1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی آداب زندگی (سبیل المؤمنین)

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مارچ 15، 2019۔

  1. ‏اپریل 12، 2019 #221
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    خیر یا شر کا آغاز کرنے والے کا حال:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مضر قبیلہ کے چند لوگ ننگے بدن، اون کی دھاری دار چادریں لیے ہوئے آئے۔ ان کی فاقہ زدگی دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خیرات کرنے کی ترغیب دی۔ صحابہ مال لاتے رہے حتیٰ کہ دو ڈھیر بن گئے۔ ایک سامان کھانے کی چیزوں کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے اور فرمایا:
    ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اس کو اپنا اور ان تمام لوگوں کا اجر ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور بعد والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ اور جس نے اسلام میں برا طریقہ جاری کیا اس پر اپنے گناہ اور ان تمام لوگوں کے گناہ کا بوجھ ہو گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں کے بوجھ میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘
    (مسلم کتاب الزکوۃ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ او بکلمۃ طیبۃ)
    اس حدیث میں جو چیز اسلام میں جائز ہے اس پر سب سے پہلے عمل کرنے اور اسے فروغ دینے والے کا اجر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بدعتِ حسنہ کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ بدعت شریعت سازی ہے جس کا تمام تر اختیار اللہ عزوجل کو ہے۔ کسی انسان کو شریعت سازی کا حق نہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    ’’جو جان بھی ظلم سے قتل کی جاتی ہے، اس خون ناحق کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے بیٹے کو ہو گا کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتلِ ناحق کا طریقہ شروع کیا۔‘‘
    (بخاری کتاب الانبیاء باب خلق آدم زذریتہ، مسلم کتاب القسامۃ باب اثم من سن القتل)
     
  2. ‏اپریل 16، 2019 #222
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کتاب الاذکار

    ذکر کی فضیلت قرآن حکیم میں :

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ ۗ ۔۔۔﴿٤٥﴾ سورہ العنکبوت
    ’’اور اللہ کا ذکر ہر چیز سے بڑا ہے۔‘‘
    وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٠﴾ سورہ الجمعہ
    ’’اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
    فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ۔۔ ﴿١٥٢﴾ سورہ البقرہ
    ’’پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘
     
  3. ‏اپریل 16، 2019 #223
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’مجالس ذکر کا انعام جنت ہے۔‘‘
    (السلسلۃ الصحیحہ للالبانی ۵۳۳۳.)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جو شخص مال خرچ کرنے میں بخیلی کا مظاہرہ کرے دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرے اور رات کی مشقت سے ڈرے تو وہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہ۔ لاَ الٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔َ اللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کثرت سے پڑھے۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۴۱۷۲.)
     
  4. ‏اپریل 16، 2019 #224
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    زبان پر ہلکے اور میزان میں بھاری کلمات:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "دو ایسے کلمات ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان میں بھاری اور رحمن کو بہت پیارے ہیں۔"
    ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ.‘‘
    ’’اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ۔ اللہ پاک ہے عظمتوں والا ہے۔‘‘
    (بخاری کتاب الدعوات، صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التھلیل والتسبیح والدعا)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس نے سو دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کہا اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
    (بخاری کتاب الدعوات، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
     
  5. ‏اپریل 16، 2019 #225
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کلمات:

    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "مجھے ان تمام چیزوں سے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے زیادہ محبوب یہ کلمات ہیں:
    ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ والْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ الٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ.‘‘
    (مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
     
  6. ‏اپریل 16، 2019 #226
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    شیطان سے بچاؤ کے کلمات :

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو دن میں سو بار کہے:
    ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.‘‘
    ’’اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔ اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔ سو برائیاں مٹا دی جائیں گی۔ اور یہ کلمات اس کے لیے اس دن شام تک شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ ہونگے اور کوئی شخص اس سے زیادہ فضیلت والا عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا سوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ یہ عمل کیا ہو گا۔
    (بخاری کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
    ایک اور روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس نے یہ کلمات دس مرتبہ کہے اس کا یہ عمل اس شخص کی طرح ہے جس نے اسمعیل کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کیے۔
    (بخاری کتاب الدعوات باب فضل التھلیل)
     
  7. ‏اپریل 16، 2019 #227
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایک ہزار نیکیاں :

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کیا تم روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہو؟
    ایک سائل نے پوچھا کہ وہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کمائے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو سو دفعہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ کہے گا اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا ہزار غلطیاں معاف کر دی جاتی ہیں۔
    (مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التھلیل والتسبیح والدعاء)
     
  8. ‏اپریل 16، 2019 #228
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اللہ تعالی بندے کو یاد کرتا ہے :

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں۔ پس جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر (فرشتوں کی) مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں۔ اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔‘‘
    (بخاری کتاب التوحید، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الحث علی ذکر اللہ تعالیٰ)
     
  9. ‏اپریل 16، 2019 #229
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ذکر الٰہی کی مجالس کی فضیلت:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہو گیا۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتے ہیں۔ جب مجلس ختم ہو جاتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے۔حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے کہ میرے بندے کیا کر رہے تھے ؟۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے۔ تیری کبریائی بیان کرتے تھے۔ تیری حمد بیان کرتے تھے اور تیری بزرگی بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں۔ نہیں واللہ انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھتے ہوتے؟ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کر لیتے تو تیری عبادت اور بھی زیادہ کرتے۔ تیری بزرگی سب سے زیادہ بیان کرتے۔ تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے وہ مجھ سے کیا مانگتے تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں۔ نہیں واللہ اے رب انہوں نے تیری جنت نہیں دیکھی۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا حال ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو فرشتے کہتے ہیں کہ وہ اس کے اور بھی زیادہ خواہش مند ہوتے۔ سب سے بڑھ کر اس کے طلبگار ہوتے۔ اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں‘ دوزخ سے۔ اللہ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا‘ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا؟ وہ جواب دیتے ہیں اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا۔ ایک فرشتہ نے کہا کہ اس میں فلاں بھی تھا۔ وہ ان ذکر کرنے والوں میں سے نہیں تھا بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’یہ ذکر کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا کبھی نامراد نہیں رہتا۔‘‘
    (بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ عزوجل، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل مجالس الذکر)

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’وہ گھر جس میں قرآن پڑھا جائے، آسمان والوں کو اس طرح نظر آتا ہے جس طرح زمین والوں کو ستارے نظر آتے ہیں۔‘‘
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:۲۱۱۳.)

    جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب تک تمہارا دل پر سکون ہو قرآن پڑھو اور جب بے سکونی ہونے لگے تو کھڑے ہو جاؤ ۔
    (صحیح بخاری۰۶۰۵، صحیح مسلم :۷۶۶۲.)
     
  10. ‏اپریل 16، 2019 #230
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قرآن کو خوش الحانی سے پڑھو:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اللہ کی کتاب سیکھو، اسے پختہ کرو اور اسے خوش الحانی سے پڑھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ قرآن نوجوان اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جاتا ہے۔" (بھول جاتا ہے)۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۵۸۲۳ مسند احمد:۱۲۷۶۱.)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں