1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استخارہ

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏ستمبر 10، 2014۔

  1. ‏نومبر 02، 2015 #11
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دعائے استحارہ میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ؟
    سوال:

    نماز استخارہ کی دو رکعتوں کے بعد دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا جائز ہے؟


    الحمد للہ:

    نماز استخارہ میں دعا استخارہ کی نماز سے سلام پھیرنے کے بعد ہوگی؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    ([استخارہ کرنے والا]فرائض سے ہٹ کر دو رکعت پڑھے، اور پھر کہے: "اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ ... ")

    بخاری: (1166) ترمذی: (480)

    شیخ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان [میں سے عربی الفاظ]: ( فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ) کا مطلب ہے کہ دو رکعتیں پڑھے، اور آپ کے فرمان کے ان الفاظ ( مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ) میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ : فرض رکعات کے بعد دعا ئے استخارہ کرنے سے نماز استخارہ کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ ( ثُمَّ لْيَقُلْ ) کا مطلب ہے کہ: نماز کے بعد [دعائے استخارہ پڑھے]" انتہی


    " تحفۃ الأحوذی بشرح جامع الترمذی " (2/482)

    مزید فائدے کیلئے سوال نمبر: (164728) کا مطالعہ کریں۔

    چنانچہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ استخارہ کیلئے دعا نماز کے بعد ہی کی جائے گی تو اصل پر عمل کرتے ہوئے دعائے استخارہ کیلئے ہاتھ اٹھانا جائز ہوگا؛ اور اصل یہ ہے کہ : دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے جائیں، کیونکہ دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا قبولیت دعا کا باعث ہے۔

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ایک مسلمان کیلئے مشروع طریقہ کار یہ ہے کہ جب نمازِ استخارہ پڑھے تو سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرنا چاہیے تو وہ فرائض سے ہٹ کر دو رکعت پڑھے اور پھر کہے: "اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ ... ") الحدیث

    اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعا نماز استخارہ کا سلام پھیرنے کے بعد ہوگی، اور افضل یہی ہے کہ ہاتھ اٹھا لے، کیونکہ دعا میں ہاتھ اٹھانا قبولیتِ دعا کا باعث ہے" انتہی


    " مجموع فتاوى ابن باز " (11/ 389)

    کن جگہوں پر ہاتھ اٹھانے ہیں، اور کن جگہوں پر نہیں اٹھانے اس بارے میں تفصیلی طور پر جاننے کیلئے سوال نمبر: (11543) اور (21976) کا مطالعہ کریں۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/209241
     
  2. ‏نومبر 02، 2015 #12
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نماز استخارہ میں دعا کس وقت کی جائے گی؟

    سوال:

    جس وقت کوئی مسلمان نماز استخارہ پڑھے تو کیا دعائے استخارہ تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے پڑھے؟ یا سلام پھیرنے کے بعد دعا پڑھے؟


    الحمد للہ:

    دعائے استخارہ کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد کی جائے، یہ موقف جمہور علمائے کرام کا ہے۔

    چنانچہ "موسوعہ فقہیہ" (3/245) میں ہے کہ:

    "حنفی، مالکی، شافعی، اور حنبلی فقہاء کا کہنا کہ دعائے استخارہ نماز کے بعد ہوگی، یہی رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث مبارکہ کے مطابق ہے" انتہی

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ایک مسلمان کیلئے شرعی عمل یہ ہےکہ جب نمازِ استخارہ پڑھے تو سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرائض سے ہٹ کر دو رکعت پڑھے اور پھر کہے: "اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ ... ") الحدیث

    اس سےمعلوم ہوا کہ دعائے استخارہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد ہوگی" انتہی

    "مجموع الفتاوى" (11/389)

    دائمی کمیٹی کے علمائے کرام (8/162)سے استفسار کیا گیا:

    "دعائے استخارہ نمازِ استخارہ کا سلام پھیرنے سے پہلے [دورانِ نماز] ہوگی یا نماز سے سلام پھیرنے کے بعد؟


    تو انہوں نے جواب:

    دعائے استخارہ نمازِ استخارہ سے سلام پھیرنے کے بعد ہوگی" انتہی

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں:

    "دعائے استخارہ سلام پھیرنے کے بعد ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ([استخارہ کرنے والا شخص] دو رکعت پڑھنے کے بعد کہے۔۔۔) پھر آپ نے دعائے استخارہ ذکر فرمائی" انتہی
    "لقاء الباب المفتوح" مجلس نمبر: (20)


    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/164728
     
  3. ‏اگست 20، 2016 #13
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کیا استخارہ کی دعا میں هذا الامر کی جگہ اپنے کام کو اردو میں ذکر کر سکتے ہیں؟؟؟
     
  4. ‏اگست 21، 2016 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اگر دعاء استخارہ عربی میں یاد کرسکتا ہے تو (ھذا الامر ) کی جگہ کسی عربی جاننے والے سے مطلوبہ الفاظ پوچھ کر یاد کرلے ، یا لکھوالے اور لکھاہوا پڑھ دے ،
    اور ایسا بھی ممکن نہ ہو تو پھر اپنی زبان میں ْ (ھذا الامر ) کی جگہ لفظ پڑھ سکتا ہے ،کیونکہ ( لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا )
     
  5. ‏اگست 21، 2016 #15
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاك الله خيراً يا شيخ
     
  6. ‏اگست 21، 2016 #16
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,437
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جس کام و مقصد کے لیے استخارہ کیا جاتا ہے وہ کام و مقصد استخارہ کرنے والے کے دل و دماغ میں ہوتا ہے..اور ھذا الامر اُسی کی طرف اشارہ ہے..اس لیے میرے خیال سے تو ھذا الامر کو اسی طرح پڑھنا چاہیئے..واللہ اعلم!
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 03، 2019 #17
    امیر حمزہ سلفی

    امیر حمزہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏نومبر 16، 2018
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    5

    محمد عامر یونس,
    استخارے کی دعا کرتے ہوئے ھذا الأمر کی جگہ جو اپنے کام کے الفاظ بولنے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ وہ عربی زبان میں بولے جائیں... ؟؟؟
     
  8. ‏مارچ 03، 2019 #18
    امیر حمزہ سلفی

    امیر حمزہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏نومبر 16، 2018
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    5

    محمد عامر یونس,
    استخارے کی دعا کرتے ہوئے ھذا الأمر کی جگہ جو اپنے کام کے الفاظ بولنے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ وہ عربی زبان میں بولے جائیں... ؟؟؟
     
  9. ‏مارچ 03، 2019 #19
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اگر دعاء استخارہ عربی میں یاد کرسکتا ہے تو (ھذا الامر ) کی جگہ کسی عربی جاننے والے سے مطلوبہ الفاظ پوچھ کر یاد کرلے ، یا لکھوالے اور لکھاہوا پڑھ دے ،
    اور ایسا بھی ممکن نہ ہو تو پھر اپنی زبان میں ْ (ھذا الامر ) کی جگہ لفظ پڑھ سکتا ہے ،کیونکہ ( لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا )
    اللہ تعالی بندے کو اسی کام کا حکم دیتا ہے جو کام بندہ کرسکے ،
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں