1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

استغاثہ کے مسئلہ میں بریلوی علماء کی دلیل کا تجزیہ

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 09، 2016۔

  1. ‏جولائی 09، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,585
    موصول شکریہ جات:
    6,511
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    استغاثہ کے مسئلہ میں بریلوی علماء کی دلیل کا تجزیہ

    تحریر: محترم شیخ @ابوالحسن علوی صاحب​

    ہمارے فاضل دوست جناب زاہد صدیق مغل صاحب نے فوت شدگان یا غیر حاضر انبیاء اور اولیاء اللہ سے، پریشانی میں مدد مانگنے اور مشکل میں ان کی دہائی دینے کے بارے، بریلوی علماء کا موقف کچھ ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔
    "جو مسلمان اللہ کے سواء کسی کو مستحق عبادت قرار نہ دیتا ھو، اور نہ اولیاء کو متصرف بالذات سمجھتا ھو، نہ انکو تصور میں مستقل سمجھتا ھو بلکہ یہ سمجھتا ھو کہ اولیاء کرام اللہ کی دی ھوئی قدرت اور اسکے اذن سے تصرف کرتے ہیں اور اسی عقیدے کے ساتھ ان سے استعانت کرے تو اس مسلمان کا یہ فعل شرک ھے نہ زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کا سا کام ھے۔"
    اس موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر فوت شدگان یا غیر حاضر انبیاء اور اولیاء اللہ کو "عبادت کا مستحق" نہ سمجھا جائے تو ان سے مدد مانگنا جائز ہے اور یہ شرک نہیں ہے۔ یعنی عبادت ان کا حق نہیں ہے لیکن کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اسے ان کا حق نہ سمجھے۔ یہ موقف قطعی طور کتاب وسنت کے خلاف اور شیطان کا دجل اور فریب ہے۔ مشرکین مکہ نہ تو اپنے بتوں کو زمین وآسمان کی تخلیق میں اللہ کا شریک قرار دیتے تھے اور نہ ہی انہیں مستحق عبادت یا متصرف بالذات سمجھتے تھے بلکہ قرآن مجید انہیں مشرک اس لیے قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے بتوں سے استغاثہ اور استعانت کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ یا اللہ کے ہاں سفارشی سمجھتے تھے۔
    ارشاد باری تعالی ہے:
    ويعبدون من دون الله ما لا يضرهم ولا ينفعهم ويقولون هؤلاء شفعاؤنا عند الله [يونس: 18]۔
    اور وہ اللہ کے علاوہ اس کی عبادت کرتے ہیں کہ جو انہیں نہ تو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ دے سکتے ہیں اور وہ کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔
    اس آیت میں شروع ہی میں اللہ عزوجل نے مشرکین مکہ کا عقیدہ بیان کر دیا کہ وہ بتوں کو مستقل بالذات فائدہ یا نقصان پہچانے والا نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ کے ہاں سفارشی تصور کر کے ان سے مدد مانگنے اور ان کی دہائی دینے کے قائل تھے جبکہ اللہ نے ان کے اس فعل کو شرک قرار دیا ہے۔
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ
    ( والذين اتخذوا من دونه أولياء ما نعبدهم إلا ليقربونا إلى الله زلفى) [الزمر:3]
    اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کچھ اولیاء پکڑ لیے ہیں، وہ کہتے یہ ہیں کہ ہم ان اولیاء کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے بہت زیادہ قریب کر دیں۔
    اسی لیے تو مشرکین مکہ کا حج کے موقع پر تلبیہ یہ تھا کہ:
    لبيك اللهم لبيك لا شريك لك إلا شريك هو لك تملكه وما ملك۔
    حاضر ہوں، اے اللہ، میں حاضر ہوں، اے اللہ، آپ کا کوئی شریک نہیں، سوائے اس شریک کے آپ ہی اس شریک کے مالک بھی ہیں اور اس چیز کے بھی کہ جو اس شریک کے پاس ہے۔
    اگر مشرکین مکہ کے اس تلبیے میں غور کریں تو اللہ کا شریک ٹھہرانے میں انہوں نے کمال درجے کی توحید کا مظاہرہ کیا ہے کہ اے اللہ، اپنے شریک کا بھی تو ہی مالک اور جو اس شریک کے پاس ہے، اس کا بھی تو ہی مالک، یعنی اس شریک کا مستقل بالذات تو کچھ بھی نہیں، سب تیرا ہی ہے۔ اور یہی مشرکین مکہ کی توحید آج بدقسمتی سے برصغیر پاک ہند میں بریلوی طبقہ فکر کے علماء پیش کر رہے ہیں۔
    چلیں، قرآن سمجھ نہیں آ پا رہا تو سنت سے سمجھ لیں کہ اس میں تفصیل زیادہ ہوتی ہے،
    ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ "ما شاء اللہ وما شئت" کہ جو اللہ چاہے اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں، تو آپ نے جواب میں فرمایا: "اجعلتنی للہ ندا" کہ کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا۔ اور ساتھ ہی حکم دیا کہ صرف یہ کہو کہ جو اللہ چاہے۔ [سنن ابو داود]
    اب کیا وہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مستحق عبادت یا متصرف بالذات سمجھتے تھے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس قول کو اللہ کا شریک ٹھہرانے کے برابر قرار دے دیا۔ اور آپ نے "ند" یعنی مدمقابل کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ جس کی جمع مشرکین کی مذمت میں قرآن مجید میں "انداد" آئی ہے۔
    ایک اور روایت میں ہے کہ غزوہ حنین سے واپسی پر صحابہ کا گزر ایک درخت "ذات انواط" پر سے ہوا کہ جس سے مشرکین برکت حاصل کرتے تھے تو بعض صحابہ نے عرض کی آپ ہمارے لیے بھی فلاں بیری کے درخت کو "ذات انواط" کا درجہ دے دیں تو آپ نے جواب میں کہا کہ تم مجھ سے وہ مطالبہ کر رہے ہو جو بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کیا تھا جبکہ انہوں نے ایک قوم کو بتوں کا اعتکاف کرتے دیکھا تھا تو کہا تھا کہ "اجعل لنا إلها كما لهم آلهة"۔ اے موسی، ہمارے لیے بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دیں جیسا کہ ان کے معبود ہیں۔ [سنن الترمذی]
    تو کیا فتح مکہ کے بعد بھی صحابہ سے یہ امید کی جا سکتی تھی کہ وہ اس درخت کو مستحق عبادت اور متصرف بالذات سمجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کر رہے تھے؟
    ان واقعات میں قابل غور بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے انہیں قرآن مجید کی آیات کی تفسیر بنا کر انہیں اللہ کا بیان بنا دیا ہے۔ اب سب مل کر کہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو وہابی اور اہل حدیث تھے؟ کہ تمہارے بقول تو اتنی چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر شرک کے فتوے تو یہی لگاتے ہیں۔
    پس فوت شدگان سے مدد مانگنا، چاہے وہ انبیاء ہوں یا اولیاء، اور ان کی دہائی دینا، انہیں اپنے نفع یا نقصان کا مالک سمجھنا، ان کو اس لیے پکارنا کہ ان کو پکارنے سے میری کوئی تکلیف یا غم دور ہو جائے گا یا مجھے کوئی خوشی اور نعمت مل جائے گی، چاہے انہیں مسحق عبادت یا متصرف بالذات سمجھے یا نہ سمجھے، یا غائب یعنی جو زندہ تو ہوں لیکن پاس موجود نہ ہوں، ان سے مدد مانگنا اور ان کی دہائی دینا جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا شاہ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ وغیرہ کی دہائی دینا یا انہیں مشکل کشا سمجھ کر ان سے مدد مانگنا، اور حاضر سے ایسی مدد مانگنا کہ جس کی وہ قدرت نہ رکھتا ہو مثلا اس سے بیٹا مانگنا وغیرہ، شرک اکبر ہے اور ایسا کرنے والے دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے کہ یہی وہ شرک ہے جو مشرکین مکہ کا شرک تھا، جو قوم نوح کا شرک تھا بلکہ تمام انبیاء کی قوموں کا شرک یہی تھا اور یہی وہ شرک ہے کہ جس کے رد میں قرآن مجید نازل ہوا ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 07، 2016 #2
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    149
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    مذکورہ بالا مضمون بہت علمی اور مفید ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ دن کا صحیح فہم عطاء فرمائے۔ اس میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے۔
    اس کے بارے میں تھوڑی وضاحت درکار ہے۔ کچھ دن پہلے طاہر القادری کی ویب سائٹ پر اس حدیث کی بابت ایک سوال ہوا تھا۔ جس میں مفتی نے خوب مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ صاحبِ علم حضرات اس کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں اور اس کے مغالطات کو عوام الناس کے سامنے لائیں۔ وہ فتوی من وعن یہاں نقل کیے دیتا ہوں۔ اُوپر اس کا ربط بھی فراہم کر دیا ہے۔
    ’’جو صرف اللہ چاہے وہی ہوتا ہے‘‘ اس حدیثِ پاک کا مفہوم کیا ہے؟


    موضوع: عبادات | توحید فی الافعال
    سوال پوچھنے والے کا نام: محمد فرحان صدیقی مقام: کراچی، پاکستان
    سوال نمبر 3111:
    السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ (جو صرف اللہ چاہے وہی ہوتا ہے) مفہوم حدیث : ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں وہی ہو گا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا تم ایسا کہو، جو اکیلا اللہ چاہے وہی ہو گا۔ مسند احمد، حدیث 1839، جلد 1، صفحہ 214، درجہ صحیحہ، راوی:‌ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، ناشر : موسسا قرطبہ، قاہرہ یہ مجھے ایک میسج موصول ہوا تھا جس کی وضاحت درکار ہے کیا یہ حدیث بحوالہ صحیح ہے۔

    جواب:
    جس ایک روایت کے بارے میں آپ نے دریافت کیا ہے یہ ایک مجمل روایت ہے یعنی اس میں اختصار پایا جاتا ہے۔لہذا صرف اسی روایت کو لے کر عقیدے کی بنیاد نہیں رکھ دی جائے گی کیونکہ اس کی وضاحت دیگر روایات میں پائی جاتی ہے۔جو بحوالہ درج ذیل ہیں:

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم مَا شَائَ االله وَشِئْتَ فَقَالَ لَه النَّبِيُّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم أَجَعَلْتَنِي وَالله عَدْلًا بَلْ مَا شَائَ الله وَحْدَحه

    احمد بن حنبل، المسند، 1: 214، رقم: 1839، موسسۃ قرطبۃ، مصر
    حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جو اﷲ چاہے اور آپ چاہیں۔حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کیا تو مجھے اور اﷲ کو برابر کر رہا ہے ؟ یوں کہو جو اکیلے اﷲ نے چاہا۔

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ فَلَا یَقُلْ مَا شَائَ اللہُ وَشِئْتَ وَلَکِنْ لِیَقُلْ مَا شَائَ اللہُ ثُمَّ شِئْتَ

    ابن ماجه، السنن، 1: 684، رقم: 2117، دار الفکر بیروت
    عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں بلکہ یوں کہے جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں۔

    عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ رَأَی فِي النَّوْمِ أَنَّه لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهلِ الْکِتَابِ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ تُشْرِکُونَ تَقُولُونَ مَا شَائَ اللہُ وَشَائَ مُحَمَّدٌ وَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ أَمَا وَاللہِ إِنْ کُنْتُ لَأَعْرِفُها لَکُمْ قُولُوا مَا شَائَ اللہُ ثُمَّ شَائَ مُحَمَّدٌ

    1. ابن ماجه، السنن، 1: 685، رقم: 2118
    2. دارمي، السنن، 2: 382، رقم: 2499، دار الکتاب العربي بیروت
    حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ایک مسلمان شخص نے خواب میں ایک کتابی (یہودی) سے ملاقات کی جس نے یہ کہا تم بہت اچھے لوگ ہو اگر شرک نہ کرو اور یہ نہ کہو جو اللہ نے چاہا اور محمد نے چاہا۔ اس مسلمان نے یہ خواب حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کر دیا۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سنو! بخدا: بے شک میں اس بات کو تمہارے حق میں سمجھتا تھا (اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن یہودی کا منہ بند کرنے کے لیے) یوں کہو جو اﷲ چاہے پھر محمد چاہیں۔

    عَنْ قُتَیْلَۃَ بِنْتِ صَیْفِيٍّ الْجُهیْنِیَّۃِ قَالَتْ أَتَی حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیک وسلم فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ تُشْرِکُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللہِ وَمَا ذَاکَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْکَعْبَۃِ قَالَتْ فَأَمْهلَ رَسُولُ اللہِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شَیْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّه قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْیَحْلِفْ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ قَالَ یَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ تَجْعَلُونَ لِلّٰه نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللہِ وَمَا ذَاکَ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَائَ اللہُ وَشِئْتَ قَالَ فَأَمْهلَ رَسُولُ اللہِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شَیْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّه قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَائَ اللہُ فَلْیَفْصِلْ بَیْنَهمَا ثُمَّ شِئْتَ

    أحمد بن حنبل، المسند، 6: 371، رقم: 27138
    حضرت قُتَیْلَہ بنت صیفی جُہینْہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم تم بہت اچھے لوگ ہو اگر شرک نہ کرو۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اﷲ (میں اور شرک؟ ) وہ کیا ہے؟ اس نے کہا تم لوگ قسم اٹھاتے وقت بولتے ہو ’کعبہ کی قسم‘ کھاتی ہیں: حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ وقت خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ اس یہودی نے یہ کہا ہے۔ لہذا جو (مسلمان) قسم اٹھائے ’رب کعبہ‘ کی اٹھائے پھر یہودی عالم بولا اے محمد صلی اﷲ علیک وسلم تم بہت اچھے لوگ ہواگر اﷲ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔آپ نے فرمایا: سبحان اﷲ وہ کیا؟ (جس میں مجھے تو شرک نظر نہیں آیا اور تجھ بے ایمان کو آ گیا) کہنے لگا تم (مسلمان) کہتے ہو جو اﷲ چاہے اور حضور آپ چاہیں۔اس پر آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ اس یہودی نے یہ کہا ہے۔اب جو کہے ماشاء اﷲ دونوں میں فاصلہ رکھ کر کہے پھر آپ چاہیں۔
    حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ عنہ کی روایت کے مطابق تو یہ ایک مسلمان شخص کا خواب ہے جو اس نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بار گاہ میں پیش کیا۔اور حضرت قُتَیْلَہ بنت صیفی جُہنْیہ رضی اﷲ عنہا کی روایت میں خواب کا ذکر نہیں ہے۔

    بہرحال ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ وہ ’’مَا شَائَ اﷲُ وَشِئْتَ‘‘ کہتے تھے۔لیکن آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے منع نہیں فرمایا۔ سوچنے کی بات ہے معاذ اﷲ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم یا صحابہ کرام کو شرک نظر نہیں آیا؟ لیکن اس یہودی کو آ گیا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی کو سوال کرنے دیا اور اس کے اس سوال پر حیران ہوئے کہ وہ کیسے شرک ثابت کر رہاہے؟ لہذا معلوم ہوا یہ یہودیوں کا طریقہ ہے بات بات پہ شرک نکالنا۔

    مزید وضاحت کے لیے پروفیسر ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کی کتاب ’’کتاب التوحید‘‘ کا مطالعہ کریں۔

    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
    مفتی: عبدالقیوم ہزاروی
    تاریخ اشاعت: 2014-07-09
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 08، 2016 #3
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    947
    موصول شکریہ جات:
    297
    تمغے کے پوائنٹ:
    123

    سب سےپہلے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالٰی نے ان کو ایسی ما فوق الفطرت قوتیں عطاء فرمائیں ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایسی قوتیں کیسے حاصل ہوتی ہیں ؟تیسرا یہ کہ ان ہستیوں کو پکارا ہی اس نظریہ کے تحت جاتا ہے کہ یہ ہماری حاجتیں سنتے اور پوری کرتے ہیں (انہیں متصرف بالذات سمجھنا یا نہ سمجھنا تو ایک بہانہ ہے ) ۔قرآن مجید میں ایسے اختیارات اللہ تعالٰی نے کسی مخلوق ( نبی، رسول، صحابی یا ولی وغیرہ)کو عطاء نہیں فرمائے ہیں۔ ایسے غیر معقول نظریات غیر قرآن کتابوں میں ہی پائے جاتے ہیں جن کی کوئی سند اللہ تعالٰی نے نازل نہیں فرمائی ۔دراصل طبقۂ خاص بزرگوں کے واقعات و حکایات کو اصل بناتا ہے اور پھر ایک خاص نظریہ جنم دیکر قرآن مجید کی آیات کی رکیک تاویلات کر تا ہے ۔
    سب سے بڑھ کر یہ بات انسان کی بے بسی و بے اختیاری کے لیے کافی ہے کہ وہ از خود پیدا نہیں ہوا بلکہ پیدا کیا گیا ہے ۔تو جس کی پیدائش ہی اس کے اختیار میں نہ ہو اسے مافوق الفطرت اختیارات کا عطائی طریق پر مالک بنانا کتنا معقول ہوگا ؟میں تو کہتا ہوں جس دن طبقۂ خاص نے نبی، رسول اور ولی کو دل وجان سے مخلوق تسلیم کر لیا ، اسی دن غیر اللہ سے استعانت کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے از خود ختم ہو جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 27، 2017 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,022
    موصول شکریہ جات:
    1,152
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    استغاثہ لغیر اللہ پہ فیس بک پہ ایک پوسٹ لگائی تھی وہاں مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب کی بات ہو رہی ہے ساتھ بریلوی کی طرف سے متصرف سمجھ کر مانگنے اور اسکے بغیر مانگنے میں میں فرق کی بات ہو رہی ہے اس پہ کسی بھائی نے پہ یہ لنک دیا تھا اور وضاحت مانگی تھی
    بھائی جان یاد رکھیں کہ شیطان کے پیروکاروں کا کام حق کو باطل سے گڈ مڈ کر دینا ہے جسکو کو تلبیس ابلیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس فتوی میں بھی یہی کام کیا گیا ہے جسکی وضاحت کرنا ضروری ہے
    یہاں دو چیزوں کی وضاحت کرنی ہے
    1-زاید مغل صاحب کے قول کی کہ استغاثہ لغیراللہ صرف تب شرک ہوتا ہے جب غیراللہ کو متصرف مان کر استغاثہ کیا جائے اس پہ ایک جامع وضاحت تو شیخ محترم نے کر دی ہے ایک نقطہ میں بھی لکھنا چاہوں گا
    2-دوسری وضاحت نیچے طاہر القادری کے مفتی عبدالقیوم کے فتوی کے بارے میں کرنی ہے
     
  5. ‏فروری 27، 2017 #5
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,022
    موصول شکریہ جات:
    1,152
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یہاں یہ یاد رکھا جائے کہ غیراللہ سے بعض خاص قسم کی مدد مانگنے کو اہل الحدیث بھی شرک کہتے ہیں اور بریلوی بھی شرک کہتے ہیں یعنی غیراللہ سے ہر قسم کی مدد مانگنے کو دونوں شرک نہیں کہتے صرف بعض وسم کی مدد کو شرک کہتے ہیں
    اب فرق یہ ہے کہ اہل الحدیث کے ہاں غیر اللہ سے مدد کے شرک ہونے کی علت کوئی اور ہے اور بریلوی کے ہاں غیراللہ سے مدد مانگنے کے شرک ہونے کی علت کوئی اور ہے

    اہل الحدیث کے ہاں غیراللہ سے مدد مانگنے کے شرک ہونے کی علت

    اہل الحدیث اسباب کی اقسام میں مافوق الاسباب مدد مانگنے کو علت بناتے ہیں یعنی انکے ہاں کوئی ماتحت الاسباب مدد مانگے مثلا بیوی سے پانی مانگنا تو یہ شرک نہیں ہو گا البتہ مافوق الاسباب مدد مانگے تو شرک ہو گا (اور یہ موقف قرآن و حدیث سے ثابت ہے جسکی دلیل اوپر ابو الحسن بھائی نے دی ہوئی ہے)
    یہاں اہل الحدیث کے موقف کو سمجھنے کے لئے مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور بہت آسان ہے جسکو یار لوگ پیچیدہ کر دیتے ہیں
    ماتحت الاسباب مدد اسکو کہتے ہیں جس میں مدد کرنے والے کے پاس اس مدد کرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود ہو مثلا وھابی مولوی کی بیوی کے پاس پانی پلانے کا ظاہری سبب موجود ہوتا ہے پس جب کوئی وھابی مولوی اپنی بیوی سے پانی مانگتا ہے تو یار لوگوں کا اسکو شرک کا طعنہ دینا تلبیس ابلیس کی بدترین مثال ہو گی
    اسکے برعکس مافوق الاسباب ایسی مدد ہوتی ہے کہ جس کے کرنے کا کوئی ظاہری سبب مدد کرنے والے کے پاس نہ ہو مثلا کوئی جہاز نہیں رکھتا مگر کوئی اس کو کہے کہ مجھے اڑا کر مدینہ لے جاو تو یہ مافوق الاسباب مدد ہو گی اسی طرح کوئی کسی کو جنت نہیں دے سکتا پس کوئی کسی کو کہے کہ مجھے جنت میں داخل کروا دینا تو یہ مافوق الاسباب مدد ہو گی اسی طرح کوئی کسی کو شفا دینے کا ظاہری سبب نہیں رکھتا یعنی وہ ڈاکٹر حکیم نہیں مگر کوئی اسکو کہے کہ مجھے شفا دے دو تو وہ مافوق الاسباب مدد ہو گی ہاں کوئی کسی سے کہے کہ میری شفا کے لئے دعا مانگیں تو یہ ماتحت الاسباب مدد ہو گی کیونکہ کسی کے شفا کے لئے دعا کرنا دوسرے کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن اسکو شفا دے دینا اللہ کے علاوہ کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا

    بریلوی کے ہاں غیراللہ سے مدد مانگنے کے شرک ہونے کی علت


    بریلوی کے ہاں بھی غیراللہ سے مدد مانگنا بعض صورتوں میں شرک ہو سکتا ہے مگر وہ علت اس نظریے کو بناتے ہیں کہ مانگنے والا مدد کرنے والے کو متصرف فی الذات سمجھتا ہو یعنی انکے ہاں اگر مانگنے والا غیراللہ کو متصرف فی الذات نہ سمجھ کر مدد مانگے تو وہ شرک نہیں ہو گا ورنہ شرک نہیں ہو گا
    لیکن یہ موقف وہ قرآن و سنت سے وہ ثابت نہیں کر سکتے

    جاری ہے-----
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں