1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسامہ بن لادن کی شخصیت کی تاثیر مخفی نہیں ہے !!!!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو بصیر, ‏اگست 11، 2013۔

  1. ‏اگست 21، 2013 #21
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اسے کہتے ہیں کہ کفر پر راضی ہونا جو اقوام متحدہ پر راضی ہوا وہ کفر پر راضی ہوا ۔ یقیناً آپ تو اقوام متحدہ کے فیصلوں پر راضی ہو کیونکہ آپ کے امام جناب انجینئر حافظ محمد سعید بھی اقوام متحدہ کے فیصلوں کو مانتے ہیں۔اقوام متحدہ کی قائم کردہ عدالتوں کو مانتے ہیں۔اقوام متحدہ سے انصاف بھی مانگتے ہیں۔ اور ان کے فیصلوں پر راضی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ججوں کے پاس اپنے تنازعات کا فیصلہ کرانے کے لئے جاتے ہیں۔اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔آپ کی جماعۃ الدعوۃ اور ان کے امام کیا قرآن کی اس آیت کے زمرے میں تو نہیں آرہے ہیں۔؟؟؟؟؟
    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا
    بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں۔
    أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرًایہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے۔
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
    مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے۔
    أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا
    کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے۔
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں(اور اقوام متحدہ کی طرف بھاگے چلے جاتے ہیں)
    فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا
    تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا۔
    ان جیسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمادیا ہے:
    فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
    تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔
    اللہ نے اپنی قسم کھاکر بتادیا ہے کہ جو بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر (اقوام متحدہ یا کسی اور کو ) اپنا منصف بنائے گا وہ مومن نہیں ہوسکتا۔اب اس سے زیادہ ڈراوا اور وعید کیا ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے جو اقوام متحدہ کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہیں اور طاغوت کی طرف فیصلہ کرانے کے لئے بھاگے چلے جاتے ہیں۔ اور ان کو انصاف کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ کھلا کفر اور ارتداد نہیں ہے جس میں ایسے لوگ مبتلا ہورہے ہیں۔
    متلاشی کو طاغوتی ادارے جسے یہود اور نصاریٰ نے اپنے خاص مقاصد کے لئے تشکیل دیا ہے ۔ اس سے خاص قسم کی انسیت معلوم ہوتی ہے ۔ متلاشی اقوام متحدہ سے محبت کا داعی ہے کیونکہ اس نے اقوام متحدہ پر لعنت کرنے پر بہت برا منایا ہے۔اس نے اقوام متحدہ پر لعنت کرنے کو مکہ مدینہ کی طرف لعنت کرنے کو موڑا ہے۔اس شخص کو ذرہ برابر بھی اللہ کا خوف نہیں آیا کہ کس چیز کی محبت اس کے دل میں ہے ۔متلاشی چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ سے جلن نہ رکھی جائے بلکہ اس سے محبت رکھی جائے کیونکہ اس کا امام جناب انجینئر حافظ محمد سعید بھی اقوام متحدہ کو پسند کرتے ہیں۔اور اس کے فیصلوں پر راضی ہیں۔ ایک مومن اقوام متحدہ ملحدہ سے سوائے نفرت کے اور کیا کرسکتا ہے۔۔ کیونکہ اقوام متحدہ ایک خالصتاً طاغوتی ادارہ ہے۔ جو کہ اسلام سے متصادم ہے۔ اقوام متحدہ اسلام سے محارب ہے۔متلاشی کو اقوام متحدہ سے اتنی محبت ہے کہ وہ وزیرستان جو کہ مجاہدین کی جنت ہے اس کے خلاف بھی بات کرنے سے باز نہیں آیا ۔ اسے کہتے ہیں بچھڑے کی محبت جیسی محبت یہ محبت تو یہود کا خاصہ ہے کہ انہوں نے بچھڑے سے اس قدر محبت کی کہ جب موسیٰ علیہ السلام کےاس بچھڑ ے کو چورا چوراکردینے کے باوجود اس قدر اس کی محبت میں غرق تھے کہ اس کو جب پانی میں غرق کیا گیا تو اس کا پانی تک وہ ظالم پی گئے۔یہی حال متلاشی کا ہے کہ اس کو اقوام متحدہ سے اس قدر محبت ہے کہ وہ اس کی شان میں ذرہ برابر کلام کو گستاخی سمجھتا ہے۔اور سامری کے بچھڑے کی طرح اس سے اپنے دل میں محبت رکھتا ہے۔ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔اس کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ وہ اقوام متحدہ الملحدۃ کو وزیرستان کی مبارک جہادی سرزمین سے سے بھی افضل قرار دے رہا ہے۔متلاشی اقوام متحدہ کو انصاف کی جگہ قرار دیتے ہوئے نہیں چوکتا اور وزیرستان کی مبارک سرزمین کو لعنت کی فیکڑی سے تعبیر کرنے میں متلاشی کو کوئی جھجھک نہیں ہے۔
     
  2. ‏اگست 22، 2013 #22
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    ابوزینب صاحب لاتعلق پوسٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔
    آپ کو چاہئے کہ آپ اقوام متحدہ میں جتنے بھی اسلامی ممالک شامل ہیں اُن کا ذکر کریں اور ثابت کریں کہ ہر ایک اسلامی ملک بقول آپ کے اقوام متحدہ کے کفر میں شامل ہو کر کافر ملک ہوگئے ہیں۔ اور جو جو قرآنی آیات آپ نے لکھی ہیں اُن کے منکر ہوگئے ہیں۔
    خالی کارتوس چلانے سے کیا فائدہ۔
    تم اتنے بڑے جاہل ہو اگر حضور صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوتے تو ابوزینب کی جگہ ابوجہل تمھارا نام ہوتا۔ اقوام متحدہ میں شمولیت کے لیے نہ ہی قرآن چھوڑنا شرط ہے اور نہ ہی رسول صل اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا شرط ہے۔ کیونکہ تم خوارج ذہنیت کے حامل ہو اس لئے اقوام متحدہ میں شمولیت کو تم کفر پر محمول کرتے ہیں۔ ہم تو ایسے مذہب پر لعنت ہی کر سکتے ہیں۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 22، 2013 #23
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    اقوام متحدہ کی نظریاتی اساس میں کافی حد تک درستگی ہے، یعنی دنیا میں امن وامان کا قیام، فلاحی وترقیاتی امور کی سرانجام دہی، انسانیت کے اندر اخوت وموانست کی فضا پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اقوام متحدہ در حقیقت ایک معاہدہ ہے، مندرجہ بالا امور کے بارے میں۔ ایسے معاہدے میں شمولیت اسلامی تعلیمات کے منافی ہونا تو دور کی بات ہے۔ بلکہ خود آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حلف الفضول نامی معاہدے میں شرکت کی تھی۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ حلف الفضول وہ معاہدہ تھا جو زمانہ جاہلیت میں کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    متذکرہ بالا گزراشات میں اقوام متحدہ کی نظریاتی اساس کے حوالے سے بات کی ہے۔ جہاں تک عملی نوعیت کاتعلق ہےتو وہ حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔جزوی طور پر کہاں مواقفت کرنی ہے اور کہاں مخالفت۔ یہ ایک دوسرامسئلہ ہے۔ فافہم ذالک
     
    • زبردست زبردست x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 22، 2013 #24
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    اسے کہتے زچ ہوجانا ۔اور جب کسی کے پاس علم ختم ہوجاتا ہے تو وہ اسی طرح کا رویہ اختیارکرتا ہے ۔جیسا کہ آپ نے اختیار کیا ہے۔خیر کوئی بات نہیں اس قسم کا وطیرہ اختیار کرنا جماعۃ الدعوۃ اور اس کے کارکنان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔متلاشی اگر یہ خالی کارتوس ہوتا تو تم ہرگز زخمی گیدڑ کی طرح نہیں چلاتے ۔کارتوس بھی تھا تو ایل جی یا ایس جی کا تھا جس نے تمہارے حواس کو باختہ کردیا اور تم غیر مہذب گفتگو پر اتر آئے۔ادھر ادھر کی باتیں مت کرو جو عبارتیں اقوام متحدہ کے بارے میں نے پیش کی ہیں ان کا رد لکھو کیونکہ میں نے ان عبارتوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان قوانین کو ماننا صریح کفر کے زمرے میں آتا ہے اور اقوام متحدہ کے ان قوانین کو ماننے والا ملک کفر کے ارتکاب میں داخل ہوجاتا ہے۔ابھی تو تم پر ایک اور ادھار ہے میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے خادم الصلیبین نے اقوام متحدہ کو دس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اس لئے فراہم کی ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ دہشت گردی کی جنگ کو تیز کرے اور جو لوگ صلیبیوں کے خلاف قتال میں مصروف ہیں ان کو چن چن کر ختم کیا جائے ۔ اس پر میں نے تم سے فتویٰ طلب کیا تھا کہ اس کام کو انجام دینے والے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ جس کا تاحال تم نے جواب فراہم نہیں کیا بلکہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے تاکہ لوگوں کا ذہن تمہارے بادشاہ کے اس عمل سے ہٹ جائے اور تم اس کے جرم کو چھپا سکو۔میں تم سے پھرسوال کرتا ہوں کہ اگر کوئی بھی فرد مسلمانوں کے قتل عام کے لئے کافروں کو دس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم فراہم کرے اس کا شریعت میں حکم بیان کرو۔یہ تھا اس پوسٹ کا مقصد اور اقوام متحدہ کے متعلق جو مضمون پوسٹ کیا گیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ اقوام متحدہ کے مقاصد کیا ہیں اس کا حکم کیا ہے۔اس کے قوانین شریعت سے متصادم ہیں۔متلاشی جاکر اپنے اس مفتی سے فتویٰ طلب کرو جس سے شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کے خارجی ہونے کا فتویٰ لائے تھے ۔ اب اس مفتی سے شاہ عبداللہ کے اس مکروہ فعل کے بارے میں بھی فتویٰ طلب کرو۔ساری حقیقت سامنے آجائے کہ درباری مولوی صرف اپنے بادشاہوں کی خواہش کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔نضر بن شمیل رحمہ اللہ کا قول یاد ہے جو انہوں نے مامون الرشید عباسی سے گفتگو کے دوران کہا تھا؟ اس کی بھی معلومات کرلینا۔بس ہم تو تم سے شاہ عبداللہ کے اس فعل پر فتویٰ طلب کرتے ہیں۔فرار ہونے کی کوشش نہ کرو بلکہ جواب دو۔
     
  5. ‏اگست 23، 2013 #25
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    شیخ ابو بصیر طرطوسی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    اقوام متحدہ:

    یہ بھی طاغوت ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کی پوجا کی جاتی ہے اس کی چند ایک وجوہات ہیں:
    1:یہ ایک ایسی اسمبلی ہے جو اپنے قوانین وضع کرنے کے لیے کتاب وسنت کے تابع نہیں ہے۔یہ صرف اور صرف عالمی کافر اورطاغوتی طاقتوں کے مفادات اور خواہشات کی پیروی کرتی ہے۔
    2:یہ ایک ایسی اسمبلی ہے کہ اقوام عالم اور ممالک اپنے باہمی اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کروانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس کے قوانین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
    3:اس طاغوتی اسمبلی کے بارے میں اقوام عالم اور ممالک کا نظریہ یہ ہےکہ یہ ہر قسم کے معاقبہ اوراعتراض سے بالا تر ہے،ضروری ہے کہ اس کے ہر حکم اور قانون کو قبول اور نافذ کیا جائے۔
    اللہ تعالیٰ کے علاوہ پوجے جانے والے طواغیت میں سے کون سا ایسا طاغوت ہےجو ظلم وسرکشی میں اس سے بڑھ کر ہو۔حیرت ہے اس کے باوجود بھی لوگ اس کی مشروعیت کا اعتراف کرنے اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ اس سے فیصلہ کروانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے
     
  6. ‏اگست 23، 2013 #26
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    اقوام متحدہ یقینا ایک لادین اور طاغوتی ادارہ ہے۔ اور اللہ کی حاکمیت، جو کہ حق رکھتی ہے کہ اس کے سوا جس جس کا زمین میں حکم اور فیصلہ چلتا ہے صاف مسترد کردیا جائے، یقینا ہمارا عقیدہ ہے اور اس پر جینا اور مرنا ہمارا ایمان۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ ایسے ادارے دراصل تیسری دنیا سے پانی بھروانے کیلئے رکھے گئے ہیں اور درحقیقت یہ دور غلامی کے تسلسل کی ہی ایک صورت ہے۔ پھر ان سے توقعات باندھنا تو بے حد فضول کام ہے۔
    اقوام متحدہ اور اُسکے ادارے بُنیادی طور پر مسلمانوں کے خلاف یہودونصاریٰ کی حمایت میں اُن بڑے ملکوں کے اہداف و مفادات کے حصول کے لیے بنائے گئے ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
    إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ
    ترجمہ: بلاشبہ جو لوگ کافر ہوئے وہ اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 27، 2013 #27
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    طالبان نے بھی تو اقوام متحدہ کی سیٹ کے لئے بہت کوشش کی تھی اس کے بارے میں کیا خیال ہے
     
  8. ‏اگست 27، 2013 #28
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    ها ها ، وه صحیح تها.....
     
  9. ‏اگست 28، 2013 #29
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    بھاءی آپ نے آج تک جو کچھ لکھا وہ سب آپ کی شریعت میں صریح کفر ہوگا اور جو آپ نے آیات پیش کی ہیں اُن کے خلاف ہوگا ہمارے نذدیک کسی بھی طرح آپ کے یہ دلاءیل اقوام متحدہ کے خلاف نہیں ہیں۔

    اچھا تو یہ بات تھی اس لءے آپ اتنے کفر کے گولے برسا رہے تھے کہ ہم آپ کا دھار کھاءے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توبہ
    جناب ہمارے خادم نہیں خادم حرمین شریفین ہیں۔ آپ نے حرم کو بھی صلیبی سمجھ لیا ہے تو یہ نصیب نصیب کی بات ہے جس راہ پر آپ چل رہے ہیں ایک وقت آءے گا کہ قرآن کو باءبل، پنڈتوں کو اپنے مجاہد سمجھ لیں گے۔
    اقوام متحدہ کو دس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم کس لے فراہم کی گءی۔ آپ نے اپنے بیان میں فرمایا۔
    آپ ہی کے فرمان عالیشان میں وجہ موجود ہے۔ دہشتگردوں کے خاتمے کے لءے کوششیں کرنا جہاد نہیں ہے کیا۔ اسلام میں تو ویسے بھی دہشت گردی کی کوءی گنجاءش نہیں۔
    آپ جو سوال کرتے ہیں وہ آپ کی سمجھ بوجھ سے بھی بہت وسیع ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ آپ کے مسلمان کون لوگ ہیں۔ راہزن، چور چھکے ڈاکو، ریپسٹ، بھتہ خور، دہشت گرد وغیرہ تو ایسے لوگوں کو چاہے مسلمان ہی ہوں قتل کرنا یا کروانا مستحسن عمل ہے دوسرے مسلمانوں کو ان کے ضر سے بچانے کے لءے۔ اگر ایسے لوگوں کو چھوڑ دیا جاءے تو وہ ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔ جبکہ آج کے دور میں تو تمام خباثتوں کا مرکب بھی موجود ہے۔


    امید ہے آپ کو ہماری پوسٹ کا بھی مقصد سمجھ آگیا ہوگا۔ اور اقوام متحدہ کے مقاصد کوءی بھی جاکر دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہیں پر بھی قرآن تو سنت کو چھوڑنے کی کوءی شرط نہیں لگاءی۔


    قوانین کو فقہ حنفیہ مقلیدیہ کے بھی شریعت سے متصادم ہیں۔ تو اب کیا کریں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ہم نے تو مفتیوں کے فتوے لاگاءے ہیں جو آپ کے مجاہدین کے اکابر ہیں۔ کیا وہ بھی درباری مولوی ہیں۔ کیا آپ سے جو اختلاف کرتا ہے وہ درباری مولوی ہوجاتا ہے۔ سبحانہ اللہ کی فقہ ایجاد کی ہے۔ مکمل طور سے ہی انکار کر دو علما کرام کا جو اس آپ کے خلاف ہے یہ قاعدہ صرف آپ کے نفس کو تو تسکین دے سکتا ہے لیکن آپ کی روح آپ کے لءے دوزخ بنی رہے گی ۔ اگر توبہ نا کی تو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 28، 2013 #30
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    طالبان نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب اس نے بودھا کے مجسموں کو نہیں توڑا تھا۔لیکن جب طالبان نے ملت ابراہیمی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا احیاء کیا توعقیدہ الولاء و البراء کے عقیدے پر سختی سے کاربند ہوگئے۔اور اقوام متحدہ کی رکنیت کے مطالبے سے رک گئے۔اب اگر کسی لاعلم شخص کو اس بارے میں کچھ نہیں معلوم تو اس میں کسی کا کیا قصور ہوسکتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں