1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اختلافات کا حل کہاں سے ملے گا؟ جواب قرآن دیتا ہے

'گرافکس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 07، 2018۔

  1. ‏جولائی 07، 2018 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اختلافات کا حل کہاں سے ملے گا؟

    جواب قرآن دیتا ہے



    36686799_2222294094453436_8855411129065668608_n.jpg
     
  2. ‏جولائی 07، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,320
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65
    (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں۔

    یہ آیت امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کی موجودگی میں قیاس کرنا حرام ہے۔ اس مضمون کو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا 'کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو اس چیز کے تابع نہ بنا دے جو میں لے کر آیا ہو۔ ' (شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثانی)

    امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ
    " تم اکثر کو دیکھو گے کہ جب کوئی حدیث اس امام کے قول کے موافق ہوتی ہے جس کی وہ تقلید کرتا ہے، اور اس کے راوی کا عمل اس کے خلاف ہوتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ دلیل راوی کی روایت ہے، اس کا عمل نہیں اور جب راوی کا عمل اس کے امام کے قول کے موافق ہوتا ہے اور حدیث اس کے مخالف ہوتی ہے، تو وہ کہتا ہے کہ راوی نے اپنی روایت کی مخالفت اس لیے کی ہے کہ یہ حدیث اس کے نزدیک منسوخ ہوگئی ہے، ورنہ اس کی یہ مخالفت اس کی عدالت کو ساقط کردیتی، اس طرح وہ لوگ اپنے کلام میں ایک ہی جگہ اور ایک ہی باب میں بدترین ٦ تناقض کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا ایمان یہ ہے کہ صحیح حدیث آجانے کے بعد امت کے لیے اسے چھوڑنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
    (تفسیر تیسیرالرحمن ،محمد لقان سلفی )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں