1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

'الولا والبرا' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏اپریل 21، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

    مولانا ارشاد الحق اثری​

    وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی
    اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔
    وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے:
    اوریوں بھی کہا جاتا ہے:
    گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے :
    حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    اللہ سے محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ کے انبیاے کرام اوران کے اطاعت گزاروں سے محبت کی جائے اسی طرح اللہ اور اس کے انبیاے کرام کے دشمنوں سے دشمنی اورعداوت رکھی جائے اور ان کے نافرمانوں سے علیٰ حسب الدرجات بغض رکھاجائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 21، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے فرمایا ہے:
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر مؤمنوں اور کافروں کے مابین موالات کی نفی کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
    ٭
    ٭
    ٭
    ٭
    ٭
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 21، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اس موضوع کی اور بھی آیاتِ مبارکہ ہیں مگر یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ اس اہم حکم نافرمانی کے نتیجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ
    اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو’اُسوۂ حسنہ‘ قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
    ٭
    مگر ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعابھی باپ کی صرف زندگی میں کی کہ اسے ہدایت مل جائے:
    اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو اور تمام ایمانداروں کو مشرکین کے لئے بخشش و مغفرت کی دعا سے روک دیا۔فرمایا:
    کافر اور مسلم کے بارے نبی ؐ نے میں فرمایا:
    علی بن حسین کہتے ہیں کہ
    کفارومشرکین سے براء ت کی بنا پر ہی ابو طالب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا گیا۔
    بدر کے قیدیوں میں جن میں حضرت ابوبکرصدیق کا بیٹا عبدالرحمن بھی تھا، حضرت عمرؓ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا:
    معصب بن عمیرؓ کا بھائی عبید بن عمیر قیدی ہوا تو انہوں نے کہا:
    قرآن کریم نے صحابہ کرام کے بارے میں {اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ} فرما کر ان کے اس ولاء وبراء کے عملی کردار کی تحسین فرمائی۔
    جہاد بھی کفار سے براء ت ہی کااظہار ہے کہ جواللہ اور اس کے رسولؐ کا دشمن ہے، ہمارااس کے خلاف علیٰ اعلانِ جنگ ہے :
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 21، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    یہاں یہ بات پیش نگاہ رہے کہ ایک تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے منکر ہیں اور وہ غیر مسلم اور کافر ہیں۔ ان کے ساتھ موالات اور مواسات کی صراحتاً ممانعت ہے اور دوسرے وہ ہیں جنہیں ان کی کوتاہیوں کی بنا پر کافر قرار دیاجاتا ہے۔ یا ان کی بدعات وخرافات کی بنا پر اُنہیں کافر یا بدعتی کہاجاتا ہے اور پھر ان سے اسی اصول کے مطابق معاملہ کیاجاتاہے۔
    اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج کل فتنۂ تکفیر کی جو لہر چل نکلی ہے اور اس کے جو برگ و بار ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔مثلاً {مَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أنْزَلَ اﷲُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ}کی وجہ سے مسلم حکمرانوں کے بارے میں فتویٰ کفراور اسی بنا پر ان کے خلاف خروج اور فساد کااِقدام۔حالانکہ اس آیت کے بارے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
    امام طاؤس، عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ
    اسی طرح حضرت ابن عباسؓ ہی سے ہے:
    اسی طرح کسی بدعت اور اس کے مرتکب پرکفر کا اطلاق بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ اس کی کچھ شرائط اور ضوابط ہیں جو اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ان مبتدعین کے بارے میں بلکہ سنت کااستخفاف کرنے والوں کے بارے میں سلف کا موقف کیا ہے اور ان پر موالات کا حکم کیا ہے؟اس ضمن میں علامہ بغویؒ فرماتے ہیں:
    بلکہ چند سطور بعد فرماتے ہیں:
    اس کے بعد اُنہوں نے صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اورائمہ کرامؒ کے اس حوالے سے متعدد اَقوال ذکر کئے ہیں۔ علامہ ابن جوزیؒ نے بھی’ تلبیس ابلیس‘ (ص ۱۸،۲۱) میں، امام لالکائی ؒنے ’شرح اُصول اعتقاد اہل السنہ‘ میں، امام ابن بطہ نے ’الابانہ‘ میں بھی اس حوالے متعدد اقوال درج کئے ہیں، جن کی تفصیل محولہ بالا مقامات پر دیکھی جاسکتی ہے۔اگر ایک ایک قول کو ذکر کیا جائے تو بحث طویل ہوجائے گی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 21، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    صحابہ کرام رض سے تو صرف ایک حدیث کی مخالفت اور معارضت پر انکار اور ترکِ موالات معروف ہے۔ علامہ ابن قتیبہؒ نے ’المعارف‘ ص۵۵۰ میںاس کے متعلق متعدد واقعات ذکر کئے ہیں۔ علامہ بغویؒ کے علاوہ یہی بات علامہ ابن عبدالبر، علامہ نووی، علامہ شاطبی، اور حافظ ابن تیمیہ رحمہم اللہ نے کہی ہے۔
    علامہ ابن ابی العز ؒنے بھی فرمایا ہے:
    یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام بدعتی اور داعی الی البدعہ کی روایت میںبھی فرق کرتے ہیں۔ بدعتی کی روایت تو قبول کرتے ہیں مگر داعی الی البدعت کی روایت کو قبول نہیںکرتے۔ حافظ ابن حجرؒ نے ’نخبۃ الفکر‘ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:
    بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اس حوالے سے بڑی جامع بات فرمائی ہے:
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 21، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    یہاں دو باتیں مزید غور طلب ہیں:
    ایک یہ کہ اگر مطلقاً بدعتی مردود ہوتا اور اس سے موالات کلیۃ ناجائز ہوتے تو داعی اور غیر داعی کے مابین یہ فرق بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ شیخ الاسلام نے جو فرمایا ہے کہ داعی الی البدعت کے پیچھے نمازنہ پڑھی جائے، اس میں بھی قدرے تفصیل ہے۔ مامون، معتصم وغیرہ اُمراء جوصرف جہمی عقائد ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ جہمیت کے داعی بھی تھے اور اسی سبب سے اُنہوں نے امام احمد اور دیگر بہت سے محدثین کواپنے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنا رکھا تھا، انہی کے بارے میں خود شیخ الاسلام نے فرمایا ہے:
    حافظ ابن حزمؒ اس بارے فرماتے ہیں:
    اور تقریباً یہی بات اُنہوں نے المحلی:۳؍ ۲۱۳،۲۱۴ میں بھی کہی ہے۔
    اسی تناظر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے:
    امام ابوالحسن اشعری فرماتے ہیں:
    عموماً یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ بدعتی کی تو اپنی نماز قبول نہیں، اس کے پیچھے نماز کیونکر جائز ہوسکتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قبولیت کے کئی مدارج ہیں، جن میں سب سے کم تر یہ کہ اس کی ادائیگی سے فرض ساقط ہوجاتاہے اور وہ فی نفسہٖ صحیح ہوتا ہے۔
    علامہ ابن ابی العزؒ نے فرمایا ہے کہ
    یاد رہے کہ بدعتی بدعت مکفرہ کا مرتکب ہو تو اس کا کوئی عمل قطعاً مقبول نہیں ہے۔ البتہ بدعت ِمکفرہ نہ ہو تو بدعتی کا عمل بدعت مردود ہے جیسا کہ حدیث میں صراحت ہے کہ
    ’’مَن أحدث في أمرنا ما لیس منہ فھو ردّ‘‘ [بخاری مع الفتح: ۵؍ ۳۰۱، ۲۶۹۷] رہ گئے بدعتی کے دوسرے اَعمال تو اس کی قبولیت کے جو شرائط ہیں کہ وہ سنت کے مطابق ہوں اور اخلاص پر مبنی ہوں تو وہ اعمال مقبول ہیں۔
    خلاصۂ کلام یہ کہ کوئی بدعتی ہو یا فسق کامرتکب ہو تو اس سے براء ت بقدرِ فسق و بدعت ہونی چاہیے۔ان سے سلام و کلام، بیمار پرسی، میل ملاقات کاعلیٰ الاطلاق ترک سلف کے موقف و منہج کے موافق نہیں۔بدعت اگر حد کفر تک نہیں ہے تو وہ بدعتی مسلمان ہے اور سلام مسلمان کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 21، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    امام احمدؒ سے امام ابوداؤدؒ نے پوچھا کہ خراسان میں ہمارے مرجئ عزیزو اقارب ہیں، ہم انہیں خط لکھتے تو اُنہیں سلام لکھیں؟انہوں نے فرمایا: ’’سبحان اﷲ لم لا تقرئھم‘‘(مسائل احمد بروایۃ ابی داؤد:ص۲۷۶) البتہ اگر زجراً و توبیخاً اور تادیباً انہیں سلام نہ کہا جائے تو اس کی بھی ائمہ کرام نے اجازت دی ہے۔بالخصوص جب کہ وہ بدعت کے مرتکب ہوں یافاسق مسلمان فسق و فجور میں مبتلا ہوں۔ علامہ شاطبیؒ رقم طراز ہیں:
    یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ بدعتی ہو یا فاسق، ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی جو بعض اَسلاف سے ممانعت منقول ہے یا ان سے ترکِ سلام یا ترکِ عیادت کا ذکر آیاہے تو یہ سب ان کے لئے زجر و توبیخ کے لئے ہے۔ یوں نہیں کہ ان کے پیچھے نماز ناجائز ہے یا سلام کہنا اور عیادت کرنا جائز نہیں۔ جب بدعتی مسلمان ہے اور اسلام سے خارج نہیں تو وہ بہرحال رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کا مستحق ہے:
    اور علامہ شاطبیؒ نے یہ صراحت کی ہے کہ بدعتی کی ترک ِعیادت زجر و توبیخ کے لئے ہی ہے، ان کے الفاظ ہیں:
    شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اس حوالے سے ’منہاج السنہ‘ میں بڑی طویل اور نفیس بحث کی ہے، فرماتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 21، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    یہی بات اُنہوں نے ایک اور مقام پر فرمائی ہے۔چنانچہ ان کے فتاویٰ میں ہے:
    اس لئے اہل بدعت ہوں یا اہل فسق ان سے ولاء و براء کا معاملہ انہی دینی مصالح کی اعتبار سے ہونا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ انکارِ منکر میں کوئی اور منکر یا فتنہ و فساد کھڑا ہوجائے۔
    امام سفیان ثوری نے اس بارے میں بڑی معنی خیز بات فرمائی ہے جو عوام کے لئے نہیں، خواص کے لئے بھی ہے:
    البتہ وہ متبحر اہل علم ان مبتدعین کے پاس بیٹھ سکتے ہیں جو اُنہیں صراطِ مستقیم کی دعوت دیں اور ان کے شبہات کا اِزالہ کرسکیں یا ان کے ماننے میںکوئی اور مصلحت سمجھیں۔ ظاہرہے کہ اگر وہ بھی بالکلیہ ان سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں تو اُنہیں صراطِ مستقیم کی رہنمائی کون کرے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 21، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مسلمانوں سے محبت وقربت : الولاء

    کفار، مبتدعین اور فساق کے مقابلے میںمسلمانوں کے ساتھ محبت و اُلفت کااظہار بھی ایمان کی علامت ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
    اسی طرح ارشاداتِ نبویؐ ہیں:
    ٭ عرشِ الٰہی کے سائے تلے ۷ افراد میں سے وہ دو آدمی بھی ہیں:
    ٭
    ٭
    ٭
    ٭
    ٭
    ٭
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 21، 2012 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں