1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا حقوق نسواں بل

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 27، 2016۔

  1. ‏مئی 27، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  2. ‏مئی 28، 2016 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے جمعرات کو تحفظ حقوق نسواں بل کے مجوزہ مسودے پر بحث کی ہے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے تین روزہ اجلاس کا دوسرا دور اسلام آباد میں کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    ٭ ’اسلام میں عورت پر تشدد کی اجازت نہیں‘

    اس اجلاس میں تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے 163 دفعات پر مشتمل بل کا مسودہ پیش کیا گیا۔

    مولانا محمد خان شیرانی کے مطابق یہ مسودہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے اور آئندہ اجلاس میں اس پر مزید غور کیا جائے گا۔

    مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس مسودے میں بیوی کو ’ہلکی پھلکی مارپیٹ‘ کی اجازت، مخلوط تعلیم، خاتون نرسوں کی جانب سے مرد مریضوں کی تیمارداری اور ’فحش‘ اشتہارات میں خواتین کے کام کرنے پابندی کی تجاویز کے علاوہ خواتین کے جائیداد کے حق، مذہب کی تبدیلی اور شادی سے متعلق قوانین کی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    مجوزہ بل کے اہم نکات

    ٭ خواتین کو اپنی جائیداد رکھنے کا حق ہو گا۔

    ٭ خواتین کا اپنی جائیداد سے متعلق وصیت کا حق ہو گا۔

    ٭ شوہر سمجھانے بجھانے کے لیے ضرورت کے مطابق اپنی بیوی کو ’ہلکا پھلکا‘ مار پیٹ سکتا ہے۔

    ٭ شوہر کی طرف سے زیادہ مار پیٹ کی صورت میں بیوی عدالتی کارروائی کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔

    ٭ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا قابل تعزیر جرم ہو گا۔

    ٭ عاقل اور بالغ خاتون کو نکاح کے لیے سرپرست کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔

    ٭ اگربیوی کو نان نفقہ نہیں ملتا تو اس کو خلع کا حق حاصل ہو گا۔

    ٭ ونی یا تنازعے کے حل کے لیے شادی قابل تعزیر جرم ہو گا۔

    ٭ قرآن سے خاتون کی شادی قابل سزا جرم ہو گا جس میں دس سال قید سزا ہو گی۔

    ٭ جہیز کے مطالبے اور نمائش پر پابندی ہو گی۔

    ٭ خواتین کو سیاست میں شمولیت کی اجازت ہو گی۔

    ٭ خواتین جنگی کارروائیوں میں شمولیت کی ذمہ دار نہیں ہیں۔

    ٭ جنگ میں خواتین کو قتل کرنا ممنوع ہے۔

    ٭ خواتین جج بن سکتی ہیں۔

    [http://ichef-1]Image copyrightImage captionمولانا محمد خان شیرانی کے مطابق اس بل کی تیاری میں کونسل کے رکن مفتی امداد اللہ نے اہم کردار ادا کیا ہے

    ٭ خواتین کو غیرملکی حکام اور ریاست کے مہمانوں کے استقبال کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٭ کسی خاتون کے زبردستی مذہب کی تبدیلی پر تین سال قید کی سزا ہو گی۔

    ٭ مذہب اسلام چھوڑنے پر کسی خاتون کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

    ٭ باشعور خواتین کو اسلام قبول کرنے کی اجازت ہو گی۔

    ٭ تیزاب گردی یا خواتین کے خلاف پرتشدد اقدامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

    ٭ غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری اور سیاہ کاری پر پابندی ہو گی۔

    ٭ پرائمری سطح کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی۔

    ٭ پرائمری سطح کے بعد مخلوط تعلیم کی صرف اسی صورت میں اجازت ہو گی اگر حجاب کو لازمی قرار دیا جائے اور مرد و خواتین کے میل جول کی اجازت نہ ہو۔

    ٭ خواتین کے ’فحش‘ اشتہاروں میں کام کرنے پر پابندی ہو گی۔

    ٭ خاتون نرسیں مرد مریضوں کی تیمارداری نہیں کریں گی۔

    ٭ خواتین سے ’زبردستی مشقت‘ نہیں لینا چاہیے۔

    ٭ مائیں کم از کم دو سال تک بچوں کو اپنا دودھ پلائیں۔

    ٭ ماں کے دودھ کے متبال خوراک کے اشتہاروں پر پابندی ہو گی۔

    ٭ شوہر کی اجازت کے بغیر خاتون مانع حمل اشیا استعمال نہیں کر سکتیں۔

    ٭ 120 دن کے حمل کے بعد حمل گرانا قتل تصور کیا جائے گا۔



    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 28، 2016 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    خواتین کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی

    خواتین جج بن سکتی ہیں


    مذہب اسلام چھوڑنے پر کسی خاتون کو قتل نہی کیا جائے گا
    اس سفارشات پر اہل علم کی قرآن اور حدیث کی روشنی میں رائے درکار ہے

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 28، 2016 #4
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    میڈیا کی نظر اگر پڑی تو ۔۔۔’’ساری داستاں میں سے یاد ہے اتنا‘‘ کے مصداق ۔۔۔۔
    عورت کو ہلکا پھلکا‘ مار پیٹ ۔۔۔خواتین اور اشتہار(یا اور جس میں نمک مرچ لگائی جاسکے )
    پر پڑے گی۔۔۔اگر پڑی تو۔۔۔
    ۔۔۔یہ مصنوعی ادارہ اسلام کا مذاق اڑانے کے لئے رکھا ہوا ہے ۔۔۔اس کے پاس اختیار کوئی نہیں۔
     
  5. ‏مئی 28، 2016 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    مجوزہ بل کے نکات سے ایسا لگتا ہے کہ رحمان اور شیطان دونوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے-
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 28، 2016 #6
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بہتر ہوگا اگر علماء اس کی غیر اسلامی سفارشات پر نقد کریں اور ان معاملات میں اسلام کا موقف بھی دلائل کے ساتھ واضح کریں
     
  7. ‏مئی 28، 2016 #7
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    كيا عورت كے ليے جج اور قاضى بننا جائز ہے ؟

    Published Date: 2007-11-10
    الحمد للہ:

    جمہور علماء كرام كے ہاں عورت كا قضا كے منصب پر فائز ہونا جائز نہيں، اور اگر اسے قضا كا منصب دے ديا جائے تو اسے قاضى بنانے والا گنہگار ہوگا، اور يہ باطل ہو جائيگا، اور سب احكام ميں اس عورت كا حكم نافذ نہيں ہو گا، مالكيہ، شافعيہ، حنابلہ اور بعض احناف كا مسلك يہى ہے.

    ديكھيں: بدايۃ المجتھد ( 2 / 531 ) المجموع ( 20 / 127 ) المغنى ( 11 / 350 ).

    ان علماء نے كئى ايك دلائل سے استدلال كيا ہے جنہيں ذيل ميں درج كيا جاتا ہے:

    1 - اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    ﴿ مرد عورتوں پر حاكم ہيں اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں ﴾النساء ( 34 ).

    اس آيت ميں يہ بيان ہوا ہے كہ مرد عورت كا قيم يعنى اس كا نگران اور ذمہ دار ہے، يعنى دوسرے معنوں ميں وہ عورت كا رئيس اور حاكم ہے، تو يہ آيت عورت كى عدم ولايت اور عدم قضاء پر دلالت كرتى ہے، وگرنہ عورتوں كو مردوں پر نگرانى اور رياست حاصل ہوتى، جو كہ اس آيت كے برعكس ہے.

    2- اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    ﴿ اورر مردوں كو ان ( عورتوں ) پر فضيلت حاصل ہے ﴾البقرۃ ( 228 ).

    تو اللہ تعالى نے مردوں كو عورتوں پر اضافى درجہ اور فضيلت عطا فرمائى ہے، تو اس طرح عورت كا قضا كے منصب پر فائز ہونا اس درجہ اور فضيلت كے منافى ہے جو اللہ تعالى نے اس آيت ميں مردوں كے ليے ثابت كى ہے، كيونكہ قاضى كو فيصلہ كے ليے آنے والے دونوں فريقوں پر درجہ اور قضيلت حاصل ہونى چاہيے تا كہ وہ ان دونوں كے مابين فيصلہ كر سكے.

    3 - ابو بكرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ خبر ملى كہ اہل فارس نے كسرى كى بيٹى كو اپنا حكمران بنا ليا ہے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس وقت فرمايا:

    " وہ قوم ہرگز اور كبھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات اور امور عورت كے سپرد كر ديے "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 4425 ).

    فقھاء كرام نے اس آيت سے استدلال كيا ہے كہ عورت كا قضا كے منصب پر فائز ہونا جائز نہيں، كيونكہ ناكامى ايك نقصان اور ضرر ہے جس كے اسباب سے اجتناب كرنا ضرورى ہے، اور يہ حديث ہر قسم كے منصب اور ولايت ميں عام ہے، اس ليے عورت كو كسى بھى قسم كے امور كى ذمہ دارى دينا جائز نہيں، اس ليے كہ لفظ " امرہم " عام ہے، اور يہ مسلمانوں كے عام معاملات اور سب امور كو شامل ہے.

    امام شوكانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " فلاح و كاميابى كى نفى كے بعد كوئى اور شديد اور سخت وعيد باقى نہيں رہتى، اور امور و معاملات ميں سب سے اہم اور اونچا معاملہ اللہ تعالى كے حكم كے مطابق فيصلہ كرنا ہے، تو يہ بالاولى اس ميں شامل ہو گا " انتہى.

    ديكھيں: السيل الجرار ( 4 / 273 ).

    ازھر شريف كى فتوى كميٹى كا كہنا ہے:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا اس حديث سے مقصد صرف اس قوم كى ناكامى اور عدم كاميابى كى خبر ہى دينا نہيں جس نے اپنے معاملات عورت كے سپرد كر دے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا كام اور ڈيوٹى يہ ہے كہ وہ اپنى امت كے ليے وہ كچھ بيان كريں جو ان كے ليے جائز ہے، تا كہ امت اس پر عمل كر كے خير و فلاح اور كاميابى حاصل كر سكے، اور جو جائز نہيں وہ اس سے اجتناب كر كے شر و خسارہ سے بچ سكے، بلكہ اس حديث سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا مقصد يہ تھا كہ وہ اپنے معاملات ميں سے كچھ بھى عورت كے سپرد كرنے ميں فارسيوں كے پيچھے نہ چل نكليں.

    اور ايسا اسلوب لائے جس ميں يہ بيان ہوا ہے كہ وہ قوم كو ان كى فلاح و كاميابى اور ان كے ہر قسم كے معاملات كا منظم ہونا دين كى اطاعت و فرمانبردارى ميں ہے، اور يہ قطعى اسلوب ہے كہ اپنے معاملات عورت كے سپرد كرنے ميں ناكامى و مامرادى لازم ہے.

    اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ حديث سے جو ممانعت ثابت ہوتى ہے وہ ہر دور ميں ہر قسم كى عورت كو اپنے عام معاملات كى ذمہ دار بنانے كى ممانعت ثابت كرتى ہے، اور يہ حديث كے صيغے اور مفہوم سے يہى عموم ثابت ہوتا ہے " انتہى.

    4 - عورت كى طبيعت اور اس كى خلقت ہى ولايت عامہ يعنى عام امور كى ذمہ دارى عورت كو دينے ميں مانع ہے.

    ازھر شريف كى فتوى كميٹى نے اس حديث سے استدلال ذكر كرنے كے بعد درج ذيل كلمات كہے ہيں:

    " اور حديث سے يہ حكم ثابت ہوتا ہے كہ: عورت كو عمومى ولايت نہ دينے كا حكم تعبدى نہيں جس كا مقصد صرف اطاعت و فرمانبردارى ہو اور اس كى حكمت كا علم ہى نہ ہو، بلكہ يہ تو ان احكام ميں شامل ہوتا ہے جس كى معانى اور اعتبار كے لحاظ سے كچھ علتيں ہيں، جن سے انسان كى ان دونوں قسموں يعنى مرد و عورت كے مابين فرق سے واقف حضرات جاہل نہيں.

    اس ليے كہ يہ حكم انوثيت كے ماوراء ميں كسى چيز سے معلق نہيں جس كا حديث ميں ( امراۃ ) يعنى عورت كے كلمہ سے بطور اس كا عنوان آيا ہے، تو اس طرح صرف اكيلى انوثيت ہى اس كى علت نہيں ... بلا شبہ پيدائشى طور پر خلقت كے اعتبار سے ہى عورت كى طبيعت ميں ايسے امور شامل ہيں جو اس كى خلقت كے مناسب ہيں جن كے ليے وہ پيدا كى گئى ہے، اور وہ امور ايك ممتا، اور بچے كى پرورش اور تربيت كرنا ہيں.

    اور يہ چيز اسے بہت متاثر كرتى ہے، اور اسے نرمى و عاطفت كى دعوت ديتى ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ عورت كو طبعى طور پر كچھ ايسے عوارض لاحق ہيں جن كا انہيں ہر ماہ اور برس ہا برس سامنا كرنا پڑتا ہے، جس كى بنا پر وہ معنوى طور پر كمزور ہو جاتى ہے، اور كسى مسئلہ ميں رائے اخيتار كرنے كى عزيمت اور اس رائے پر پخٹگى سے جم جانے ميں كمزورى آجاتى ہے، اور اس كى راہ ميں آنے والى مشكلات ميں بھى ٹھر نہيں سكتى، اور يہ ايسى حالت ہے جس كا عورت خود بھى انكار نہيں كرتى.

    اور ہم اس كے ليے ان واقعى مثالوں كے محتاج نہيں جو عورت كے سب حالات اور زمانے ميں اس كى عاطفت و نرمى كے ساتھ ساتھ شدت انفعال اور ميلان يعنى شديد متاثر و مائل ہونے پر دلالت كرتى ہوں " انتہى.

    5 - بعض ممالك ميں عملى تجربہ سے يہ ثابت ہو چكا ہے كہ عورت كے ليے قضاء كا منصب مناسب نہيں، اور جب شريعت اسلاميہ نے عورت كو عمومى ولايت اور ذمہ دارى دينے سے منع كيا تو ايسا اصول لائى جو مصلحتوں كو پورا اور خرابيوں كو دور كرتا ہے؛ جسے نظر قاصر ركھنے والے لوگ نہ تو ديكھ سكتے ہيں اور نہ ہى جان سكتے ہيں.

    چنانچہ ايك اسلامى ملك كى وزارت عدل نے بہترين اور ذہين و فطين عورتوں كے ليے قضاء كے دروازے كھول ديے، اور انہيں قاض و جج بنا ديا، ليكن پانچ برس كے تجربہ كے بعد ان سب عورت ججوں كو ان كے منصب سے معزول كر ديا !! اور اس تجربہ ميں ناكام ہونے كے باعث قضاء انسٹيوٹ كے دروازے عورتوں كے ليے بند كر ديے گئے، باوجود اس كے كہ انہيں تعليم و تدريب كے ليے بہت سارى فرصت مہيا كى گئى تھى، اور انہوں نے نظرى مجال ميں مردوں سے بہت زيادہ نمبر بھى حاصل كيے تھے.

    اور ايك دوسرے اسلامى ملك ميں بھى قضاء كے ميدان ميں عورتوں كو ملازمت دى گئى ليكن جب وہ اس ميں ناكام ہو گئيں تو پھر گورنمنٹ كو مجبورا ان عورتوں كو اسى محكمہ كے ريسرچ اور فنى ڈيپارٹمنٹ ميں منتقل كرنا پڑا.

    6 - اور اس ليے بھى كہ قاضى نے مردوں كى مجلسوں اور ميٹنگوں ميں حاضر ہونا ہوتا ہے، اور فريقين اور گواہوں كے ساتھ ميل جول ركھنے كى ضرروت ہوتى ہے، اور بعض اوقات تو اسے ان كے ساتھ عليحدگى اور خلوت بھى كرنا پڑتى ہے، اور شريعت اسلاميہ نے عورت كى عزت و شرف كى حفاظت كى اور اسے بچا كر ركھا ہے كہ خراب اورغلط قسم كے لوگ اسے اپنا كھيل نہ بنائيں، اور عورت كو شريعت نے حكم ديا ہے كہ وہ اپنے گھر ميں ٹكى رہے، اور صرف ضرورت كے وقت ہى گھر سے نكل سكتى ہے.

    اور پھر شريعت نے اسے مردوں كے ساتھ ميل جول ركھنے اور ان كے ساتھ عليحدگى اور خلوت كرنے سے منع كيا ہے، كيونكہ اس سے عورت كى عزت و شرف ضائع ہونے كا خدشہ ہے.

    7 - اور يہ بھى ہے كہ: قضاء كے منصب كے ليے بہت زيادہ ذہانت و فطانت اور مكمل رائے اور عقل كى ضرورت ہوتى ہے، ليكن مرد عورت كے مقابلہ ميں ناقص ہے، اور زندگى كے معاملات اور مد مقابل اور مخالف كے حيلہ بازى كا تجربہ كم ركھتى ہے.

    اس پر مستزاد يہ كہ عورت كو ايام و ماہ اور سال ميں حيض و نفاس اور حمل و لادت اور رضاعت جيسے جن طبعى امور سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس كى بنا پر جسم اور بدن ميں كمزورى پيدا ہو جاتى ہے اور يہ ان امور كے مكمل ادراك پر اثرانداز ہوتا ہے جو كہ قاضى كے منصب اور اس كے مقام كے منافى ہے.

    ديكھيں: ولايۃ المراۃ فى الفقہ الاسلامى صفحہ نمبر ( 217 - 250 ) رسالۃ الماجستير للباحث حافظ محمد انور.

    واللہ اعلم .
     
  8. ‏مئی 28، 2016 #8
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    حين بعثه النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إلى اليمنِ أنَّه قال له أيُّما رجلٍ ارتدَّ عن الإسلامِ فادْعُه فإن عاد وإلَّا فاضرِبْ عنقَه وأيُّما امرأةٍارتدَّت عن الإسلامِ فادْعُها فإن عادت وإلَّا فاضرِبْ عنقَها
    الراوي : معاذ بن جبل | المحدث :الصنعاني | المصدر : سبل السلام

    الصفحة أو الرقم: 3/411 | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن

    أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ قال له حين أرسلَه إلى اليمنِ أيما رجلٍ ارْتدَّ عن الإسلامِ فادْعُه فإن تاب فاقبَلْ منه وإن لم يتُبْ فاضْرِبْ عُنُقَه وأيما امرأةٍ ارتدَّتْعن الإسلامِ فادعُها فإن تابت فاقبَلْ منها وإن أبَتْ فاستَتِبْها

    الراوي : معاذ بن جبل | المحدث :الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد

    الصفحة أو الرقم: 6/266 | خلاصة حكم المحدث : فيه راو لم يسم قال مكحول عن ابن لأبي طلحة اليعمري , وبقية رجاله ثقات
    وقتلَ أبو بَكرٍ في خلافتِهِ امرأةًارتدَّت والصَّحابةُ متوافرونَ فلم ينْكر ذلِكَ عليْهِ أحدٌ
    الراوي : - | المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : فتح الباري لابن حجر

    الصفحة أو الرقم: 12/284 |خلاصة حكم المحدث : حسن وروي مثله مرفوعاً بسند ضعيف
     
  9. ‏مئی 28، 2016 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میں نے کل کہیں پڑھا تھا کہ عورت سیاست میں حصہ نہین لے سکتی ، اسی طرح جج بھی نہیں بن سکتی ۔ ( ممکن ہے مجھے غلط فہمی ہوئی ہو )
    ان تینوں نکات پر بحث سے قبل ان کے مصدقہ ہونے کی تاکید کرلینی چاہیے ۔
     
  10. ‏مئی 28، 2016 #10
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اسلامی نظریاتی کونسل کے مذکورہ سفارشات کے آنے کے بعد میڈیا کا کیا حال ہے وہ بہت افسوس ناک ہے. ان کو ایک مسئلہ پیش آیا کہ سفارشات کی اکثریت اسلام کے موقف کے مطابق ہے اس کے حل کے لئے ہمارے آزاد میڈیا نے جاوید احمد غامدی کی خدمات حاصل کی جو ان کی مشکل کو ہر جگہ پرفریب انداز میں دور کررہے ہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں