1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش

'پی ڈی ایف' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏فروری 21، 2016۔

  1. ‏فروری 21، 2016 #1
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,178
    موصول شکریہ جات:
    9,941
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    کتاب کا نام
    اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش
    مصنف​
    پروفیسر یوسف سلیم چشتی
    ناشر
    انجمن خدام القرآن، لاہور
    [​IMG]
    تبصرہ
    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوبِ عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کو رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش‘‘ پروفیسر یوسف سلیم چشتی﷫ کی کتاب ’’تاریخ تصوف‘‘ کا ایک باب ہے ۔اس کی اہمیت کے پیش نظر جناب ڈاکٹر اسرار ﷫ نے اسےپہلے ماہنامہ ’’میثاق میں شائع کیا جسے میثاق کےقارئین اور دوسرے علمی ومذہبی حلقوں میں نہایت پسند کیاگیاپھر ان کے اصر ار پر اس کو کتابی میں شائع کیا گیا۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں ان عناصر اور عوامل کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سےاسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد ونظریات کی آمیزش ہوگئی تھی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ نفس تصوف سے ہی بدظن ہوگیا۔ دوسر ی طرف خودیہ غیر اسلامی تصوف اپنی ساری افادیت کھو بیٹھا ۔وہ خانقاہیں جہاں مسلمانوں کو الہ پرستی کا درس جاتا تھا وہ شخصیت پرستی اور قبر پرستی کامرکز بن گئیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول ﷺ کے جلوے نظر آتے تھے وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور شرک وبدعت کا مرجع بن گئی ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں