1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام کا قانون طلاق اور اس کا ناجائز استعمال

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ محمد عمر, ‏اگست 01، 2011۔

  1. ‏اگست 01، 2011 #11
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    خاوند کے بیوی پر چند اہم حقوق :
    1. خاوند کی ہر حال میں فرمانبرداری کرنا ۔ ہاں اگر خاوند کسی غیر شرعی کام کا حکم دے تواس میں اس کی فرمانبرداری کرنا درست نہیں ہے ۔
    2. خاوند کی خدمت کرنا ۔
    3. خاوند کے مال اور جائیداد کی حفاظت کرنا ۔اسی طرح اس کی عزت وناموس پر حرف نہ آنے دینا ۔
    4. بیوی اپنے خاوند کے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جسے وہ نا پسند کرتا ہو ۔
    5. بیوی اپنے خاوند کی شکر گذار ہو ۔
    6. خاوند کا بیوی پرایک حق یہ ہے کہ وہ اس کیلئے زیب وزینت اختیار کرے ۔
    7. بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ۔
    8. بیوی اچھے انداز سے اولاد کی تربیت کرے ۔
     
  2. ‏اگست 01، 2011 #12
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    بیوی کے خاوند پر چند اہم حقوق :
    1. خاوند اپنی بیوی کو حق مہر اداء کرے ۔
    2. خاوند اپنی بیوی کے نان ونفقہ کا ذمہ دار ہے ۔
    3. خاوند اپنی بیوی سے اچھے انداز سے بود وباش رکھے اور اس سے اچھا سلوک کرے ۔
    4. بیوی کو حقِ خلع بھی حاصل ہے ۔
    5. بیوی کا خاوند پر ایک حق یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کرے اور اسے ہر ایسی چیز سے محفوظ رکھے جو اس کی عفت وعصمت کو داغدار کر سکتی ہو ۔
    6. خاوند اپنی بیوی کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرے اور اسے ضروری احکام ومسائل کی تعلیم دے یا تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ دے ۔
    7. اگر کسی کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کا خاوند پر ایک حق یہ ہے کہ وہ ان کے درمیان انصاف کرے اور کسی کو ظلم وزیادتی کا نشانہ نہ بنائے ۔
     
  3. ‏اگست 01، 2011 #13
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    طلاق کے واقعات کیوں بکثرت واقع ہو رہے ہیں ؟
    ہم اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اِس عظیم رشتہ کو باوجود اس کے عظیم فوائد کے اسے قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے ۔ اور طلاق کے واقعات ہیں کہ بکثرت واقع ہو رہے ہیں ا ور رفتہ رفتہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ بسا اوقات معمولی معمولی باتوں پر نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے ۔ اور ہنستا بستا گھر برباد ہو جاتا ہے ۔
    آئیے سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر طلاق کے اسباب کیا ہیں ؟ اور کیوں اِس طرح کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں ؟ صرف اسباب ہی نہیں بلکہ یہ بھی معلوم کریں کہ شریعت میں ان اسباب کا حل کیا ہے اور وہ کونسے امور ہیں کہ اگر ان کا لحاظ کیا جائے تو طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات رک سکتے ہیں !
     
  4. ‏اگست 01، 2011 #14
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    طلاق کے اسباب اور ان کا حل
    ویسے تو طلاق کے اسباب بہت زیادہ ہیں لیکن ہم یہاں چند اہم اسباب کا تذکرہ کرکے ان کا حل بھی بتائیں گے تاکہ ایسے اسباب پیدا ہی نہ ہوں جن کے نتیجے میں زوجین کے درمیان علیحدگی ہو جائے ۔
     
  5. ‏اگست 01، 2011 #15
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    گناہ اور برائیاں
    پہلا سبب زوجین کی بے راہ روی اور ان کا گناہوں اور برائیوںمیں لت پت ہونا ہے جن کی نحوست سے ان کے ما بین محبت اور الفت کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ پھر ناچاقی ، نفرت اور عداوت شروع ہو جاتی ہے ۔ اور آخر کار نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    طلاق یقینا ایک بہت بڑی مصیبت ہے جس کی وجہ سے پورا خاندان برباد ہو جاتا ہے ۔
    حل : اس کا حل یہ ہے کہ زوجین اللہ تعالی کی نافرمانیوں ، گناہوں اور برائیوں سے پرہیز کریں ۔ اور اب تک جو گناہ کئے ہیں ان پر اللہ تعالی سے سچی معافی مانگیں ۔ کیونکہ جب اللہ تعالی راضی ہو گا تو زوجین بھی آپس میں ایک دوسرے سے راضی رہیں گے اور ان کی زندگی خوشی خوشی گذرے گی ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    ’ عمدہ عیش وآرام ‘ میں زوجین کے مابین خوشگوار تعلقات بھی شامل ہیں ۔
     
  6. ‏اگست 01، 2011 #16
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    شادی سے پہلے ہونے والی بیوی کو نہ دیکھنا
    بعض لوگ جلد بازی کرتے ہوئے محض کسی کے کچھ کہنے یا کسی کے دیکھنے پر اکتفاء کرلیتے ہیں اور اپنی ہونے والی بیوی کو خودنہیں دیکھتے یا اس کے اور اس کے گھر والوں کے بارے میں مکمل معلومات نہیں لیتے ۔ اس کے بر عکس اس کے بارے میں غلط معلومات کی بناء پر بعض غلط اندازے لگا لیتے ہیں جوشادی ہو نے کے بعددرست ثابت نہیں ہوتے ، یا ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو بعد میں پوری نہیں ہوتیں ۔ اور آخر کار نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔
    حل : شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھ لینا چاہئے اور اس کے اور اس کے گھر والوں کے بارے میں درست معلومات بھی حاصل کر لینی چاہییں تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو ۔
    رسول اکرم ﷺ نے ہونے والی بیوی کو دیکھنے کا حکم دیا ہے ۔

     
  7. ‏اگست 01، 2011 #17
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    شکوک وشبہات اور بد گمانیاں
    شکوک وشبہات اور بد گمانیوں کی بناء پر زوجین کے درمیان باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور نوبت طلاق تک جا پہنچتی ہے ۔ بعض لوگ تو بے انتہاء شک و شبہ اور بد گمانی میں مبتلا رہتے ہیں اور بے بنیاد اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی بد گمانی کر لیتے ہیں ۔ اور بغیر کسی ثبوت یا دلیل کے محض سنی سنائی باتوں پر ہی یقین کرکے وہ اپنے اور اپنے گھروالوں کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پیدا کر لیتے ہیں ۔ پھر اتنی بد اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے کہ مرد طلاق دینے کا پختہ عزم کر لیتا ہے یا بیوی اپنے خاوند سے بار بار طلاق کا مطالبہ شروع کردیتی ہے ۔
    حل : اس کا حل یہ ہے کہ خاوند بیوی ایک دوسرے پر اعتماد کریں ۔ بلا وجہ بد گمانی نہ کریں اور دونوں ایسی چیزوں سے پرہیز کریں جن کی بناء پر ان میں شکوک وشبہات پیدا ہوں ۔
    اللہ تعالی نے اہل ایمان کو بہت زیادہ گمان کرنے اور تجسس سے منع کردیا ہے۔
    اس کا فرمان ہے :

    اور نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خاوند کو اپنی بیوی پر خواہ مخواہ شک وشبہ نہیں کرنا چاہئے کہ جو رفتہ رفتہ بد اعتمادی میں تبدیل ہو جائے اور اس کا نتیجہ طلاق نکلے ۔
    بعض لوگ صرف سنی سنائی باتوں پر ہی اعتماد کرلیتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں پراس قدر بدگمانی کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ سنی سنائی باتوں کے بارے میں تحقیق کرنی چاہئے اور بلا تحقیق کسی کی بات کو درست تسلیم نہیں کرنا چاہئے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

     
  8. ‏اگست 01، 2011 #18
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    غیرت میں افراط وتفریط
    مومن بڑا غیور ہوتا ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

    تاہم غیرت میں اعتدال ضروری ہے ۔ کیونکہ اگر مرد میں غیرت بالکل نہ ہو تو اس سے اس کی بیوی ( اگر وہ دیندار نہ ہو تو اس کو) آزادی مل جاتی ہے ۔ پھر وہ بے پردہ ہو کر باہر گھومتی پھرتی ہے ، غیر محرم مردوں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے اور مختلف غیر شرعی امور میں منہمک رہتی ہے لیکن اس کے خاوند کو کچھ بھی احساس نہیں ہوتا ! اور اگر غیرت حد سے زیادہ ہو تو شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں ، بے جا طور پر تجسس ہوتا ہے اور ہر ہر بات پر بدگمانیاں ہوتی ہیں ۔ اور یوں فرطِ غیرت میں مبتلا ہو کر مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے ۔
    حل : اگر مرد میں بالکل ہی غیرت نہ ہو تو اسے اپنی بیوی کیلئے غیرت مند ہونا چاہئے ۔ وہ اس قدر غیور ہو کہ اس کا غیر مردوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، بے پردہ ہو کر اس کا گھومنا پھرنا اور اجنبی مردوں سے فون پر غیر ضروری بات چیت کرنا اسے نا پسند ہو ۔ اور اگر بیوی بعض برائیوں میں مبتلا ہو تو اسے اس پر بھی شرعی حدود میں رہتے ہوئے تنبیہ کرنی چاہئے ۔
    اور اگر غیرت حد سے زیادہ ہو تو اسے اعتدال کی حد تک لانا چاہئے کیونکہ فرطِ غیرت کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں ۔
     
  9. ‏اگست 01، 2011 #19
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    مردانگی کا بے جا اظہار اور بد سلوکی کا مظاہرہ
    بعض حضرات کو چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں کے بارے میں فرمایا ہے :

    اور انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے عورتوں کو (ناقصات العقل) ’’ کم عقل ‘‘ قرار دیا ہے ، تو وہ بے جا طور پر اپنی مردانگی اور عورت پراپنی حکمرانی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے بد سلوکی کرتے ہیں ۔ ان کا طرزِ عمل اس قسم کا ہوتا ہے کہ

    یعنی اپنی بیویوں سے رائے لینا گوارا ہی نہیں کرتے یا اگر ان کی رائے سامنے آ بھی جائے تو اسے نہایت حقیر سمجھتے ہیں اور بس اپنی رائے کو ہی واجب العمل تصور کرتے ہیں ! اس کے علاوہ ان کا اپنی بیویوں سے انداز گفتگو نہایت توہین آمیز ہوتا ہے حتی کہ اولاد کے سامنے بھی ان کی بے عزتی کرنے سے باز نہیں آتے !
    اِس اندازِ معاشرت سے آخر کار بیویاں تنگ آ جاتی ہیں کیونکہ گھر میں ان کی شخصیت مسلسل مجروح ہو رہی ہوتی ہے اور آخر کار وہ طلاق کا مطالبہ شروع کردیتی ہیں ۔ اور ان کے اس مطالبے کے بعد مرد یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انھوں نے طلاق نہ دی تو ان کی مردانگی پر حرف آئے گا ۔ اس لئے وہ سوچے سمجھے بغیر فورا طلاق دے دیتے ہیں ۔
    حل : مرد بے شک عورتوں پر حاکم ہیں اور خواتین بے شک کم عقل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انھیں حقیر سمجھتے ہوئے ان سے بد سلوکی کی جائے اور گھریلو معاملات میں ان کی رائے کو نظر انداز کیا جائے ۔ اس کے بر عکس ان سے حسن سلوک اور اچھے انداز سے بود وباش رکھنا ضروری ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    اور رسول اکرمﷺکا ارشاد ہے :

    مردوں کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ اللہ تعالی نے ان کی بیویوں کے ان پر کچھ حقوق مقرر کئے ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

    اس کے علاوہ نبی کریمﷺ نے بھی شوہروں کو ان کی بیویوں کے متعلق خصوصی طور پر یہ تاکید کی ہے کہ وہ نہ ان پر ظلم کریں اور نہ ان کی حق تلفی کریں بلکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
    رسول اللہﷺنے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا :

     
  10. ‏اگست 01، 2011 #20
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    خاوند کی نافرمانی
    بعض بیویاں اپنے شوہروں کی نافرمان ہوتی ہیں ۔ وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتیں ۔ ہر کام میں من مانی کرتی ہیں ۔ اور ان کے شوہر انھیں جس بات کا حکم دیں یا کسی کام سے منع کریں تو وہ اس کے الٹ ہی کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے خاوندوں کی شکر گذار بھی نہیں ہوتیں ۔ ایسی عورتوں کا یہ طرز عمل ان کیلئے تباہ کن ہوتا ہے اور ان کے شوہر آخر کار انھیں طلاق دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
    حل : عورتوں کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی نے مردوں کو ان پر حاکم بنایا ہے ۔ اور جہاں اللہ تعالی نے ان کے حقوق کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ
    لہذا عورتوں کو مردوں کی فوقیت کو ماننا چاہئے ۔ اور ان کی فرمانبرداری کرنی چاہئے ۔ کیونکہ جب رسول اکرمﷺ سے سوال کیا گیا کہ عورتوں میں سے کونسی عورت سب سے افضل ہے ؟ تو آپﷺ نے ارشادفرمایا :

    اور خا وند کی نافرمانی کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے نافرمان بیوی کی نماز تک قبول نہیں ہوتی ۔
    رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

    فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ عورتوں کو اپنے خاوندوں کا شکرگذار بھی ہونا چاہئے ۔ کیونکہ ناشکر گذار بیوی کے متعلق رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں