1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استقبال قبلہ کے مسائل

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ حیدر, ‏اپریل 01، 2012۔

  1. ‏ستمبر 20، 2018 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سمت قبلہ کا تعین کرنا
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ہمارے ہاں جو قدیم مساجد تعمیر شدہ ہیں ، ان کی سمت قبلہ کی تعیین کے متعلق اکابر اہلحدیث نے بڑی محنت اور جانفشانی سے کام لیا تھا جبکہ آج کل ہمارے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ بیرون ملک سے درآمد کردہ جائے نماز آئے ہیں جن پر قبلہ نما نصب ہے۔ جدید قبلہ نما کے مطابق پہلے تعیین کردہ سمت قبلہ میں کہیں کم اور کہیں زیادہ فرق ہے ،اس وجہ سے جماعتی احباب تذبذب کا شکار ہیں براہ کرم اس سلسلہ میں کتاب سنت سے ہماری راہنمائی فرمائیں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    واضح رہے کہ دین اسلام کے تمام احکام کی بنیاد یسروسہولت اور سادگی و بے تکلفی ہے کیونکہ شریعت کا دائرہ حکومت تمام جہاں کے بحر وبر اور شہری و دیہاتی آبادیوں پر حاوی ہے۔اسلامی فرائض کی ادائیگی جس طرح شہریوں پر عائد ہے اسی طرح دیہاتیوں اور پہاڑوں کے رہنے والے ناخواندہ حضرات پر بھی ہے، اس لئے جو احکام اس حد تک عام ہوں ان کے متعلق رحمت و حکمت کا تقاضا ہے کہ انہیں جدید آلات پر موقوف نہ رکھا جائے تاکہ ہر خاص و عام انہیں بآسانی سرانجام دے سکے۔ اس ضروری تمہید کے بعد نماز پڑھتے وقت قبلہ کے متعلق بھی شریعت نے آسان اور سادہ طریقہ ہی اختیار فرمایا ہے جسے ہر شہری اور دیہاتی بسہولت عمل میں لاسکے ،چنانچہ اس کےمتعلق ہمارے اسلاف کا طرزعمل حسب ذیل ہے:
    *سمت قبلہ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘نمازکے وقت تم اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف کرو۔’’(۲/البقرہ:۱۴۴)
    اس آیت کریمہ میں بیت اللہ کے بجائے مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ بیت اللہ سے زیادہ وسیع ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں استقبال قبلہ کے متعلق شریعت نے تنگی کے بجائے وسعت کو پیش نظر رکھا ہے، چنانچہ اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد حرام کے بعد سب سے پہلی مسجد جو اسلام میں بنائی گئی وہ مسجد قبا ہے۔اس مسجد کی بنیاد اس وقت رکھی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس تھا،پھر جب تحویل قبلہ کی آیات نازل ہوئیں تو اس کی خبر لے کر مسجد قبا میں ایک صحابی اس وقت پہنچا جب صبح ہو رہی تھی۔انہوں نے دوران نماز ہی تحویل قبلہ کی خبر دی تو امام اور پوری جماعت بیت اللہ کی جانب پھر گئی۔(صحیح بخاری،الصلوٰۃ :۴۰۳)
    اس واقعہ کی اطلاع رسول اللہﷺ کو ہوئی تو آپ نے ان حضرات کے اس فعل کی تصویب فرمائی اب ظاہر ہے کہ حالت نماز میں اہل قبا نے جو سمت قبلہ اختیار کی اس میں اس قسم کے آلات کا قطعاًکوئی دخل نہ تھا بلکہ انہوں نے اپنے ظن غالب کے مطابق تحری وکوشش کرکے سمت قبلہ کو اختیار کیا۔نماز کے بعد بھی انہوں نے اس ظن و تخمینہ کے علاوہ کوئی طریقہ اختیا ر نہیں کیا۔ پھر سیدناحضرت عمرؓ کے وقت ہرصوبے میں مساجد تعمیر ہوئیں اور عمال حکومت نے اس سلسلہ میں کسی قسم کے آلات سمت قبلہ کی تعیین کے لئے استعمال نہیں کیے بلکہ اس کی تعیین تحری و تخمینہ سے کی گئی ،بلکہ فقہا ء و محدثین کی صراحت کے مطابق اگر کوئی بیت اللہ کے سامنے نماز اداکرتا ہے تو اس کےلیے عین قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے جبکہ دوسروں کے لئے عین قبلہ کے بجائے جہت قبلہ ضروری ہے اور جہت قبلہ کی تعیین بھی سادہ طریقہ سے کی جاسکتی ہے۔چنانچہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے دوسرے شمالی علاقوں کےلئے ارشاد نبوی ہے کہ ‘‘مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔’’(ترمذی ،الصلوٰۃ:۳۴۲)
    اس حدیث سے نقطہ مشرق و مغرب کی درمیانی قوس،یعنی نصف دائرہ کی مقدار کے متعلق جہت قبلہ ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے لیکن محققین امت نے اس حدیث کو عرف عام پر محمول کرکے مشرق و مغرب کی جہت کو مراد لیا ہے۔فقہاء نے اس کی تفصیل یوں کی ہے کہ اگر نمازی کی پیشانی کے درمیان سے خط مستقیم نکل کر عین کعبہ پر گزرے تو یہ قبلہ مستقیم ہے اگر پیشانی کے درمیان سے نکلنے والا خط عین کعبہ پر نہیں پہنچتا لیکن پیشانی کے دائیں بائیں اطراف سے کوئی خط عین کعبہ پر پہنچے تو اس قدر انحراف قلیل ناقابل التفات ہے اور علمائے ہیٔت نے انحراف قلیل کی تیعین اس طرح کی ہے کہ ۴۵ درجہ تک انحراف ہوتو قلیل بصورت دیگر انحراف کثیر ہے جو قابل التفات و اعترا ض ہے کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کے اعتبار سے لوگوں کی مثال ایسے ہے جیسا کہ مرکز کے گرد دائرہ ہوتا ہے اور کسی بھی دائرہ کا پھیلاؤاور اتساع اپنے مرکز۱/۴دائرہ تک ہوسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں ہوتا،اس بنا پر دائرہ کے ربع تک انحراف ہو یعنی کعبہ سے ۴۵ درجہ دائیں جانب اور ۴۵ درجہ بائیں جانب انحراف کا جواز ہے واضح رہے کہ کسی بھی دائرہ کا چوتھائی حصہ نوے درجہ تک ہوتا ہے ۔اسے دائیں بائیں تقسیم کرکے ۴۵،۴۵ درجہ رکھا گیا ہے۔تعیین قبلہ کے متعلق ایک سادہ طریقہ یہ ہے جسے ماہرین نے بیان کیا ہے کہ سال میں دو مرتبہ نصف النہار کے وقت سورج عین بیت اللہ کے اوپر ہوتا ہے ۔اور وہ دن ۲۷ مئی اور ۱۶ جولائی ہیں۔آفتاب کے نصف النہار مکہ پر پہنچنے کا ہمارے ہاں۲۷ مئی کو ۲ بجکر۱۷ منٹ اور ۱۶ جولائی کو ۲ بجکر ۲۶ منٹ ہے ان اوقات میں عمود کا سایہ قبلہ پر ہوگا،دھوپ میں کسی بھی وزن دادرسی کو ان اوقات میں لٹکا کر سمت قبلہ کا تعیین کیا جاسکتا ہے۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ نے مصر اور دوسرے شہروں میں اس طرح موٹے موٹے آثار و نشانات کے ذریعے تحری کرکے سمت قبلہ کا تعین کیا اورمساجد تعمیر کرائیں اور عام مسلمانوں نے ان کا اتباع کیا۔ البتہ مصر کے فرماں روا احمد بن طولون نے جب مصر میں جامع مسجد کی بنیاد ڈالی تو اس نے مدینہ طیبہ بھیج کر مسجد نبوی کی سمت قبلہ دریافت کرائی اور اس کے مطابق مسجد بنائی جو فاتح مصر عمرو بن العاص کی جامع مسجد سے کسی قدر منحرف ہے لیکن علما نے جامع مسجد عمروبن العاصؓ کے اتباع کو اولیٰ قرار دیا ہے اور اطراف مصر کی مساجد اسی کے مطابق ہیں ،واضح رہے کہ امیر مصر نے جب ماہرین کے ذریعے آلات ریاضیہ سے مسجد نبوی کی سمت قبلہ کو جانچا تو معلوم ہوا کہ آلات کے ذریعے نکالے ہوئے خط سمت قبلہ سے مسجد نبوی کی سمت قبلہ دس درجہ مائل بجنوب ہے ،حالانکہ رسول اللہﷺ نے سمت قبلہ کی تعیین بذریعہ وحی فرمائی تھی،اس لئے مسجد نبوی کی سمت قبلہ کے عین مطابق تھی اور ان ماہرین کا آلات کے ذریعے اندازہ غلط تھا ۔ اس لئے ایسے معاملات میں زیادہ باریک بینی سے کام نہ لیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے بعض اوقات اپنے اسلاف سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ (واللہ اعلم )
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب​



    ج2ص72​


    محدث فتویٰ​
     
  2. ‏ستمبر 20، 2018 #12
    سید وقار علی شاہ

    سید وقار علی شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    جزاک اللہ۔ آپ نے ہمارے سوالوں کا جواب دیا جسکے لئے ہم نہایت مشکور ہئں لیکن یہاں ابھی بھی ہمیں تسلی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ درجوں کا فرق 25 سے زیادہ ہو تو نماز نہیں ہوتی۔ اور ہی بھی کہ دور حاضر میں جبکہ آلات جدید موجود ہیں اور قبلے کا صحیح تعین ممکن ہے اس لئے مقیم کے لئے یہ معلوم کرنا اور اسکے لئے کوشش کرنا لازم ہے۔ جبکہ ہمارہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری مسجد میں جبکہ یہ سب کو معلوم بھی ہے کہ مسجد کی محراب میں 40 درجوں تک فرق ہے پھر بھی رخ اس لیے نہیں موڑتے کہ مسجد بنی ہی اس طرح ہے۔ اللہ کو آپ کو جزائے خیر دے رہنمائی کردیں۔
     
  3. ‏ستمبر 20، 2018 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ کے مسئلہ کا فوری حل یہ ہے کہ جہت قبلہ کا صحیح تعین کرکےمسجد میں نماز کی صفیں درست سمت لگالیں ،
    اورصحیح جہت کی علامات لگادی جائیں ،تاکہ نمازی اس صحیح جہت پر کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں