1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں چار شادیوں کی اجازت کا پس کالم نگار ڈاکٹر راشدہ قریشی کے خیالات

'تعدد ازواج' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏مارچ 30، 2014۔

  1. ‏اپریل 02، 2014 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بہت خوب عبدہ بھائی!
    جزاکم اللہ خیرا!
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 02، 2014 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا عبدہ بھائی
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 05، 2014 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ماشاء اللہ بہت ہی خوب عبدہ بھائی جان ۔ جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم و سدد خطاکم ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 05، 2014 #14
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    اس بارے میں کہنے کو تو میرے پاس بہت کچھ ہے مگر ایک مثال دے کر اپنی بات مختصر کرتا ہوں ،جس ملک میں فرض کریں 60 فیصد عورتیں ہوں اور 40 فیصد مرد پھر اگر مرد 40 فیصد عورتوں سے نکاح کر لیں تو 20 فیصد عورتیں کہاں جائیں گی ؟ اس کا صاف مطلب ہے وہ جسم فروشی اور زنا ہی کریں گی۔ دراصل اس کے پیچھے ایک پوری سکیم ہے۔ یہ سب سے پہلے مرد کی ایک سے زائد نکاح پر پابندی لگائیں گے، پھرمرد اور عورت کے درمیان نکاح کا رشتہ ختم کریں گے اور پھر '' زنا '' کا جواز نکالیں گے اور پھر شائد ڈاکٹر راشدہ قریشی صاحبہ کو چین آئے جب ان کی مائیں اور بہنیں اس غلاطت میں رہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو اگر قرآن و سنت کا ہی انکار کرنا ہے تو صاف صاف کر دیں بے جا تاویلات سے قرآن و سنت کا مذاق تو نہ بنائیں۔اور یہ سب مغرب کے آقاؤں کے ہی ایماء پر ہو رہا ہے جو در حقیقت '' دجالیت '' ہے۔ اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی قرآن سے ہدایت لینے کی بجائے الٹا قرآن کو ہدایت دینے لگتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 6
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 05، 2014 #15
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر ہو سکے تو کوئی اور مثال پیش کریں۔

    60 فیصد عورتیں
    40 فیصد مرد

    1 دن سے 10 سال عمر، لڑکا لڑکی ایوریج کتنے فیصد؟
    10 سے 20 سال
    20 سے 40 سال
    40 سے 60 سال
    60 سے 80 سال
    80 سال سے 99 سال عمر، مرد عورت ایوریج کتنے فیصد؟

    ٹوٹل 100 فیصد

    پاکستان سے شادی کی ایسٹیمیٹڈ عمر 18 سال سے 50 سال، کوئی بھی لڑکی یا عورت کو شادی کی وجہ سے جسم فروشی کی طرف مائل نہیں ہونا پڑتا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 05، 2014 #16
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    وعلیکم السلام !

    آپ ہی کوئی مثال دے دیں۔
     
  7. ‏ستمبر 20، 2014 #17
    صباحت خاں

    صباحت خاں مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 20، 2014
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    ایک طرف تو اسلام دعویٰ کرتا ہے کہ عورت کو سب سے زیادہ حقوق اس نے دیے ہیں دوسری طرف "سوکن" کا رنج دینے والا بھی واحد مذہب اسلام ہے۔۔۔دوسری شادی صرف رنج ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی حق تلفی ہے۔۔۔۔اگر اسلام دین فطرت ہے تو آج تک دوسری شادی کو معاشرے نے خوشی خوشی قبول کیوں نہ کیا؟ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ دوسری شادی(تیسری یا چوتھی کی تو بعد کی بات ہے) نے ہر جگہ فساد کھڑا کیا ہے۔۔۔۔کبھی ایک بہن کے بھائی، ایک بیٹی کے باپ بن کر سوچیں۔۔۔۔دوسری شادی صرف ایک فتنہ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔میں کسی سخت ترین مجبوری کے باعث تو شاید اسے ٹھیک سمجھ سکتا ہوں ورنہ میں کبھی بھی دوسری شادی کو اچھا نہیں سمجھ سکتا۔
     
    • ناپسند ناپسند x 3
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 20، 2014 #18
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کو صحیح طریقے سے پڑھتے نہیں ہیں اور بس ایک پوائنٹ کو پکڑ کر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں، اسلام نے صرف دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کی اجازت دی ہے، ناکہ اس کو ضروری قرار دیا ہے، تاکہ اگر مرد کی ضرورت ایک تک پوری نہ ہو تو معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلنے سے بچنے کی خاطر مزید چار تک کر سکتا ہے، ورنہ جن معاشروں میں سارا کچھ "آزاد" ہے وہ دس دس ، بیس بیس، بلکہ سو سو عورتوں کی عزتیں پامال کئے ہوئے ہے، دوسری بات کہ اسلام نے سوکن کا رنج نہیں دیا، بلکہ اس انداز میں سوکن لانے کی بات کی ہے کہ عدل کی شرط کے ساتھ فرسٹ عورت کو سکیورٹی فراہم کی ہے، اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے، ورنہ تو سوکن آتے ہی پہلی عورت کے حقوق کی دھجیاں اڑ جانی تھی، لیکن نہیں عدل کے ساتھ جتنا نئی دلہن کی چاہت ہو گی اور اس کو اشیاء فراہم کی جائیں گی بالکل اسی طرح عدل کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پہلی چاہے وہ کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو اس کو بھی فراہم کی جائے گی، اور پھر اس کے ساتھ ساتھ اس عدل کی پابندی بھی ہر صورت لازم ہے ورنہ یہ وعید بھی بتا دی گئی ہے کہ دو بیویوں میں عدل نہ کرنے والا قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ فالج زدہ ہو گا، سبحان اللہ ان وعیدوں اور پابندیوں میں دو سوکنوں کے کے حقوق کا تحفظ اور ان کے درمیان امن و امان کی صورتحال سوائے اسلام کے اور کس مذھب میں نظر آتی ہے۔ لیکن عورت کی نام نہاد آزادی اور اسلام کی اجازت چار شادیوں کو نشانہ تنقید بنانے والے اس نظام کے متعلق کیا کہیں گے جہاں عورت تو ایک رکھنے کی اجازت ہے لیکن آزادی نسواں کے دلفریب نعرے کے پیچھے کئی کئی عورتیں گرل فرینڈ کے نام پر اپنی بستر کی زینت بنائے ہوئے ہیں، کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے کسی عورت کو باعزت طریقے سے اس کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے گھر کی ملکہ بنایا جائے چہ جائیکہ ایسے نظام سے جہاں ایک عورت کو اس کا بھائی اور باپ بیک وقت زنا پر لگے ہوں۔ سوچئے گا ضرور۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 20، 2014 #19
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,507
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    بہت خوب عبدہ اورارسلان بھائی!
    جزاکم اللہ خیرا!
     
  10. ‏ستمبر 20، 2014 #20
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,507
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں