1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی آداب زندگی (سبیل المؤمنین)

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مارچ 15، 2019۔

  1. ‏اپریل 16، 2019 #231
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دنیا و آخرت کے فائدے:

    جب کوئی مسلمان ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے اور ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے کا حکم دیتے۔
    ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ.‘‘
    ’’اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘
    ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "یہ کلمے دنیا اور آخرت دونوں کے فائدے تیرے لئے جمع کر دیں گے۔"
    (مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل التہلیل)
     
  2. ‏اپریل 16، 2019 #232
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جنت کا خزانہ:

    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن قیس سے فرمایا:
    "میں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں"
    انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ارشاد فرمائیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘‘
    (بخاری کتاب الدعوات باب قول لاحول و لاقوۃ)
     
  3. ‏اپریل 16، 2019 #233
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تسبیح دائیں ہاتھ پر:

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا۔
    (ابو داؤد، ترمذی)
     
  4. ‏اپریل 16، 2019 #234
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تعلیم قرآن کا اجر:

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "قیامت کے دن قرآن ایک لاغر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور صاحب قرآن سے کہے گا کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ میں وہ ہوں جو تمہارا رات کا ساتھی تھا۔ میں تمہاری گرم دوپہر میں تمہاری پیاس کی راحت تھا۔ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے تھا اور آج میں تاجروں (جو قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اپنی تجارت میں مصروف تھے) کی بجائے آپ کے ساتھ ہوں، تب صاحب قرآن کو دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں دوام عطا کیا جائے گا، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اس کے والدین کو دو ایسے جبے پہنائے جائیں گے، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے برابر نہیں ہو گا۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہمارے لئے کس وجہ سے؟ تو کہا جائے گا تم نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی۔ اور قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا، پڑھو اور درجات چڑھتے جاؤ، اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر جس طرح دنیا میں پڑھتے تھے، تمہاری منزل آخری آیت پر ہے۔"
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۹۲۸۲.)
     
  5. ‏اپریل 16، 2019 #235
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورہ فاتحہ سے علاج اور اس کا معاوضہ:

    ایک دفعہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے ایک قبیلہ کے ہاں قیام کیا ۔قبیلہ والوں نے ان کی مہمانی نہ کی۔ اتنے میں قبیلہ کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا قبیلہ کے ایک آدمی نے پوچھا کیا تمہارے پاس اس کی دوا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: ’’ہاں لیکن تم نے ہماری مہمانداری نہیں کی لہٰذا ہم بغیر کسی معاوضہ کے علاج نہیں کریں گے۔‘‘
    انہوں نے کچھ بکریاں دینے کا وعدہ کیا۔ ایک صحابی سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر تھتکارتا رہا۔ سردار اچھا ہو گیا۔ اس نے تیس بکریاں دیں۔
    بعض صحابہ نے کہا: "کیا تم نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے؟"
    جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو اس واقعہ کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ مسکرائے اور فرمایا:
    "تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ فاتحہ منتر ہے۔"
    پھر فرمایا: "تم نے ٹھیک کیا، یہ مال لے لو اسے تقسیم کرو اور مجھے بھی اس میں سے حصہ دو۔"
    صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس نے کتاب اللہ پر اجرت لی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ حقدار اللہ کی کتاب ہے کہ اس پر اجرت لی جائے۔"
    (بخاری کتاب الطب باب الشرط فی الرقیہم، مسلم کتاب السلام باب جواز اخذ الاجرہ علی الرقیۃ بالقرآن والاذکار)
     
  6. ‏اپریل 16، 2019 #236
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قرآن کو کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ:

    عبد الرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:
    جب تم میرے خیمے میں آؤ تو کھڑے ہو جانا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے بیان کرنا۔
    عبد الرحمن نے کہا:
    میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے:
    "قرآن پڑھو، اسے کھانے کا ذریعہ مت بناؤ۔ اس کے ذریعے مال سمیٹو نہ اس سے خشک روی اختیار کرو، نہ اس میں غلو کرو۔"
    (مسند احمد:۷۱۱۵۱.)
     
  7. ‏مئی 06، 2019 #237
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دعا کے مسائل

    دعا عبادت ہے:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’ان الدعاء ھو العبادۃ.‘‘
    ’’بے شک دعا ہی عبادت ہے۔‘‘
    اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :
    (وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْ نِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ) (المومن:۰۶/۰۴)
    ’’اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو، میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا۔‘‘
    (ترمذی باب الدعوات باب ما جاء فی فضل الدعاء۔ ح۔ ۲۷۳۳‘.ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب الدعاء۔ ح۔ ۹۷۴۱.)

    عاجزی اور انکساری سے دعا کریں:
    (اُدْعُوْ ارَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ) (الاعراف:۷/۵۵)
    ’’اپنے رب سے گڑا گڑا کر اور چپکے چپکے دعا مانگو وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

    دعا سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود:
    ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف فرما تھے ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی اور دعا مانگنے لگا: ’’اے اللہ مجھے معاف فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب تم نماز پڑھ چکو اور دعا کے لیے بیٹھو تو اللہ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان کرو۔ پھر مجھ پر درود بھیجو پھر اپنے لیے دعا کرو۔"
    ایک دوسرے شخص نے نماز پڑھی۔ پھر اللہ کی حمد و ثنا کی۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی دعا کر تیری دعا قبول کی جائے گی۔
    (ترمذی کتاب الدعوات باب فی ایجاب الدعا بتقدیم الحمد والثناء والصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ح ۶۷۴۳.)

    سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ’’جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے ہر دعا روک لی جاتی ہے۔‘‘
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۵۳۰۲.)
    دعا نہ مانگنا تکبر ہے:
    (وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْ خُلُوْ نَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ) (مومن: ۰۴/۰۶)
    ’’اور تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرو ں گا جو لو گ تکبر کر کے میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا ۔اللہ اس سے ناراض ہوجا تا ہے۔‘‘
    (ترمذی کتاب الدعوات باب منہ امن لم یسأل اللہ یغضب علیہ۔ح۔۳۷۳۳.)
     
  8. ‏مئی 06، 2019 #238
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دعا کی قبولیت :
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "زمین پر جب کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کرتا ہے یا اس سے اس کی مثل کوئی تکلیف دور کر دیتا ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔
    (ترمذی کتاب الدعوات باب ما من رجل یدعو اللّٰہ بدعاء الا استجیب لہ ح ۴۰۶۳۔ ترمذی، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بندہ جب تک گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد بازی کا کیا مطلب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "بندہ یہ کہے میں نے دعا کی پس وہ قبول نہ ہوئی پس وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے"۔
    (بخاری:۰۴۳۶، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم)

    سجدہ میں دعا کریں:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہو تا ہے پس تم (اس حالت میں)خوب دعا کرو۔"
    (مسلم کتاب الصلاۃ باب ما یقال فی الرکوع والسجود)

    رات کے آخری حصہ میں اور دیگر قبولیت کے اوقات:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "ہمارا رب ہر رات جب آخر تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں۔ کون مجھ سے کچھ مانگتا ہے میں اس کو دوں۔ کون مجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہے میں اس کے گناہ معاف کر دوں؟
    (بخاری کتاب التھجد باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل، مسلم صلاۃ المسافرین الترغیب فی الدعاء والذکر فی آخر اللیل)

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔
    (ترمذی کتاب الدعوات باب فی العفو والعافیۃ)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں ایک اذان کے بعد دوسری لڑائی کے وقت جب (ایک دوسرے سے) ٹکراتے ہیں۔
    (ابو داؤد کتاب الجھاد باب الدعاء عند اللقاء)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے کچھ مانگتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت کرتا ہے اور فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے۔
    (بخاری کتاب الجمعۃ باب السا عۃ التی فی یوم الجمعۃ)

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک قبولیت والی گھڑی کو تلاش کرو۔"
    (سنن ترمذی کتاب الجمعۃ:۱۵۴.)
     
  9. ‏مئی 06، 2019 #239
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پیٹھ پیچھے دعا کرنا:
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سرہانے ایک فرشتہ مقرر ہے وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ مقرر فرشتہ آمین کہتا ہے اور (دعا کرتا ہے کہ) تجھے بھی اس جیسی بھلائی ملے۔
    (مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل الدعاء للمسلمین بظھر الغیب)​


    دوسروں سے پہلے اپنے لئے دعا کرنا:
    سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لیے دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے تھے۔
    (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ)

    دو ٹوک اور جامع دعا کرنا:
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب تم دعا کرو تو پختہ ارادے سے دعا کرو۔ یوں نہ کہو ’’اے اللہ اگر تو چاہے تو عطا کر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زبر دستی نہیں کر سکتا (جو اسے دعا قبول کرنے سے روک لے)۔
    (بخاری کتاب الدعوات باب لیعزم المسألَۃَ، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب العزم بالدعاء)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمجامع دعائیں پسند فرماتے اور دوسری دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔
    (ابو داؤد کتاب الصلاۃ باب الدعا ح ۲۸۴۱۔ ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)

    دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تقدیر کو دعا کے علاوہ کو ئی چیز نہیں بدل سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی۔
    (ترمذی کتاب القدر باب ما جاء لا یرد القدر إلا الدعاء ح۹۳۱۲.)

    دعا میں ہاتھ اٹھانا:
    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ پر نظر ڈالی ان کی تعداد ایک ہزار تھی جبکہ صحابہ تین سو تیرہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلائے اور پکار کر دعا کی۔
    (مسلم کتاب الجھاد باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔ح۔۳۶۷۱.)
    سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تمہارا رب بڑا حیا کرنے والا اور سخی ہے۔ جب بندہ اس کے حضور ہاتھ اٹھاتا ہے تو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔
    (ابن ماجہ ۔ح۔ ۵۶۸۳.)

    دعا کے بعد چہرہ پر ہاتھ پھیرنا:
    عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین دعا کرتے تھے اور آخر میں اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے منہ پر پھیرتے۔
    (الادب المفرد للبخاری باب رفع الایدی فی دعا حدیث نمبر۹۰۶۔ اس کی سند بخاری کی شرط پر صحیح ہے)

    جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی ۔(۱) باپ کی دعا (۲) روزہ دار کی دعا (۳) مسافر کی دعا۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۷۹۷۱.)

    رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی ۔
    (۱)۔۔۔ اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والا (۲)۔۔۔ مظلوم کی دعا (۳)۔۔۔ عادل حکمران کی دعا۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۱۱۲۱.)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔تین آدمیوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (۱)۔۔۔مظلوم کی دعا (۲)۔۔۔ مسافر کی دعا(۳)۔۔۔ اولاد کے حق میں والد کی دعا۔
    (ابن ماجہ کتاب الدعاء دعوۃ الوالد ودعوۃ المظلوم ح ۲۶۸۳.)

    خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ بادلوں پر اٹھائی جاتی ہیں تو اللہ فرماتا ہے میری عزت اور جلال کی قسم میں اس کی ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۰۷۸.)

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اللہ سے اس (بددعا) کا پردہ (رکاوٹ) نہیں۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۷۶۷.)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے، حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بلایا تو وہ آگئے لہٰذا اب اگر وہ اللہ سے سوال کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔
    (ابن ماجہ کتاب المناسک باب فضل دعاء الحاج ‘ح ۲۹۸۲.)

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ مشکلات اور تکلیف کے وقت اس کی دعا قبول کرے تو وہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کرے۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:۳۹۵.)
     
  10. ‏مئی 06، 2019 #240
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتی :

    رزق حرام کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی :
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیزوں کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کرتا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا ہے، چنانچہ فرمایا ۔
    (یٰآاَیُّہَاالرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِبَاتِ وَاعْمَلُوْاصَالِحاً)
    ’’اے رسولو‘پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔‘‘
    اور فرمایا:
    ( یٰآاَیُّہَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُلُوْامِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنٰکُمْ) (۲؍۷۳۱)
    ’’اے ایمان والو!اس پاک رزق سے جو ہم نے تمہیں دیاکھاؤ ۔‘‘
    پھرآپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے غبار آلود پراگندہ بالوں کے ساتھ آتا ہے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر دعا کر تا ہے ’’اے میرے رب ‘اے میرے رب اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا پینا اور پہننا حرام مال سے ہے ۔حرام مال سے ہی اس کی پرورش کی گئی ۔ایسے شخص کی دعا کیسے قبول کی جائے گی؟
    (مسلم کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب ح۵۱۰۱.)

    غافل دل کی دعا قبول نہیں ہوتی:
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کیا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ لا پرواہ اور غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔"
    (سنن ترمذی کتاب الدعوات۹۷۴۳.)

    برائی سے نہ روکنے والوں کی دعا قبول نہیں ہوتی:
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کرتے رہا کرو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کر ے گا۔پھر تم اس سے دعا کرو گے اور وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔
    (ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء فی الا مر بالمعروف والنھی عن المنکرح۹۶۱۲.)

    ٹیکس وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی:
    عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نصف رات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔ایک پکارنے والا پکار تا ہے کہ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے اسے عطا کیاجائے گا کیاکوئی پریشان حال ہے اس کی پریشانی دور کی جائی گی ۔مسلمان جو بھی دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ سوائے زانیہ کے جو اپنی کمائی کھاتی ہے ۔یا ٹیکس وصول کرنے والے کے۔
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:۳۷۰۱.)

    کسی کا نام لے کر دعا یا بددعا کرنا جائز ہے:
    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا خادم انس رضی اللہ عنہ ہے۔ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ یا اللہ انس کو کثرت سے مال اور اولاد دے اور جو کچھ دے اس میں برکت عطا فرما۔
    (بخاری کتاب الدعوات باب دعوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لخادمہ ح ۴۴۳۶مسلم۰۸۴۲.)

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مکہ کے مشرکین کے خلاف) بددعا کی۔ یا اللہ ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی طرح سات برس کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ اے اللہ ابو جہل کو ہلاک کر دے۔
    (بخاری۰۴۲۔۷۰۰۱.)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں