1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استاد محترم مولانا رحمت اللہ ارشد (﷫) کی وفات

'اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏دسمبر 25، 2011۔

  1. ‏دسمبر 25، 2011 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جمعہ ٢٣دسمبر ٢٠١١ کو تقریبا عشاء کےبعد موبائل پر پیغام آیا تھا جس میں استاد محترم مولانا رحمت اللہ صاحب کے وصال پر ملال کی خبر ملی ۔ ۔ میں اس وقت مکہ عمرہ کرنے کے لیے گیا ہوا تھا ، عمرہ میں الحمد للہ اپنے تمام اساتذہ کے لیے دعا بھی کی تھی ۔ جن میں استاد محترم کی صحت کی دعا بھی شامل تھی ۔۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ۔ ۔ سفر میں ہونے کی وجہ سے بروقت ان کے لیے دعا کی گزارش نہ کرسکا ۔۔ لیکن اب تمام قارئین سے گزارش ہے کہ ان کے لیے آخرت کی کامیابی اور قبر میں آسانی کے لیے دعا فرمائیں ۔۔
    اسی طرح یہاں ان کے کئی شاگرد بھی موجود ہیں وہ ان کے بارے میں اپنے تأثرات کا اظہار کریں ۔۔ تاکہ اس طرح ہم استاد محترم کی یاد کا سامان اکٹھا کر سکیں ۔
    استاد محترم کی چند خوبیاں یہ تھیں :
    انتہائی متواضع تھے ۔۔ تکبر و غرور کبھی ان کے پاس سے بھی نہیں گزرا تھا ۔
    قوی الحافظہ تھے ۔۔ یہی وجہ ہے کہ تدریس کے آخری چند سالوں میں نظر کی کمزوری کے باعث اگرچہ ہر روز مطالعہ نہیں کرسکتے تھے لیکن پڑہاتے پھر بھی ایسا تھے کہ طلباء مطمئن ہو جاتے تھے اور ہر اشکال کا مُسکت جواب پاتے تھے ۔
    اکابر علماء کے بارے میں بڑے محتاط انداز میں گفتگو فرماتے تھے ۔۔ کسی کو غلط قرار دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتے تھے ۔
    بہت کم گو تھے ۔۔۔۔ مطلوب و مقصود سے زیادہ گفتگو نہیں کیا کرتے تھے ۔
    تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کی تربیت پر بھی بڑی توجہ فرماتے تھے ۔
    طلباء سے خدمت کروانے میں بڑے حساس تھے ۔۔۔ پاؤں وغیرہ دبانے کی خاطر کسی کو پاس بھی نہیں پھڑکنے دیتے تھے ۔۔۔
    مجھے ان سے ابواب الصرف ، نخبۃ الاحادیث ، علم الصیغہ اور شرح ابن عقیل جزء ثالث وغیرہ پڑہنے کا شرف حاصل ہے ۔
    استاد محترم کا ایک میزہ یہ بھی تھا کہ وہ قواعد کی تطبیق پر بہت زیادہ زور دیتے تھے ۔۔۔

    تنبیہ : چند سال پہلے ماہنامہ رشد میں ان کا تفصیلی انٹرویو شائع ہوا تھا ۔۔۔ اگر اس کو فورم پر لگا دیا جائے تو کافی فائدہ مند ہو گا ۔۔ متعلقہ حضرات توجہ فرمائیں ۔۔

    اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ و أکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالماء والثلج البرد ۔۔۔
    سقی اللہ ثراہ وجعل الجنۃ مثواہ ۔
     
  2. ‏دسمبر 25، 2011 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    راقم نے استاذ محترم سے مشکوۃ پڑھی ہے۔ بہت ہی متواضع،منکسر المزاج اور دقیق فہم کے حامل تھے۔ ایک دفعہ کلاس میں کچھ لڑکوں نے سوال کیا کہ شیخ صاحب آپ کی تدریس سے لڑکے بڑے مطمئن ہوتے ہیں، آپ کے خیال میں آپ کا امتیاز کیا ہے تو کہنے لگے کہ اللہ تعالی نے مجھے تفہیم کا ملکہ اچھا دیا ہے یعنی گہری اور دقیق بحث کو آسان فہم انداز میں بیان کر دیتے تھے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔
    اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ و أکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالماء والثلج البرد
     
  3. ‏دسمبر 25، 2011 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    مجھے استادِ محترم سے فصول اکبری پڑھنے کا شرف حاصل ہے، میرا خیال ہے کہ میری ’صرف‘ اچھی ہے، اور یہ اللہ کے فضل کے بعد استادِ محترم کے مرہونِ منّت ہے، وہ قواعد پڑھانے کے ساتھ ساتھ تطبیق (اجراء) کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ بے ضرر، کم گو، اپنے کام سے کام رکھنے والے اور نہایت خوش اخلاق انسان تھے، گویا حدیث مبارکہ « المؤمِنُ غِرٌّ كريمٌ » ... صحیح ابی داؤد اور « كل هين، لين، سهل، قريب من الناس » ... صحيح الجامع کا عملی نمونہ تھے۔
    حنفی المسلک تھے، اور اس کے داعی بھی تھے، لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ جامعہ رحمانیہ میں اپنے تقریباً پچیس سالہ تدریسی قیام میں کبھی انتظامیہ کو ان سے کسی قسم کی کوئی شکایت ہو۔
    میں ان کے جنازے میں شریک ہوا، تو رشک آیا کہ دور دراز سے ان کے سینکڑوں شاگرد (رحمانیہ کے فاضلین) جمع تھے۔
    اللہ تعالیٰ استادِ محترم کی قبر تا حدِ نگاہ وسیع اور ان کی مغفرت فرمائیں۔
    اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس ...
    اللهم إنه عبدك، ابن عبدك، ابن أمتك، كان يشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبدك ورسوله وأنت أعلم به، اللهم إن كان محسنا فزد في إحسانه، وإن كان مسيئا فتجاوز عن سئياته، اللهم لا تحرمها أجره ولا تفتنا بعده
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 25، 2011 #4
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    کلیم حیدر بھائی! توجّہ کریں!
     
  5. ‏دسمبر 25، 2011 #5
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    السلام وعلیکم محترمین
    جزاک اللہ کہ آپنے یہ خبر ہم تک پھنچائی۔
    اللہ انکو خبر کے عذاب سے بچائے۔جہنم کی آگ سے بچائے۔
    منکر نکیر کے سوالات میں آسانی فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
     
  6. ‏دسمبر 25، 2011 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ تعالیٰ ان پر قبر کی سختیوں کو آسان فرمائیں، اور ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل ڈالیں۔
    اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ و أکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالماء والثلج البرد


    آمین یا رب العالمین
     
  7. ‏دسمبر 25، 2011 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
    انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ تعالیٰ ان پر قبر کی سختیوں کو آسان فرمائیں، اور ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل ڈالیں۔
    اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ و أکرم نزلہ و وسع مدخلہ و اغسلہ بالماء والثلج البرد
     
  8. ‏دسمبر 25، 2011 #8
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    مجھے استاد محترم مولانا رحمت اللہ صاحب سے مدرسے کی ابتدائی کلاسوں میں نحو و صرف، ترجمہ قرآن اور اس کے بعد شرح ابن عقیل اور حجۃ اللہ البالغہ پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔ شیخ موصوف کا سب سے بڑا وصف ان کی نرم خوئی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ گھٹنوں میں درد کے باوجود نہایت مستقل مزاجی سے روزانہ لمبا سفر کر کے جامعہ رحمانیہ میں پڑھانے آتے رہے۔ دورانِ تدریس ان کی غیر حاضریوں کی تعداد نہایت کم رہی۔ استاد محترم کو نحو وصرف میں خدا تعالیٰ نے ید طولیٰ عطا کیا تھا جامعہ کے بہت سے اساتذہ کرام اس سلسلہ میں ان سے رہنمائی لیتے رہے۔ مولانا دیوبندی مکتب فکر سے منسلک تھے لیکن طلبا کے ساتھ از خود اس قسم کے بحث مباحثہ سے گریز کرتے۔ طلبا کو اپنی رائے دینے کا مکمل موقع دیتے ، توجہ سے بات سنتے اور جواب دیتے تھے۔
    کل وہ جمعہ کی نماز کے بعد گھر تشریف لائے تو ان کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ جس پر انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں انھیں دوسرا اور پھر تیسرا اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام بشری کوتاہیوں کو معاف فرمائیں اور جنت الفردوس میں جگہ عطا کریں۔ آمین
     
  9. ‏دسمبر 25، 2011 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ان کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ جب پہلی کلاس اولی ثانوی میں طلباء کو نخبۃ الاحادیث پڑھاتے تو اختلافی مسائل میں حنفیت کا پرچار نہیں کرتے تھے کہ چلو چھوٹے بچے ہیں ان کو بھلا کیا پتہ چلے گا ۔۔۔ بلکہ مسائل کو اسی طرح جس طرح اہلحدیث علماء بیان کرتے تھے اسی طرح سمجھا دیتے تھے ۔۔او راگر کوئی لڑکا اختلافی مسئلہ چھیڑنے کی کوشش بھی کرتا تو بڑے پیار سے کہہ دیتے تھے کہ ابھی اتنا ہی کافی ہے ، بڑی کلاسوں میں جا کر تفصیل پڑھ لو گے ۔

    جزاکم اللہ عمران اسلم بھائی ۔۔۔ بھائی توجہ فرمائیں ۔۔۔ مجھے تاریخ لکھنے میں غلطی ہوئی ہے ۔۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ میں سفر میں تھا اس وجہ سے صحیح طرح یاد نہیں رکھ سکا ۔۔ عمران بھائی کی مشارکت کے بعد میں نے دوبارہ پیغام کی تاریخ کو دیکھا ہے تو اس میں ٢٢ کی بحائے ٢٣ دسمبر لکھاہوا تھا ۔۔۔ لہذا میں اس جملے کو :
    اس جملے سے تبدیل کر رہا ہوں :
     
  10. ‏دسمبر 25، 2011 #10
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں