1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی تہذیب اور ’’ٹشو پیپر‘‘تہذیب

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏ستمبر 14، 2013۔

  1. ‏ستمبر 14، 2013 #1
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    بسم اللہ ارحمٰن الرحیم
    اسلامی تہذیب اور ''ٹشو پیپر''تہذیب
    منفعت ایک ہے اس قوم کی ، نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک​
    مشرق و مغرب سے ایک نعرہ بلند ہوتا ہےکہ اسلام نے عورت کو چادر اور چار دیواری میں مقید کردیا ہے۔کاش کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اپنے اس نعرے سے پہلے اپنی چادر سے باہر اور چار دیواری کے اندر کی کھوکلی زندگی کے حالات سے دنیا کوآگاہ کردیتےتوماتم کرتی سسکتی بلکتی انسانیت سامنے آجاتی۔انہوں نے آسمانوں میں تو کمندے ڈال دیں مگر انسانیت کو وہیں پہنچا دیا جہاں آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھی۔اسلام کے دامن عفت کو داغ دار کرنے والی اس ٹشو پیپر اور گوشت فروش نام نہاد مہذب قوم کواپنی چادر پر لگے لا تعداد خون کے دھبے نظر نہیں آتے کہ کس طرح مہذب اور محترم نسوانیت کے ساتھ کھلواڑ کیا،نسوانیت کو نمائش میں تبدیل کردیا۔وہ مقدس نسوانیت جو کبھی ''حوا''ہوتی ہےتو کبھی ''مریم'' کبھی'' ماں'' ہوتی ہےتو کبھی'' بیٹی ''کبھی ''بہن'' ہوتی ہے تو کبھی''بہو''۔مگر آج کچھ نہیں صرف تفریح کا سامان مردوں کے ہاتھوں ناچنے والی کٹھ پتلی بنادیا۔یہ وہی بہن اور بیٹی ہےجس کے گوشت کوپردہ فحاشی پر تھرکتا ہوا اوربن بیاہوں کے ہاتھوں لپکتا ہوا دیکھ کر باپ اور بھائی فرط خوشی میں ہتھیلیاں بجاتے ہیںاور منچلے انہی کے سامنے سیٹیاں بجاتے ہیں، سر عام ان بہن بیٹیوں کا سودا ہوتا ہے لیکن ماں باپ اور بھائی پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان کا بینک بیلنس موٹا ہوتا ہے۔یہ ہے مہذب تہذیب کی چادر سے باہر اور چار دیواری کے اندر کی زندگی۔
    جاری ہے ۔۔۔۔
     
  2. ‏ستمبر 14، 2013 #2
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    ایک طرف اسلام ہے جو ماں باپ ،برادر اور شوہر کو پابند کرتا ہے کہ دیکھو یہ عورت ہے اس کو سنبھال کر رکھنا اس میں خاندان کی اور تمہاری عزت ہے، اس کے اخراجات برداشت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔یہ ایک پھول ہے اس کی پنکھڑیاں بہت نازک ہیں جلد ٹوٹ جاتی اور کمھلا جاتی ہیں اگر اس کی خوشبو لینی ہے تو باہر کی تپش سے اس کی حفاظت کرنی ہے۔اس کے کچھ حقوق ہیں ان کو نبھانا مرد کی ذمہ داری ہے۔غرض کہ اسلام نے عورت کو کھلونا نہ بنا کر انسانیت کا مہذب نمونہ بنایا ہے۔بستروں کی زینت نہ بنا کر ایمان کی زینت بنایا ہے۔ہوٹلوں اور کلبوں اور دوکانوں کی نمائش نہ بنا کر گھر کے باغیچہ کو خوشنما بنایا ہے۔اس کو زندہ درگور ہونے سے بچا کر فطری حیات بخشی ہے۔بچیوں کی بلکتی سسکتی آواز کو چہکتے اور مسکراتے ساز میںتبدیل کردیا ہے۔یہ ہے''ٹشو پیپر تہذیب'' اور'' اسلامی تہذیب ''کا فرق۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس مغربی''ٹشو پیپر تہذیب'' نے نسوانیت کو چادر سے باہر کیوں کیا؟!۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔
     
  3. ‏ستمبر 14، 2013 #3
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    اٹھارویں صدی کے اواخر کی بات ہے کہ جب صنعتی انقلاب نے انسانیت کے عنوان کو بدل دیا اور پر سکون زندگی کو قصہ پارینہ بنا دیا ، بھاگ دوڑ والی زندگی جونک کی طرح چمٹ گئی ۔جہاں تہاں فیکٹریاں کارخانے لگ گئے اور جوں جوں ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا کام کرنے والے مردوں قلت ہونے لگی اب ان سرمایہ داروں نے اپنی اوراپنی فیکٹریوں کی بقا وتحفظ کے لئے عوتوں کو چادر اور چار دیواری سے باہر کھینچ لانے کے لئے باقاعدہ منصوبے بنانے شروع کردئے ،'' مردو زن کےمساوی حقوق'' ''آزادی نسواں'' کے نعرے لگائے گئے اور'' حقوق نسواں''اور'' تنظیم وومن رائٹس''وغیرہ نام سے تنظیمیں وجود میں آئیں، غرض کہ عورتوں کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر فیکٹریوں ،کارخانوں،دفتروں،ہوٹلوں،کلبوں، کی چار دیواری میں منتقل کردیا گیا ،ان کی چادریں ،شلوار قمیص اترواکر ٹائٹ پینٹ شرٹ میں پھنسا کر عورت کو آزادی دلوادی اور نسوانیت کو پھانسی دلوادی۔جسم مالدار ہوگئے اور انسانیت غریب ہوگئی۔ اللہ اللہ خیر سلاّ۔اسلام کو شدت پسند قرار دیدیا اور خودجدت پسند ہوگئے۔
    انسانیت کا پہیا پٹری سے اتر گیا اور مادی تہذیب کا پہیا پٹری پر چڑھ گیا اور گھروں میں دولت کی بارش ہونے لگی اس لئے کہ پہلے ایک کمائی تھی اب دو یا تین کی کمائی گھر میں آنے لگی اوپر کی آمدنی نے تڑکے کا کام کیا ۔اس طرح دولت کا راج کیا ہوا شیطانیت کا رواج ہوا ۔مردوں وزن کا آزادانہ اختلاط رائج ہوا ،جس کے نتیجہ میں شرافت کا اخراج ہوا۔کیسا مذہب کیسا اسلام اپنوں اور غیروں نے مل کر کیا بدنام۔''کرلودنیا مٹھی میں'' یہ نعرہ کیا بلند ہوا عورت نے اپنے جسم کو بے لگام کردیا۔''ابھی کی بات ہے دوامریکی خاتوں ٹیچر نے خود کو مادر زاد برہنا ہوکر بچوں کو تعلیم دی کلاس میں'' (تکبیر:۱۹؍دسمبر ۱۹۹۶)اس سے بھی بڑا بے شرمی کا واقعہ تب منظر نما ہوا کہ جب'' موسولینی'' کی پوتی نے اسمبلی کی ممبر شپ کے لئے اپنے تن کو کپڑوں کی بندشوں سے آزاد کرکے بالکل مادر زاد برہنہ ہوکرووٹ مانگنے کے لئے حاضرین سے خطاب کیا(مجلہ الدعوۃ ستمبر ۱۹۹۵ء)اور لیجئے فرانس کے صد''ر شیراک ''کی بیٹی '' کلاڈ'' کاحال بھی ملاحظ فرمالیں کہ ان کے یہاں بن بیاہے، بچی کی ولادت ہوئی ، کسی نے''کلاڈ'' سے جب بچی کے باپ کا نام معلوم کرنا چاہا تو اس نے بتانے سے انکار کردیااور کلاڈ کے والد شیراک پر اس واقعہ کا کچھ بھی اثر نہ ہوا ماتھے پر شکن تک نہ آئی(تکبیر :۶؍ستمبر ۱۹۹۷ء)غرض کہ اس طرح کے متعدد واقعات شاہی گھرانوں سے وابستہ ہیں جو آئے دن اخبار ات کی زینت بنتے ہیں مجال ہے اس طرح کے واقعات پر شاہی محل میں کوئی ہل چل ہوتی ہو ۔ہل چل مچتی ہے تو اسلامی مداخلت پر مچتی ہے کہ اسلام اس طرح کے چلن کو کیوں قبول نہیں کرتا۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏ستمبر 14، 2013 #4
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    زناکاری اور فحاسیت کی شرح فیصد:
    تاریخ گواہ ہے کہ جب جب اور جہاں جہاںاب تک اس دنیا پر اسلامی قوانین نافذ رہے عزت و آبرو محفوظ تھی اور ہے۔لیکن جیسے جیسے اور جہاں جہاں اسلامی قوانین کی گرفت کمزور پڑتی گئی شیطانیے زور پکڑتی گئی نسوانیت اور انسانیت ختم ہوتی گئی ،انسانیت کا جسم تو باقی رہا لیکن روح ختم ہوتی ہوگئی ۔بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ انسانیت میں شیطانیت حلول کرگئی۔ شیطانیت زدہ ترقی یافتہ اور اخلاق باختہ ممالک کی زناکاری اور فحاشی کی شرح فیصد ملاحظ فرمائیں تو معلوم ہوگا اتنی زیادہ ہے کہ جس پر شیطانیت شرماجائے اور حیوانیت حیران ہوجائے کہ یہ وہی آدم (علیہ السلام )کی اولاد ہے جس کی تعظیم میں فرشتے بھی سر بسجود ہوگئے تھےاورشیطان تنہا رہ گیا تھااور آج حال یہ کہ شیطان کثرت میںہے اور آدم(انسان) تنہا ہے۔نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق ان ترقی یافتہ ممالک میں بن بیاہی ماؤں کی شرح فیصد ا سّی سے نوے فیصد ہےایک سروے کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ۵۱؍فیصد لڑکیوں نے تسلیم کیا کہ وہ کنواری نہیں رہی۔(نوائے وقت ،۲۶ ؍جون ۱۹۹۷ء؁) یہی حال دیگر تعلیمی اداروں کی ان طالبات کا ہے جو ،۸۰؍فیصد سے ۸۶؍فیصد تک اپنی گوہر عصمت عفت کا گنواں چکی ہیں اور ان میں سے %۳۳ لڑکیوں کی وہ تعداد ہے جو یا تو اسقاط حمل کراچکی ہوتی ہیں یا شادی سے قبل ہی مائیں بن جاتی ہیں
    ( شادی کے مسائل:ص۱۵ بحوالہAl-Juma Monthly Madison (u.s.a) 20 Oct 1997)
    پروفیسر ثریا بتول کے مطابق:
    (مغرب میں) اسقاط حمل جائز قرار پانے کے باوجود ناجائز اور غیر قانونی بچوں کی کثرت ہو رہی ہے، مغربی بچوں کی کم از کم 30% تعداد غیر قانونی بچوں کی ہے اور یہ بچے تنہا عورت یعنی کنواری ماں کا درد سر بنے ہوئے ہیں، یہی صورت حال فرانس میں ہے کہ اس کا ہر پانچواں بچہ ناجائز ہے، جبکہ برطانیہ میں ہر چوتھا بچہ غیر قانونی ہے، اب ناجائز اور جائز بچوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا، بلکہ ایسے قوانین بنا دیے گئے ہیں کہ کنواری ماؤں کو پورا تحفظ حاصل ہو۔
    (News week, New York, April, 16, 1984)
    'ڈنور'' کی عدالت برائے جرائم اطفال کا جج ''بن لنڈسے'' (Ben Lendsey) اپنی کتاب "Revolt of Modern Youth" میں لکھتا ہے:
    ہائی سکول کی کم عمر والی چار سو پچانوے لڑکیوں نے خود میرے سامنے اقرار کیا کہ ان کو لڑکوں کے ساتھ منفی تعلقات کا تجربہ ہو چکا ہے اور ان میں صرف پچیس ایسی ہیں جن کو حمل ٹھہر گیا تھا(Lexicon Universal Encyclopedia, Lexicon Publication New York, 1987, P:201)
    امریکی لڑکیاں فرانسیسی لڑکیوں کے مقابلے میں دگنا زیادہ تعداد میں ایک بچے کی ماں ہیں، جب کہ یہ ایک مرتبہ اسقاط حمل کرا چکی ہیں، ۷۰؍گنا زیادہ لڑکیاں سوزاک کا شکار ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ جرمنی کے ٹین ایجزز کے مقابلے میں ۵ ؍گنا زیادہ امریکی ٹین ایجرز '' ایڈز '' کا شکار ہوتے ہیں۔
    ( نظام عفت و عصمت، ص:۳۴۰)
    جنگ عظیم سے پہلےموسیو بیولو فرانس کے اٹارنی جنرل نے اپنی رپورٹ میں ان عورتوں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی تھی جو اپنے جسم کو کرائے پر چلاتی ہیں،اس پیشہ میںفن اشتہار سے پورا کام لیا جاتا ہے۔ (اسلام کا نظام عفت وعصمت ص:۵۶)
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏ستمبر 14، 2013 #5
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    اسلام سے پہلے عورت کی حالت پر مولانا حالیؒ فرماتے ہیں:
    جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
    تو خوف شماتت سے بے رحم مادر
    پھر سے دیکھتی جب تھی شوہر کے تیور
    کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر
    وہ گود اپنی نفرت سے کرتی تھی خالی
    جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی
    بہرحال یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے اس'' ٹشو پیپر تہذیب'' کی یہ ایک ایسی گندگی ہے اس کو جتنا کریدا جائے گا اتنی ہی بد بو پھیلے گی،گندگی تو گندگی ہے یہ ٹشو پیپر سے چُھپ تو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہوسکتی۔آئیے ایک نظر اسلامی تہذب اور طرز معاشرت پر بھی ڈالتے ہیںکہ اسلام کا چادر اور چاردیواری کااصول صحیح ہے یا مغرب کا چادر اور چاردیواری سے باہر کا اصول ۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
     
  6. ‏ستمبر 14، 2013 #6
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    معلوم رہنا چاہئے کہ اسلام سلامتی اور امن کا پرچارک ہے شانتی پسند ہے شانتی بھنگ نہیں کرتا۔جیو اور جینے دو کےاصول پر کاربند رہنے کی تعلیم دیتا ہے،اُنسیت انسانیت اور نسوانیت کوتحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام انسانیت کو تڑپاتا نہیں بلکہ انسانیت کے لئے تڑپتا ہےانسانیت کا ہمدرداور ہمدم ہے ،انسانیت اور نسوانیت اسلام کے دامن امن اخوت میں آکر محفوظ ہوجاتی ہے۔اسلام آج سے نہیں اسلام جب سے ہے جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا۔اسلام انسانیت کے لئے ایسے وقت میںابر رحمت بن کر آیا جب پوری انسانیت مختلف مسائل اور مصائب سے کراہ رہی تھی اور ذہنی کرب و اذیت سے دو چار تھی۔ اسلام سسکتی ہوئی انسانیت کے لیے سب سے بہترین نظام حیات اور دین رحمت کے طور پر تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏ستمبر 14، 2013 #7
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    اس بات سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت معاشرے کا ایک ایسا ناگزیر عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کوئی بھی تہذیب عورت کے بغیر نامکمل اور ادھوری ہے ، انسان کی سماجی تہذیبی اور تمدنی اصلاح و بقا کا انحصار تقریباً اسی نوع انسانی کی حیثیت پر ہے۔ عورت کو صرف عورت نہ سمجھا جائے بلکہ یہ انسانیت کی پہلی درسگاہ ہے ۔اسلام نے عورت کی روایتی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عملی طور پر عورت کو معاشرے میں حقیقی حیثیت سے اس کی قدرومنزلت اور اہمیت میں حیران کن اضافہ کیا۔ چنانچہ عورت کو ماں کی حیثیت سے باپ کی نسبت تین گناہ زیادہ فضیلت سے نوازا گیا۔ ماں کے خدمت گار کو جنت کا مستحق قرار دیا گیا، بیٹی کو نہ صرف باعث رحمت قرار دیا گیا بلکہ اُس کی صحیح تربیت کرنے والے کو پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنا قرب عطا کیا گیا، شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس اور جسم کی سی مشابہت دے کر دونوں میں محبت اور مؤدت کے ذرائع پیدا کئے۔ اسلام نے عورت کو صرف امور خانہ کو انجام دینے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس صنف نازک کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہےعورت کی حیثیت، اس کا کردار و عمل اور اس کی حیات بخش صلاحیتیں معاشرے کے عروج و زوال کا سامان ہیں۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
     
  8. ‏ستمبر 14، 2013 #8
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کو انسانی معاشرے نے اُس کا صحیح حق نہیں دیا بلکہ اس کا استحصال ہی کیا اور اس کو جانوروں کی طرح استعمال کیا جیسا کہ ایک زمانے میں امریکہ میں عورتیں خریدی جاتی تھیں اور پھر ان کا استعمال جانوروں کی طرح سے ہوتا تھا۔ یورپ کے مرد نے جو عورت کو آزادی دی، وہ بظاہر آزادی تھی، لیکن حقیقی آزادی نہ تھی، اس آزادی و مساوات کا محض یہ مطلب تھا کہ مرد عورتوں سے ہر جگہ خدمت لیں، نوکریاں کروائیں اور بھاری بوجھ اُٹھوائیں اور مردوں کی عیاشی کا آسانی سے شکار بن سکیں۔ اور یہی حال کم وبیش روس کا ہے ،روس مغربی ممالک میں عورتوں کو ملازمتیں دینے والا یا اُن سے کام کروانے والا سب سے بڑا ملک ہے، وہاں اب عورت دوہرے مسائل کا شکار ہے، پہلے صرف گھر کی ذمہ داری اس کے سپرد تھی اب کسب معاش بھی اس کے کھاتہ میں آ گئی۔ صرف اسلام ہی ایک ایسے نظام حیات کے طور پر سامنے آیا ، جس نے اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دی اور عورت کا اس جائز حق اور جائز مقام دیا۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏ستمبر 14، 2013 #9
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    اسلام بے حیائی کو پسند نہیں کرتا:
    شرم وحیاء کا شمار ان بلند اخلاق میں ہوتا ہے جو انسان کو بداخلاق بد کردگا ر ،بد گفتار، بری باتوں، اور برے اعمال سےروکتا ہے۔شرم و حیاء عورت کا قدرتی زیور ہے،شرم و حیاء ہی کی بنیادپر انسان کی زبان سے اچھی باتیں اور اس کے اعضاء سے اچھے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ جس میں شرم و حیاء نہیں اس میں نسوانیت نہیں۔
    حدیث شریف میں ہے:
    حضرت عمران بن حصینؓ سے مروی ہے: فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''الحياء خيرٌ كلّه ''حیاء مکمل طور پرخیر ہے (صحیح مسلم :۳۷)
    حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إنَّ الحياء والإيمان قرنا جميعًا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر
    ( مشكوٰة المصابيح: صحيح علي شرط الشَّيخين)
    ترجمہ:حیاء اور ایمان باہم پیوست ہیں جب ان میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی جاتا رہتا ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
    الإيمان بضع وسبعون شعبة . والحياء شعبة من الإيمان
    (رواه مسلم:۳۵)
    ترجمہ: ایمان کے ستر اور کچھ زیادہ شعبے ہیں، اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے
    جو اقوال اور اعمال حیاء پر مبنی ہوتے ہیں تو ان اقوال اور اعمال میں حیاء زیب وزینت اور حسن وجمال کا کام کرتی ہے اور ایسے اقوال افعال اور اعمال پر تأثیر ہوجاتے ہیں،اورجب اقوال واعمال حیاء سے خالی ہوجاتے ہیں تو ان میں تأثیر ختم ہوجاتی ہے تو وہ معیوب ہوجاتے ہیں اور عیب وقباحت اس میں شامل ہوجاتی ہے۔
    حیاء ہر بھلائی کی کنجی ہے، اور فحش ہر شر کی کنجی ہے ۔
    حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ما كان الفحش في شيء إلا شانه، وما كان الحياء في شيء إلا زانه
    (الترغيب والترہیب:۲۶۳۵)
    جس چیز میں فحش ہووہ اس چیز کو عیب دار کردیتی ہے اور جس چیز میں حیاء ہو وہ اسے سنوار دیتی ہے۔
    حیاء خلق اسلام ہے:
    بیشک شرم وحیاء افضل ترین ، قابل احترام اورایک کثیرالفوائد عادت ہے۔(مختصراختصار،مفتاح دارالسعادۃ)
    حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:إنَّ لكلِّ دينٍ خلقًا وخلق الإسلام الحياء(رواه ابن ماجه:الرقم ۳۳۸۹ )
    ترجمہ: ہر دین کے اخلاق ہوتے ہیں، اسلام کے اخلاق شرم وحیاء ہیں۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
     
  10. ‏ستمبر 14، 2013 #10
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    گزشتہ سے پیوستہ:
    حیاء جنت کی جانب رہنمائی کرتی ہے:
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہےوہ فرماتے ہیں،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    الحياء من الإيمان، والإيمان في الجنَّة، والبذاء من الجفاء، والجفاء في النَّار (رواه التِّرمذي وابن ماجه)
    حیاء ایمان کا حصہ ہے، اور ایمان جنت میں پہنچاتا ہے، اور بدکلامی سنگدلی ہے اور سنگدلی جہنم میں پہنچاتی ہے۔
    شرم وحیاء کےروشن پہلو:
    عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة فقالت أم سلمة فكيف يصنعن النساء بذيولهن قال يرخين شبرا فقالت إذا تنكشف أقدامهن قال فيرخينه ذراعا لا يزدن عليه
    سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں‌:کہ رسول اللہ صلى اللہ نے فرمایا جس نے ازراہ تکبر اپنا کپڑا لٹکایا اللہ تعالى قیامت کے دن اس کی طرف نہیں‌دیکھے گا۔
    ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ عورتیں‌ اپنے دامنوں کا کیا کریں (کیا وہ بھی مردوں کی طرح نصف ساق پر رکھیں ) تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ (نصف پنڈلی سے ) ایک بالشت نیچے تک لٹکائیں وہ عرض گزارہوئیں کہ پھر تو ان کے پاؤں کھلے رہ جائیں‌گے تو آپ‌صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر (نصف پنڈلی سے ) ایک ذراع نیچے لٹکائیں۔
    (ڈیڑھ فٹ ،دو بالشت ،ہاتھ‌کی درمیانی انگلی سے کہنی تک کے حصہ کو ذراع کہتے ہیں‌دوکہ دو بالشت کی ہو تی ہے اور متوسط آدمی کا ذراع ڈیڑھ فٹ‌کا ہو تا ہے )
    (جامع ترمذی أبواب اللباس باب ما جاء فی جر ذیول النساء:۱۷۳۱ :ابن ماجة:۳۵۸۰،۳۵۸۱)
    سبحان اللہ! حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں: عورتوں کے لیے یہ مناسب نہیں چونکہ چلنے کے دوران اُن کے قدم ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، ام سلمہؓ ایک بالشت دامن لٹکانے پر راضی نہیں ہوتی ہے، لیکن ہمارے دور کی دوشیزاؤں کا حال دیکھیے وہ ایک بالشت لٹکانے کی بجائے اپنے دامنوں کو گھٹنوں سے ایک بالشت مزید اوپر کرنے میں خوشی اور فخر محسوس کررہی ہیں۔
    عورت جودرحقیقت شرم وحیاء کا ایک حصہ ہے اور یہی اس کا زیور ہے، اگر عورت سے شرم وحیاء مفقود ہوجائے ، تو گویا اس کی تمام چیزیں مفقود ہوگئیں اور اس نے تمام چیزوں کا ارتکاب کرلیا۔
    یہاں یہ چند باتیں زیر نظر رہیں:
    (۱) عورتیںغیر محرموں سے اپنے پاؤں کو چھپائیں۔
    (۲)کپڑا نصف پنڈلی سے عموما دو بالشت تک لٹکائیںکہ ٹخنے چھپ جائیں۔
    (۳)تنگ پائینچے والی شلوارپہننا عورتوں کے لیے شرعا ممنوع ہے۔
    (۴)عورت کا یہ لباس حالت نماز اور غیر نماز دونوں کے لیے یکساں ہے۔
    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں