1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی آداب زندگی (سبیل المؤمنین)

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مارچ 15، 2019۔

  1. ‏مئی 06، 2019 #241
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بد دعا کی بجائے دعا کرنا:

    قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرورضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ دوس کے لوگوں نے اللہ کی نا فرمانی کی اور مسلمان ہونے سے انکار کیا پس ان کے لیے بددعا فرمایئے۔ صحابہ سمجھے کہ اب آپ ان کے لیے بدد عا فرمائیں گے ۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اے اللہ قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں میرے پاس لے آ۔"
    (بخاری کتاب الدعوات باب الدعا للمشکرین۔ ح ۷۹۳۶مسلم۴۲۵۲.)

    دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسمِ اعظم کا وسیلہ:
    ۱: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی رنج یامصیبت پیش آتی تو آپ کہتے۔
    ’’یَا حَیُّ یَا قَیُّوْم بِرَحْمَتِکَ اسْتَغِیْث‘‘
    (ترمذی کتاب الدعوات باب قول ’’یاحی یاقیوم ۔ح۔۴۲۵۳۔بخاری‘ کتاب الدعوات باب الدعا علی المشرکین ح۷۹۳۶.)
    ’’اے زندہ اور قائم رہنے والے اللہ میں تیری رحمت کے وسیلہ سے تیرے آگے فریاد کر تا ہوں۔‘‘
    ۲: نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاسے پہلے فرماتے تھے:
    ’’اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اِسْمٍ ہُوَ لَکَ‘‘
    (ترمذی.)
    ’’میں تجھ سے تیرے ہر نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں۔‘‘
    ۳: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا:
    ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْٓ اَسْاَلُکَ بِاَنِّیْٓ اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَٓااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْاحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ.‘‘
    ’’ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کے وسیلہ سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو اکیلا ہے‘ بے نیاز ہے‘ تیری کوئی اولاد نہیں اور نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرے برابر ہے۔‘‘
    یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا مانگی ہے ۔اسم اعظم کے وسیلہ سے جب بھی دعا مانگی جائے قبول کی جاتی ہے اور جب اللہ سے کوئی سوال کیا جائے تو پورا کیا جاتاہے۔
    (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی جامع الدعوات عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ ح۔ ۵۷۴۳.)
     
  2. ‏مئی 06، 2019 #242
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا:
    ’’اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدْ لَا اِلَہَ اِلَّا أنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ،المَنَّانْ،بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَ رضِ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ.‘‘
    ’’اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، احسان کرنے والا، آسمان اور زمین کو پیدا فرمانے والا، عزت و جلال والا۔‘‘
    تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اس نے اللہ کے اسم اعظم کا نام لے کر اللہ سے سوال کیا ہے ، اس کے نام کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے قبول کرتا ہے اور جب سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ۔"
    (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی۱۱۴۳، ابن ماجہ ۸۵۸۳.)

    زندہ بزرگوں سے دعا کروانا:
    ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری بینائی لوٹا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے بھی دعا کی:
    ’’اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اور اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے ذریعے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تا کہ میری حاجت پوری کی جائے۔ اے اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو سفارش کر رہے ہیں وہ قبول فرما۔ ‘‘
    (ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء الضیف۔ح۔۸۷۵۳.)
    مگر یاد رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا وسیلہ صرف آپ کی زندگی میں تھا۔ آپ کی وفات کے بعد دور عمر رضی اللہ عنہ میں قحط پڑا تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاعباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی اور خود بھی عرض کیا:
    ’’اے اللہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری طرف وسیلہ بناتے تھے اور تو بارش برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں۔ اے اللہ بارش بھیج۔‘‘ پھر بارش ہوئی۔ (بخاری ۰۱۰۱.)
    یہاں بلاشبہ دعا کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے اگر ذات کو وسیلہ بنایا جاتا تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی اور فرمایا اے بھائی ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔
    (ابو داؤد‘ ترمذی) ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔)​
     
  3. ‏مئی 06، 2019 #243
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نیک اعمال کا وسیلہ:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی سفر کر رہے تھے کہ بارش آگئی۔ وہ پہاڑ کے غار میں چھپ گئے۔ غار کے منہ پر ایک بڑا پتھر آگرا اور منہ بند ہو گیا۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ کوئی ایسا نیک عمل سو چو جو تم نے صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا ہو۔ اس کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرو۔ شاید یہ مشکل آسان ہو جائے۔ ان میں سے ایک نے کہا،اے اللہ میرے والدین زندہ تھے اور بوڑھے تھے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب شام کو واپس لوٹتا تو بکریاں دوہتا اور بچوں سے پہلے والدین کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن میں دیر سے آیا تو والدین سو چکے تھے میں حسب معمول دودھ لے کر ان کے پاس کھڑا ہوا۔ میں نے انہیں نیند سے بیدار کرنا بھی پسند نہ کیا اور بچوں کو ان سے پہلے پلا دینا بھی مجھے اچھا نہ لگا حالانکہ بچے میرے قدموں کے پاس شور کر رہے تھے۔(میں والدین کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا) حتی کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا کے لیے کیا تھا۔ تو اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے پتھر کچھ ہٹا دیا تاکہ انہیں آسمان نظر آسکے۔
    دوسرے نے کہا اے اللہ میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے میں اتنی زیادہ محبت کرتا تھا جتنی کوئی بھی آدمی کسی عورت سے کر سکتا ہے۔ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا لیکن وہ آمادہ نہ ہوئی اور اس نے انکار کر دیا حتی کہ ایک وقت آیا کہ قحط سالی نے اسے میرے پاس آنے پر مجبور کر دیا میں نے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دئیے کہ وہ میرے ساتھ خلوت اختیار کرے وہ آمادہ ہو گئی۔ جب میں صحبت کرنے لگا تو اس نے کہا اللہ کے بندے اللہ سے ڈر اور لگی ہوئی مہر کو نہ توڑ۔ میں اس سے دور ہو گیا اور میں نے سونے کے وہ دینار بھی چھوڑ دئیے جو میں نے اسے دئیے تھے۔ اے اللہ اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس مشکل کو آسان فرما دے۔ چٹان تھوڑی سی اور ہٹ گئی۔
    تیسرے نے کہا اے اللہ میں نے ایک مزدور کام پر لگایا۔جب وہ کام ختم کر چکا تو اس نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا۔ میں نے مزدوری اس کے سامنے رکھدی لیکن وہ مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ میں اس کی رقم کے ساتھ برابر کاشتکاری کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس سے گائے خرید لی اور ایک چرواہا رکھ لیا۔ مدتوں بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ اللہ سے ڈر ۔ مجھ پر ظلم نہ کر اور مجھے میری مزدوری دے۔ میں نے کہا ان گایوں اور چرواہے کی طرف جاؤ یہ سب تمہارا مال ہے۔ اس نے کہا اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر ۔ میں نے کہا۔ میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کرتا بلکہ اپنی گائیں اور چرواہا لے جاؤ ۔ وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ یا اللہ تو جانتا ہے اگر میں نے محض تیری رضا کے لیے ایسا کیا ہے تو یہ بند راستہ کھول دے۔ اللہ تعالیٰ نے غار کے منہ سے پتھر ہٹا دیا۔
    (بخاری کتاب الذکر والدعاء باب حدیث الغار ح۵۶۴۳ مسلم کتاب الرقاق باب قصۃ اصحاب الغار الثلاثۃ والتوسل بصالح الاعمال ۔ ح ۳۴۷۲.)​
     
  4. ‏مئی 06، 2019 #244
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دعا میں ممنوع چیزوں کا بیان
    غیر اللہ سے دعا مانگنا سب سے بڑی گمراہی ہے:
    (وَمَنْ اَضَّلُّ مِمَّنْ یَّدْ عُوْامِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاءِ ہِمْ غٰفِلُوْنَ) (احقاف :۶۴/۵)
    ’’اور اس شخص سے زیادہ گمراہ اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ ان کی پکار ہی سے بے خبر ہیں۔‘‘
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ دعا میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو شریک کرتا تھا آگ میں داخل ہو گا۔
    (بخاری کتاب الایمان والنذور باب اذا قال: واللّٰہ لا أتکلم الیوم۔ ح۔ ۳۸۶۶ مسلم۲۹.)

    دعا میں پر تکلف الفاظ کی ممانعت:
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    ’’ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کیا کرو۔ اس سے زیادہ چاہو تو دو بار اور اگر اس سے بھی زیادہ چاہو تو تین بار۔ لیکن لوگوں کو قرآن سے نہ اکتاؤ۔ ایسا بھی نہ کرو کہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوں اور تم انہیں جا کر وعظ کرنے لگو۔ ان کی باتوں کا سلسلہ منقطع کر کے انہیں قرآن سے دور نہ کرو بلکہ خاموش رہو جب وہ درخواست کریں تو اس وقت تک انہیں وعظ کرو جب تک وہ خواہش رکھیں۔ اور دیکھو دعا میں پر تکلف الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کرو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو اس سے ہمیشہ پرہیز کرتے دیکھا ہے۔‘‘
    (بخاری کتاب الدعوات باب ما یکرہ من السجع فی الدعاء ح ۷۳۳۶.)

    دعا میں حد سے تجاوز کرنا:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پانی کے استعمال میں اور دعا کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے۔
    (ابوداؤد الطہار باب الاسراف فی الوضوء۔ح۔۶۹۔ حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے۔)

    سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا اللہ میں تجھ سے جنت میں داخل ہوتے ہوئے جنت کے دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا۔ اے میرے بیٹے ۔ اللہ سے صرف جنت کا سوال کر اور آگ سے اللہ کی پناہ مانگ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا کر نے میں زیادتی سے کام لیں گے۔
    (ابن ماجہ کتاب الدعاء باب کراھیۃ الا عتداء فی الدعاء ح ۴۶۸۳.)​
     
  5. ‏مئی 06، 2019 #245
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دنیا میں گناہوں کی سزا پانے کی دعا کرنے کی ممانعت:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی عیادت کی جو بیماری کی وجہ سے چوزے کی طرح ہو گیا تھا۔آپ نے پوچھا کیا تم اللہ سے کو ئی خاص دعا یا سوال کرتے تھے۔اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کہا کرتا تھا:
    یا اللہ جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا ہے وہ دنیا میں دے دے۔ (تاکہ آخرت کے عذاب سے بچ جاؤں)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سبحان اللہ۔ تجھ میں اتنی طاقت کہا۔ تم نے یوں کیوں نہ کہا۔"
    ’’اَللّٰہُمَّ اٰتِنَافِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَاعَذَابَ النَّارِ‘‘
    ’’اے اللہ مجھے دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
    (مسلم کتاب الذکر والدعاء باب کراھۃ الدعا بتعجیل العقوبۃ فی الدنیا ۸۸۶۲)
     
  6. ‏مئی 06، 2019 #246
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اپنے مال اور اولاد کے لیے بددعا کی ممانعت:
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جانوں، اپنی اولاد، اپنے خادم اور اپنے مال کے لیے بد دعا نہ کرو، (ایسانہ ہو ) کہ تمہاری زبان سے ایسے وقت میں بددعا نکلے جس میں دعا قبول کی جاتی ہے اور تمہاری دعا قبول ہو جائے۔
    (بخاری ۱۵۳۶، مسلم کتاب الذکر والدعاء باب کراھۃ تمنی الموت ح ۰۸۶۲.)

    موت کی دعا کی ممانعت:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تم میں سے کوئی کسی مصیبت کے آنے کی وجہ سے موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر موت کی آرزو کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو یوں کہے۔
    ’’اَللّٰہُمَّ اَحْیِیْنِیْ مَاکَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْراً لِیْ وَ تَوَ فِّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَا ۃُ خَیْراً لِیْ.‘‘
    ’’ اے اللہ مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور مجھے دنیا سے اٹھالے جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔
    (ابو داؤد‘ باب النھی ان یدعو الانسان علی اھلہ وما لہ۔ ح۔ ۲۳۵۱.)​
     
  7. ‏مئی 06، 2019 #247
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مسنون دعا کے الفاظ میں رد و بدل درست نہیں ہے:
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب تم بستر پر آؤ تو نماز کی طرح وضو کرو پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور یہ دعا پڑھو۔
    ’’اَللّٰہُمَّ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ اِلَیْکَ وَفَوَّ ضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَاَ لْجَاْتُ ظَہْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَ ہْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَاوَلَا مَنْجَاَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ۔اَللّٰہُمَّ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ‘‘
    ’’اے اللہ میں نے اپنا چہرہ تیرے آگے جھکا دیا۔ اپنے معاملات تیرے سپرد کیے اور تیرا سہارا لے لیا حصول ثواب کے شوق اور عذاب کے ڈر کی بنا پر۔ تیرے سوا میرا کوئی جائے پناہ اور ٹھکانا نہیں ہے ۔ اے اللہ میں تیری نازل کردہ کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا ۔‘‘
    اگر تم اس رات مر گئے تو فطرت پر مرو گے پس (روزانہ سوتے وقت) اس دعا کو اپنا آخری کلام بناؤ۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دعا (یاد کرنے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی اور نَبِیِّک کی جگہ وَرَسُوْلِکَ کہہ دیا آپ نے فرمایا نہیں (بلکہ کہو) نَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔
    (بخاری کتاب الوضوء باب فضل من بات علی الوضوء۔۔ح۔۷۴۲.)

    آہستہ آواز سے ذکر کرنا افضل ہے:
    ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے(راستہ میں) صحابہ ایک وادی میں پہنچے اور بہت بلند آواز سے کہنے لگے اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی بہرے کو یا کسی ایسے شخص کو نہیں پکار رہے ہو جو تم سے دور ہو ۔وہ سب سے زیادہ سننے والا اور تمہارے بہت نزدیک ہے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔
    (بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر ۔ح۔۵۰۲۴۔ مسلم :‘کتاب الذکر والدعا ء باب استحباب خفض الصوت بالذکر ۔ح۔۴۰۷۲.)​
     
  8. ‏مئی 06، 2019 #248
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    توبہ کی اہمیت

    جب انسان اپنے گناہوں پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے یہ پکا عزم کرے کہ پھر یہ گناہ نہیں کرے گا اور وہ اپنے پچھلے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔
    جو حرام کام کا ارتکاب کربیٹھے:
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿١٣٤﴾ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿١٣٥﴾ أُولَـٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ﴿١٣٦﴾ (آل عمران)
    ’’وہ لوگ جو کوئی برا کام کربیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیتے ہیں تو(فوراً) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اوراللہ کے سواکون گناہوں کو بخش سکتا ہے۔ اور اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے(بار بار وہ گناہ نہیں کرتے) جب کہ وہ جانتے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور نیکی کرنے والوں کا کیا اچھا اجر ہے۔‘‘
    ابوذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نصیحت کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’جب تم کوئی برائی کرو تو اس کے بعد کوئی نیکی کرو جو اسے مٹا دے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ’’لا الہ ا لا اللہ ‘‘کہنا بھی نیکی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو افضل نیکی ہے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:۳۷۳۱.)
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس شخص نے لات و عزّٰی کی قسم اٹھائی تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً کہے لاالٰہ الا اللّٰہ اور جس نے اپنے ساتھی سے کہاآؤ جو ا کھیلیں تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے۔"
    (بخاری کتاب التفسیر‘ تفسر سورۃ النجم۔ح۔۰۶۸۴۔ مسلم کتاب الأیمان باب من حلف باللات والعزیٰ۔ح۔۷۴۶۱.)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’بے شک اللہ تعالیٰ رات کو ہاتھ دراز کرتا ہے تاکہ دن کو برائی کا ارتکاب کرنے والا توبہ کرلے‘ اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والاتوبہ کر لے۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔‘‘ (مسلم کتاب التوبۃ باب غیرۃ اللّٰہ تعالٰی ۔ح۔۹۵۷۲.)
    جہینہ قبیلے کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ارتکابِ زنا سے حاملہ تھی۔ اس نے کہا:
    ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے حد والے گناہ کا ارتکاب ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد قائم فرما دیجیے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے وارث کو بلایا اور فرمایا:
    ’’اس کو اچھے طریقے سے اپنے پاس رکھو۔جب یہ بچہ جن لے تو اس کو لے آنا۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ بچہ جننے کے بعد اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ
    ’’کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدکاری کرنے والی عورت پر نمازِ جنازہ پڑھائیں گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہلِ مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کو بھی معافی مل جائے۔کیا اس سے بھی افضل کوئی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس نے اپنی جان تک قربان کر دی۔‘‘
    (مسلم کتاب الحدود با ب من اعترف علی نفسہ بالزنی ۔ح۔۶۹۶۱.)
     
  9. ‏مئی 06، 2019 #249
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ناجائز محصول لینا سخت گناہ ہے :

    جب لوگ زنا کی حد پانے والی عورت کو سنگسار کر رہے تھے تو خالد رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر پتھر مارا۔ خون اڑ کر خالد رضی اللہ عنہ کے منہ پر گرا۔ خالد نے اسے برا بھلا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا اے خالد‘خبردار اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ناجائز محصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کا گناہ بھی معاف ہو جاتا۔
    (مسلم کتاب الحدود ۔ح۔۶۹۶۱.)

    نیکیوں سے گناہ ختم ہونے کا بیان:
    ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لیا۔ پھر وہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے گناہ کا اقرار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔
    وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ ﴿١١٤﴾ (ھود)
    ’’اور تم دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو۔ بیشک نیک کام برے کاموں کو مٹا دیتے ہیں۔‘‘
    اس شخص نے عرض کیا:
    ’’اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے۔‘‘
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’نہیں بلکہ میری تمام امت کے لیے ہے۔‘‘
    (بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب الصلاۃ کفارۃ ۔ح۔۶۲۵.)

    گناہ کے بعد توبہ کرنے کا اجر:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب کوئی بندہ گناہ کرنے کے بعد کہتا ہے ’’اے اللہ! میرا گناہ بخش دے۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    ’’میرے بندے نے گناہ کیا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑتا ہے اور گناہ بخشتا بھی ہے۔ میں نے اسے معاف کر دیا۔‘‘
    بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’اے میرے رب ! میرا گناہ معاف فرما دے۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میرے بندے نے گناہ کیا۔ اسے علم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتاہے۔میں نے اسے معاف کردیا۔‘‘
    بندہ تیسری بار گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’اے میرے رب ! میرا گناہ معاف فرمادے ۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میرے بندے نے گناہ کیا۔وہ جانتاہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اورگناہ پر پکڑتا ہے۔ یقیناًمیں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔بس جو چاہے کرے (یعنی جب تک گناہ کرکے توبہ کرتا رہے گا میں بخشتا رہوں گا۔)
    (بخاری کتاب التوحید باب قول اللّٰہ تعالٰی (یریدون ان یبدلوا کلام اللّٰہ) ح۔۷۰۵۷۔ مسلم کتاب التوبۃ باب قبول التوبۃ من الذنوب۔ح۔۸۵۷۲.)
    معلوم ہوا کہ عذاب ان باغیوں اور سرکشوں کے لیے ہے جنہیں اللہ کی پکڑ کا ڈر ہی نہیں اور نہ ہی وہ توبہ کرتے ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ کی قسم! اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم کر کے ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی اور اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتی اور وہ انہیں بخشتا۔‘‘
    (مسلم کتاب التوبۃ باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبۃ۔ح۔۸۴۷۲.)
    معلوم ہوا کہ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو گناہ کر کے اس پر اڑتے نہیں بلکہ توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں۔ اس حدیث کا اصل مقصد توبہ و استغفار کی اہمیت واضح کرنا ہے۔
    ****
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں