1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی شریعت کا ایک معروف قاعدہ

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اگست 14، 2013۔

  1. ‏اگست 14، 2013 #1
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اسلامی فقہاء اور علماء نے شریعت کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک اصول متعین فرمایا ہے کہ ’’ضرورتیں حرام چیزوں کو جائز کر دیتی ہیں‘‘ اس اصول کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام میں کس قدر نرمی ہے اور اسلامی قانون میں لوگوں کی ضرورتوں کا کس قدر خیال رکھا گیا ہے۔ مثلا سؤر کا گوشت کھانا اسلامی قانون کی روح سے حرام ہے لیکن مجبوری کی حالت میں کھا لینا جائز ہے۔شرک کرنا بالکل ہی منع ہے لیکن مجبوری کی حالت میں اگر کرنا پڑھ جائے تو کوئی قباحت نہیں۔جیسے حضرت عمار بن یاسر نے آپﷺ سے رخصت لی تھی۔سو اس طرح آج بھی معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات میں کوئی کام کرنا جائز ہے۔ لیکن اس حوالے سے یہ واضح رہے کہ یہ قانون صرف مجبوری کی حالت کے لئے ہے چنانچہ جیسے ہی یہ حالت بدل جائے ویسے ہی شریعت کا اصل حکم واپس آجائے گا۔جبکہ کچھ لوگوں کا اجتہادی نظریہ کہتا ہے کہ حالت کے بدلنے سے شرعی حکم جو تبدیلی آتی ہے وہ مستقل ہوتی ہے۔ یہ فاسدانہ خیال ہے۔ اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ مجبوری کی حالت میں حرام اور ممنوع چیز کو صرف اسی قدر استعمال کرنا چاہیے جتنی ضرورت ہے۔اس میں زیادتی وغیرہ نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ آج جو لوگ سود کھانے یا سودی کار وبار کرنے پر مجبور ہیں وہ اپنی ضرورت کے مطابق کریں۔ اسی طرح سیاسی یا دیگر معاملات وغیرہ میں خیال کرنا چاہیے۔
     
  2. ‏اگست 14، 2013 #2
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    یہاں ایک بات یہ بھی واضح ہونی چاہیے کہ ضرورت اور حلت کی حدیں بھی علماء مجتہدین ہی طے کریں گے ۔ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو اجازت نہیں کہ حالات اور مجبوری کا حوالہ دے کر خود ہی حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  3. ‏اگست 14، 2013 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    کیلانی بھائی نے ایک اچھے قاعدے اور اصول کی طرف توجہ دلائی ہے۔ لیکن اگر مذکورہ بالا جملہ یوں ہو جاتا تو زیادہ بہتر تھا
    چنانچہ آج جو لوگ بھوک سے مرنے سے بچنے کے لیے سود کھانے یا سودی کاروبار کرنے پر مجبور ہوں تو صرف اتنا ہی سود کھائیں یا سودی کاروبار کریں کہ جس سے ان کی جان بچ جائے۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 15، 2013 #4
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    شکریہ ابوالحسن بھائی آپ کی تعبیر شریعت کے زیادہ موافق لگتی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  5. ‏اگست 15، 2013 #5
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم کیلانی صاحب!
    سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ کو اس قاعدہ کو بیان کرنے کی ضرورت اپنے ہم فکر چند نادان دوستوں کی شریعت سے ناواقفیت پر بطور علاج محسوس ہوئی۔
    لیکن شاید یہ دوست پھر بھی آپ کی بات سے اتفاق نہ کریں کہ قرآن اور حدیث کے بعد یہ فقہ یا فقہی اصول یا قاعدہ کہا سے آگیا؟
    انسان کو اپنی جان بچانا فرض ہے یا ضروری۔ یہ ہے اصل بنیاد اس قاعدہ کی
    لیکن آپ نے لفظ ضرورت کا استعمال کیا ہے، ضرورت کو آج ہمارے معاشرے میں عام معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔
    میرے دوسوال ہیں اگر مناسب سمجھیں تو آپ تحقیق کرکے بتادیں یا مولانا ابو الحسن صاحب رہنمائی فرمادیں۔
    سوال1 نمبر
    شریعت کا یہ قاعدہ ایسی صورت میں صرف جائز کی حد تک ہے یا اسے لازم کردیا گیا ہے کہ جان بچانا ضروری ہے لہذا جو ایسی صورت میں اپنی جان نہیں بچاتا وہ خود کشی کے مترادف ہوگا یا گناہ گار ہوگا؟
    مثال کے طور پر
    ایک شخص بھوک سے مررہا ہے لیکن اس کا تقوی اس کے ضمیر کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ سور کا گوشت کھائے یا کسی حرام جانور کا گوشت کھائے ، وہ ترجیح دیتا ہے موت کو ،۔۔۔۔۔۔۔ یا
    ایک عورت جو دیندار، پرہیز گار اور متقی ہے۔ اسے آپریشن کی ضرورت ہے۔ کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں لیکن وہ عورت ترجیح دیتی ہے موت کو کہ جتنی زندگی اللہ نے دی ہے وہ قبول ہے لیکن کسی غیر مرد کے سامنے ستر کھولنا گوارہ نہیں۔
    ایسی صورت میں کیا صرف جائز ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ یا لازم ہوگا کہ اپنی جان بچائیں ؟؟؟
    سوال نمبر 2
    یہ قاعدہ صرف بھوک پیاس تک محدود ہے یا ہر اس بیماری یا صورت جس میں جان جانے کا اندیشہ ہو اور بطور علاج صحیح معالج کی ہدایات پر کسی حرام یا ناجائز صورت کو بطور علاج اس قاعدہ کا اطلاق ہوگا؟؟؟؟
    شکریہ
     
  6. ‏اگست 15، 2013 #6
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    ہر پیش آمدہ مسئلہ میں علماء فیصلہ کریں گے کہ ضرورت کی شدت کیا واقعتا اتنی ہے کہ حلت کے دروازے کھولے جاسکیں ۔ یا کسی مسئلہ میں کوئی ممنوع چیز محض مباح ہوئی ہے یا وجوب کی حد تک پہنچ چکی ہے ۔ یہ حکم ضرورت کی شدت کے اعتبار سے الگ الگ معاملات میں تبدیل بھی ہوسکتا ہے ۔

    اس معاملہ میں اخف الضررین یا اھون البلیتین کا قاعدہ نافذ ہوگا ۔ یعنی دونوں میں کم نقصاندہ اور نسبتا کم حرام چیز کو اختیار کیا جائے گا ۔
    پہلے مسئلہ میں تو قرآن کی ہدایت صاف ہے کہ کھانے پینے والی چیزوں کی حرمت ہی سرے سے وقتی طور پر ساقط ہوجائے گی اگر ان کے استعمال نہ کرنے پر جان چلی جانے کا خدشہ ہے ۔{وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ } [الأنعام: 119]
    دوسرے مسئلہ میں بھی جان کا بچانا واجب ہے ۔ایسے معاملات میں ستر کے احکام نافذ نہیں ہوں گے ۔واللہ اعلم

    رہی بات تقویٰ کی تو تقویٰ کا تقاضہ یہی ہے کہ اللہ کی دی گئی سہولتوں سے سے فائدہ اٹھایا جائے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 16، 2013 #7
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    سرفراز فیضی صاحب
    شریعت اسلامی میں ایک شے"عزیمت"نام کی بھی ہے۔ تھوڑی اس کی بھی وضاحت کردیں تاکہ ہم جیسے طالب علموں کو مزید رہنمائی ملے کہ
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 17، 2013 #8
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    جزاک اللہ بھائی ، پوسٹ کرنے کے بعد میرے بھی ذہن میں یہ بات آئی تھی ۔ تقویٰ والی بات کیونکہ مذکور دو مسائل کے ضمن میں کہی گئی تھی اس لیے میں نے یہ کہا کہ تقویٰ اللہ کی دی گئی رخصتوں کے قبول کرنے کا نام ہے ۔
    البتہ جہاں رخصتوں کا ترک کردینا کچھ مصلحتوں کے حق میں مفید ہو وہ راستے عزیمت کے راستے ہیں ۔ جیسا امام احمد ابن حنبل نے خلق قرآن کے مسئلہ میں رخصت کو چھوڑ کر عزیمت کا راستہ اختیار کیا۔ وما يلقاها إلا الذين صبروا وما يلقاها إلا ذو حظ عظيم
    لیکن جہاں رخصتوں کا ترک کرنا کسی مصلحت سے وابستہ نہ ہو وہاں خود کو بلاوجہ نقصان میں ڈالنا صحیح نہیں لگتا ۔ لا ضرر و لاضرار
    البتہ کون سے راستے عزیمت کے راستے ہیں اس کو بھی علماء ہی طے کریں گے ۔
    اس مسئلہ میں یہی بات میں سمجھ سکا ہوں ۔ غلطی پر ہوں تو اصلاح کردیں ، نوازش ہوگی ۔
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 17، 2013 #9
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    دین خالص جو شاید رفیق طاہر کی سائٹ ہے اس پر رخصت اورعزیمت کے تعلق سے یہ لکھاہے

    لیکن رخصت اور عزیمت کی یہ تعریف مع مثال مکمل طورپر درست نہیں ہے۔

    اس میں نہ عزیمت کی تعریف درست طورپر کی گئی ہے اورنہ ہی مثالیں درست ہیں۔ ابھی رات کے 9بج رہے ہیں اوروقت ہوگیاہے کہ اب گھرچلاجائے ۔لہذا کمپیوٹر بند کررہاہوں۔ انشاء اللہ کل کچھ لکھتاہوں کہ رخصت کسے کہتے ہیں۔ عزیمت کسے کہتے ہیں اوررخصت وعزیمت کی درست مثالیں کیاکیاہیں۔ والسلام
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 28، 2014 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    شاید یہ انتظار ہمیشہ کے لیے انتظار ہی رہ گیا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں