1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی جمہوریہ کے نام پر دھوکہ

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏اپریل 01، 2013۔

  1. ‏اپریل 02، 2013 #11
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اس سوال کے جواب کے لیئے آپ میرے اس تھریڈ کا مطالعہ فرمائیں جزاک اللہ خیرا
    آج خلیفہ کیوں اور کیسے؟

    بھائی جان آپ کو اکثر دیکھا ہے سوالات پر سوالات ہی کرتے جاتے ہیں میں نے سوچا میں بھی آپ سے سوالات کروں مگر افسوس ہوا کہ آپ نے میرے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا ہے!!!
     
  2. ‏اپریل 02، 2013 #12
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جس طرح آپ لوگ اسلامی شراب ماننے کے لیئے تیار نہیں اور اس کو کام کو انتہائی بیہودہ سمجھ رہے ہیں
    یہ بات کی ہی اسی لیے کی گئی ہے کہ آپ لوگ اس بات کا احساس کریں کہ جس طرح اسلامی شراب نہیں ہو سکتی بالکل اسی طرح جمہوریت بھی اسلامی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ نظام کفار کا نظام ہے اسلام کا نظام نہیں ہے
    اسلام کے نظام کے یہاں کچھ لوگ ایسے دشمن ہیں جیسے ایک مسلم جمہوریت کا دشمن ہوتا ہے۔
    آج کافر لوگ اپنے نظام کو قائم کرنے میں لکگے ہیں اور مسلمان اسلام کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش میں ہیں تو آپ لوگ بتائیں آپ کن کا ساتھ دیں گے؟؟؟
    جو کہتے ہیں ہم پوری دنیا میں جمہوریت کے نظام کو رائج کریں گے، ان کا ساتھ دیں گے؟؟؟
    یا جو لوگ کہتے ہیں ہم پوری دنیا میں خلافت کے نظام کو رائج کریں گے ان کا ساتھ دیں گے؟؟؟
     
  3. ‏اپریل 02، 2013 #13
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    ایک حدیث پیش خدمت ہے
    وَاَنَا اٰمُرُکُمْ بِخَمْسٍ اللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ بِالْجَمَاعَۃِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَالْھِجْرَۃِ وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیلِ اللّٰہَ
    میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے : الجماعت کے ساتھ ہونے کا، حکم سننے کا، اطاعت کرنے کا، ہجرت کا اور جہاد فی سبیل اللہ کا۔
    (احمد: مسندالشامیین۔ حارث الاشعری رضی اللہ عنہ)
    اس حدیث کے مطابق جہاد سے پہلے خلیفہ موجود ہونا ثابت ہو رہا ہے، جہاد و قتال کے فوائد ہم تبھی حاصل کر سکیں گے جب ہم اس کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر کریں گے بصورتِ دیگر فوائد تو حاصل نہ ہوں گے بلکہ اس کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیئے بھائی جی جو ترتیب ہم کو قرآن و حدیث سے ملے اسی پر عمل بنائیں پھر دیکھیں اللہ ہم کو فتوحات پر فتوحات دے گا ان شاءاللہ
     
  4. ‏اپریل 02، 2013 #14
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    شراب طہور

    إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا
    نیک لوگ [SUP](جنت میں)[/SUP] شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی [SUP](ترجمہ: مولانا مودودی)[/SUP]
    جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی [SUP](ترجمہ: فتح محمد جالندھری)[/SUP]
    بے شک نیک ایسی شراب کے پیالے پئیں گے جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہو گی [SUP](ترجمہ: احمد علی)[/SUP]
    یقینا نیک لوگ پئیں گے شراب کے جام جن میں آمیزش ہوگی کافور کی۔ [SUP](ترجمہ: شبیر احمد)[/SUP]
    بیشک ہمارے نیک بندے اس پیالہ سے پئیں گے جس میں شراب کے ساتھ کافور کی آمیزش ہوگی [SUP](ترجمہ: علامہ جوادی)[/SUP]
    الانسان ٧٦ : ٠٥

    والسلام
     
  5. ‏اپریل 02، 2013 #15
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    میرے پیارے بھائی

    پہلے جب ہم اس کفریہ نظام کی نفی کریں گے تو ہی خلافت کی راہیں ہموار ہونگی -جب نفی نہیں ہوگی تو پھر اگلا قدم قیامت تک نہیں اٹھ سکے گا-

    جیسے کلمہ حق میں ہم پہلے ہم اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ کوئی الہ ہے- پھر اس بات کا اثبات ہے "مگر صرف الله " تو پہلے ہمّت کر کے اس نظام کی نفی تو کریں -ایک طرف اس نظام کو کفریہ بھی کہنا ہے اور دوسری طرف ووٹ بھی ڈالنے ضروری ہیں -یہ کیسا مذاق ہے؟؟؟
     
  6. ‏اپریل 02، 2013 #16
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    کسی کا ساتھ دینا یا نہ دینا کسی کے وجود پر موقوف ہےجب کسی چیز کا وجود ہی نہیں تو ساتھ اس کا دیا جائے گا جس کا وجود ہے وقت جو محفوظ سہارا مل جائے اس کو اپنا نا چاہئے ریفرجریٹر کے چکر میں گھڑے نہیں پھوڑ دینے چاہئے؟؟؟؟؟؟
    پہلے یہ تو بتایا جائے کہ فلاں جگہ سے خلافت کے قیام کا اعلان ہوا ہے ۔جب کسی اہل نے اعلان کیاہی نہیں تو کیا نہ اہل(اس لفظ سے غصہ نہ ہونا ) لوگوں کی باتوں پر عمل کرنا کونسی عقلمندی ہے۔
    پہلے اہل لوگوں سے التجاء کی جائے ان کے مردہ ضمیروں کو جگایا جائے نہیں مانتے تو ان کی چار پائی الٹ دی جائے ۔اور معاف کرنا اہل ہم نہیں بلکہ عرب ہیں جن کی رقومات سے امریکہ اور اسرایئل کو غذا فراہم ہورہی ہے اگر وہ چاہتے تو سب کچھ ہوسکتا تھا ۔ کیا سپر پاور غنڈے ہی ہوسکتے ہیں مومن نہیں ہوسکتے ۔ غنڈوں نے مومن کو بھانگ کھلا کر سلادیا ان کی عقل سلب ہوگئی اور غنڈوں کو اپنا محاٖفظ اور آقا مان لیا جن کے اڈے حرمین شریفین کے قریب ہیں کوئی غنڈہ کب چاہے گا کہ اس کی مکاری عیاشی ختم ہو۔
    اس حدیث کے مطابق جہاد سے پہلے خلیفہ موجود ہونا ثابت ہو رہا ہے،آپ بھی تسلیم فرمارہے ہیں تو بھائی جان بتائیں تو سہی خلیفہ کون ہے کہاں ہے کون سی دنیا میں سورہاہے اس جگا یا جائے یا کسی کو بنایا جائے
    اور یہی اس حدیث شریف کا مصداق بھی ہے’’ بِالْجَمَاعَۃِ ‘‘جماعت کا تصور امیر کے بغیر ممکن ہی نہیں تو پہلے گھر کو سدھارا جائے
    جہاد کا نمبر بعد میں آتا ہے پہلے پولٹکس سے کام لیا جائے خلافت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے
    اور یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ یہ فکر کون پیدا کرے گا کیا جہلاء یہ کام کرسکتے ہیں؟
    کیا غرباء یہ کام کرسکتے ہیں؟
    یہ کام صرف اور صرف امراء کرسکتے ہیں یہ عالموں کے بس کی کھیر ہے اور نہ غرباء کے بس کا کام ہے
    میری مراد حکومتی سطح پر یہ کام ہوسکتا ہے اور اس کے اہل عرب ممالک ہیں
    ہر کوئی جہاد کا داعی بھی نہیں ہوسکتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ فساد فی الارض کا مرکب ہوگا؟؟؟
    یعنی پہلے گھڑے پھوڑ دئے جائیں او پھر سوچا جائے
    یا یوں کہا جائے کہ ووٹ نہ ڈال کر پہلے کرپٹ لوگوں کو اقتدار دلوا دیا جائے اور جب ان کی حکومت بن جائے تو پھر عوام سے کہا جائے بغاوت کرو جہاد کرو
    کیا یہ یاد نہیں الضرورات تبیح المحضورات طوعا وکرہاً جب تک مضبوطی اور قوت حاصل نہ ہوجائے اسی نظام کو اپنایا جائے ۔اس کے لیے ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرنا پڑے گا بھلا یہ کیسے ممکن ہے پہلے تو ہم نے اپنے گھر میں اختلافات پیدا کرلیے گھر کے افراد ہی ایک دوسرے کے دشمن اور مخالف ہیں (مسلکوں میں بٹے ہوئے ہیں،کسی کو مشرک کسی کو کافر) اور جب وقت آتا ہے تو کہا جاتا ہے ایک ہوجاؤ تو بھائی کیسے ممکن ہے کہ کل جس بھائی کو ہم نے اپنے سے جدا کردیا یا اس کو کھو دیااس کے دل کو زخمی کردیا وہ ہمارا کس طرح ساتھ دیگا
    ایک کڑوی بات اور کہہ رہا ہوں یہی عرب ممالک اپنی ساری توانائی اور دولت مسلکی تفریق پر خرچ کررہے ہیں اور اگر یہی عمل تمام مسلمانوں کو جوڑنے کے لیے کیا جاتا تو نقشہ کچھ اور ہی ہوتا
    ایک حقیقت اور کہہ رہا ہوں آج یہ جو بت پرستی یا مزار پرستی ہورہی ہے۔یہ صرف مالدار ہونے کے لیے ہے اگر یہی عرب ممالک مسلمانوں کی مالی تعاون کرتے ،تو یہ تو بیچارے ایسے ہیں ان کو کہیں کو بھی گھمالو
    تو بھائی گھر کا بھیدی لنکا ڈھاوے والی بات ہے ہمیں تو ان عربوں نے ڈبویا ہے
     
  7. ‏اپریل 02، 2013 #17
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    وعلیکم سلام

    یعنی آپ کے خیال میں بڑے ڈاکو سے بہتر ہے کہ چھوٹا ڈاکو برداشت کر لیا جائے -لیکن نظام یہی کفریہ رہے؟؟ -

    تو بھائی آپ جو مجھے بتا رہے ہیں کہ جب تک مضبوطی اور قوت حاصل نہ ہوجائے اسی نظام کو اپنایا جائے "تو آخر کب یہ قوت نصیب ہو گی ٦٥ سال تو گزر گئے ؟؟؟ اب اور کتنا انتظار درکار ہے اتنی کوشش کے باوجود اب تک چھوٹا ڈاکو تو نہیں مل سکا -

    اس ملک میں جو بھی گندگی ہے میرے بھائی وہ اسی کفریہ نظام کی بدولت ہے جس سے چھٹکارہ پانے پر آپ راضی نہیں -چاہے وو مسلک پرستی ہو یا بے غیرتی یا بے حیائی یا سودی نظام یا لا دینیت یا قتل و غارت-

    لوڈ شیڈنگ کے وقت تو ساری عوام سڑکوں پر آ جاتی ہے چاہے کوئی کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو -لیکن جب اس کفریہ نظام سے چھٹکارہ پانے کے لئے بات ہوتی ہے تو ہمیں مسلک پرستی یاد آنے لگتی ہے -کیا اگر صحیح طو ر پر صحیح نیت کے ساتھ کوشش کی جائے تو ساری عوام اس نظام کے خلاف نہیں کھڑی ہو سکتی -

    میرے بھائی یہ بھی جان لیں کہ الله اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت خود بدلنے پر راضی نہ ہوں -
     
  8. ‏اپریل 03، 2013 #18
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    عاصم بھائی!۔۔۔ افسوس مت کیجئے۔۔۔
    دراصل میں آپ کے سوالوں کا جواب دیتا مگر میں چاہ رہا تھا کے ہم ایک نقطہ پر آجائیں پہلے کے خلافت کیسے قائم ہوگی بس۔۔۔
    آپ نے اس لنک میں جو باتیں ہمیں بتائی ہیں وہ تو ہم بھی جانتے ہیں۔۔۔
    چلیں آپ نے کہا ملاحظہ کیجئے!۔
    ہمیں آج تک کوئی بھی ایسا امام نہیں مل سکا جو اس معیار پر پورا اترسکے۔۔۔
    چلیں ہم عجم کو چھوڑ دیتے ہیں عربوں میں بھی اس چیز کا فقدان ہے۔۔۔
    آج بھی ہماری تحقیق اُس وقت تک ادھوری سمجھی جاتی ہے جب تک اس میں کسی بڑےعرب عالم کا ذکر نہ ہو۔۔۔

    فرض کیجئے!۔
    میں ایک حدیث پیش کروں اور حوالے میں لکھوں صحیح کفایت اللہ یا صحیح حافظ زبیر زئی تو کیا اس پر جرح نہیں ہوگی۔۔۔
    لیکن اگر میں کسی حدیث کے آگے لکھ دو صحیح البانیؒ تو بات ختم۔۔۔
    بھائی یہ ہے ہمارا معیار۔۔۔ ہم تو چاہتے ہیں خلافت آئے مگر ہمارا کوئی امیر تو ہمارے سامنے۔۔۔
    بس دعوتیں دیئے جائیں تو جو باتیں آپ بتا رہے ہیں وہ تو مجھے پہلے سے ہی معلوم ہیں۔۔۔ اس میں نیا کیا ہے؟؟؟۔۔۔
    آپ بتائیں اس وقت پاکستان میں کوئی بھی عالم دین اس معیار کے نہیں جن کو ہم اپنا امیر مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔۔۔
    اگر ہیں تو نام پیش کیجئے اور اگر نہیں ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏اپریل 07، 2013 #19
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بھائی میرے افسوس ہی ہوگا ناں کہ جب آپ سب کچھ جانتے ہیں تو عمل بھی اس پر کریں صرف جان جانے سے اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا جاسکتا بلکہ جو جانتا ہے اس کی زیادہ پکڑ ہوگی کیونکہ علم ہونے کے باوجود عمل نہ کیا، تو بھائی خلافت کے قیام کے لیئے اپنے علم کا استعمال کریں نہ کہ کفریہ نظام کو اپنانے کے لیئے مصلحتوں کا استعمال کریں، اہل علم ہیں تو عمل بھی اہل علم والا کریں۔ شکریہ
    بھائی جان اگر آپ کو علم ہے ہر بات کا تو آپ پھر ہم کو ایک کفریہ نظام کو اپنانے کی ترغیب کس دلیل کی بنیاد پر دے رہے ہیں چلیں پہلے سوالات کو چھوڑ دیں میرے صرف اسی سوال کا جواب دلیل::قرآن اور صحیح حدیث:: سے دیں۔
     
  10. ‏اپریل 07، 2013 #20
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بھائی میرے جب آپ جیسے اہل علم لوگ مصلحتوں کا شکار ہو جائیں تو پھر ہم جیسے نااہل لوگ ہی اللہ کھڑے کرتا ہے اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39؀
    اہل علم لوگ شرم کھائیں اور وہ جو علم حاصل کرچکے ہیں ان پر عمل کریں، اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اس شخص کی مثال اس گدھے جیسی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں۔
    اس وقت کرنے کا کام یہی ہے کہ خلافت کے بارے لوگوں کو آگاہی دی جائے نہ کہ مصلحتوں میں پر کر لوگوں کو کفریہ نظام اپنانے کی ترغیب دی جائے۔
    میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ جہاد و قتال امام شرعی کی اقتدا میں سرانجام دیئے جائیں تو ہی اس کے فوائد حاصل کیئے جاسکتے ہیں بصورتِ دیگر نقصان ہی اٹھانے پڑتے ہیں جیسا کہ ہو رہا ہے کہ جس کے ساتھ ٨۔١٠ بندے ہیں وہی امیر بنا بیٹھا ہے اس طرح کے ہزاروں امراء آپ کو ملیں گے، اسلام ہم کو اتحاد کا درس دیتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چلنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔
    وقت کی کمی سے اتنا ہی لکھ سکا باقی پھر ان شاءاللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں