1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ادبی آئی پی ایل (IPL)

'مغربی کلچر' میں موضوعات آغاز کردہ از محبوب حسن, ‏مئی 31، 2012۔

  1. ‏مئی 31، 2012 #1
    محبوب حسن

    محبوب حسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 26، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    228
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ادبی آئی پی ایل (IPL)​

    از زبیر حسن شیخ (zubair.ezeesoft@gmail.com)

    وہ دونوں ادیب تھے

    جدید ادب کی تلاش میں نکل پڑے

    بنا ٹکٹ زندگی کی ریل میں چڑھ گئے

    شریک سفرتو بن گئے، شریک حیات نہ بن سکے

    پھر وہ بھوک سے پریشان رہنے لگے

    مجہول آگہی اور مذموم ادراک کی بھوک

    سڑے ہوئے ماحول کو گلے ہوئے لفظوں میں پرونے کی بھوک

    جدت پسندی اور شہرت پسندی کی بھوک

    اعزازات اور دولت کی بھوک.....

    الغرض، دونوں کی مراد بر آئی

    انھوں نے آئی پی ایل پر تحقیق کا بیڑا اٹھایا

    انھیں معلوم ہوا

    آئی پی ایل ہر بھوک کی غذا فراہم کرتا ہے

    آئی پی ایل جدت پسندی کا کھیل ہے

    اہل مغرب کی اندھی تقلید کا کھیل ہے

    تہذیب یافتہ انسانوں کی خرید و فروخت کا کھیل ہے

    مردوں کی نورا کشتی اور عورتوں کی دھینگا مشتی کا کھیل

    غریب احمقوں کی امیر خواہشوں کا کھیل

    قمار بازی کے بازی گروں کا کھیل

    بد عنوانی کو نئے عنوان دینے کا کھیل

    سیاست کے ادب اور سرمایہ کے آداب کا کھیل

    ذہین بھانڈوں اور فتین طوائفوں کی ملکیت کا کھیل

    ذرائع ابلاغ کی آمدنی اور سنسنی کا کھیل

    الغرض ان دونوں نے سب کچھ دیکھ لیا

    ان کو جدیدیت کا مفہوم معلوم ہوگیا

    شدت سے جدت کا احساس ہوا

    عورت نے کہا...

    انسان برہنہ پیدا ہوتا ہے،

    برہنگی انسان کا پیدائشی حق ہے

    مرد نے کہا....

    لیکن جمہوریت میں ہر حق کے ساتھ ایک فرض ہوتا ہے

    عورت نے کہا...

    تو پھربرہنگی کو نمایاں کرنا فرض ٹہرا

    مرد نے کہا....

    لیکن یہ تو کھیل ہوا، فن کہاں؟

    برہنگی کو برہنہ لفظوں کا جامہ پہنانا ہے

    جو در اصل فن ہے

    اور یہی جدید ادب ہے

    یعنی "ادبی آئی پی ایل"

    جسکی ہمیں تلاش تھی۔
     
  2. ‏مئی 31، 2012 #2
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    کہیں صاحبِ تحریر نے جدیدیت کے مفہوم کے ساتھ کچھ زیادتی تو نہیں کر دی؟ میں نے ذاتی طور پر ترقی پسند ادب اور جدید ادب کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور دونوں رجحانات کے اتار چڑھاؤ سے بھی کسی حد تک واقفیت ہے۔ ویسے بھی موجودہ دور میں جدیدیت کو بھی مرحوم قرار دے کر مابعد جدیدت یعنی پوسٹ ماڈرنزم کی اصطلاح عالمی ادب میں جاری ہے۔ ترقی پسندی کے فوری بعد جو جدید ادب کا غلغلہ اٹھا تھا اس میں ضرور وہ کچھ افراتفری تھی جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں ایسا ماحول دکھائی نہیں دیا۔ اور پھر ۔۔۔ جنسیت کے موضوع کو ہم کیسے صرف جدیدیت سے جوڑ سکتے ہیں؟ جبکہ منٹو (کھول دو ، بو ، کالی شلوار) ، عصمت (لحاف) ، بیدی (لاجونتی) تو ترقی پسندی سے اٹھے تھے اور اسی طرح اسٹفین کرین (میگی : گلیوں کی لڑکی) ، فرینک نارس (آکٹوپس) نے بھی تو Naturalism کی تائید کی تھی۔ جدیدیت کی وورجینا وولف کتنی بدنام ہیں ، سب کو پتا ہے ، لیکن کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قرۃ العین حیدر کو خاصا متاثر کیا۔ اور عینی آپا (معلوم ہی ہوگا کہ اردو ادبی دنیا میں وہ اسی لقب سے معروف ہیں :) ) کی کوئی ایسی تحریر کم سے کم میں نے تو نہیں پڑھی جو منٹو اور عصمت کے "نیچرل معیار" پر رہی ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں