #23
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قربانی
    دنیا کی کوئی قوم اور تہذیب مذہبی سفروں، زیارت گاہوں اور مقدس و متبرک مقامات سے خالی نہیں جہاں لوگ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضوریا اپنے خود ساختہ معبودوں اور دیو دیوتاؤں کے لیے قربانیاں کرتے ہیں، نذریں مانتے ہیں اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَلِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ (سورۃ الحج ۲۲:۳۴)
    ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں ان مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے۔ پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اسی کے تم مطیع فرمان بنو اور اے نبیﷺ بشارت دے دے عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو۔
    دوسری جگہ ارشاد ہے:
    لِكُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا ہُمْ نَاسِكُوْہُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ اِنَّكَ لَعَلٰى ہُدًى مُّسْتَقِيْمٍ (ایضاً،۲۲:۶۷)
    ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت مقرر کیا جس کی وہ پیروی کرتی ہے۔ پس اے نبیﷺ وہ اس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں تم اپنے رب کی طرف دعوت دو یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔
    شریعتِ موسوی…تصورِ قربانی و فلسفہ
    شریعت موسوی میں قربانی اور نذر و نیاز کے احکام پائے جاتے ہیں تورات میں اکثر مقامات پر خاص حکم کو بجا لانے کی تاکید کی گئی ہے ۔ مثلاً :
    اور خداوند کے حضور آتشیں قربانی یعنی سوختنی قربانی یا خاص منت کا ذبیحہ یا رضا کی قربانی گزارنو۔ (گنتی ،۱۵:۳،۴)
    ایک اور مقام پر درج ہے:
    اورجب تم خدا کے حضور سلامتی کے ذبیحے گزارنو تو ان کو اس طرح گزارنا کہ تم مقبول ہو۔ (احبار ،۱۹:۵)
    حضرت داؤد کے قربانی دینے کے متعلق بیان کیا گیا ہے:
    اور جب داؤد سلامتی کی قربانیاں اور سوختنی قربانی چڑھا چکا تو اس نے رب الافواج کے نام سے لوگوں کو برکت دی۔ (سموئیل ،۶:۱۸،۱۹)
    نیاز اور گناہ کے کفارے کے لیے جانور ذبح کیے جاتے تھے قربانیاں روزانہ ہوتی تھیں اور آگ قربان گاہ میں جلتی رہتی تھی ۔ نذر کی قربانی مسلم جلائی جاتی تھی اور دیگر اقسام کی قربانیوں کا صرف ایک حصہ جلایا جاتا تھا۔ (احبار، ۱:۶-۹)
    Encyclopaedia Biblicaمیں شریعت موسوی میں رائج قربانیوں کی مختلف اقسام کویوں بیان کیا گیا ہے۔
    گناہ کی قربانی(Hattath) خطا کی قربانی (Asam
    سوختنی قربانی (Olah) امن کی قربانی (Selem) (Encyclopaedia Biblica, 4/4184)
    سوختنی قربانی کے لیے ’’بے عیب نر‘‘ضروری تھا مگر شکرانے کی قربانی کے لیے ’’’نر‘‘ کی قید نہ تھی۔ (احبار، ۱:۲،۳)
    The whole burnt offering was naturally muchless......... with other sacrifices. (Encyclopaedia Biblica, 4/4191)
    مکمل سوختنی قربانی کی اہمیت دوسری قربانیوں کے مقابلے میں کم تھی جن میں عبادت گزاروں کے لیے ضیافت کا اہتمام بھی ہوتا تھا۔ اس قربانی کو کبھی الگ سے نہیں کیا جاتا تھا۔
    بعض مخصوص حالات کے تحت یہ واقع ہوتی تھی عام طورپر سوختنی قربانی دیگر قربانیوں سے ملا کر ہی ادا کی جاتی تھی۔
    قربانی کا سینہ اور بازو خدامِ درگاہ کا حق تھا اور وہ ہی اس کو کھاتے تھے سب چربی مع گردوں اور دنبہ چکی کے قربان گاہ پر جلا دی جاتی تھی۔ کفارے کی کھال، سر اور پیٹ وغیرہ عبادت خانہ کے باہر جلائے جاتے تھے۔ (احبار، ۴:۸-۱۲)
    غرباء کے لیے رعایت تھی کہ بطورِ کفارہ دو فاختہ یا کبوتر نذر کریں جبکہ امراء کے لیے ہر گناہ کے عوض ایک چوپایہ لازم تھا۔ (ایضا،۵:۷-۱۳؛۴:۱-۴)
    ہر جانورکا پہلا بچہ قربان کیاجاتا تھا اور اس کا گوشت خدام کھاتے تھے۔ (ایضا،۲۲:۲۶،۲۷)
    لہٰذا بنی اسرائیل کو دیگر مشرک اقوام سے خدا پرستی میں ممتاز ٹھہرانے کے لیے بکثرت قربانیوں کا حکم دیا گیا تھا جس کوGerald L. Berry نے یوں بیان کیا ہے:
    Any father could make sacrifice, usually a burnt offering of first fruit of crops and herds but sometimes a human sacrifice. (Religions of the world, P. 31: The Standered Jewish Encyclopaedia P. 1636)
    جہاں شرک و بت پرستی سے اعلان برأت کی خاطر قربانیوں کا حکم دیا گیا تھا وہاں ان کو قربان گاہ سے اس لیے متعلق کر دیا گیا کہ خارجی قربان گاہوں ،قربانی چڑھانے کا شائبہ تک نہ رہے۔ ایک طرف تو غیر شرعی قربان گاہوں کو ڈھانے کا حکم دیا گیا۔ دوسری طرف شرعی قربان گاہ پر قربانی نہ چڑھانے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا جیسا کہ تورات کے بیان سے واضح ہے:
    اور تو خداوند اپنے خدا کا مذبح بے تراشے پتھروں سے بنانا اور اس پر خداوند اپنے خدا سے سوختنی قربانیاں گزارنا اور وہیں سلامتی کی قربانیاں چڑھانا اور ان کو کھانا اور خداوند اپنے خدا کے حضور خوشی منانا۔ (استثناء، ۲۷:۶،۷)
    تم ضرور ان جگہوں کو نیست و نابود کر دینا جہاں جہاں وہ قومیں جن کے تم وارث ہو گے اونچے اونچے پہاڑوں پر اورٹیلوں پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اپنے دیوتاؤں کی پوجا کرتی تھی ۔تم ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا اور ان کے ستونوں کو توڑ ڈالنا اور ان کی یسیرتوں کو آگ لگا دینا اور ان کے دیوتاؤں کی کھدی ہوئی مورتوں کو کاٹ کر گرا دینا اور اس جگہ سے ان کے نام تک کو مٹا ڈالنا پر اپنے خداوند اپنے خدا سے ایسا نہ کرنا۔ (ایضاً، ۱۲:۲-۵؛احبار، ۱۷:۷)
    لہٰذا یہودی شریعت میں قربانی کا ایک نہایت اہم مقصد خدائے واحد کی عبادت اور شرک سے اجتناب قرار پایا جیسا کہ تالمود میں بھی درج ہے۔
    Has God pleasure in the meat and blood of sacrifices ....... bring your offerings at least to me. (Talmud, P. 264)
    نبیوں سے پوچھا گیا کہ کیا خدا گوشت اور خون کی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے؟ تو جواب میں بیان کیا گیا وہ کہتا ہے :
    جو تم پیش کرتے ہو وہ تمہارے لیے ہے۔ میرے لیے نہیں۔ نیز یہ کہ لوگ قربانی سے محبت کرتے ہیں اور وہ دیوتاؤں کے لیے قربانیاں چڑھاتے ہیں۔ اس لیے خدا نے ان سے کہا اگر تم قربانی کرو تو اپنی قربانی صرف میرے لیے ہی لاؤ۔
    لہٰذا تمام قربانیاں اسی نکتے کے گرد گھومتی ہیں کہ خدا کا قرب ،رضا اور نفس کی پاکیزگی حاصل ہو خطا ہو یا گناہ، غمی کا موقع ہو یا خوشی کا ہرحال میں خدا کا تقرب حاصل ہو جیسا کہHasting 's Bible Dictionaryمیں بیان کیا گیا ہے:
    Sacrifice belong to the class of religious acts in which man seeks to draw near to God. (Hasting's Bible Dictionary 4/329)
    The Universal Bible Dictionaryمیں بیان کیا گیا ہے:
    یہودی شریعت میں قربانی روح کی پاکیزگی اور خدا کی رضا کے لیے تصورکی جاتی ہے۔ (The Universal Bible Dictionary P. 421,422)
    نیز یہ کہ قربانی دیتے وقت خاص کر خدا کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔ (Hastings Bible Dictionary 4/339)
    لہٰذا امور دین و دنیا کی جامع قربانی ہے۔ اور اہل قربانی خلوصِ نیت اور تقویٰ ہے۔
    اسلام کا تصورِ قربانی و فلسفہ
    اسلام میں قربانی کا حکم نہایت واضح الفاظ میں آیا۔ قرآنِ کریم میں نماز کے ساتھ قربانی کا مذکور ہونا قربانی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ(سورۃ الکوثر ۱۰۸:۱-۳)
    اے نبیﷺ ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا، پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔
    علامہ ابن قدامہ ’’المغنی‘‘میں لکھتے ہیں:
    قربانی کی مشروعیت کتاب اللہ، سنت اللہ اور اجماع امت سے ہے کتاب اللہ میں اس کی دلیل فصل لربک وانحر ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا کہ اس آیت سے مراد صلوٰۃ عید کے بعد قربانی ہے۔ (ابن قدامہ، المغنی، ۸؍۶۱۷)
    قرآنِ کریم میں قربانی کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے۔
    وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ (سورۃ الحج ۲۲:۳۶)
    اور قربانی کے اونٹوں(جانوروں) کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے۔
    قرآنِ کریم میں قربانی کی حقیقت اور اس کے دینی اثرات کی وضاحت اس آیت سے مزید ہوتی ہے:
    وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ لَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّہَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ (ایضا ۲۲:۳۲،۳۳)
    جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے، تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ تمہیں ایک وقت مقرر تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔ پھر اُن (کے قربان کرنے کی جگہ) اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔
    طاہر القادری قربانی کا ایک مقصد سنت ابراہیم کی یاد کو تازہ کرنا بیان کرتے ہیں:
    مقام منی پر فرزندانِ توحید کے عظیم اجتماع کی قربانی اس منظر کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہے۔ جب منشائے ایزدی کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل؈ کو خدا کی رضا کے لیے قربان کر دینے کے لیے اس میدان میں لے آئے تھے۔ لہٰذا یہ عظیم قربانی جسے ذبح عظیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ شرف قبولیت سے نوازی گئی۔ (فلسفہ و احکامِ حج، ص ۸۹)
    سید سلیمان ندوی بیان کرتے ہیں:
    یہ قربانی کیا تھی محض گوشت اور خون کی قربانی نہ تھی، بلکہ روح اور دل کی عزیز ترین متاع کو خدا کے سامنے پیش کر دینے کی نہ تھی۔ یہ خدا کی اطاعت، عبودیت اور کامل بندگی کا بے مثال منظر تھا۔ یہ تسلیم و رضا اورصبر و شکر کا وہ امتحان تھا جس کو پورا کیے بغیر دنیا کی پیشوائی اور آخرت کی نیکی نہیں مل سکتی تھی۔ یہ خدا کے حکم کے سامنے اپنے ہر قسم کے ارادے اور مرضی کو معدوم کر دیا تھا۔ (حقیقتِ حج، ص ۱۲)
    قربانی جہاں عزم وہمت اور فداکاری کا سبق دیتی ہے وہیں اس کا اقتصادی پہلو بھی ہے۔ قربانی اور ذبیحہ کے جانوروں کا گوشت کھالیں ہڈیاں، آفتیں، خون وغیرہ ایسی مفید اشیاء ہیں جن سے انسان کی اکثر و بیشتر ضروریات وابستہ ہیں اور لاکھوں لوگوں کا کاروبار اس سے وابستہ ہے۔ (فلسفہ عباداتِ اسلامی،ص ۶۰)
    لَنْ يَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاۗؤُہَا وَلٰكِنْ يَّنَالُہُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ (سورۃ الحج ۲۲:۳۷)
    نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
    عامر شعبی سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا خدا کو گوشت اور خون نہیں پہنچتا اگر چاہو تو بیچ دو اگر چاہو تو خود رکھ لو۔ اگر چاہو تو راہِ خدا میں دے دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں کر دیا ہے کہ تم خدا کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور اس کی ناراضگی کے کاموں سے رک جاؤ اور اس کی عظمت اور کبریائی بیان کرو۔ (تفسیر ابن کثیر، ۳؍۴۷۹؛تفسیر قرطبی، ۲؍۲۱۰۹)
    سید سلیمان ندوی بیان کرتے ہیں:
    قربانی کا مقصد غریبوں کی ضیافت کرنا ہے اور اس جشن ابراہیمی ؈ کے موقع پر ان کو شکم سیر کرنا ہے۔ (حقیقتِ حج، ص ۴۰)
    اشرف علی تھانوی قربانی کی حکمت بیان کرتے ہیں:
    قربانی اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے۔ چونکہ انسان قربانی سے قربِ الٰہی کا طالب ہوتا ہے۔ اس لیے اس فعل کا نام بھی قربانی ہوا۔ کیونکہ خدا کھالوں اور گوشت کے چڑھاوے کا محتاج نہیں بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضورمیں اس طرح اپنے نفس کو قربان کر دو۔ (احکام اسلام عقل کی نظر میں،ص ۱۲۱)
    ابن جوزی بیان کرتے ہیں:
    اگر اللہ کا تقویٰ نہ ہو تو اللہ کسی جانور کے گوشت اور خون کو قبول نہیں فرماتا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ جس کسی عمل کی نیت صحیح نہ ہو تو اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔ (زاد المسیر، ۳؍۲۳۹)
    پروفیسر خورشید احمد قربانی کا فلسفہ بیان کرتے ہیں:
    قربانی وہ ذبح عظیم جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؈ کا فدیہ قرار دیا تھا اس لیے اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنا در حقیقت اپنے آپ کو قربان کرنے کا قائم مقام ہے۔ یہ اس بات کا خاموش اقرار ہے کہ ہماری جان اللہ کی راہ میں نذر ہو چکی ہے اور وہ جب اسے طلب کرے گا ہم بلا تامل پیش کر دیں گے۔ (خورشید احمد، اسلامی نظریۂ حیات،ص۳۳۳)
    مفتی محمد شفیع قربانی کی حکمت بیان کرتے ہیں:
    قربانی جو کہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اللہ کے پاس اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ مقصود اصلی اس پر اللہ کا نام لینا اور حکم ربی کی بجا آوری دلی اخلاص کے ساتھ ہے۔ یہی حکم دوسری عبادت کا ہے نماز کی نشست و برخاست روزے میں بھوکا پیاسا رہنا اصل مقصود نہیں بلکہ اصلی مقصود اللہ کی تعمیل دلی اخلاص و محبت کے ساتھ ہے۔ اگر یہ عبادت اس اخلاص و محبت سے خالی ہے تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے۔ روح غائب ہے۔ (معارف القرآن، ۶؍۲۹۷)
    قربانی کی مقصدیت میں دونوں شریعتوں نے قربانی کو رضائے الٰہی کا ذریعہ اور پاکیزگیٔ نفس کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ اسلام نے بھی قربانی کو بامقصد عمل بتا کر اس کا مقصد حصولِ تقویٰ قرار دیا ہے۔
    شریعتِ موسوی کی نسبت شریعتِ محمدیہﷺ کے تمام احکام میں چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے متعلق ہوں ’’عسر‘‘ کی بجائے ’’یسر‘‘ کا پہلو زیادہ نمایاں ہے ۔ دراصل شریعت محمدیہﷺ کا یہ خاصہ ہے کہ احکام کی ادائیگی میں خوش دلی اور سہولت بہم پہنچانے کا خیال رکھا جاتا ہے جیسا کہ ذاتِ حق نے خود اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
    يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (سورۃ البقرۃ۲:۱۸۵)
    اللہ ہمارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔
    لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (سورۃ البقرۃ ۲:۲۸۶)
    اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔
    آپﷺ نے امتِ مسلمہ کو اپنی اسلامی شریعت کی طرح شریعت موسوی میں بھی دونوں طرح کی یعنی انفرادی اور اجتماعی عبادت کا تصورملتا ہے۔ اسلام میں تمام عبادات کی علت و حکمت تقویٰ اور ذکر خداوندی ہے۔ محض رسمی ادائیگی مقصود نہیں۔ مگر شریعت موسوی میں تزکیۂ نفس اور ذکر خداوندی کے ساتھ رسمی عبادات پر بھی بہت زور دیا گیا ہے۔
     
  4. ‏اگست 13، 2016 #24
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فصل سوم
    معاشی احکام


    معیشت کا مادہ عربی لغت میں عاش ،یعیش ،عیشة سے نکلاہے ۔ لغات کی روشنی میں معیشت سے مراد ہے:
    ’’العیش الحیاۃ المغتصہ بالحیوان وھوا خصّ من الحیاۃ لانّ الحیاۃ تقال فیی الحیوان وفیی الباری تعالی وفیی الملک ویشتق منہ المعیشۃ لمایتعیش منہ ۔‘‘(تاج العروس،۹؍۱۵۱؛ المفردات ،ص :۳۵۳؛ لسان العرب ،۶؍۳۲۱؛ الصحاح، ؍۸۵۱)
    العیش خاص کر اس زندگی کو کہتے ہیں۔ جو حیوان میں پائی جاتی ہے اور یہ لفظ الحیاۃ سے اخص ہے کیونکہ الحیاۃ کا لفظ حیوان،باری تعالیٰ اور ملائکہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔ العیش سے لفظ المعشیۃ ہے جس کے معنی ہیں۔ سامان تعیش ،کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جن پر زندگی بسر کی جاتی ہے۔
    Encyclopaedia of Social Science میں معیشت کی وضاحت اس طرح کی گئی :
    معاشیات کو انگریزی میں معیشت (Economics) کہتے ہیں یہ لفظ قدیم یونانی زبان کے لفظ (Oikonomos)سے اخذ کیا گیا ہے۔ اُس وقت اِس سے مراد ایسا طریقہ کار تھا جس کے ذریعے ایک خاندان کے افراد پیداواری خدمات سرانجام دے کرآمدنی حاصل کرتے ہیں اور اس کی بدولت اشیاء وخدمات خرید کر اپنی روزمرہ ضروریات پورے کرتے ہیں۔ (Encyclopaedia of Social sciences,5/345;Encyclopaediaof Religion and Ethics,5/145;Collie's Encyclopaedia,8/534 -535)
    پروفیسر الفرڈ مارشل (Alfred Marshall)کے مطابق:
    "Politcal economy or economics is a study of mankind in the ordinary business of life, it examines that part of individual and social action whice is most closely eonnected with the attainment and with the use of material requisites of well being." (Principles of Economics, P:1)
    معاشیات میں انسان کے اُن افعال کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق زندگی کی روز مرہ معاملات سے ہوتا ہے۔ یہ علم انسان کی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے اس حصے کا جائزہ لیتا ہے جس کا اس چیز سے گہرا تعلق ہے کہ خوشحال زندگی کے لوازمات کیونکر حاصل کیے جاتے ہیں۔
    Milton Friedmanکے نزدیک معاشیات سے مراد:
    Economics is the science of how a particular society solves its economic problems. (Milton Friedman, Price Theory, P:1)
    یعنی معیشت ایک ایسی سائنس ہے کہ جس میں اس بات کو جانا جاتا ہے کہ کس طرح ایک خاص معاشرہ اپنے معاشی مسائل کو حل کرتا ہے۔
    مندرجہ بالا تعریفوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشیات سے مراد وہ علم ہے۔ جوانسان کی روز مرہ زندگی کے معاملات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جو وہ اپنے محدود مادی اور انسانی ذرائع کو استعمال کرکے معاشی فلاح ویہود میں اضافے کے لیے کرتا ہے۔ نیز یہ علم اس معاملے سے بھی تعلق رکھتا ہے کہ خوشحال زندگی کے لوازم کیا کیا ہیں؟ اور ان کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟
    شریعت الہیہ میں ترغیب حصولِ معاش
    شریعت الہیہ کی نظر میں کوئی ذریعہ معاش کمتر نہیں مگر شرط حصول رزق حلال ہے۔ تمام انبیائے کرام جو الہامی ہدایت سے مزین تھے ہاتھ سے روزی کماتے تھے۔
    حضرت زکریا؈ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔
    کان زکریا نجاراً ۔ (السنن لإبن ماجۃ ،ابواب التجارات ،باب الصناعات، رقم الحدیث :۲۱۵۰، ص:۳۰۹)
    اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پیغمبر داؤد ؈ بھی ہاتھ سے روزی کماتے تھے۔ بخاری شریف میں روایت ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
    ما اکل احد طعاماً قط خیراً من ان یاکل من عمل یدہ۔ وان بنی اللہ داؤد علیہ السلام کان یاکل من عمل یدہ۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب البیوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ ،رقم الحدیث ، ۲۰۷۲،ص:۳۳۳)
    کسی نے بھی کوئی کھانا اس سے بہترنہیں کھایا جو کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے کماکرکھائے ۔ اور اللہ کے پیغمبر داؤد ؈اپنے ہاتھ سے کماکرکھاتے تھے۔
    حضرت داؤد ؈ کے متعلق قرآن پاک میں ارشادہے۔
    وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ (سورۃ الانبیاء، ۲۱:۸۰)
    اور ہم نے تمہارے فائدے کے لیے اس کو زرہ بنانے کی صنعت سکھادی سورۃ سبا میں اس دنیاوی ومعاشی فلاح کے مضمون کو اس اندار سے بیان کیا گیا ہے۔
    وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِيْدَ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ (سورۃ سبا، ۳۴:۱۰-۱۱)
    اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ اور اس کو ہدایت کی کہ پوری پوری زرہیں بنا۔ اور ٹھیک انداز سے کڑیاں جوڑ۔
    نبیﷺ کا ارشاد ہے کوئی پیغمبر ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ نبیﷺ نے مکہ میں چند قیراط کے عوض بکریاں چرائی تھیں۔
    ابن ماجہ میں روایت ہے۔
    ما بعث اللہ نبیا الا راعی غنم ،قال لہ اصحابہ وانت یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:وا نکبت ارعاھا لاھل مکۃ بالقراریط۔ (السنن لإبن ماجۃ، ابواب التجارات، باب ارصناعات ،رقم الحدیث:۲۱۴۹،ص: ۳۰۸)
    اللہ نے کوئی نبی ایسانہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے؟ فرمایا: میں نے اہل مکہ کی بکریاں چندقیراط کے عوض چرائیں۔
    لہذا تمام انبیائے کرام نے حصول معاش کے لیے ہمیشہ اس پیشے کا انتخاب کیا جس سے جائز رزق حاصل ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ جو شریعت میں ممنوع ہے۔ جیسے سودخودی ، قماربازی ،رشوت، ناپ تول میں کمی اور ایسے ہی ہر طرح کے ناجائز ذرائع سے شریعت نے منع فرمایا ہے اور ان کے نعم البدل میں بنی نوع انسان کو جائز اور پاک اشیا اور ذرائع سے نواز ہے۔ جو شریعت الہیہ کی خاص حکمت کے پیش نظرہے۔
    سید مودودی بیان کرتے ہیں:
    دولت کمانے کے ذرائع میں اسلام نے جتنی باریک بنی کے ساتھ جائز وناجائز کی تفریق رکھی ہے۔ دنیا کے کسی قانون نے نہیں کی وہ چن چن کر ان تمام ذرائع کو حرام قراردیتا ہے۔ جن سے ایک شخص دوسرے شخص کو یا بحیثیت مجموعی پوری سوسائٹی کو اخلاقی یا مادی نقصان پہنچا کر اپنی روزی حاصل کرتا ہے ۔ شراب اور نشہ آور چیزوں کو بنانا اور بیچنا ،فحش کاری اوررقص و سرود کا پیشہ جوا سٹہ بازی ایسے استحصالی طریقے ہیں جن میں ایک فریق کا فائدہ یقینی اور دوسری کا مشتبہ ہو۔ (سید ابو الاعلیٰ مودودی ،معاشیات اسلام، ص: ۲۷)
    تورات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت موسوی میں کا فی حد تک حلال وحرام اور جائز وناجائز کے درمیان تمیز برقرار رکھی گئی۔ جس کے متعلق مظہر الدین صدیقی بیان کرتے ہیں :
    یہودیت ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ جو ہر عمل کو رضائے الہی کے تابع کرنا چاہتاہے۔ حق وباطل، خیروشر کے معیارات کو یہودی صرف عبادت اور پرستش تک ہی محدود نہیں کرتا بلکہ وہ زندگی کے ہرگوشے اوراعمال کی ہر شاخ میں ان تصورات سے مطابقت پیداکرنا چاہتا ہے۔ (مظہر الدین صدیقی ،اسلام اورمذاہب عالم ،ص:۶۱)
    Encyclopaedia of Social Sciences کا مقالہ نگار یہودیت کے معاشی احکام کے متعلق بیان کرتاہے:
    The practize of the jewish religion has had considerable influenc upon the characteristics of the Jews, their social behaviour and their social and economic status. The observance of the numerous regulations imposed on the Jew by his faith has let to a strong disciplining of the will as well as to a marked practical rationalization of life. (Encyclopaedia of Social Sciences,8/437)
    یہودی مذہب پر عمل پیداہونے سے صرف یہود کے معاشرتی رویے ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس سے انہیں ایک معاشی نظام بھی ملتا ہے۔ یہودیوں پر نافد مختلف مذہبی فرائض انہیں ایک مضبوط معاشی نظام کے ساتھ ساتھ عملی طور پر شعور بھی دیتے ہیں۔
    لہذا فصل ہذا میں شریعت موسوی اور شریعت محمدیہﷺ کے معاشی احکام سے متعلق حکمت ومقاصد زیر بحث لائے جائیں گے جن کو منشائے خداوندی کے تحت مقبول ومبغوض یا حلال وحرام ٹھہرایا گیا۔
     
  5. ‏اگست 13، 2016 #25
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہودیت میں تصورِ حلال وحرام
    حلال وحرام جو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اسی سے پاک وناپاک کی تمیز ہوتی ہے۔اسی لیے یہ معقول مذہب نے انسان کی اس بنیادی ضرورت کی طرف توجہ دلانی ہے۔اور حلال وحرام کے معاملے میں قدم قدم پراس کی راہ نمائی کی ہے۔ ہر مذہب نے جس کی فطرت کے ساتھ ایک مناسبت پائی جاتی ہے۔ اُس نے انسان کے فطری تقاضوں کو پوراکرنے کی کوشش کی ہے۔ اور ہر شعبہ زندگی میں اس کی راہ نمائی کی ہے۔ تاکہ انسان کے لیے دنیوی اور اخروی فلاح اور حصول تقوی وتزکیۂ نفس ممکن ہوسکے اور یہ ہی عنصر شریعت موسی کے احکامِ حلال وحرام میں واضح نظر آتاہے۔
    اگر چہ شریعت موسوی میںجسمانی اور دماغی محنت سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے مگر اس سلسلے میں یہ قانون بنایاگیا کہ چھ دن کام کیا جائے مگر ساتویں دن (سبت)کو مقدس مانتے ہوئے کسی قسم کے کام ،مزدوری اور شکار وغیرہ سے پرہیز کیا جائے ۔ سبت کی حرمت شریعت موسوی میں لازم کی گئی لہذا حکم شرعی ہے۔
    تو خداوند اپنے خداکے حکم کے مطابق سبت کے دن کو یاد کرکے پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کرکے اپنا سارا کام کاج کرنا۔ لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خداکا سبت ہے اس میں نہ تو کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹانہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرابیل نہ تیرا گدھا نہ اور کوئی جانور اور نہ کوئی مسافر جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہوتا کہ تیراغلام اور تیری لونڈی بھی تیری طرح آرام کریں۔ اور یاد رکھنا کہ تو ملک مصر میں غلام تھا۔ اور وہاں سے خداوند تیراخدااپنے زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے تجھ کو نکل کر لایا۔ اس لیے خداوند تیرے خدانے تجھ کو سبت کے دن کوماننے کا حکم دیا۔ (استثناء ،۵:۱۲تا۱۵ ؛ خروج،۳۵:۱تا۳)
    عہد عتیق کے ایام میں اگر چہ شراب کا استعمال عام نظر آتا ہے لیکن شریعت موسوی میں اس کی انتہائی مذمت کی گئی ہے۔ اور اکثر مقامات پر تویہ بالکل حرام قراردی گئی ہے حکم شرعی ہے:
    اور خداوند نے ہارون سے کہا۔ تو یاتیرے بیٹے مے یا شراب پی کر کبھی خیمہ اجتماع کے اندرداخل نہ ہونا تاکہ تم مرنہ جاؤ ۔یہ تمہارے لیے نسل درنسل ہمیشہ کے لیے ایک قانون رہے گا۔ تاکہ تم مقدس اور عام اشیاء میں اور پاک وناپاک میں تمیز کرسکو۔ (احبار، ۱۰:۸تا۱۱)
    شریعت موسوی میں سود کی انتہائی مذمت کی گئی تھی اور اکثر مقامات پر اس کی ممانعت کے واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔ یہودیوں کو سود لینے سے منع کیا گیا تھا اگر چہ انہوں نے اس احکام میں تحریف کرکے ’’اپنے بھائی‘‘سے مرادلے لیا تھا۔ مگر شریعت موسوی میں سود حرام ہی تھا۔ حکم شرعی ہے۔
    اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہوجائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو تُو اُسے سنھالنا ۔ وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔ تو تو اس سے سود یانفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا …تو اپنا روپیہ اُسے سود پرمت دینا۔ اور اپنا کھانا بھی اُسے نفع کے خیال سے مت دینا۔
    (احبار، ۲۵: ۳۵تا۳۷)
    شریعت موسوی کے نزول کے زمانے میں جادوگروں اور شعبدہ بازوں کا عروج نظر آتا ہے۔ مگر تورات میں جادوکی سختی سے مذمت کی گئی ہے اور نہ جادو منتر کرنا نہ شگون نکالنا۔( ایضاً، ۱۹: ۲۷)
    جادو گرکے بارے میں تو تورات کے احکامات انتہائی سخت تھے۔
    اور وہ مرد یاعورت جس میں جن ہویا وہ جادوگرہو۔ تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ کو لوگ سنگسار کریں ان کا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔ (ایضاً،۲۰: ۲۷)
    شریعت موسوی میں چربی حرام کردی گئی تھی۔ حکم شرعی ہے۔
    اور موسی؈ نے خداوند سے بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ بیل کی نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔( ایضاً،۷:۲۲،۲۳)
    شریعت موسوی میں خشکی اور تری (آبی) کے اکثر جانور حرام تھے جن کو سفر الاحبار کی گیارھویں فصل میں دی گئی ہے۔
    خشکی کے جانور میں سے ایسے جن کے پاؤں الگ ہیں ان میں اونٹ، خرگوش، سافان اور سؤر حرام تھے۔ اور آبی جانوروں میں سے وہ جن کے پر اور چھلکے نہیں ہوتے وہ حرام تھے اور پرندوں کی کثیر تعداد جن میں عقاب ،اُستخوان، خوار اور لگڑ،
    چیل، باز، کوے، شترمرغ، شاہین،الو،قاز، گدھ، بگلے، ہُدہُد، چمگادڑ وغیرہ کے علاوہ بھی کئی پرندے حرام تھے۔ (ایضاً،۱۱:۴تا۱۹)
    شریعت موسوی کی رُوسے قربانی کا گوشت اگر کسی ناپاک چیز سے چھوجائے تو وہ بھی ناپاک قراردیا جائے گا۔ چنانچہ حکم شرعی ہے۔
    اور جو گوشت کسی ناپاک چیز سے چھوجائے کھایا نہ جائے۔ وہ آگ میں جلایا جائے ۔ اور ذبیحہ کے گوشت کو جو پاک ہے وہ تو کھائے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے اور جو کوئی کسی ناپاک چیز کو چُھوئے خواہ وہ انسان کی نجاست ہو یاناپاک جانور ہو۔ یا کوئی نجس مکروہ شئے ہو…اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالاجائے۔( ایضاً،۷:۱۹تا۲۱)
    یہود پر اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ذکر قرآن نے بھی کیاہے اور ان کی حرمت کی وجہ ان لوگوں کی سرکشی اور عصیان قراردیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

    وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَآ اَوِ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْن (سورۃ الانعام، ۶: ۱۴۶)
    اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی اُن پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے۔ اور گائے اور بکری کی چربی بھی اُس کے جوان کی پیٹھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو یاہڈی سے لگی رہ جائے یہ ہم نے اُن کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی۔ اور یہ جوکچھ ہم کہہ رہے ہیں۔ بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔
    شریعت موسوی میں جہاں کچھ حرام کیا گیاتھا۔ وہاں بہت کچھ حلال بھی قراردیا گیا تاکہ لوگ تزکیہ نفس اور رضائے الہی کے حصول کے ساتھ ساتھ دنیوی زندگی سے بھی بھر پوراستفادہ کرسکیں ۔ لہذا شریعت کے حرام اور حلال قراردینے میں بے شمار حکمتیں اور اسرارہیں جن کا ہم نہایت کوشش کے باوجود صرف اسرارو مقاصد کا پتہ لگا سکتے ہیں مگر بشری حکمتیں ہمارے احاطہ بصیرت سے باہر ہیں۔ لہذا کتاب مقدس میں حلال اور پاکیزہ اشیاء کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز محنت کے ذریعے حاصل کردہ معدنیات کو بھی سراہا گیاہے۔
    وہ(فلسطین) ایسا ملک ہے جہاں گیہوں اور جو اور انگور اور انجیر کے درخت اور انار ہوتے ہیں۔ وہ ایسا ملک ہے جہاں روغن دارزیتوں اور شہد بھی ہے۔ اُس ملک میں تجھ کو روٹی باافراط ملے گی اور تجھ کو کسی چیز کی کمی نہ ہوگی۔ کیونکہ اس ملک کے پتھر بھی لوہا ہیں اور وہاں کے پہاڑوں سے تو تانبا کھودکر نکال سکے گا۔ (استثناء، ۸:۸،۹)
    الغرض کتاب مقدس کے حلال وحرام کے قوانین قدم یہود کے فکراور مزاج کے عین مطابق اور انتہائی موثر تھے۔ لیکن یہود عملی زندگی میں ان کو اپنانے میں ناکام رہے۔ بعض خداکی حرام کردہ چیزوں کو محض اپنے ذاتی مفادد کے حصول کے لیے حلال کرلیا تھا۔ اور اسے مذہبی تقدس عطاکر دیا تھا۔ اور یہودکی بعد میں آنے والی نسلیں ان ہی احکامات کی پابندی کرتی رہیں۔
    اسلام کا تصورِ حلال و حرام
    اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام چیزیں اصلاً حلال اور مباح ہیں حرام صرف وہ چیزیں ہیں جن کی حرمت کے بارے میں صحیح اور صریح نص موجود ہے۔ تمام اشیاء کے جائز ہونے کا استدلال علمائے کرام نے ان آیات سے کیا ہے۔
    ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا(سورۃ البقرۃ۲:۲۹)
    ’’وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔

    وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ (سورۃ الجاثیۃ ۴۵:۱۳)
    ’’اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا۔‘‘

    یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ لاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(سورۃ البقرۃ۲:۱۶۸)
    ’’لوگو زمین میں حلال اور پاک چیزیں ہیں انھیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ (سورۃ البقرۃ۲:۱۷۳)
    ’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سؤر کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور چیز کا نام لیا گیا ہو۔‘‘
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (سورۃ المآئدۃ ۵:۹۰)
    ’’شراب اور جُوا اور یہ آستانہ اور پانسے اور یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو اُمید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔‘‘
    خورشید احمد لکھتے ہیں:
    اسلام نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے اگر ان کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ چیزیں ہیں یا تو فرد یا معاشرے کی جسمانی اور اخلاقی زندگی کو مجروح کرتی ہیں اور یا انسانوں کے درمیان حقیقی معاشی تعاون، مساوات،آزادی، جدوجہد، عدل و انصاف، قسط و تعاون کا قیام مشکل کر دیتی ہیں۔ (اسلامی نظریۂ حیات،ص ۴۵۶)
    اسلام میں سود کی قطعی حرمت کا حکم ہے یہ اللہ کی طرف سے حرام ہے جس چیز کی حرمت شریعت سے ثابت ہو جائے اس سے رُک جانا چاہیے اگر پھر انسانیت سودی کاروبار سے باز نہ آئے تو یہ اللہ اور رسول اکرمﷺ سے اعلان جنگ ہے۔
    حرمتِ سود سے متعلق حکم شرعی ہے:
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (سورۃ اٰل عمران ۳:۱۳۰)
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہ بڑھنا اور چڑھنا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو اُمید ہے فلاح پاؤ گے۔‘‘
    اسلام کا مقصد صرف معاشی وسائل کی فراوانی نہیں بلکہ ان کا منصفانہ اور مصلحانہ استعمال ہے اس لیے معاشی جدوجہد کو حلال و حرام کا پابند کیا گیا ہے۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (سورۃ النسآء ۴:۲۹)
    ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ ،لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔‘‘
    اسلام میں رشوت، غضب، خیانت، ناپ تول میں کمی، مال یتیم میں بے جا تصرف، زنا کی آمدنی، شراب کی صنعت، قحبہ گری، فحاشی پھیلانے والے کاروبار، سٹہ بازی اور سود خوری وغیرہ سب حرام ہیں۔
    ابن کثیر بیان کرتے ہیں:
    اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو ایک دوسرے کا مال باطل طریقے کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہے ہیں۔ خواہ اس کمائی کے ذریعے سے ہو جو شرعاً حرام ہے جسے سود خوری ،قمار بازی اور ایسی ہی طرح کی حیلے سازی چاہے اس جواز کی شرعی حیثیت دے دی ہو اللہ خوب جانتا ہے اصل حقیقت کیا ہے۔( تفسیر ابن کثیر، ۱؍۵۷۹؛وھبۃ الزحیلی، تفسیر الوسیط، ۲؍۳۱۰)
    اس بنیادی تعلیم کے بعد اسلام نے واضح کیا ہے کہ کسی فرد یا ادارے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال یا حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے ۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(سورۃ المآئدۃ ۵:۸۷)
    ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انھیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔‘‘
    اگرچہ اسلام نے حلال حرام سے متعلق قطعی اور سخت احکام دیے ہیں تاہم اسلام انسانی زندگی کی ضرورتوں سے بے اعتنائی کرتا ہوا بھی نظر نہیں آیا بلکہ ہر جگہ انسانی کمزوریوں کا مکمل ادراک کرتا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ الٰہی نے اس چیز کو جائز ٹھہرایا ہے کہ ایک مسلمان شدید مجبوری کی حالت میں قوت لا یموت کی خاطر بقدر ضرورت حرام استعمال کر سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مردار، خون، اور سؤر کے گوشت کی حرمت کا حکم دینے کے بعد فرمایا:
    فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لاَ عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ(سورۃ البقرۃ۲:۱۷۳)
    ’’ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
    اسلام نے حرام و حلال کے اصولوں کو وضع کرنے میں اعتدال و توازن، اجتماعی مقاصد و مصالح کا پورا خیال رکھا ہے اورمخصوص حالات میں حرام کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے مگر شرط یہ ہے کہ انسان حدود توڑنے والا اور باغی نہ ہو بلکہ دلیل شرعی کی صورت میں ہی حرام کو استعمال کرنے کی اجازت ہے اور اسلامی شریعت کا قانون حلال و حرام ہر سب کے لیے یکساں ہے چاہے عجمی ہو یا عربی، چاہے امیر ہو یا غریب بلا کسی تفریق کے سب کے لیے یکساں واجب العمل قرار دیا گیا ہے۔
     
  6. ‏اگست 13، 2016 #26
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,447
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہودیت میں فلسفہ صدقات و خیرات
    صدقہ و خیرات کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ہر مذہب میں مستحسن عمل رہا ہے۔ غرباء اور مساکین ہمیشہ ہمدردی کے لائق سمجھے گئے ہیں اور ہر دورمیں معاشرے کے خوشحال اورمال دار طبقہ کی یہ ذمہ داری رہی ہے کہی وہ اپنے معاشرے کے مفلوک الحال اور نادار طبقے کے ساتھ فیاضی کا سلوک کریں کیونکہ اخوت کے جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے یہی واحد ذریعہ ہے اسی لیے شریعت موسوی میں صدقات و خیرات کو فرائض میں شامل کیا گیا۔ حکم شرعی ہے۔
    اور زمین کی پیداوار کی ساری دہ یکی خواہ وہ زمین کے بیچ کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لیے پاک ہے اور اگر کوئی اپنی دہ یکی میں سے کچھ چھڑانا چاہے تو وہ اس کا پانچواں حصہ اس میں اور ملا کر اسے چھڑائے۔ (احبار ، ۲۷:۳۰،۳۱)
    اور جب تم اپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو تو اپنے کھیت کے کونے کونے تک پورا نہ کاٹنا اور نہ کٹائی کی گری پڑی بابوں کو چن لینا تو اپنے انگورستان کا دانہ دانہ نہ توڑ لینا اور نہ اپنے انگورستان کے گرے ہوئے دانوں کو جمع کرنا ان کو غریبوں اور مسافروں کے لیے چھوڑ دینا میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔( احبار، ۱۹:۹،۱۰؛ احبار ،۲۳:۲۲)
    تالمود میں غربا کے لیے غلبہ کا حصہ چھوڑناPeahکہلاتا ہے۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ Peah کھیت کا۶؍۱ حصہ سے کم نہ چھوڑی جائے۔ لیکن عمومی قاعدہ یہ ہے کہ کھیت کی لمبائی چوڑائی کو مد نظر رکھ کر چھوڑی جاتی ہے۔
    One should not leave Peah less than one-sixth of the field and although there is no prescribed measure it should be fixed according to the size of field, the number of the poor and the need. (Leo Auerbech, Talmud, P. 49(Retrived from November 7, 2009 http://www.sacred -texts.com/jud/bata/bata04.htm))
    صدقات و خیرات خدا کا حق ہے اور اسے ادا کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے،حکم شرعی ہے:
    ’’تو اپنی کثیر پیداوار اور اپنے کولہو کے رس میں اس میں سے مجھے نذر و نیاز دینے میں دیر نہ کرنا۔‘‘ (خروج ،۲۲:۲۹)
    تالمود میں درج ہے کہ غلے کی کٹائی کے دوران جو فصل زمین پر گر پڑے اسے "Gleaning" کہتے ہیں یہ بھی غرباء کا حق ہے۔
    What constitutes Gleaning? what ever falls down at the time of reaping. (Leo Auerbech, Talmud, 52;(Retrived from November 7, 2009 http://www.sacred -texts.com/jud/bata/bata04.htm)Blacks Bible Dictionary, P. 187)
    حکم شرعی ہے:جب تو اپنے کھیت کی کوئی فصل کاٹے اور کوئی پولا کھیت میں پھول سے رہ جائے تو اس کو لینے کو واپس نہ جانا وہ پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے لیے رہے تاکہ خداوند تیرا خدا سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے تجھے برکت دے۔ (استثناء ۲۴:۱۹)
    اس سلسلے میںMax Weberبیان کرتا ہے:
    Forgotton sheafs should not be brought in later, but should be left for the gerim, widows. (Max Weber, Ancient Judaism, P. 47; Mordical Katz, Protection of the Weak in the Talmud, P.78)
    جو صدقات و خیرات کے حکمت و فلسفہ کی مزید وضاحت کرتا ہے:
    Rabbi Achiya the son of Abah, said ....... He had give thee all this. (H. Polano, Talmud, P. 269)
    اباہ کے بیٹے ربی احیا نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ لودک کا سفر کیا اور سبت کے دن میں دولت مند شخص کا مہمان تھا میز پر مزید کھانا سونے اور چاندی کے برتنوں میں سجا ہوا تھا۔ کھانے کے دوران جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ آپ نے اس خوشحالی کو کیسے حاصل کیا؟
    تو اس نے جواب دیا کہ پہلے میں ایک قصاب تھا اور میں سبت کے دن بہترین جانور ذبح کرنے کے لیے چنتا تھا تاکہ اس دن لوگ بہترین گوشت لیں اس وجہ سے میرا یقین ہے کہ میں نے اپنی خوشحالی کو حاصل کیا میں نے کہا خداوند مبارک ہو جس نے تجھے یہ سب کچھ دیا۔
    Rondy Wilsonصدقات و خیرات کا فلسفہ بیان کرتا ہے:
    The real reward of the wealth is the ability to be generous. Wealth is only means of serving God. (Rondy Wilson, Economics, Ethics and Religion, P. 123)
    دولت کا اصل انعام یہ ہے کہ یہ انسان کو سخی بنائے اور دولت خدا کی خدمت کا ایک ذریعہ ہے۔
    Collier's Encyclopaediaکا مقالہ نگار یہودیت میں صدقات و خیرات کے مقاصد وفلسفہ پرروشنی ڈالتا ہے۔
    Charity is among the virtues that Jewish tradition sets forth as the duty of all. Those who are in deed of help are not to be treated as less than equals, for they, too, are the children of God. Judaism holds that charity is more than compassion, that is a form of Justice itself, a restoration of what men have been deprived of as a result of society's shortcomings. Thus charity in Judaism is called Zedakah, "Justice", which means not only assistance to the needy, but righteousness itself. (Collier's Encyclopaedia 13/658)
    سخاوت، یہودیوں کے ایک فرائض میں سے ایک ہے۔ جوہر یہودی کے لیے لازم ہے، جو مدد کے طالب ہیں انھیں اپنے سے کم تصور نہ کیا جائے چونکہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہودیوں کے نزدیک سخاوت محض دوسروں کے لیے اچھے جذبات رکھنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ انصاف ہی کی ایک صورت ہے جو معاشرتی کمزوریوں کی وجہ انسان کو حقوق سے محروم کر دیتی ہے۔ سخاوت کو یہودیت میں(Zedaka)’’زداکا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی ’’انصاف‘‘ دوسرے معنوں میں ضرورت مند کی جو مدد کی گئی ہے وہ ایک نیکی ہے۔
    شریعت میں خیرات کی اخلاقی ترغیب دیتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس کے ذریعے انسان بیماریوں اور پریشانیوں سے بھی بچا رہتا ہے۔ لہٰذا یہ بھی صدقات کے مقاصد و فلسفہ میں سے ہے تالمود میں درج ہے:
    A house which not opens to the poor will open to the physician. (H. Polano, Talmud, P. 298)
    یہودیت میں زکوٰۃ و صدقات کے لیے ایک قانون مقرر کر دیا گیا تھا تاکہ اہل ثروت دوسروں کا استحصال نہ کریں شریعت کی رو سے جو دوسو دینار کا مالک ہو صدقات و خیرات لینے کا حق دار نہ تھا۔
    If a man has two hundred zuz, he must not take Gleanings, Forgotten-Sheat, Peah and poor-mans' Tithe. (Leo Auerbach, Talmud, P/ 54(Retrived from November 7, 2009 http://www.sacred -texts.com/jud/bata/bata04.htm)
    The Standered Jewish Encyclopaediaکا مقالہ نگار بیان کرتا ہے:
    The Jewish conception from the earliest times has been that the needy are entitled to help, that the giving of charity is not a virtue but a duty. (The Standered Jeiwsh Encyclopaedia P. 427)
    یہودی عقیدے کے مطابق صدقات و خیرات،غریبوں اور ناداروں کا حق ہیں لہٰذا یہ شریعت کے مطابق ایک نیکی نہیں بلکہ متمول یہود پر فرض ہے۔
    لہٰذا تالمود میں بیان کیا گیا ہے:
    He who does not practise charity commits a sin this is proven in the life of Nachum. (H. Polano, Talmud, P. 244)
    وہ جو خیرات نہیں کرتا گناہ کرتا ہے اور یہ ناخوم کی زندگی میں ثابت ہوا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے مال و دولت میں غرباء اور مساکین کا حصہ مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کر نے کے ضمن میں اخلاقی ترغیبات بھی شریعت موسوی کا حصہ ہیں۔
    قارون جیسا شخص جو حضرت موسیٰ کا رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ تورات کا بہت بڑا عالم تھا۔ صدقات و خیرات کے مطالبہ پر جب اس نے انکار کیا۔ تو ذلیل و خوار ہوا کیونکہ موسیٰ ؈ نے اس سے کہا مال اللہ کی دین ہے۔ اس پر مغرور ہو کر اور اس سے محبت کر کے اپنی آخرت کو مت بگاڑ۔ (نور محمد غفاری، اسلام کا نظام عبادت،ص ۱۰۰)
    اس کا جواب قرآنِ حکیم میں مذکور ہے:
    اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ (سورۃ القصص ۲۸:۷۸)
    ’’یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنیاد پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے۔‘‘
    جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے اس کو اس کی ساری دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
    قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
    فَخَسَفْنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الْاَرْضَ (سورۃ القصص ۲۸:۸۱)
    ’’آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔‘‘
    اسی لیے تالمود میں خیرات کو دولت میں اضافے اور حفاظت کا ذریعہ بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح نمک گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور بغیر نمک کے گوشت گَل سڑ جاتا ہے۔ اسی لیے جس طرح نمک گوشت کے لیے مفید ہے اسی طرح خیرات دولت کے لیے مفید ہے اور اس میں اضافے اور برکت کا سبب ہے۔
    Salt is used to preserve meat' without Salt the meat rots. Charity is to money even as Salt is to meat." (H. Polano, Talmud, P. 244)
    لہٰذا صدقات و خیرات ادا کرنے سے جہاں مال و دولت میں خیر و برکت اور اضافہ ہے اور دنیاوی اور اُخروی کامیابیاں، فلاح اور رضائے الٰہی کا حصول ممکن ہوتا معاشرے میں معاشی تفاوت میں کمی آتی ہے اور عدل و انصاف، محبت و یگانگت کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔ وہاں اس کی ادائیگی سے انکار مال و دولت میں تباہی و خسارہ اور دنیوی اور اُخروی زندگی میں ہلاکت و بربادی کا سبب بنتا ہے۔
    اسلام میں (صدقات و خیرات اور )انفاق فی سبیل اللہ کا حکمت و فلسفہ
    اسلام کے معاشی نظام میں انسانی فلاح کی ترقی و خوشحالی کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کو متعارف کروایا گیا ہے۔ اسلام نے قرابت داروں، ناداروں اور مفلسوں کے حقوق پر زور دیا ہے اور قرآن و حدیث میں ان کے ساتھ بھلائی اور نیکی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسلام کے نظامِ انفاق میں اگر کوئی شخص جائز ذرائع سے آمدن حاصل کر کے اپنی جائز ضروریات پر خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بھی اجر عطا فرماتے ہیں اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا حق بھی ہے۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (سورۃ الذّٰریٰت ۵۱:۱۹)
    ’’اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والوں اورمحروم لوگوں کا مقررہ حصہ ہے۔‘‘
    خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا (سورۃ التوبۃ ۹:۱۰۳)
    ’’اے نبیﷺ ان کے اموال میں سے زکوٰۃ وصول کرو اور ان کو پاک کرنے اور ان کی تربیت کے لیے۔‘‘
    ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ یہ مال انسان کو پاک مزکی بنانے کے لیے لیا جاتا ہے۔( تفسیر ابن کثیر،۲؍۴۲۸؛نور محمد غفاری، اسلام کا نظام عبادات،ص۹۷)
    صدقہ انسان کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور ان کو گناہ کی آلودگی سے نجات دلاتا ہے۔
    حدیث مبارکہ ہے:
    والصدقۃ تطفی الخطیئۃ کما یطفی الماء النار (الجامع للترمذی، أبواب الإیمان، باب ما جاء فی حرمۃ الصلاۃ، رقم الحدیث ۲۶۱۶،ص۵۹۵)
    ’’صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کرتا ہے جس طرح پانی آگ کو۔‘‘
    اعمالِ صالحہ کی پابندی اور اعمال سیئہ سے اجتناب کے لیے اصل محرک صرف خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ انسان کا ہر ہر عمل اسی جذبے کے تحت ہونا چاہیے۔ اسی لیے صدقات و خیرات کا مقصد رضائے الٰہی کلا حصول ہے۔
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَ الْمِسْکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ذٰلِکَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ الروم ۳۹۰:۳۸)
    ’’سو قرابت مدن کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی یہ بہتر ہے ان کے لیے جو خدا کی رضا چاہتے ہیں اور یہی ہیں جو فلاح پانے والے ہوں گے۔‘‘
    امین احسن اصلاحی بیان کرتے ہیں:
    اگر نیکی مشکل حالات اور تنگ وسائل کے ساتھ کی گئی ہو تو اس کا اجر زیادہ ہو گا اور اگر ایک نیکی آسان حالات اور کشادہ وسائل کے ساتھ کی گئی ہے تو اس کا اجر کم ہو گا پھر نیکی کرنے والے کے احساسات کا بھی اس پر اثر پڑے گا اللہ کا چاہنا بھی عدل و حکمت کے خلاف نہیں ہوتا۔ (تدبر قرآن ۱؍۶۱۳)
    انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے دولت چند ہاتھوں میںمرتکز ہونے نہیں پاتی اور معاشرے کے تمام افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں یہ اعمال صالحہ کی ایک کڑی ہے اس لیے اس میں دو اخلاقی خطرات کے پیش آ جانے کا خطرہ تھا ایک احسان جتلانا اور دوسرا ریاکاری ان دونوں خطرات کا علاج کرنے کے لیے فرمایا:
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰی (سورۃ البقرۃ۲:۲۶۴)
    ’’اے ایمان والو! احسان جتلا کر اور دوسروں کی دل آزاری کر کے اپنی خیرات کو ضائع نہ کرو۔‘‘
    سید ابو الاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں:’’خیرات بھی اگرچہ بھلائیوں کو نشوونما دینے کی قوت رکھتی ہے مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے نیک نیت نہ ہو تو ابر کرم کا فیضانِ بجز اس کے ضیاع مال ہے اورکچھ نہیں۔‘‘( تفہیم القرآن،۱؍۲۰۵)
    ریاکاری مؤمن کی شایان شان نہیں ریا کاری سے صدقات و خیرات کا اجر و ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس سے اجر و ثواب کی بجائے گناہ ہوتا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے:
    ثلاثۃ لا یدخلون الجنۃ العاق والمد من علی الخمر والمنان بما اعطی۔( السنن لنسائی، کتاب الزکاۃ، باب المنان بما اعطی، رقم الحدیث ،۲۵۶۳،ص۳۵۴)
    ’’تین لوگ جنت میں داخل نہ ہوں گے والدین کی نافرمانی کرنے والا، ہمیشہ شراب پینے والا اور احسان کر کے جتانے والا۔‘‘
    مفتی محمد شفیع خیرات و صدقات کے اسرار و حکم بیان کرتے ہیں:
    تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اورمال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکامِ الٰہی اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہوتے ہیں یا مال کے اورگناہ میں بندہ کو جان اورمال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ ہے اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے۔( مفتی محمد شفیع، معارف القرآن،۱؍۶۱۰،۶۱۱)
    امین احسن اصلاحی بیان کرتے ہیں:
    یہی انفاق ہے جس سے نفس کو حق پر جمائے رکھنے کی حقیقی تربیت حاصل ہوتی ہے انسان اپنے آپ کو خواہشات نفس کے خلاف چلانے میں جتنا مشاق ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کے لیے خدا کا قرب حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ (تدبر قرآن، ۱؍۶۱۷)
    اسی لیے تزکیۂ نفس ،رضائے الٰہی اور قرب الٰہی اور اُخروی نجات کی خاطر مؤمنین کو انفاق کی ترغیب دی گئی ہے اور بخل کی ممانعت کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ التغابن ۶۴:۱۶)
    ’’جو دل کی تنگی سے محفوظ رہے ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
    نبیﷺ کا ارشاد ہے:
    خصلتان لا تجتمعان فی مؤمن البخل وسوء الخلق۔ (الجامع للترمذی، أبواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی البخل، رقم الحدیث ۱۹۶۲،ص۴۵۵،۴۵۶)
    ’’دو خصلتیں مومن میں کبھی جمع نہیں ہوتیں ایک بخل دوسری بدخلقی۔‘‘
    نبیﷺ کے ارشاد کے مطابق بخیل کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
    لا یدخل الجنۃ خب ولا بخیل ولا منان (الجامع للترمذی، أبواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی البخل، رقم الحدیث ۱۹۶۳،ص۴۵۶)
    ’’جنت میں سابقین کے ساتھ فریب کرنے والا اور نہ بخیل اور نہ احسان کرنے والا داخل ہو گا۔‘‘
    سورۃ البقرۃ میں مؤمنین کی صفات بیان کی گئی ہیں۔
    وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (سورۃ البقرۃ۲:۳)
    ’’اور جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘
    جو شخص اپنے مال کو جمع کر کے رکھتا ہے تو اس کے مال کی برکت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے:
    أنفقی او انضحی وان انضحی… ولا تحصي ،فیصحي اللہ علیک (الصحیح لمسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الانفاق وکراھۃ الاحصاء، رقم الحدیث ۲۳۷۵،ص۴۱۵)
    ’’خرچ کرو اور گن گن کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔‘‘
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں